تازہ تر ین

تباہ حال معیشت کا ذمہ دارکون؟

ضیاءالحق سرحدی….اظہار خیال

مئی 2013ءمیں جب بہترین معاشی ٹیم کی حامل (ن)لیگ منصب اقتدار کی حقدار ٹھہری تو اس وقت قائدین سے لیکر کارکنوں تک سب کی زبان پر یہی چرچا تھا کہ وہ اپنی قائدانہ صلاحیتوں کی بدولت ملک کی قسمت بدل دیں گے۔پیپلز پارٹی کی حکومت کا پانچ سالہ دور جسے یہ بدترین دور قرار اور تباہ حال معیشت کی بات کی جارہی تھی، ان دنوں معیشت کیلئے ایندھن کا کردار ادا کرنے والے امریکی ڈالر قدر 98روپے تھی جسے تجربہ کار سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار حلف اٹھانے کے تھوڑے عرصے بعد ہی 107روپے پر لے گئے۔بظاہر یہ سارا کھیل ملکی معیشت بہتر بنانے کیلئے کھیلا جا رہا تھا جو تھی دراصل تباہی جس کے بیج آئی ایم ایف ،ورلڈ بینک اور سوئس بینکوں سے مہنگی شرح سود پر قرضے لیکر بوئے گئے تھے۔ان مہنگے قرضوں کی وجہ سے قوم کی آنکھ میں دھول جھونکی گئی کہ زر مبادلہ کے ذخائر ملکی تاریخ کی بلند ترین پر پہنچادیئے گئے ہیں ۔ہر طرف دودھ اور شہد کی نہریں بہہ رہی ہیں جبکہ ان تمام تر دعووں کا حقیقت سے دور دور تک کا کوئی تعلق نہیں تھا۔ان پانچ سالوں میں نہ تو ملک میں انڈسٹری لگائی گئی اور نہ ہی بر آمد ات میں اضافے کیلئے کچھ کیاگیا جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ 25ارب ڈالر سالانہ کی در آمدات سکٹر کر بہترین معاشی ٹیم کی حکومت کے دنوں میںہی 20ارب رہ گئیں۔سمندر پار پاکستانی سالانہ 19ارب ڈالر قانونی طریقے سے پاکستان بھجواتے تھے، وہ اب 13ارب ڈالر تک پہنچ چکا ہے۔جس کی وجہ حکومت کی طرف سے آئے روزلگائے جانے والے بلا جواز ٹیکس بتائے جا رہے ہیں۔نومبر 2017ءمیں پاکستانی روپیہ اس قدر بے توقیر ہوا کہ ڈالر کی قیمت اچانک انٹر بینک مارکیٹ میں 107روپے سے115روپے تک پہنچ گئی۔حکومت کے چہیتوں نے انٹر بینک مارکیٹ سے جوڈالر خریدے ہوئے تھے، ان کی چاندی ہو گئی اور اس کھیل کے ذریعے انہوں نے اربوں روپے کمالئے۔بیرونی قرضوں اور ہماری معیشت کا یہ عالم ہے کہ ڈالر کی قدر ایک روپیہ بڑھنے سے پاکستان پر بیرونی قرضوں کا بوجھ اربوں روپے بڑھ جاتا ہے۔بات یہی نہیں رکی۔اسی دوران حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بھی مسلسل اضافے کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے نہتے شہریوں کی جیبوں سے اربوں روپے بٹورے جن کا کوئی اتا پتہ نہیں ہے کہ کدھر گئے۔ایک طرف ملکی معیشت کا جنازہ نکل رہا تھا تو دوسری طرف ترقی وخوشحالی کے جھوٹے بڑے دھڑلے سے کئے جارہے تھے۔جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ بیرونی قرضوں کی ادائیگیوں کیلئے بھی خزانے میںپیسے نہیں تھے۔ آئے روز انٹر بینک مارکیٹ میں ڈالر کی قدر بڑھ اور روپے کی قدر کم کرکے کام چلایا جا رہا تھا۔معیشت کا یہ اصول ہے کہ کسی بھی ملک کے پاس زرمبادلہ کے ذخائر تین ماہ کی در آمدات کی ادائیگیوں کیلئے خزانے میں پیسے ہونے چاہیں مگر ہمارے الٹی ہی گنگابہتی رہی اور سٹیٹ بینک آف پاکستان کے پاس زرمبادلہ کے ذخائر 10ارب ڈالر تک رہ گئے جو دوماہ کی درآمدات کی ادائیگیوں کیلئے بھی نا کافی ہیں۔آنے والے دنوں میں یہ مزید کم ہو جائیں گے کیونکہ ہر ماہ سٹیٹ بینک کو بیرونی ادائیگیوں کی مد میں ایک ارب ڈالر کی ادائیگی کرنا پڑ رہی ہے۔تا حال ایسا کچھ بھی قابل رشک نہیں ہے جس پر فخر کیا جا سکے۔غریب اور بیروزگاری میں خطر ناک حد تک اضافہ،تباہ حال معیشت اور 90ارب ڈالر کے قرضوں کا انبار نئی حکومت کو ورثے میں ملے گا ،جس سے نمٹنے کا تاحال کوئی امکان نظر نہیں آرہا۔معیشت کی تباہی اور ہر طرف اندھیرے کا راج ہے پھر بھی ہم زندہ قوم ہیں۔(کالم نگار قومی و سماجی مسائل پر لکھتے ہیں)٭….٭….٭

قومی منظر نامے پر موجودہ آثار،کوئی ابہام باقی نہیں رہا کہ پہلے سے مشکلات کا شکار ملکی معیشت تیزی سے سنگین بحران کا شکار ہوتی جا رہی ہے۔ ملکی معیشت پر نظر رکھنے والے حلقے اس امر سے ہر گز بے خبر نہیں کہ گردشی قرضے ختم ہونے کے بعد 900ارب کی حد تجاوز کر چکے ہیں۔تجارتی خسارہ ہے کہ کسی طور قابو میں آتا دکھائی نہیں دے رہا ،خدشہ ہے کہ رواں مالی سال کا تجارتی خسارہ ملکی تاریخ میں ریکارڈ ساز ہوگا۔پی آئی اے سے اسٹیل ملز اور او جی ڈی سی سے پی ایس او تک درجنوں قومی ادارے سیکڑوں ارب کے خسارے میں چل رہے ہیں۔زرمبادلہ کے ذخائر میں کمی کا تشویش ناک سلسلہ جاری ہے ،جس کے پیش نظر قومی معیشت ایک بار پھر آئی ایم ایف کے ”بیل آو¿ٹ “پیکیج کی طرف جاتی دکھائی دے رہی ہے۔قومی معیشت کی اس تشویش ناک صورتحال کا نتیجہ ہے کہ گزشتہ دنوں میں ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں کافی کمی دیکھنے میں آئی اور ڈالر کی شرح تبادلہ 122روپے تک پہنچ گئی جس سے محض 48گھنٹوں کے دوران غیر ملکی قرضوں میں500ارب روپے کا اضافہ ہو گیا ۔عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمت میں اضافے کے پیش نظر 31مئی کو ختم ہونے والی حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا فیصلہ نگران حکومت پر چھوڑ دیا تھا۔نگران حکومت نے بھی پہلے قدم کے طور پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمت میں اضافے کو دوماہ کے لیے معطل کیا اور پھر اچانک پیٹرول،ڈیزل ،مٹی کے تیل ،ہائی اوکٹین کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا ،جس کے اثرات بدترین مہنگائی کی شکل میں سامنے آئیں گے۔ہمارا المیہ ہے کہ ہمارے پاس وہ نظام عدل موجود ہونے کے باوجود ہم اقوام عالم میں بے بس بنے ہوئے ہیں۔ہمیں اپنے وطن کو اس دلدل سے نکالنا ہے وہ صنعت کار جاگیر اور حکمران طبقہ جو ٹیکس دینا اپنی توہین سمجھتے ہیں وہ بھی ملک اورعوام کے حال پر رحم نہیں کریں گے ،تب تک مسائل جوں کے توں ہی رہیں گے۔مالیاتی خسارہ کم کرنے کی حکمت عملی پر لازماً عمل درآمد کرنا ہوگا تاکہ نجی شعبہ کی حوصلہ افزائی ممکن ہوسکے۔علاوہ ازیں ملکی معیشت پر جس طرح کے اثرات مرتب ہو رہے ہیں ان کے پیش نظر اقتصادی شعبہ کی تیظم نو ،معاشی ترجیحات کے حوالے سے ہمیں ،ہمارے حکمرانوں کو نئی صدی کی بے رحم حقیقتوں کا گہرا ادراک کرنا ہوگا۔اپنی خوشحالی ،مفادات سے وطن کی ترقی خوشحالی کو اہم جانتے ہوئے ٹیکس کی باقاعدہ ادائیگی کرنی چاہیے۔ہر ایک کو وطن کی خاطر قربانی دینی ہے۔یہ اظہر من الشمس ہے کہ وطن ہے تو ہم بھی ہیں۔وہ بھی ہمارے ہی بہن بھائی ہیں جن کے پاس سب کچھ ہے مگر آزادی نہیں۔ہمارا وطیرہ بن چکا کہ سب کچھ حکمرانوں ،حکومت کے ذمہ ہم تمام معاملات میں بری الذمہ ہیں۔یہ درست نہیں ہم سب کی ذمہ داری ہے۔ہمارے پاس وطن آزادی ہے لیکن ہمیںقدر نہیں۔اللہ تعالی ہمارے ملک کو جملہ بحرانوں سے نجات دیں۔


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved