تازہ تر ین

بچی سے زیادتی کی سزا صرف ایک سال؟

محمد فاروق عزمی….جواں عزم
ایک اردو روزنامہ کی یکم جولائی 2018کی اشاعت میں صفحہ نمبر 16پر ایک دو کالمی خبر چھپی ہے۔ جس کی سرخی اس طرح ہے۔ ساہیوال ، بچی سے زیادتی کے مجرم کو ایک سال قید، نیچے 72الفاظ پر مشتمل مختصر سی تفصیل یوں درج ہے۔ ”ایڈیشنل سیشن جج ساہیوال راجہ صفدر اقبال نے 8سالہ کم سن بچی رابعہ سے زیادتی کے مقدمہ کا فیصلہ سناتے ہوئے ملزم محمد اسلم کو ایک سال قید سخت کی سزا سنائی، استغاثہ کے مطابق 9مارچ 2017کو 98/6Rمیں محمد اسلم نے 8سالہ بچی کو زیادتی کا نشانہ بنایا تھا۔ جس پر پولیس فرید ٹاﺅن نے مقدمہ 376ت درج کر کے ملزم کو گرفتار کر لیا تھا۔
تین کلاسیفائیڈ اشتہاروں کے برابر جگہ لینے والی اس خبر میں یہ کہیں بھی نہیں بتایا گیا کہ متاثرہ بچی اور اس کے لواحقین نے کتنی سزا بھگتی ہے۔ اور آئندہ زندگی میں انہوں نے کب تک سزا بھگتنی ہے۔ آٹھ سال کی معصوم کلی کو مارچ 2017میں کچلا گیا۔ اس کا جرم کیا تھا؟ انصاف کرنے والے اور فیصلہ سنانے والے جج صاحب عزت مآب راجہ صفدر اقبال کم از کم اتنی سزا تو دیتے کہ جتنا عرصہ اس بچی اور اس کے لواحقین نے حصولِ انصاف کے لئے عدالتوں کے دھکے کھائے ہوں گے اور تھانے کچہری کے چکر لگائے ہوں گے۔ مارچ 2017ءسے جون یا جولائی 2018ءتک پندرہ سولہ ماہ تو وہ بیچارے عدالتوں میں دھکے اور عدالتی عملے اور متعلقہ اہل کاروں کی جھڑکیاں کھاتے رہے ہوں گے۔ لیکن آپ نے مجرم کو 12ماہ کی سزا سنا کر فارغ کر دیا۔ ان بارہ ماہ میں سے آدھی سزا ویسے ہی معاف ہو جانی ہے اور 6ماہ سے بھی کم عرصے میں یہ بندہ سلاخوں سے رہائی پا کر پھر اسی معاشرے اور انہی گلی کوچوں میں دنداناتا پھر رہا ہو گا۔ لیکن نہیں ہونی تو اس بچی کی سزا معاف نہیں ہونی جسے بچپن ایک ڈراونے اور بھیانک غلیظ خواب کی طرح ہمیشہ یاد رہ جائے گا۔ جس کا لڑکپن اور جوانی ڈر خوف اور شرمندگی اور افسردگی کی چادرمیں منہ چھپائے گزرے گی کہ ہمارے ہاں ایسے حادثات کے بعد شیشے کو قصور وار ٹھہرایا جاتا ہے۔ پتھر کس نے مارا ،کیوں مارا ،یہ سوال کسی نے نہیں اٹھانا۔ٹوٹے آئینے کو ہی ہر کسی نے دوشی ٹھہرانا ہے۔
ترقی یافتہ معاشرے میں تعلیم یافتہ سوسائٹی میں ایسے سانحے اگر خوانخواستہ ہو جائیں تو متاثرہ لڑکی خاتون یا بچی کو سماج اور معاشرہ اس نظر سے نہیں دیکھتا جس طرح ہمارے ہاں دیکھا جاتا ہے۔بلکہ وہاں اخلاقی طور پر victamکو سپورٹ کیا جاتا ہے۔ اسے بتایا جاتا ہے کہ اس میں تمارا تو کوئی گناہ نہیں تھا، کوئی قصور نہیں تھا۔ اس کے ساتھ ہمدردی ترس کھانے والے انداز میں نہیں کی جاتی بلکہ اخلاقی اور نفسیاتی طور پر اس کی ہر طرح سے مدد کی جاتی ہے تاکہ وہ ہر ممکن حد تک اس حادثے، سانحے اور واقعے کو بھول کر نارمل انداز سے زندگی بسر کرنے کے قابل ہو سکے۔
میں نہ قانون کا طالب ہوں اور نہ قانون کی باریکیاں سمجھتا ہوں۔ مجھے نہیں پتہ کہ استغاثہ کا کیس کتنا کمزور یا تگڑا تھا۔ مجھے نہیں پتہ گواہوں نے کیا بیانات دیئے ہوں گے۔ میں نہیں جانتا عالی جناب جج صاحب کی کیا مجبوریاں ہوں گے۔ مجھے علم نہیں کہ پولیس نے چالان کتنا کمزور کر کے عدالت میں پیش کیا ہو گا۔ میرا سوال تو بس اتنا ہے کہ ایک آٹھ سالہ ننھی بچی کو درندگی اور ہوس کا نشانہ بنانے کی سزا صرف ایک سال قید؟جج صاحب! ایسے درندہ صفت شخص کو، اس وحشی کو تو سر عام زندہ جلا دینا چاہیے، سر عام پھانسی پہ لٹکا دینا چاہیے۔ یہ کسی غریب شخص کی بیٹی ہو گی لیکن یہ رابعہ تو آپ کی بیٹی بھی ہو سکتی ہے۔ یہ حکمرانوں کی بیٹی بھی ہو سکتی ہے،بیٹیاں تو سب کی سانجھی ہوتی ہیں۔ اس بیٹی کا دکھ درد آپ نے کیوں محسوس نہیں کیا۔ ؟مجرم کو سخت سے سخت سزا کیوں نہ دی اور وہ اس قدر سستا کیوں چھوٹ گیا۔
ہمارے ہاں آئے روز اس طرح کے بے شمار واقعات ہوتے ہیں اور زینب اور رابعہ جیسی معصوم کلیاں روندی اور کچلی جاتی ہیں۔ ملزم پکڑے بھی جاتے ہیں لیکن معمولی سزا کاٹ کر رہا ہو جاتے ہیں اور دوباہ زیادہ دیدہ دلیری سے ایسے گھناﺅنے اور مکروہ جرائم کرنے لگتے ہیں۔ کیونکہ سزا کا خوف ان کے دل سے نکل چکا ہوتا ہے۔ انہیں علم ہوتا ہے کہ کبھی اپنے اثر و رسوخ سے ،کبھی رشوت اور کبھی دھونس اور بدمعاشی سے چھوٹ جائیں گے۔ پوری قوم اس وقت قصور کی معصوم بیٹی زینب کے قاتل عمران کی سزائے موت کی منتظر ہے۔ عام خیال یہی تھا کہ اس درندہ صفت شخص کو فل فور کیفر کردار تک پہنچا دیا جائے گا۔ لیکن جانے دیر کیوں کر دی جاتی ہے۔ یقینا کچھ قانونی پیچیدگیاں ہوتی ہوں گی۔ لیکن بہر حال انصاف میں ضرورت سے زیادہ تاخیر ظلم کا ساتھ دینے کے مترادف ہے اور اس طرح ظلم و ستم کا پودا پھلتا پھولتا رہتا ہے۔ قوم میں مایوسی پھیلتی ہے۔
میری اعلیٰ عدلیہ سے درخواست ہے کہ بچوں سے زیادتی انتہائی سنگین نوعیت کا جرم ہے، اس کی سزا بہت سخت ہونی چاہیے۔ ایک سال کی قید سزا کے نام پر مذاق ہے۔ وہ بچی جو اس واقعہ سے گزری ہے، اس کی ساری زندگی اس واقعہ کے زیر اثر گزرے گی۔ وہ کبھی بھی اس سانحے کو بھلانے میں کامیاب نہیں ہو پائے گی۔ لہذا ایسے واقعات کے مجرموں کو نشان عبرت بنانا چاہیے۔ انصاف کی کرسی پر بیٹھے جج صاحبان سے التماس ہے کہ خدارا دردِ دل پیدا کیجیے۔ ظالم کے لئے نہیں ،مظلوم کے لئے، سخت سے سخت سزائیں ہی جرائم کی روک تھام میں معاون و مددگار ثابت ہو سکتی ہیں۔
(کالم نگارمختلف موضوعات پرلکھتے ہیں)
٭….٭….٭


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved