تازہ تر ین

فلائٹ نمبر243

امدادحسین شہزاد….یہ لندن ہے
13جولائی پاکستان کی سیاسی تاریخ کا ایک اوراہم دن ہے۔ سابق اور نااہل وزیراعظم پاکستان میاں محمد نوازشریف اور ان کی صاحبزادی مریم نواز شریف نے اپنے خلاف احتساب عدالت کے فیصلے کے بعد پاکستان آنے کا فیصلہ کیا ہے۔ وہ دونوں کئی دنوں سے بیگم کلثوم نوازشریف کی انتہائی تشویش ناک حالت کی وجہ سے برطانیہ میں قیام پذیر ہیں جس دن سے مریم نوازشریف نے اپنے والد کے ہمراہ پاکستان آنے کا اعلان کیا ہے سوالات‘ اندیشوں اور سیاسی قیاس آرائیوں کا ایک نہ رکنے والا سلسلہ شروع ہوگیا ہے۔ کوئی کہہ رہا ہے کہ دونوں باپ بیٹی پاکستان نہیں آئیں گے‘ کسی کی زبان پر ان کے شاندار استقبال کی تیاریوں کی کہانی ہے۔ اصل صورتحال یہ ہے کہ میاں نوازشریف اور ان کی بیٹی کی جانب سے ابوظہبی کی ایئرلائن اتحاد ایئرویز کی لندن ہیتھرو سے پرواز EY18 اور ابوظہبی سے پرواز نمبر EY243 پر نشستیں بک کرالی گئیں ہیں۔
ان کے ساتھ 200 افراد کی بھی نشستیں بک کرائی گئیں ہیں جن میں سرکردہ مسلم لیگی رہنما اور کئی صحافی حضرات بھی شامل ہیں۔ اکثر صحافیوں کی ٹکٹوں کی ادائیگی خبر کی اہمیت کے پیش نظر ان کے اپنے اداروں نے کی ہے جن میں روزنامہ خبریں اور چینل۵ بھی شامل ہیں۔
دوسری طرف یہ اطلاعات بھی مل رہی ہیں کہ فلائٹ نمبر 243 میںپی ٹی آئی کے 25 سے 50 افراد نے بھی اپنی نشستیں بک کرالی ہیں جبکہ 60 کے قریب صحافیوں اور مسلم لیگیوں کا اس فلائٹ کو ابوظہبی سے JOIN کرنے کا پروگرام ہے۔ ان میں معروف اینکر اور کالم نگاروں کی بڑی تعداد اور غیرملکی صحافیوں کا گروپ بھی شامل ہے جو میاں نوازشریف کے ہمراہ فلائٹ نمبر 243 پر ہم سفر ہوں گے۔ یہ بھی کہا جارہا ہے کہ مسلم لیگ کا میڈیا سیل اس بات کی بھرپور تیاری کررہا ہے کہ زیادہ سے زیادہ ملکی اور غیرملکی صحافیوں کو اپنے ہمراہ رکھاجائے تاکہ لاہور ایئرپورٹ پر کسی بھی ناخوشگوار واقعہ اور حکومتی اہلکاروں کی جانب سے میاں نوازشریف کے ساتھ کئے جانےوالے سلوک کو بین الاقوامی میڈیا پر نمایاں کیا جاسکے۔
مسلم لیگ (ن) کی جانب سے اتنی بڑی تعداد میں کارکنان کو ہمراہ لانے کے اعلان کے بعد پی ٹی آئی کے کارکنان کی جانب سے مذکورہ فلائٹ نمبر 243 میں نشستیں بک کرانا اس خطرے کی بھی نشان دہی کررہا ہے کہ کہیں جہاز کے اندر کوئی ہنگامہ آرائی نہ ہوجائے کیونکہ جب سے میاں نوازشریف اور ان کی بیٹی کیخلاف نیب کا فیصلہ آیا ہے لندن میں واقع ان کی رہائش گاہ کے باہر PTI کے کارکنان کی جانب سے روزانہ کی بنیاد پر احتجاجی مظاہرے ہورہے ہیں اور کئی مرتبہ تو ان احتجاجی مظاہروں نے تصادم کی صورتحال بھی اختیار کرلی جس پر مقامی پولیس کو مداخلت کرنا پڑی۔
اب ایک طرف تو یہ تیاریاں جاری ہیں جبکہ دوسری طرف یہ قیاس آرائیاں بھی کی جارہی ہیں کہ آیا میاں نوازشریف اور ان کی صاحبزادی 12 جولائی کو لندن سے روانہ بھی ہوں گے یا نہیں؟ یہ خبریں آرہی ہیں کہ شاید اس قافلے کا پروگرام عین روانگی کے وقت تبدیل کردیا جائے۔ اس سلسلے میں کئی پلان زیربحث ہیں۔ کچھ سیاسی پنڈتوں کا کہنا ہے کہ میاں نوازشریف اورمریم نواز روانگی سے قبل تک لاہور کی سیاسی صورتحال کا جائزہ لیتے رہیں گے اورکارکنان کی MOTIVATION اور تیاری میں کوئی کمی نظر آئی تو عین وقت بیگم کلثوم نوازشریف کی طبیعت کی خرابی کا بہانہ بنا کر لاہور روانگی کو ملتوی کردیا جائے۔ ایک جانب یہ بھی کہا جارہا ہے شاید 7 گھنٹے کا ابوظہبی کا طویل TRANSIT بھی اسی لئے رکھا گیا ہے کہ ابوظہبی میں بیٹھ کر لاہور میں استقبال کی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ دوسری طرف لندن میں میاں نوازشریف کے قریبی حلقوں کی جانب سے یہ تاثر بھی پھیلایا جارہا ہے کہ انہیں مقتدر حلقوں کی جانب سے پاکستان جانے سے باز رکھنے کیلئے رابطے کئے جارہے ہیں اور اپیل کے ساتھ ساتھ انہیں قید میں کمی کا ریلیف دینے کا بھی عندیہ دیا جارہا ہے مگر نوازشریف اور ان کی صاحبزادی ہر صورت میں لاہور جانا چاہتے ہیں۔ اس ضمن میں مریم نوازشریف نے گزشتہ روز میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے ہر حال میں پاکستان جانے اور لاہور ایئرپورٹ پر کارکنان سے خطاب کرنے کا بھی اعلان کیا ہے۔ کیا یہ کارکنان کے لہو گرمانے کا ایک بہانہ ہے یا پھر کوئی اورراز؟
یہ سوال ابھی باقی ہے کیونکہ دوسری جانب لاہور میں نیب کی تیاریاں یہ بتا رہی ہیں کہ میاں نوازشریف اور ان کی صاحبزادی کو جہاز سے اترتے ہی گرفتار کرکے ہیلی کاپٹر کے ذریعے اڈیالہ جیل منتقل کردیا جائے گا۔ اس تمام صورتحال کے پیش نظر فلائٹ نمبر 243 کے دیگر مسافروں کا کیا حال ہوگا اور وہ کس اذیت کے ساتھ اپنا سفرجاری رکھیں گے‘ اس بات کا احساس نہ تو ایئرلائن کو ہے اور نہ ہی سیاست دانوں کو‘ اس فلائٹ میں کئی افراد جو بیرون ملک مقیم ہیں اپنی فیملیز کے ہمراہ معمول کا سفر کررہے ہیں۔ ان کی حالت اور ذہنی اذیت کا کیا عالم ہوگا‘ اس بارے میں کسی نے نہیں سوچا اور ایئرلائنز کو بھی اس سلسلے میں کوئی پروا نہیں ۔یہ ایک حساس فلائٹ بن چکی ہے۔ ایئرلائنز کو فوری طور پر چاہئے کہ وہ دیگر پرامن مسافروں کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنائے۔
آیئے اب جائزہ لیتے ہیں کہ میاں نوازشریف کے پاکستان واپسی پر کیا عزائم ہیں؟ اوران کی حکمت عملی یا سیاسی امیدیں کیا ہیں؟
آپ کو یاد ہوگا 1986ءمیں پاکستان پیپلزپارٹی کی قائد محترمہ بینظیر بھٹو کئی سالوں کی جلاوطنی کے بعد برطانیہ سے ہی لاہور ایئرپورٹ پراتریں تھیں اور ان کا والہانہ استقبال کیا گیا تھا۔ آج 2018ء میں کیا میاں نوازشریف بھی اسی استقبال کی توقع رکھتے ہیں؟
یہ سوال سیاسی حلقوں میں شدت سے اٹھایا جارہا ہے مگر صورتحال یکسر مختلف ہے۔ 1986ءمیں بینظیر بھٹو جمہوریت کے لئے جلاوطنی کاٹ کر ملک واپس آرہی تھیں جبکہ آج 2018 ءمیں میاں نوازشریف اور ان کی صاحب زادی کرپشن کے سنگین الزامات کے تحت سزا یافتہ ہوکر ملک واپس آرہے ہیں اورگزشتہ 10 سالوں سے ان کی اپنی پارٹی ملک میں برسراقتدار رہی ہے تو کیا میاں نوازشریف اپنے آپ کا موازنہ بینظیر بھٹو کی جدوجہد سے کررہے ہیںاور مریم نوازشریف جو حبیب جالب کے شعر پڑھ کر اپنے آپ کو ایک ”تنہا بہادر لڑکی“ کہہ رہی ہیں‘ کیا وہ بینظیر بن سکیں گی؟ اور ان کے استقبال کیلئے سارا شہرامڈ پڑے گا؟
یہ وہ سوالات ہیں جن کے جواب ابھی باقی ہیں اور فلائٹ نمبر 243 کے لاہور لینڈ کرنے تک ان سوالات کا جواب نہیں مل سکے گا کیونکہ بادی النظر میں لاہوریئے ابھی اتنے بے وقوف نہیں ہوئے کہ وہ لوڈشیڈنگ‘ گنداپانی‘ ناقص طبی سہولتوں کے باوجود ایک مبینہ طور پر کرپشن میں ملوث لڑکی کو جمہوریت کی علمبردار اور تنہا بہادر لڑکی بنا دیں۔
(کالم نگار لندن میں چینل ۵ کے بیورو چیف ہیں)
٭….٭….٭


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved