تازہ تر ین

فرسٹ کلاس کے مسافر

توصیف احمد خان

سابق وزیراعظم محترم نوازشریف اور انکی صاحبزادی محترمہ مریم نواز یا مریم صفدر کل شام لاہور پہنچ رہے ہیں، ن لیگ کی قیادت انکے استقبال کیلئے سردھڑ کی بازی لگا رہی ہے اور زوروشور سے تیاریاں ہورہی ہیں ایک صاحب فرماتے ہیں کہ باقی چھوڑیں صرف لاہور اور اسکے گردونواح کے چند اضلاع میں شیر کے ٹکٹ ہولڈر قومی و صوبائی امیدوار ہی فی کس ایک ہزار بندہ لے آئیں تو ہوائی اڈے پر اچھا خاصا تماشا لگ جائیگا،ایسی صورت میں کارکنوں میں جوش و خروش معمول سے بڑھ کر ہوگا جب خود نوازشریف کی والدہ اور مریم نواز کی دادی محترمہ اس بڑھاپے میں اپنے بیٹے کو لینے جائیں گی اور ایئرپورٹ جانے والے جلوس کی قیادت ن لیگ کے صدر شہبازشریف کررہے ہونگے، یہ دوسری بات ہے کہ وہ ایئرپورٹ تک پہنچ بھی پاتے ہیں یا نہیں، رہا نوازشریف تک پہنچنے کا سوال…تو یہ کسی صورت ممکن نہیں ، اب وہ زمانہ نہیں کہ پورے کروفر کے ساتھ ٹرمینل میں داخل ہوں اور مسافروں کو لیکر آجائیں ، معلوم نہیں راستے میں کیا صورتحال پیش آئے، وہ ایئرپورٹ تو کیا اسکے قرب وجوار میں بھی پہنچ پاتے ہیں یا نہیں، پہنچنے کے چکر میں ڈنڈے پڑ سکتے ہیں، گرفتاری ہوسکتی ہے یا اور بھی کوئی صورتحال پیش آسکتی ہے۔
گذشتہ روز پشاور میں جو المناک واقعہ رونما ہوا وہ انتخابی مہم کے سلسلے میں اجتماع تھا جس میں خود کش دھماکہ ہوا اور انتخابی امیدوار ہارون بلور سمیت ڈیڑھ درجن سے زائد افراد شہادت پاگئے، ہارون بلور کے والد بشیر بلور بھی ایسی ہی دہشتگردی میں اس دنیا سے رخصت ہوئے تھے ، وہ اے این پی کی حکومت میں سینئر وزیر تھے، اللہ تعالیٰ باپ بیٹے کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے ، یہاں اس کے بیان کا مقصد ہے کہ استقبال کرنیوالے کم ہوں یا زیادہ احتیاط کی بہت زیادہ ضرورت ہے، یہ ذمہ داری انتظامیہ پر ہی عائد نہیں ہوتی، اجتماع کے منتظمین کیلئے بھی یہ ایک حساس مرحلہ ہوگا اور انہیں اپنے میں سے بہت سے لوگوں کو متعین کرنا ہوگا جو ارد گرد کے حالات اور وہاں موجود لوگوں پر کڑی نظر رکھیںکیونکہ آج کے اس دور میں کہیں کچھ بھی ہوسکتا ہے ، خصوصاً جبکہ دہشتگردہی نہیں اردگرد کے کچھ ممالک کبھی موقع سے فائدہ اٹھا نے کی بھرپور کوشش کرینگے، انتظامیہ اور استقبالی ہجوم کی انتظامیہ کو یقینا اس کا احساس اور ادراک ہوگا۔
ذکر نوازشریف اور انکی صاحبزادی کے استقبال کا ہورہاتھا،اس سلسلے میں دونوں طرف سے بھرپورتیاریاں کی جارہی ہیں، حکومت کی کوشش ہوگی کہ کوئی بھی شخص ایئرپورٹ تک نہ پہنچ پائے، ان کو کافی دور روک لیا جائے اور تتر بتر بھی کردیا جائے، جلوس کے منتظمین سرجوڑے بیٹھے ہونگے کہ کس طرح سے ایئرپورٹ کی حدود تک رسائی حاصل کی جاسکتی ہے ، حالانکہ انہیں علم ہے کہ استقبال تو ایک طرف وہ اپنے لیڈر یعنی نوازشریف کی ایک جھلک تک نہیں دیکھ سکیںگے لیکن شوق دیدار تو بہرحال موجود ہے، شوق کے آگے بند لگانا ممکن نہیں ہوتا۔
صورتحال یہ ہے کہ لندن سے اتحاد ایئرویز کی درجہ اول یعنی فرسٹ کلاس کی نشستیں مختص کرائی گئی ہیں ، ویسے تو اس جہاز میں بہت سے دوسرے لوگ بھی ہونگے جو خاص اس مقصد کیلئے سفر کررہے ہیں لیکن خصوصی مسافروں کیساتھ دو اور مسافرہیں، لندن سے چار افراد کا ایک ساتھ ٹکٹ خریدا گیا ہے اور ان چاروں کو ایک ہی ٹکٹ جاری ہوا ہے ، ٹکٹ میں نوازشریف کا تیسرا اور مریم نواز کا چوتھا نام ہے، پہلے دو مسافروں میں پہلے نمبر پر سابق وزیراعظم کے سابق معاون خصوصی عرفان صدیقی اور دوسرے نمبر پر ایک بڑے اخباری گروپ کی مالکہ کا نام ہے، لندن کے ہیتھریو ایئرپورٹ سے دنیا کا سب سے بڑا طیارہ آج رات 8:45پر اڑان بھرے گا اور صبح 7:00بجے ابوظہبی پہنچ جائیگا، وہاں سے اسکی روانگی مقامی وقت کے مطابق دوپہر 2:10پر ہوگی اور پرواز EY-243 شام 6:15بجے علامہ اقبال انٹر نیشنل ایئرپورٹ پر لینڈ کرجائیگی، ابوظہبی سے آنے والا طیارہ بوئنگ 777ہے، عموماً یہی طیارے وہاں سے پاکستان آتے ہیں جبکہ دوبئی سے سب سے بڑا طیارے کی ہفتے میں ایک پرواز اسلام آباد کیلئے شروع کی گئی ہے۔
قارئین دو تین روز سے خبروں میں پڑھ رہے ہیں کہ لاہور ایئرپورٹ پر کیا ہوگا…جونہی یہ دو مسافر طیارے سے باہرآئیںگے نیب اور پولیس انہیں حراست میں لے لے گی، وہیں سے انہیں اس ہیلی کاپٹر کی جانب لے جایا جائیگا جو انہیں راولپنڈی کی اڈیالہ جیل لے جانے کیلئے تیار کھڑا ہوگا، نگران وزیراطلاعات واضح طور پر کہہ چکے ہیں کہ نوازشریف کو کسی صورت لاہور میں داخل نہیں ہونے دیا جائیگا…ایسی صورت میں استقبالی ہجوم تو رہا ایک طرف جہاز کے سارے مسافر بھی انکی جھلک تک نہیں دیکھ سکیں گے ، انکے ارد گرد بیٹھے چند مسافروں کو ہی میل ملاقات اور بات چیت کا موقع مل پائیگا، ہوگا یہ کہ تمام مسافروں سے کہا جائیگا وہ اپنی نشستوں پر تشریف رکھیں ، جب نوازشریف اور انکی صاحبزادی کو سرنگ سے گذار لیا جائیگا تو پھر باقی مسافروں کو اترنے کی اجازت ملے گی ، یہ بھی ہوسکتا ہے کہ طیارے کو ذرا دور کھڑا کیا جائے اور سیڑھی لگا کر مسافر اتارے جائیں جنہیں بسوں کے ذریعے ٹرمینل تک لایاجائے۔
سوال یہ ہے کہ استقبالی ہجوم اپنے لیڈروں کا استقبال کیسے کریگا اور ان کی ایک جھلک کیسے دیکھے گا… ؟
ناممکن …بالکل ناممکن … !ایسا ہوہی نہیں سکتا …ہمارا مشورہ ہے کہ دونوں لیڈروں کی بجائے انکے دونوں ساتھی مسافروں کے استقبال پر ہی اکتفا کر لیا جائے، وقتی طور پر انہیں ہی لیڈر سمجھ لیا جائے…ان کا بھی کچھ حق ہے …آخر وہ بھی تو نوازشریف اور مریم نواز کے قریبی ساتھی ہیں، غالباً دونوں لیڈروں کا سازوسامان بھی وہی سنبھالیں گے اور لیکر باہر نکلیں گے…چلیں …لیڈر نہ سہی انکا سامان ہی سہی۔
ویسے ایک پریشانی موجود ہے …نوازشریف تو فرسٹ کلاس سے اتریں گے اور جیل کی اے کلاس یعنی فرسٹ کلاس میں پہنچ جائیں گے جہاں انہیں مشقتی وغیرہ بھی مل جائیںگے اور کھانا پینا بھی ٹھیک ہی ہوگا مگر انکی صاحبزادی کیا کریں گی، یہاں تو باپ بیٹی کو جدا کردیا جائیگا ، مریم فرسٹ کلاس سے اتر کر فرسٹ کلاس میں نہیں جائیں گی، انکے لئے تو اکانومی سے بھی نیچے کا انتخاب کیا گیا ہے یعنی جیل کی سی کلاس اور اوپر سے قید با مشقت ، ناز و نعم میں پلی مریم نواز ایسے میں کیا کریں گی، کوئی حامی ،مونس اور غمخوار بھی ساتھ نہیں ہوگا ،جو تھوڑا بہت دلاسہ دے سکے، قیدی عورتیں ہی دلاسہ دیں گی، ان میں سے بھی کوئی یا کچھ تحریک انصاف اور عمران خان کی فین ہوئیں تو وہ تو الگ تماشا لگائیں گی اور تماشا دیکھیں گی، یہ بھی تو ہوسکتا ہے کہ جیل حکام دانستہ ایسا کریں ، انہیں اس قسم کی کوئی ہدایت بھی مل سکتی ہے …اللہ تعالیٰ ہی بہتر کرنے والا ہے اور ہم اس بچی کیلئے بہرصورت دعا گو ہیں…مزید کچھ کرنا ہمارے بس سے باہر ہے ۔
بچی بیچاری اکیلی رہ جائیگی، باپ کہیں، شوہر کہیں … بابل کا ویہڑا بھی میسر نہیں اور بھائیوں کا دست شفقت بھی سات سمندر پار رہ گیا…کیسے ہیں یہ بھائی… باپ اور بیٹی کہاں … اور خود عیش و آرام کررہے ہیں ۔
٭٭٭


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved