تازہ تر ین

میرا دوست نوازشریف (37

 

ضیا شاہد
نعیم ترین روزنامہ خبریں کے کوئٹہ میں بیورو چیف تھے۔ انہوں نے بتایا کہ آپ کے پرانے دوست خدائے نور آج کل اکبر بگٹی صاحب کے مشیر خاص ہیں۔ خدائے نور کسی زمانے میں ایئرمارشل اصغر خان کی پارٹی تحریک استقلال میں شامل تھے اور کہا جاتا ہے کہ سکول ماسٹر ہوا کرتے تھے، وہ سنیٹر بھی رہے۔ میں نے انہیں فون کیا اور گلہ کیا کہ اکبر بگٹی کی عمر بھر صحافتی خدمت کی۔ لاہور ہو یا کراچی انہیں ہمیشہ چھاپا۔ بیس پچیس مرتبہ ان کے خصوصی انٹرویوز کئے۔ انہیں بھی پتہ ہے کہ مقدمہ جیت بھی جائیںتو مجھ سے بیس یا پچاس کروڑ روپے بطور جرمانہ نہیں مل سکتا لہٰذا اس تکلف کا کیا فائدہ۔ خدائے نور پڑھے لکھے آدمی تھے۔ تھوڑی دیر بعد ان کا فون آیا کہ بگٹی صاحب نے آپ کو سلام کہا ہے اور دعوت دی ہے کہ رات کا کھانا میرے ساتھ کھائیں اور مقدمہ کے سلسلے میں میرا موقف بھی سن لیں۔ مغرب کی نماز کے بعد خدائے نور آگئے۔ میں اورنعیم ترین ان کے بھائی ممتاز ترین کے ساتھ جو روزنامہ باخبر سے منسلک تھے اور صوبائی شعبہ اطلاعات کے لئے بھی کام کرتے تھے، بگٹی صاحب کے گھر کی طرف روانہ ہوگئے۔
بہت برس پہلے کی بات ہے لیکن کوئٹہ کے حالات ان دنوں بھی دگرگوں تھے۔ سڑک پر کئی جگہ زنجیر ڈال کر دائیں بائیں کھمبوں سے تالے لگے ہوئے تھے، شناخت کروانے پر تالے کھلے اور ہمیں کئی ایک رکاوٹوں کے بعد نواب بگٹی کی رہائش گاہ پر جانے کا موقع ملا۔ اکبر بگٹی دروازے پر استقبال کے لئے موجود تھے اورسچی بات ہے کہ زندگی بھر وہ بہت عزت و احترام سے پیش آئے اور اس روز بھی ان کے رویے میں، میں نے کوئی فرق محسوس نہ کیا۔ کھانا تیار تھا اور ڈرائنگ روم کے دبیز کارپٹ پر سفید چادریں بچھی تھیں، سہارا لینے کے لئے گول تکیے موجود تھے۔ بگٹی صاحب کہنے لگے ضیا صاحب! آپ مہمان ہیں، پہلے کھانا نوش فرمائیں ،بعد میں مقدمے پر بات ہو گی۔
کھاناکھانے کے بعد سویٹ ڈش اور پھر پھل، سب سے آخر پوچھا گیا چائے یا قہوہ۔ میں نے قہوے کے حق میں رائے دی۔کھانے پینے سے فارغ ہو کر میں نے جناب بگٹی صاحب پر اٹیک کھول دیا۔ وہ عمر بھر خوش مزاج اور ٹھنڈے مزاج کے انسان رہے ، میرے تابڑ توڑ حملوں کے باوجود وہ ہنستے رہے ،پھر بولے ضیا صاحب! آپ سے برسوں پرانی دوستی ہے، اگر آپ کا غصہ دور ہو گیا تو میں بات شروع کروں۔ میں نے کہا ضرور کریں۔ وہ بولے، خدائے نور !میری فائلیں لاﺅ۔ کچھ فائلیں اپنے سامنے رکھ کر بگٹی صاحب نے کہا بابا! پہلی بات یہ ہے کہ آپ نے سچ نہیں لکھا، جھوٹ لکھا ہے کیونکہ ہم نے پندرھویں ترمیم کے سلسلے میں نوازشریف کو ووٹ دینے کے لئے 4 کروڑ نہیں6 کروڑ روپے لئے ہیں اور مزید 8 کروڑ کا تقاضا ہے، جس کا حساب کتاب جاری ہے۔ ارے بابا! سوئی گیس ہمارے علاقے سے نکلتی ہے۔ معاہدے کے مطابق اس کی رائیلٹی طے کی جا چکی ہے۔ ہمارے علاقے کو گیس ملے نہ ملے لیکن کراچی ‘ گوجرانوالہ اور دیگر علاقوں میں گیس عام ہے۔ یہ سستا ایندھن بُری طرح لٹایا جا رہا ہے اور جب یہ ذخائر ختم ہو جائیں گے تو آپ ماتھے پر ہاتھ رکھ کر روئیں گے کہ اب کیا کریں۔ دوسری بات یہ ہے کہ ہم چٹھیاں لکھتے رہتے ہیں کہ اتنے پیسے بن چکے ہمیں ادا کرو مگر کوئی نہیں دیتا۔ تب ہم انتظار کرتے ہیں۔ دو ہیں چار، چھ ہیں یا آٹھ، قومی اسمبلی ہو یا سینٹ جب وفاقی حکومت کو قومی اسمبلی اور سینٹ میں ہمارے ووٹوں کی ضرورت ہوتی ہے تو ہماری درخواستیں جھاڑ پونچھ کر نکالی جاتی ہیں اور کچھ نہ کچھ جرمانہ دے کر ووٹ مانگے جاتے ہیں۔ ارے بابا! ہمارے پاس اور کوئی طریقہ نہیں ہے کہ وفاقی حکومت سے اپنے واجبات لے سکیں ،لہٰذا اب نوازشریف کو جمہوری حکمران سے شہنشاہ سلامت بننے کے لئے ووٹ آف نو کانفیڈینس روکنے کے لئے توسیع چاہئے تھی تو ہم نے کہا ہمارا پیسہ دو۔ اس نے کہا کچھ دے دیتے ہیں، کچھ کا وعدہ کر لیا ۔اور تم لوگ جو اخبار والے ہو یہ دیکھتے ہی نہیں کہ پیسہ کس بات کا لیا ہے۔ ہم نے کوئی رشوت نہیں لی، اپنا بل لیا ہے جو حکومت نے دینا تھا۔ کیا آئین کے مطابق یہ ہمارا علاقہ نہیں ہے اوراس کے اندر سے جو گیس نکلی ہے اس پر ہماری رائیلٹی نہیں بنتی۔
پھر اکبر بگٹی نے مجھ سے کہا کہ ضیا صاحب! آپ سے ایک نہیں، بیسیوں نہیں سینکڑوں ملاقاتیں ہوئیں ،میرا تو آپ سے گلہ کہ ہماری واجب الادا رائیلٹی کیوں نہیں دلواتے۔ اور اگر ہم سابقہ واجبات میں سے کچھ وصول کرتے ہیں تو اسے آپ رشوت کیوں کہتے ہیں۔
بگٹی صاحب نے مجھے کہا بس میری وضاحت چھاپ دو اور لکھو کہ چار کروڑ نہیں چھ کروڑلئے ہیں‘ یہ رشوت نہیں واجبات ہیں۔ پھر انہوں نے کہا آپ تو نوازشریف کے بڑے مداح تھے، وہ جس راستے پر چل نکلا ہے اس کا انجام تاریخ میں کبھی اچھا نہیں ہوتا۔ بابا! جمہوریت اختیارات کو درجہ بدرجہ تقسیم کرنے کا نام ہے‘ ہر درجے کو ختم کر کے کل اختیارات اپنے تک محدود کرنا جمہوریت نہیں بادشاہت ہوتی ہے اور بادشاہوں کا انجام معلوم کرنے کے لئے ضیا شاہد !تم شاہ ایران کا حشر ضرور پڑھنا جسے روئے زمین میں تدفین کے لئے جگہ نہیں ملتی تھی۔ اللہ معاف کرے جو اقتدار سے نکلنے کے لئے سارے باعزت راستے بند کر دیتا ہے‘ اُسے ذلت کے بدرو میں سے جان بچا کر نکلنا پڑتا ہے۔ اس ملاقات کا اختتام اس بات پر ہوا کہ بگٹی صاحب نے ”خبریں“ کے خلاف اپنا کیس واپس لے لیا۔
نوازشریف کے دوسرے دور میں داخلے سے پہلے دو اور اہم واقعات:
پہلا واقعہ: منظور وٹو کی وزارت اعلیٰ میں نوازشریف کے والد مرحوم میاں محمد شریف کے دفتر پر پولیس کا چھاپہ ہے جس کے ساتھ شاید نوازشریف کے ماڈل ٹاﺅن میں واقعہ گھر کے آگے آہنی جنگلوں کا خاتمہ اور سکیورٹی دفاتر کا خاتمہ کرنابھی تھا۔ ان واقعات میں دونوں طرف سے شرمناک سیاسی طرز عمل کا مظاہرہ ہوا۔ پہلے میں نوازشریف کی سائیڈ سے ریاستی وسائل پر مکمل قبضے کا ذکر کروں گا۔ اور دوسرے حصے میں اپوزیشن کو کچلنے، اس کی تذلیل کرنے اور عوام میں حکومت وقت کی حاکمیت کی دھاک بٹھانے کا ذکر ہو گا۔ میرے نزدیک یہ دونوں رویے غیر جمہوری اور غیر اخلاقی ہیں۔
نوازشریف کے والد محترم میاں محمد شریف پر پولیس کے دھاوے کی خبر مجھے خود نوازشریف نے دی۔ اور ماڈل ٹاﺅن میں میرے گھر پر نوازشریف کا فون آیا کہ بڑے میاں صاحب پر پولیس نے دھاوا بولا ہے، انہیں بڑی بدتمیزی سے دھکے دیئے ہیں۔ آپ فوراً ایمپریس روڈ پر پہنچیں۔ ان دنوں ریڈیو پاکستان لاہور والی یہ سڑک جو شملہ پہاڑی سے شروع ہو کر ریلوے سٹیشن تک جاری ہے کو عبدالحمید بن بادیس روڈ کہتے تھے کیونکہ اس سڑک پر مصر کا کلچرل سنٹر واقع تھا اور عبدالحمید بن بادیس سفیر تھے۔ میں نے اپنے دفتر فون کیا، فوٹو گرافر اور رپورٹرکو ریڈیو سٹیشن کے دروازے کے ساتھ شروع ہونے والی بلڈنگ میں پہنچنے کے لئے کہا۔ ماڈل ٹاﺅن سے ریڈیو پاکستان سے متصل اتفاق لمیٹڈ کے دفتر میں پہنچنے میں مجھے بیس پچیس منٹ لگے۔ یہاں اور بھی متعدد اخباری ٹیمیں موجود تھیں۔ اتفاق لمیٹڈ کا دفتر گراﺅنڈ فلور پر تھا۔ میاں محمد شریف صاحب سے پہلے بھی چند ملاقاتیں ہو چکی تھیں۔ وہ مشفق اور ٹھنڈے مزاج کے انسان تھے۔ میں پی اے کے کمرے سے ہو کر ان کے کمرے میں پہنچا تو جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے ان کے خادم خاص جن کا نام شاید مختار تھا‘ بیٹھے ہوئے تھے اور میاں صاحب خاموش تھے مگر وہ ان کوسیکرٹری یا جو سمجھیں تفصیل بیان کر رہے تھے کہ کیسے پولیس آئی اور کیسے میاں صاحب کے ساتھ بدسلوکی کی۔ میں نے شروع میں بتایا کہ میں اوّل و آخر ایک دیہاتی آدمی ہوں اور نوازشریف تو میرا دوست تھا ،خدانخواستہ کسی دشمن کے والد سے بھی بدسلوکی ہو تو مجھے بہت غصہ آتا ہے۔ میں کوئی گھنٹہ بھر ان کے پاس رہا، میرے دفتر سے رپورٹنگ کی ٹیم بھی آ گئی تھی۔ ہم نے تفصیلی سٹوری تیار کی اور انہیں دفتر بھیج کر میں نوازشریف سے ملنے ماڈل ٹاﺅن چلاگیا۔
(جاری ہے)


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved