تازہ تر ین

سزا کا فیصلہ کہیں اور ہوا جسے 5 بار تبدیل کر کے سنایا گیا : نواز شریف

لندن (آئی این پی) پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد و سابق وزیراعظم میاں نواز شریف نے ورکرز کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ جیل اور پھانسی میرے قدم نہیں روک سکتے، جیل کی کوٹھڑی اپنے ساتھ دیکھ کر بھی ووٹ کو عزت دو کا وعدہ پورا کرنے کےلئے پاکستان جا رہا ہوں، قوم مشکل میں ، اس کو تنہا نہیں چھوڑ سکتا، ہمیں سزائیں دینے کا فیصلہ کہیں اور ہوچکا تھا جسے5 بار تبدیل کرکے سنایا گیا، ان لوگوں نے صرف میری بیٹی کو سزا نہیں سنائی بلکہ پوری قوم کی بیٹیوں کو توہین کی ہے، مجھے تو سزائیں قبول ہیں لیکن مریم نواز کا کیا قصور تھا ، یہ کونسی ممبر قومی و صوبائی اسمبلی یا پھر سینیٹ کی ممبر تھی ، کردار کشی کا شرم ناک کھیل جاری ہے ،ہ جیل کی طرف جاتے ہوئے سوچ رہا ہوں پورا ملک ایک جیل بن چکا ہے، وقت آگیا ہے پاکستان کو جنگل اور جیل کے بجائے اکیسویں صدی کا ملک بنایا جائے،مقدمہ اس لئے لڑ رہا تھا کہ عوام کو مجھ سے منسوب جرائم کا پتہ لگ جائے، بدعنوانی اور مالی بے ضابطگی کا کوئی الزام ثابت نہیں ہوا، لاڈلوں کو کسی اور ترازو میں تولا جاتا ہے اور ہمیں کسی اور ترازو میں ،کیا پاکستان کی تاریخ میں کوئی ایسا شخص ہے جو سزا سن کر بھی پاکستان واپس آیا ہو، ان لوگوں کے چہرے بے نقاب ہوں گے جو جے آئی ٹی کے پیچھے چھپے ہوئے تھے،گرے لسٹ میں شمولیت کے وقت ہمارے دوست ممالک نے بھی ہمارا ساتھ نہیں دیا، ہمارے گہرے اور پرانے دوست کیوں ساتھ نہیں دے رہے کیا وہ بھی ڈان لیکس کا حصہ بن گئے ہیں، پاکستان کے عوام ان سوالوں کے جواب لے کر رہیں گے،مجھے جیل میں ڈال دینے سے یہ سوالات بھی جیل میں چلے جائیں گے، اگر میری ترجیح کرسی ہوتی تو مجھے کوئی مشکل نہ ہوتی، ہر من مانی پر انگوٹھا لگا کر میں لمبے عرصے تک حکومت میں رہ سکتا تھا۔ نواز شریف نے کہا کہ اب کلثوم نواز کو اللہ کے سپرد کر کے پاکستان جا رہا ہوں، کلثوم نواز کی صحت یابی کےلئے قوم سے دعا کی اپیل ہے، میری خواہش ہے کہ کلثوم نواز کو آنکھیں کھولتا دیکھ سکوں، میں جیل کی کوٹھڑی اپنے ساتھ دیکھ کر بھی پاکستان جا رہا ہوں، ووٹ کو عزت دو کے وعدے کو پورا کرنے واپس آرہا ہوں، میرے خلاف فیصلے میں لکھا ہے کہ مجھے کرپشن کے الزامات سے بری کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہے کوئی پاکستانی جس کی تین نسلوں کو اس طرح کے احتساب کا سامنا کرنا پڑا ہو؟میں وطن واپس آرہا ہوں کیوںکہ میرا وطن مشکل میں ہے، میں عوام کی حاکمیت بحال کر کے رہوں گا، الحمداللہ پاکستان کی عوام نے انصاف کا حقیقی چہرہ دیکھ لیا ہے، نیب کورٹ کے جج کو فیصلے میں لکھنا پڑا کہ نواز شریف کے خلاف کرپشن، اختیارات کا ناجائز استعمال، بدعنوانی اور مالی بے ضابطگی کا کوئی الزام ثابت نہیں ہوا، لہٰذا میں نواز شریف کو ان الزامات سے بری کرتا ہوں، اس کے باوجود مجھے، میری بیٹی مریم اور میرے داماد کیپٹن(ر)صفدر کو سزا سنا دی گئی،مجھے جس عدالت نے سزا سنائی وہاں 40اور ریفرنسز بھی چل رہے ہیں، ان میں دو سابق وزراءاعظم کے مقدمات بھی زیر التواءہیں، ان مقدمات میں ملزمان کو کتنی پیشیاں بھگتنی پڑیں اور کتنے فیصلے آئے، جس پٹیشن کو فضول اور بے معنی کہہ کر پھینک دیا گیا تھا وہ اتنی مقدم کیسے ہو گئی، واجد ضیاءنے اپنے رشتہ دار کو ٹھیکہ دیا اس کے خلاف کیا کارروائی ہوئی، کبھی سپریم کورٹ کا جج مانیٹر بن کر بیٹھا ہے، کبھی کسی کیس میں روزانہ کی بنیاد پر کاروائی ہوئی ہے، کیا پاکستان کی تاریخ میں کوئی ایسا شخص ہے جو سزا سن کر بھی پاکستان واپس آیا ہو، ان لوگوں کے چہرے بے نقاب ہوں گے جو جے آئی ٹی کے پیچھے چھپے ہوئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ وہ کون لوگ ہیں جو نواز شریف کو راستے سے ہٹانا چاہتے ہیں،سیاسی پناہ کی باتیں کرنے والے سن لیں کہ میں پاکستان واپس آرہا ہوں، کون ہے جنہوں نے قومی میڈیا کو قید کر رکھا ہے، وہ کون ہیں جو منتخب وزیراعظم کو پیغام بھیجتے ہیں کہ گھر چلے جاﺅ؟،ملک ان حرکتوں کے سنگین نتائج بھگت چکا ہے، کیا وہ بھول گئے ہیں کہ ملک دو ٹکڑے کیوں ہوا، جسٹس حمود الرحمان نے اپنی رپورٹ میں کیا کہا، کیا وہ نہیں جانتے کہ قربانیاں دینے کے باوجود پاکستان کیوں تنہا کھڑا ہے، گرے لسٹ میں شمولیت کے وقت ہمارے دوست ممالک نے بھی ہمارا ساتھ نہیں دیا۔


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved