تازہ تر ین

سابق سسرالیوں نے 2 بچے اغوا کر لئے ، باپ کو جان سے مارنے کی دھمکیاں ، متاثرہ شخص کی ”خبریں ہیلپ لائن“ میں دہائی

لودہراں (رپورٹ: امین چوہدری سے) پہلی بیوی کے میکے والوں نے معصوم بچوں کو اغواءکر کے نامعلوم جگہ پر منتقل کر دیا زندہ یا مردہ کی بھی کوئی خبر نہیں بچوں کی تلاش میںغریب محنت کش باپ دربدر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور کاروائی کرنے پر جان سے مار دینے جیسی سنگین نتائج کی دھمکیاں غریب محنت کش والد کی بچوں کی راہ تکتے ہوئے آنکھیں نم”خبریں“ہیلپ لائن پر معصوم بچوں کی بازیابی کیلئے درد مندانہ اپیل ”خبریں“ کے توسط سے اعلیٰ حکام، RPOملتان، اور DPOلودہراں سے بچوں کی بازیابی اور اغواءکاروں کیخلاف سخت سے سخت قانونی کاروائی کی اپیل۔ تفصیل کے مطابق بستی رانجھا والا لودہراں کے رہائشی محمد قاسم نے ”خبریں“ہیلپ لائن پر کال کر کے بتایا کہ اس کی شادی 1990میں شہزاد بی بی کیساتھ شادی ہوئی اور اسکے بطن سے ایک بیٹی نور بی بی عمر13سال اور ایک بیٹا بختاور حسین عمر10سال ہوئے میری بیوی کا انتقال 2017میں ہو گیا ان کے وفات پا جانے کے بعد میرے بچوں کی دیکھ بھال میں مجھے تنگی و پریشانی کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا اور اپنے بچوں کی دیکھ بھال اور انکو ماں کے پیار ملنے کی خاطر میں نے دوسری شادی سال 2017میں آمنہ بی بی کیساتھ کی اور میری بیوی اور بچے گھر میں خوش و خرم زندگی گزار رہے تھے کہ میری پہلی بیوی کے میکے والوں نے مجھے بچوں کو ہتھیانے کیلئے زدوکوب کرنا شروع کر دیا اور مجھ سے بچے چھینیں کی کوشش کرنے لگے 3روز قبل میرے معصوم بچے گلی میں کھیل رہے تھے شام ہو گئی مگر گھر نہ لوٹے مغرب کے وقت میں اور میری بیوی نے بچوں کے گھر نہ آنے پر انکی تلاش شروع کر دی مگر بے سود ہمیں بچے کہیں نہ ملے ہم بچوں کو نہ پاکر ششدر رہ گئے دوران تلاش ہمیں اہل محلہ نے بتایا کہ تمہارے بچوں کو توتمہارا سالہ محمد یسیٰن اور اسکا بیٹا محمد سلیم اپنے ساتھ لیکر جا رہے تھے جس پر میں علاقہ کے معزین کو لیکر انکے گھر گیا تو وہ میرے بچوں کو لے کر آنے سے صاف انکاری ہو گئے اور میرے بچوں کو اغواءکرکے نا معلوم مقام پر منتقل کر دیا جس پر ہمیں مزید تشویش لاحق ہو گئی میں نے اپنے بچوں کی بازیابی کیلئے بہت ہاتھ پاو¿ں مارے مگر بے سود میں مسلسل تھانے کے چکر لگاتا رہا مگر وہاں میری کوئی شنوائی نہ ہوئی میرے بچوں کا یہ بھی نہیں پتہ کہ ان ظالم درندہ صفت افراد نے میرے بچوں کیساتھ کیا کیا مجھے اندیشہ ہے کہ انھوں نے میرے بچوں کو جان سے مار ڈالا ہے میں نے انکے خلاف کاروائی کرنا چاہی تو انھوں نے مجھے ڈرایا دھمکایا کہ اگر میں نے انکے خلاف کوئی بھی کاروائی کی تووہ مجھے جان سے مار ڈالیں گے میں نے بچوں کی بازیابی اور تحفظ کی خاطر ”خبریں“ ہیلپ لائن پر کال کی اور ” خبریں“ کے توسط سے اعلیٰ حکام، RPOملتان، اور DPOلودہراں سے بچوں کی بازیابی اور اغواءکاروں کیخلاف سخت سے سخت قانونی کاروائی کی اپیل کی ہے۔ اگر میرے بچے مجھے نہ ملے تو میں DPO آفس کے سامنے خود پر تیل چھڑک کر خود سوزی کرلوں گا۔

 


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved