تازہ تر ین

جھوٹے خواب بیچنے والوںکا انتخاب

جاوید ملک …. مساوات
پاکستان کے محنت کشوںکو ہر پانچ سال بعد یہ اختیار دیاجاتا ہے کہ وہ آنیوالے پانچ سالوں کے لیے اپنا استحصال اور لوٹ مار کرنیوالے نمائندوںکا انتخاب کرسکیں لہذا حالیہ انتخابات میںبھی وہی روائتی امیدوار اپنے روائتی نعرے لیکر میدان عمل میں اترے ہیں جو گزشتہ ستر سال سے پاکستان کی جڑوںکو کھوکھلا کرتے آئے ہیں اور جن کے جبر اور لوٹ گھسوٹ نے پاکستان کے عوام کو اس حال پر پہنچا دیا ہے کہ آج عام پاکستانی کی حالت 1947ءکے حالات سے بھی بدتر ہے ستر سال کے دوران ایک ہزار خاندان پر مشتمل یہ حکمران طبقہ عوام کی ایک بھی بنیادی ضرورت پوری نہیں کر سکا اور اس نظام میں رہتے ہوئے ایسا کرنا ممکن بھی نہیں ہے ۔
زخموں کے ماروں سے زیادہ زخموں کی تکلیف کون جانتا ہے ؟ غربت اور ذلت، محرومی اورمحتاجی، بیگانگی اور تضحیک کو برداشت کرلینے سے زخموں کے درد اور روح کے روگ ختم نہیں ہوتے ۔ برداشت یقیناًاذیت ناک ہوتی ہے لیکن محرومی اور بے بسی کے اعشارئیے بھی کسی ذی شعور انسان کے لئے کم تکلیف دہ نہیں ہیں۔ المیہ یہ ہے یہ اعداد و شمار عالیشان ہوٹلوں میں ہونے والی کانفرنسوں میں اسی نظام کے رکھوالوں کے سامنے پیش کئے جاتے ہیں جو تمام تر بربادی کی بنیادی وجہ ہے ۔ ممتا زجریدہ ایشین مارکسسٹ ریویو لکھتا ہے کہ حکمران طبقات کے نمائندوں کو غربت کا جائزہ پیش کرنا ایسے ہی ہے جیسے قاتل کو مقتول کی لاش کی تفصیلات بتائی جارہی ہوں۔ غربت کو سرمائے کے ترازو میں تولا جاتا ہے ۔ یہاں غربت پر بھی ”ریسرچ“ ہوتی ہے اور پھر ”سیکولر“ اور مذہبی جماعتوں اور این جی اوزسے لے کر دن رات عوام کا خون چوسنے والے ”مخیر حضرات“خیرات کا منافع بخش کاروبار کرتے ہیں۔ ہمارے بھورے انگریز حکمران جو انگریزی جرائد بڑے شوق سے پڑھتے ہیں، ان میں پچھلے عرصے کے دوران بھوک اور غربت پر بہت سے اعداد و شمار شائع ہوئے ہیں۔ رپورٹ مرتب کرنے والوں نے ان اعدادوشمار کو ”چونکا دینے والے “قرار دیا ہے ۔ پتا نہیں کون چونکا ہوگا؟ جن پر یہ عذاب بیت رہے ہیں انکے چونکنے کی حس ہی اس نظامِ زر نے مار دی ہے اور جو عذاب ڈھا رہے ہیں وہ چونکنے سے رہے ۔
عوام کی اکثریت کے لئے دو وقت کی روٹی کا حصول ایک چیلنج بن کے رہ گیا ہے جس ایک اظہار خوراک پر خرچ ہونے والے فی کس آمدن کے حصے سے ہوتا ہے ۔ پاکستان کا شمار ان ممالک میں ہوتا ہے جن کی آمدن کا بڑا حصہ پیٹ کی آگ کی نذر ہوجاتا ہے ۔ 84 ممالک پر ہونے والے اقوام متحدہ کے ایک سروے کے مطابق ایک عام پاکستانی خاندان کی کل آمدن کاتقریباً پچاس فیصدہ حصہ خوراک پر ہی خرچ ہوجاتا ہے جس کی بنیادی وجہ کم آمدن اور مہنگی خوراک ہے ۔ ترقی یافتہ سرمایہ دارانہ ممالک میں یہ شرح صرف 6 سے 7 فیصد ہے ۔ حیران کن طور پر دنیا کی 40 فیصد بھوک پالنے والے ہندوستان کا ”اوسط“ خاندان بھی اپنی آمدن کا 25 فیصد خوراک پر خرچ کرتا ہے ۔اکیسویں صدی کی دوسری دہائی میں غذائی قلت یہاں کا سماجی معمول بن کے رہ گئی۔ آبادی کی وسیع اکثریت صحت بخش خوراک سے یکسر محروم ہے ۔ حکومت کے اپنے غذائی سروے کے مطابق 60 فیصد آبادی غذائی عدم استحکام کا شکار ہے یعنی آمدن میں معمولی کمی یا خوراک کی قیمتوں میں ذرا سا اضافہ انہیں باقاعدہ بھوک سے دوچار کر سکتا ہے ۔ آبادی کے اس حصے میں 50 فیصد خواتین اور بچے شدید غذائی قلت سے دوچار ہیں۔ایک اوررپورٹ خوفناک انکشافات سے لبریز ہے جس میں قومی غذائی سروے کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ پانچ سال سے کم عمر 44 فیصد بچے ذہنی اور جسمانی طور پر نامکمل نشونما کا شکار ہیں اور 2001ءکے بعد ایسے بچوں کی تعداد میں 3 فیصد اضافہ ہوا ہے ۔ پانچ سال سے کم عمر بچوں میں 35 فیصد اموات کی براہ راست وجہ غذائی قلت ہے ۔ عالمی ادارہ صحت نے اس صورتحال کو ”ایمرجنسی“قرار دیا ہے ۔ غذائی سروے میں اعتراف کیا گیا ہے کہ پاکستان میں صرف تین فیصد بچے ایسے ہیں جنہیں بنیادی غذائی ضروریات کے مطابق خوراک میسر ہے ۔
خوراک کی بڑھتی قیمتیں غربت میں اضافے کی بڑی وجہ ہیں۔ ایشین ترقیاتی بینک کے مطابق خوراک کی قیمتوں میں 10 فیصد اضافہ 2.2 فیصد ملکی آبادی (تقریباً 34 لاکھ افراد) کو خط غربت سے نیچے دھکیل دیتا ہے ۔ اپنے آخری بجٹ میںسابق حکومت کے وزیر خزانہ نے خود اعتراف کیا تھاکہ ملک کی نصف سے زائد آبادی خط غربت سے نیچے زندگی گزار رہی ہے ۔ سروے میں مزید درج ہے کہ 2ڈالر فی کس یومیہ کو معیار بنایا جائے تو 60 فیصد سے زائد آبادی غربت کا شکار ہے ۔حال ہی میںشائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق تیس لاکھ پاکستانی ہر سال خط غربت سے نیچے گر رہے ہیں۔ اس رپورٹ میں نیم سرکاری ادارے کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ” 2008ءکے بعد سے آمدن کی عدم مساوات میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے ۔ بیس فیصد غریب ترین آبادی کی حقیقی آمدن 22فیصد گری ہے، یہ ایک المیہ ہے کہ پونے چار کروڑ لوگوں کو دو وقت کی خوراک بھی میسر نہیں ہے اور وہ بھوکے رہنے پر مجبور ہیں۔ “
مملکت خداد میں پینے کا صاف پانی بھی کسی مراعت سے کم نہیں ہے ۔ 2001ءسے 2017ءکے درمیان ایک غیر سرکاری ادارے کی جانب سے کی جانے والی تحقیقات کے مطابق شہروں میں 15فیصد اور دیہاتی علاقوں میں 18فیصد آبادی کو پینے کا صاف پانی میسر ہے ۔ 80فیصد سے زائد آبادی بیکٹیریا، آرسینک، نائیریٹ اور سلفر ملا پانی پینے پر مجبور ہے ۔ آلودہ پانی جان لیوا بیماریوں کی سب سے بڑی وجہ ہے ۔ 17اپریل کو شائع ہونیو الی رپورٹ کے مطابق ملک میں 40فیصد اموات کی وجہ آلودہ پانی ہے ۔ بچوں میں ہونے والی 60فیصد اموات کی وجہ غلیظ پانی ہے جو ڈھائی لاکھ بچوں کو ہر سال موت کی وادی میں دھکیل دیتا ہے ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ 80 فیصد بیماریوں کی وجہ گندا پانی ہے یہ ایک المیہ ہے کہ 69 سال میں ملک کی کوئی واٹر پالیسی ہی وضع نہیں کی گئی ہے واٹر ٹیبل ہر سال ایک سے دس فٹ تک نیچے گررہا ہے اور 2025 ءتک پاکستان کو پانی کی سب سے زیادہ قلت کا شکار تین ممالک میں شمار کیاجانے لگے گا ۔
آج غریبوں کی سیاست کر کے سرمایہ داری کو تحفظ دینا گلی سڑی سوشل ڈیموکریسی کی مجرمانہ پالیسی ہے ۔ دوسری جانب خیرات کے ذریعے ڈاکہ زنی چھپانے والے سرمایہ داروں کی شان میں قصیدے لکھے جاتے ہیں۔ کارپوریٹ میڈیا غریبوں کی غربت کا رونا تو بہت روتا ہے ہے لیکن غیر طبقاتی نظام زندگی کے ذریعے اس ذلت اور استحصال سے نجات کا کوئی سائنسی پروگرام پیش نہیں کر تا، عوام کے اصل مسائل کو مذہب اور جمہوریت کے خوابوں میں تحلیل کردیا جاتا ہے ۔ لیکن آنسو بہا کر بھی اپنے خون پسینے سے اس سماج کی تمام دولت پیدا کرنے والے محنت کشوں کو کسی ہمدردی اور ترس کی ضرورت نہیں، جو سماج کو چلاتے ہیں، وہ اس کو روک بھی سکتے ہیں۔ اور جو روک سکتے ہیں وہ اسے یکسر بدل بھی سکتے ہیں اور اب اس نظام کو بدلنے کے سوا اور کوئی چارہ نہیں بچا ورنہ حالیہ انتخابات میں جھوٹے خواب دیکھانے اور ہر الیکشن کی طرح جھوٹے نعرے لگانے والے پھر سے عام اور غریب پاکستانی کو دھوکہ دینے میں کامیاب ہوجائیںگے ۔
(کالم نگارسیاسی وسماجی ایشوزپرلکھتے ہیں)
٭….٭….٭


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved