تازہ تر ین

سرائیکی صوبہ….منزل قریب ترہے!

ملک اللہ نواز وینس….اظہار خیال
اس وقت تمام سیاسی جماعتوں کے منشور سامنے آچکے ،ن لیگ نے اپنے سابقہ وعدے کے باوجود اب کے بار سرائیکی صوبہ کو منشور کا حصہ نہیں بنایا جس سے یہ بات واضح ہوچکی ہے کہ یہ جماعت ہی سرائیکی صوبہ کی دشمن جماعت ہے ،پہلے بھی یہاں کے لوگوں کو پتا تھا کہ یہ جماعت الگ صوبے کی مخالف ہے جس کی وجہ سے کئی اہم لوگ اس پارٹی کو چھوڑ گئے تھے جبکہ ٹکٹیں جمع کروانے کے دن مزید کئی رہنماءن لیگ کی ٹکٹیں پھینک کر جیپ پر سوار ہوگئے تھے ۔ان سب باتوں کے باوجودبھی ن لیگ والوں کو سمجھ نہیں آئی تبھی توان کا منشور بھی خطے کے لوگوں کے خلاف آیا کہ جس بات کا مطالبہ سب سے زیادہ کیاجارہا ہے اسے ہی اس نے منشور کا حصہ نہیں بنایا ۔دوسرا شہباز شریف کوٹ چھٹہ سے الیکشن بھی لڑرہے ہیں جس کی وجہ سے خطے کے لوگوں نے شہباز بھگاﺅ ،وسیب بچاﺅ مہم بھی شروع کررکھی ہے۔ امید ہے اس کے بھی حوصلہ افزاءنتائج سامنے آئیں گے، مگر آگے آگے دیکھیے ہوتا ہے کیا؟ اب وسیب کے لوگ بھی جاگ چکے ہیں کہ امیداوروں سے سوالوں پہ سوال کر رہے ہیں،جس تحریک کا آغاز سرائیکی جماعتوں نے کیا تھا آج اس کے نتائج بھی ملنا شروع ہوگئے ہیں کہ گودوں ،وڈیروں کا الیکشن مہم چلانابھی مشکل لگ رہا ہے بلکہ ناممکن ہوچکا ہے کہ چھوٹے چھوٹے بچے بھی ان کے خلاف نعرے لگارہے ہیں۔بات ہورہی تھی بڑی سیاسی جماعتوں کے منشور کی تو پی ٹی آئی کامنشور بھی تین ڈویژن پر مشتمل صوبڑی کی بات کرتا ہے جبکہ پی پی نے بھی وہی وطیرہ اختیار کیا ہواہے جو دوسری قومی جماعتوں نے کر رکھا ہے کہ اس خطے کی شناخت کو ختم کردیا جائے۔اس جماعت نے بھی اپنی تنظیم کا نام جنوبی پنجاب رکھاہواہے جبکہ اس کی تنظیم سازی میں بھی وسیب کے کئی اضلاع شامل نہیں جس سے یہ بات عیاں ہوتی ہے کہ یہ جماعت بھی خطے سے مخلص نہیں،اس کی کیا وجہ ہے، کیا ان پر اسٹیبلشمنٹ کا پریشر ہے یا ویسے وہ اندر سے ہی ہمارے خطے سے مخلص نہیں ،یہ بات بھی ایک نہ ایک دن کھل ہی جائے گی۔
ہماری سرائیکی پارٹی سمیت سرائیکی وسیب کی کئی پارٹیاں عرصہ دراز سے صوبہ سرائیکستان کی مہم چلائے ہوئے ہیں ،یہ ایسی پرامن تحریک ہے کہ اس سے آج تک ایک انسان کو بھی تکلیف نہیں پہنچی نہ ہم نے کسی کا گملہ توڑا اور نہ ہی کسی کا شیشہ جسکی وجہ سے ملک بھر کے تمام محب وطن نہ صرف اس تحریک کی حمایت کرتے ہیں بلکہ اس کو آگے بڑھانے میں بھی پیش پیش ہیں۔ہم نے شروع دن سے سرائیکیوں کی شناخت کے ساتھ ساتھ 23اضلاع پر مشتمل مکمل صوبے کی بات کی ۔اس مطالبے کو عوام نے بھرپور پذیرائی بخشی جس سے قومی جماعتوں پر اتنا پریشر بڑھا کہ وہ بھی الگ صوبے کی حمایت کرنے پر مجبور ہوگئیں۔ ویسے بھی ہمارا مطالبہ نہ ہی ہمارا ذاتی معاملہ ہے اور نہ ہی اس کا صرف ہمیں فائدہ ہے ۔ہم سمجھتے ہیں کہ اس سے ایک تو وفاق مضبوط ہوگا، دوسرا ملکی بیانیہ بھی مثبت سمت میں آگے بڑھے گا کیونکہ ماضی کے ملکی بیانیے نے خود ملک کو نقصان پہنچایا ہے، اس لیے اب ایسے بیانیے کی ملک کوضرورت ہے جس سے ملک میںبسنے والے تمام طبقات کو اس کافائدہ پہنچے، اسی لیے اب ہمارے شناخت کے مطالبے پر بھی غور کیا جائے تو بہت ہی بہتر ہوگا کیونکہ ہم نہ تو دوسروں سے کم تر اور نہ ہی دوسروں سے برتر صوبہ مانگتے ہیں جیسے بلوچوں کا بلوچستان ہے، سندھیوں کا سندھ ہے ،پشتونوں کا پختون خواہ ہے ،پنجابیوں کا پنجاب ہے ،اسے طرح سرائیکیوں کا بھی صوبہ سرائیکستان ہونا چاہیے تاکہ ملک ایک بیلنس کے صورت اختیار کرسکے۔جب ہم شناخت کی بات کرتے ہیں تو نہ جانے کیوںہمارے اوپر اعتراضات کی بوچھاڑ ہوجاتی ہے ،میرا اپنا ایک پڑھا لکھا گھرانہ ہے، ایک بیٹا اور بیٹی ڈاکٹر،بہو چائینہ نیشنلسٹ،دوبیٹے ایم اے ایل ایل بی،میری اپنی بہوئیں غیر سرائیکی ہیں، اب ہم اتنے رچ بس گئے ہیں کہ کوئی جدائی کاسوچ بھی نہیں سکتا، اس لیے سرائیکیوں اور غیر سرائیکیوں کو لڑانے کے بجائے انہیں مزید مکس اپ کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ہمارے بچوں کا مستقبل روشن اور بہترین ہوسکے۔اس کا بہترین حل صوبہ سرائیکستان کا قیام ہے،اس بارے بھی بتاتا چلوں کہ سرائیکستان صوبہ بھی کوئی لسانی نام نہیں۔یہ ایک ثقافتی اور جغرافیائی نام ہے، اگرنام سرائیکی صوبہ ہوتوسب کو قبول نہیں ہوگا ،لوگ سمجھیں گے کہ یہ سرائیکیوں کا صوبہ ہے جبکہ سرائیکستان صوبہ سے مراد اس خطے میں بسنے والے تمام لوگوں کا صوبہ ہے۔
اس وقت الیکشن کی کمپین عروج پر ہے، میں بھی پاکستان سرائیکی پارٹی کے ٹکٹ پراین اے 158 سے الیکشن لڑرہا ہوں ،میری الیکشن کمپین تمام زبانیں بولنے والے چلا رہے ہیں،ہم اس دوران جس تربیتی سیشن سے گزر رہے ہیں ،کوئی سوچ بھی نہیں سکتاکہ ایک ایک ووٹ کی پرچی مانگنے کے لیے ہرگھر اور سب گھروں میں جانا پڑتا ہے ، ہم ڈٹے ہوئے ہیں کیونکہ ہم حق سچ پر ہیں،ہم کسی کے خلاف نہیں بلکہ ہم اپنی کھوئی ہوئی شناخت کی بات کررہے ہیں جو کافی عرصہ قبل ہم سے چھینی گئی تھی،اس وجہ سے اردو اور پنجابی ،رانگھڑی ،ہریانوی تمام زبانیں بولنے والے ہمارا ساتھ دے رہے ہیں،ہم سمجھتے ہیں کہ ن لیگ ہی ہماری شناخت کی اور صوبے کی دشمن جماعت ہے اور یہاں کے عوام بھی ان سے سب سے زیادہ سوالات کررہے ہیں، اس لیے ہمیں امید ہے کہ لوگ ہمیں سرخروکریں گے اور ہم ایک نئے ولولے اور جذبے کے ساتھ سامنے آئیں گے کیونکہ ہمارے اندر نفرت نہیں بلکہ محبتوں کے چشمے موجود ہیں،ہم انسانوں سے نفرت نہیں بلکہ محبت کرتے ہیں کیونکہ خواجہ فریدؒ سمیت ہمارے تمام شاعروں کی شاعری محبتوں کے گیتوں سے بھری پڑی ہے جس قوم کے ہیروز شاعرہوں ،وہ قوم کسی سے نفرت نہیں کرسکتی ،جس طرح علامہ اقبالؒ کے سچے ماننے والے کسی کا دل نہیں دکھاسکتے،کسی کاخون نہیں بہاسکتے،کسی کو رنجا نہیں سکتے، اسی طرح خواجہ فریدؒ، شاکر اور رفعت کو ماننے والے کسی سے لسانی بنیاد پر نفرت نہیں کرسکتے،بیرسٹر تاج محمد لنگاہ بھی کسی سے نفرت نہیں کرتے تھے بلکہ اپنے لوگوں کے سیاسی حقوق کے بات کرتے تھے اور یہ بات پنجاب کے پنجابیوں کو شاید آج بھی بری لگتی ہے۔ہاں بری لگتی رہے کیونکہ ہم نے ان سے حقوق لینے ہیں،وسیب کے پنجابی بھی پنجاب کے پنجابیوں سے نالاں ہیں کیونکہ انہیں بھی مسائل کا سامنا ہے ،وہ بھی جب لاہور جاتے ہیں تو ان کا بھی ڈومیسائل دیکھ کر واپس بھگا دیا جاتا ہے، اس لیے لاہور کے حکمران پنجابی اب ہمارے ساتھ نفرت نہیں پیار کااظہار کریں تو ہم بھی پیار کے بدلے پیار ہی دیں گے ،ہم اب اچھے ہمسائے بن کر تو جی سکتے ہیں غلام بن کرنہیں۔ساڈا حق کھاون ہنٹر سوکھا نئیں،ساڈے بال الاون سکھدے پن یعنی ہمار حق اب کوئی نہیں کھا سکتا کیونکہ ہمارے بچے بولنا سیکھ رہے ہیں۔
(کالم نگارپاکستان سرائیکی پارٹی کے مرکزی صدر ہیں)
٭….٭….٭


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved