تازہ تر ین

گلوکاروں کے آنسو!

رازش لیاقت پوری وسدیاں جھوکاں
فنکار کسی بھی ملک اور علاقے کا سافٹ امیج ہوتے ہیں،اگر یہ چہرہ دھندلا اور اداس ہوتو پورا ملک اور علاقہ اداس اداس لگتا ہے ،اگرچہ ہمارے ملک کے فنکار اور گلوکار معاشی لحاظ سے بہت آسودہ رہے ہیں مگر گزشتہ چند سال سے یہ لوگ بھی اداس رہنے لگے ہیں جس کی وجہ نیشنل ایکشن پلان کے تحت لگنے والی ساﺅنڈ ایکٹ پابندی بتائی جارہی ہے۔ اگرچہ یہ ایکٹ نفرت آمیزتقاریر کے خاتمے کے لیے بنایا گیا تھا مگر اس یکٹ میں واضح احکامات نہ ہونے کی وجہ سے اس کا اطلاق سپیکرز اور ساﺅنڈ چلانے پر ہونے لگا جس کی وجہ سے گانا گانے والے بھی اس کی زد میں آگئے اور پولیس ان فنکاروں کی پکڑ دھکڑ بھی جاری رکھے ہوئے ہے جس سے یہ حساس طبقہ بہت سارے مسائل کا شکار ہوچکا ہے۔
اس حوالے سے ”خبریں“وسیب بھر کے گلوکاروں کی آواز حکام بالا تک پہنچانے کے لیے موبائل فورم کا انعقاد کیا جس میں معروف لوک فنکاروں نے اپنے خیالات کا اظہار کیا کہ ساو¿نڈ ایکٹ نفرت آمیز تقاریر روکنے کے بجائے محبتوں بھرے گیت روک چکا ہے‘ گلوکاروں کے چولہے ٹھنڈے ہوچکے ہیں اوروہ تغاری اُٹھانے پر مجبور ہیں۔سابق حکومت نے ظلم کیا‘ نگران حکومت رحم کرے‘ پولیس کی بدمعاشی روکے۔انہوں نے جناب ضیاشاہد کا بھی شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے ہمارے اس اہم مسئلے پرہماری آواز بلند کی۔ملتان سے تعلق رکھنے والے، سنگر اتحاد کے صدر شہزادہ آصف علی گیلانی نے کہا کہ ساو¿نڈ ایکٹ نے شرانگیزوں کو روکنے کے بجائے ہمارا گلا دبا دیا ہے۔ہم بےروزگار ہوچکے‘ کسمپرسی کا شکار ہیں۔ (ن) لیگ کی حکومت نے اپنے سابقہ 5سالہ دورِاقتدار میں ہمارے اُوپر ظلم کیا۔ اب نگران حکومت کے ساتھ ساتھ عمران خان سے اُمیدیں وابستہ ہیں کہ وہ ہمارے اُوپر رحم کریں گے اور پولیس کو بدمعاشی سے روکیں گے۔ لیاقت پور کے معروف گلوکار اجمل ساجد نے کہا کہ پنجاب پولیس کبھی بھی فنکار دوست نہیں رہی۔ وہ ساو¿نڈ ایکٹ کی آڑ لے کر ہمیں خوار کرتی رہتی ہے۔ ہم جہاں پروگرام کرنے جاتے ہیں، پولیس کا ڈالہ وہاں پہنچ جاتا ہے۔ ناصرف ویلوں کے پیسے چھین لئے جاتے ہیں بلکہ تھانہ میں بھی بند کردیا جاتا ہے۔ یہ ظلم کی انتہا ہے جسے ختم کیا جانا اشد ضروری ہے۔
مظفرگڑھ کے معروف فنکار شعیب زیدی نے کہا کہ بیروزگاری کا یہ عالم ہے کہ اب فنکار کم معاوضے پر سیاسی گانے ریکارڈ کرانے پر مجبور ہیں۔ ایک وقت تھا کہ فنکار خوشحال تھے۔ شادیوں پر اہتمام کے ساتھ بلایا جاتا تھا ،اب تو شادی والے بھی ڈرتے ہیں۔ ریڈیو اور پی ٹی وی سے بھی کچھ نہیں ملتا۔ افسوس پالیسی ساز اداروں نے امن کے گیت گانے والوں کے لئے کچھ نہیں کیا۔ پاکستان کے لئے جتنی خدمات گلوکاروں کی ہیں اور کسی کی نہیں مگر گلوکاروں پر پابندیاں لگاکر ان پر زمین تنگ کردی گئی ہے۔ آنے والی حکومت سے درخواست ہے کہ فنکاروں کے لئے کچھ ضرور کرے تاکہ یہ محب ِوطن اور حساس طبقہ سکھ کی سانسیں لے سکے۔ نوجوان گلوکار عدنان ارشد نے کہا کہ ظلم کا یہ عالم ہے کہ پولیس گلوکاروں کے منہ تک سونگھتی ہے‘ بلاوجہ تنگ کیا جاتا ہے‘ میوزک اکیڈمیوں تک کو نہیں چھوڑا جاتا۔ فنکاروں کو بھی جینے دیا جائے۔ ساو¿نڈ ایکٹ ایسے کالے قانون کو نفرت انگیز تقاریر کو روکنے تک محدود کیا جائے۔
ڈیرہ اسماعیل خان کے معروف گلوکار امجد نواز کارلو نے کہا کہ ایک وقت ایسا بھی آیا کہ میں نے پولیس سے تنگ آکر گانا ہی چھوڑ دیا تھا مگر دوستوں کی خواہش پر دوبارہ گانا شروع کیا لیکن پولیس کا رویہ نہیں بدلا۔ فنکار محبتوں کے پیامبر ہوتے ہیں ،انہیں امن کا پیغام پھیلانے کا بھرپور موقع دیا جانا چاہے۔بھکر کے معروف گلوکار مشتاق چھینہ نے کہا کہ میری آرمی چیف جناب قمر جاوید باجوہ سے درخواست ہے کہ وہ فوری نوٹس لیں اور فنکار برادری کو معاشی قتل سے بچائیں۔ ہم نے امن کے گیت گائے ہیں لیکن ضلعی سطح پر امن کمیٹیوں میں ہم شامل نہیں۔ افسوس امن کمیٹیوں میں وہ لوگ شامل ہیں جو امن خراب کرتے ہیں اسی لئے پالیسی ساز اپنی پالیسیاں تبدیل کریں اور اچھے لوگوں کو آگے لائیں۔ بھکر ہی سے تعلق رکھنے والے گلوکار احمد نواز چھینہ نے کہا کہ پنجاب پولیس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے‘ یہ پولیس فنکاروں کو کچھ بھی نہیں سمجھتی‘ یہ فنکاروں کی بے عزتی کرنا اپنی شان اور عزت سمجھتی ہے ‘ یہ رویہ ختم ہونا چاہیے۔ ہم گلوکار متحد ہوچکے ہیں جیسے ہی نئی حکومت آئے گی اپنے حق کے لئے احتجاج کا سلسلہ شروع کردیں گے۔
ملتان کی معروف گلوکارہ کوثر جاپانی نے کہا کہ پولیس خواتین گلوکاروں کو زیادہ تنگ کرتی ہے۔ ایک مرتبہ انمول سیال کو تھپڑ مارے گئے‘ مجھے بھی ہراساں کیا گیا۔ یہ زیادتیاں برداشت سے بڑھ رہی ہیں۔ ہمیں بتایا جائے کہ ہمارا قصور کیا ہے‘ ہم کونسی نفرت پھیلاتے ہیں جو نفرت پھیلاتے ہیں انہیں تو کچھ نہیں کہا جاتا‘ ہمیں ہی تنگ کیا جاتا ہے۔ تھیٹر کے معروف مزاحیہ فنکار اکرم نظامی نے کہا کہ اجازت لینے کے باوجود سرکاری ادارے تنگ کرتے ہیں‘ کام نہیں کرنے دیتے، جہاں تھپڑ لگاتے ہی پولیس والے بھگا دیتے ہیں‘ ہم جائیں تو جائیں کہاں؟ وسیب کے فنکاروں کو سرکاری تقریبات میں بھی نہیں بلایا جاتا۔ اگر بلا لیا جائے تودو تین ہزار دے کر ٹرخا دیا جاتا ہے جبکہ باہر کے فنکاروں کو لاکھوں ادا کئے جاتے ہیں۔ کہروڑ پکا کی معروف فنکارہ اِرم سیال نے کہا کہ فنکار برادری اب جاگ چکی ہے‘ اپنا حق لے کر رہیں گے‘ کسی کو اپنا حق مارنے نہیں دیں گے‘ احتجاج کرنا پڑے تو پورا ملک ہلادیں گے۔ قانون بنانے والے پہلے سوچ بھی لیا کریں کہ اس قانون سے کون کون متاثر ہوگا۔ گلوکارہ ثوبیہ ملک نے کہا کہ شادیوں کے ساتھ ساتھ این جی اوز کی تقریبات میں بھی تنگ کیا جاتا ہے‘ ہم جائیں تو جائیں کہاں؟ آرٹس کونسل ملتان نے گلوکاروں کے لئے تقریبات کا انعقاد شروع کردیا ہے جو اچھا عمل ہے۔ دوسرے ادارے بھی اس کی تقلید کریں تاکہ فنکار برادری بھوکا مرنے سے بچ جائے۔ سیاستدان فنکاروں کے لئے اچھا سوچا کریں‘ ہم بھی سیاسی جماعتوں کے گیت گایا کریں گے۔،گلوکار ارسلان میاں والی نے کہا کہ ہمارا علاقہ ہی فنکاروں کا علاقہ ہے ،یہاں ہم بہت سے مسائل کا سامنا کر رہے ہیں جنہیں فوری کم کیاجائے۔
اچ شریف کی فنکارہ کومل خان نے کہا کہ وسیب امن کا خطہ ہے، یہاں کی خواتین بہت زیادہ مسائل کا شکار ہیں ،ہم گلوکار خواتین تو پس چکی ہیں ،پولیس الگ تنگ کرتی ہے ،یہ ادارہ ہمیں تحفظ دینے کے بجائے ہمارے پیچھے پڑا رہتا ہے ۔فنکاروں کی یہ باتیں دل کو بھی لگتی ہیں کہ جب ہر جگہ جلسے جلوس ہورہے ہیں،تو پھر فنکاروں پر یہ پابندیاں کیوں؟دوسرا یہ لوگ تو بات بھی امن ،محبت اور پیار پریت کی کرتے ہیں، اس لیے ایسے لوگوں کو تو پروموٹ کیا جانا چاہیے تاکہ امن کی بات آگے بڑھتی رہے۔ امید ہے مطلقہ ادارے ضرور نوٹس لے کرگلوکاروں کا یہ مسئلہ فوری حل کروائیں گے ،یہ بات بھی یاد رہے کہ فنکاروں کے ساتھ یہ مسئلہ وسیب میں زیادہ ہے ،دوسرے علاقوں میں فنکاروں کے ساتھ نرمی برتی جاتی ہے،اس لیے یہاں کے فنکاروں کی دل جوئی بروقت اور بہت ضروری ہے۔امید ہے نگران وزیر اعلیٰ حسن عسکری اس مسئلے کا فوری نوٹس لیں گے۔
(کالم نگار صحافی اور معروف شاعر ہیں)
٭….٭….٭


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved