تازہ تر ین

خلائی مخلوق اور کٹھ پتلی حکمران

شاہد ندیم احمد ….صدائے سحر
ملک کی تمام بڑی سیاسی جماعتوں کے قائدین عام انتخابات کی تیاریوں میں مصروف ہیں، مگر سبھی سیاسی جماعتوں کی قیادت اور ان کے رہنماﺅں کے ذہن میں شکوک وشبہات بھی موجود ہیں۔ ماہ رواں میں ہونے والے انتخابات پر ابھی تک بہت سے سوالیہ نشانات بھی موجود ہیں۔ پاکستان کی سیاسی تاریخ میں آئندہ انتخابات کو بہت زیادہ اہمیت حاصل ہے، کیونکہ ان انتخابات پر بات کرتے ہوئے اعلیٰ عدلیہ ،سربرہ افواج پاکستان اور نگران حکومت بارہا یقین دہانی کرا چکے ہیں کہ یہ انتخابات مکمل طور پر شفاف ہونگے اور تمام سیاسی جماعتوں کو بلا امتیاز انتخابی مہم چلانے کے بھرپور مواقع ملیں گے۔ پاکستان مسلم لیگ ن ، پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف کے قائدین ملک کے مختلف شہروں میں عوامی رابطہ مہم جاری رکھے ہوئے ہیں، مگر شکوک وشبہات کے بادل چھٹنے کا نام نہیں لے رہے،افواہوں کا بازار گرم ہے۔ایک بار پھرترجمان پاک فوج میجر جنرل آصف غفور کی واضح یقین دہانی کے بعد شکوک شبہات کے بادل چھٹ جانے چاہیںکہ الیکشن میں افواج پاکستان کا کردار الیکشن کمیشن کی معاونت کرنا اور انہیںسپورٹ کرنا ہے ،جبکہ الیکشن کنڈیکٹ میں پاک فوج کا کوئی کردار نہیں،یہ الیکشن کمیشن کا کام ہے اور وہی انجام دے گا۔عدلیہ اور پاک فوج کی مخلصانہ کاوشوں سے تمام شک وشبہات نے دم توڑ دیا ہے اور پاکستان الیکشن کی طرف جارہا ہے ،ملک کو درپیش مسائل کے پیش نظر ہمارے تمام سیاسی رہنماﺅں کو مفاد عامہ کے تحت اپنے اپنے طور پر کچھ اہم فیصلے کرنا ہوں گے، اپنے سیاسی رویوں میں تبدیلی لا نا ہوگی ،ذاتی مفادات پر ملکی مفاد کو ترجیح دینا ہوں گے ،تا کہ باہمی اتحاد کے ساتھ ملک کو اس نازک ترین صورتحال سے باہر نکالا جا سکے۔
2018ءکے الیکشن محض بارہ دن کی دوری پر ہیں، احتسابی عدالت کا فیصلہ مسلم لیگ( ن)کے انتخابی معرکے کے لیے بڑا دھچکہ ثابت ہورہا ہے ،آثار بتا رہے ہیں کہ اپیل کے فورمز پر بھی شریف خاندان کو کوئی ریلف ملنا مشکل نظر آتا ہے ۔نواز شریف اور مریم نواز کی وطن آمد پر گرفتاری اور عدم ضمانت کی صورت میں( ن)لیگ کا ووٹ بنک بری طرح متاثر ہوگا، پہلے ہی درجنوں لیگی رہنما اپنی وفاداریاں تبدیل کرچکے ہیں اور اب ووٹر زبھی مسلم لیگ (ن) کے کیمپ کو خیر باد کہنے کی تیاریاں کررہے ہیں ۔میاں نواز شریف اور مریم نوازاپنے خلاف تمام کاروائیوں اورفیصلوں کا ملبہ خلائی مخلوق پرڈال رہے ہیں ،وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ خود کسی خلائی مخلوق کی نرسری میں سیاسی جوان ہوئے ہیں ۔ ترجمان پاک فوج نے واضح کردیا ہے کہ فوج خلائی نہیں خدائی مخلوق ہے،عوام انتخابات میں جس کو ووٹ دیکر وزیراعظم بنائیں گے ،انہیں قبول ہوگا ۔افواج پاکستان کا سیاست سے براہ راست کوئی تعلق نہیں ،وہ انتخابات کو آزاد منصفانہ بنانے کے لئے غیر سیاسی اور غیر جانبدار ہوکرموثر کردار ادا کرنے کی کوشش کررہے ہیں ۔اس وضاحت کے بعد مسلم لیگ (ن)اور پیپلز پارٹی کو چاہئے کہ وہ پاک افواج کو زیر بحث بنانے کی بجائے اپنی انتخابی مہم پربھر پورزیادہ توجہ دیں،کیونکہ پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کے معاملات بھی میاں نواز شریف سے کچھ زیادہ مختلف نہیں، لہٰذ ا انہیں بھی فیصلہ کرنا ہے کہ وہ ذوالفقار علی بھٹو کی پیپلز پارٹی کو زندہ کرنے کے لیے کس طرح کا لائحہ عمل اختیار کرتے ہیں۔ بظاہر آصف علی زرداری پیپلز پارٹی کی تمام تر پالیسیاں مرتب کرتے ہیں اور ان کی انہی پالیسیوں کی وجہ سے پیپلز پارٹی پاکستان کی مقبول ترین سیاسی جماعت نہیں رہی، بلکہ ان کی جماعت سندھ کی علاقائی جماعت بنتی جا رہی ہے ،بعض لوگ موجودہ پیپلز پارٹی کو زرداری لیگ بھی قرار دیتے ہیں۔نواز شریف اور مریم نواز کے پس زنداں کے مسافر بننے کے بعد آصف علی زرداری کے قریبی ساتھی حسین لوائی کی اربوں روپے منی لانڈرنگ کیس میں گرفتاری اور سابق صدر ،ان کی بہن ودیگر کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کے عدالتی حکم کے ذریعے پی پی پی بھی واضح پیغام پہنچ چکا ہے ۔عمران خان کی کامیابی کی راہوں میں بچھے خار مغیلاں چن چن کے ہٹائے جارہے ہیں اور معطر تازہ پھول بچھائے جارہے ہیں ،مستقبل کے سیاسی منظر نامے میںمسلم لیگ(ن)کے بھاری مینڈیٹ کا ٹاٹینک ڈوب رہا ہے اور پی ٹی آئی کا سورج طلوع ہورہا ہے ۔
اس میں شک نہیں کہ تحریک انصاف کی ”ہوا چل پڑی ہے“ اور روز بروز تیز تر ہوتی جا رہی ہے،کپتان کا جادو سر چڑھ کہ بول رہا ہے۔ نا اہل قائد اور جانشین کو سنائی گئی سزاﺅں کے بعد مسلم لیگ کی ابتر صفوں میں بھگدڑ مچ گئی ہے۔ جلسوں میں حاضری کا فرق آنے والے انتخابی نتائج کی خبر دینے لگاہے۔یوں لگتا ہے کہ انتخاب میں تحریک انصاف کو پنجاب اور خیبر پختونخوا میں واضح برتری حاصل ہو جائیگی۔پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان ملک کی ایک بڑی سیاسی قوت بن چکے ہیں ،جس سے انکار ممکن نہیں ۔ عمران خان نے ہمیشہ سے ملک میں تبدیلی لانے اور عوام کے وسیع تر مفاد میں اقدامات کرنے کا اعلان کیا ہے، ان کی جماعت کو زبردست پذیرائی حاصل ہو رہی ہے، بلکہ بعض حلقے وثوق سے اس بات کا اظہار کرتے ہیں کہ انہیں کنگ میکرز کی بھی حمایت حاصل ہے ،خلائی مخلوق کی بجائے خدائی مخلوق کسی حدتک اثر انداز ہورہی ہے ۔اگر اس بات کو تسلیم کربھی لیا جائے تو عمران خان پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ فیصلہ کریں کہ انہیں کٹھ پتلی حکمران بننا ہے یا عوامی امنگوں کے مطابق اور پارٹی نظریات کو آگے بڑھاتے ہوئے اقتدار کے ایوانوں تک پہنچنا ہے۔ بظاہر ایسا نہیں لگتا کہ عمران خان جو اپنے فیصلے خود کرنے میں مشہور ہیں وہ کٹھ پتلی حکمران بن کر چل پائیں گے،مگرسیاسی تاریخ بتاتی ہے کہ مدت اقتدار پوری کرنا اور ذاتی خوہشات کی تکمیل سکرپٹ کے مطابق کارگزاری سے ہی ممکن ہے۔
(کالم نگار سینئر صحافی ، سیاسی ایشوز پر لکھتے ہیں)
٭….٭….٭


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved