تازہ تر ین

یہ آپ ہی کا کیا دھرا ہے

توصیف احمد خان

محترمہ مسلم لیگ ن صاحبہ…اب آپ رو کیوں رہی ہیں؟
خود کردہ را علاجے نیست…جو کچھ آپ نے کیا اور خود کیا اس کا یقینا کچھ علاج نہیں، آپ لوگ بھگت رہے ہیں تو بھگتیں۔
کل ساری دنیا کہتی تھی کہ پنجاب پولیس آپے سے باہر ہوچکی ہے ، قانون کی حفاظت کی بجائے اسے ہر قسم کی قانون شکنی کا ”اختیار“ حاصل ہوچکا ہے، وہ جسے چاہے پکڑ لے، جسے چاہے ماردے اور جس پر چاہے مقدمہ قائم کردے… وہ سفید کو سیاہ اور سیاہ کو سفید ثابت کرنے میں ماہر ہوچکی ہے مگر آپ نہیں مانتے تھے، آپ سے مراد خود میاں شہبازشریف کی ذات گرامی ہے، لوگ یہ بھی کہہ رہے تھے بلکہ واویلا مچا رہے تھے کہ اس سب کچھ کی وجہ کوئی اور نہیں خود میاں شہبازشریف ہیں لیکن وہ اسے ماننے کیلئے تیار ہی نہیں تھے، مگر آج …آج شہباز شریف یہی سب کچھ دہرارہے ہیںتو دوسرے انکی آواز پر کان کیوں دھریں، یہ سب آپ ہی کا کیا دھرا ہے تو اسکا تدارک بھی آپ خود ہی کریں۔
اصل میں میاں صاحب! اسے عرف عام میں مکافات عمل قراردیا جاتا ہے…آپ صاحب اقتدار تھے اور یہی سب کچھ ہورہا تھا…یعنی گرفتاریاں، پکڑ دھکڑ، مقدمات ،راستوں کی بندش، تو یہ سب ٹھیک تھا…آج آپ صاحب اقتدار نہیں رہے وزارت اعلیٰ آپ کے پاس نہیں ، آپ محض مسلم لیگ ن کے صدر ہیں، وہ بھی معلوم نہیں ن رہتی ہے یا نہیں کیونکہ کیس الیکشن کمیشن میں موجود ہے …تو آج یہ سب غلط کیسے ہوگیا…آج آپ کس منہ سے لاہور پولیس اور پنجاب پولیس کی زیادتیوں کا رونا رو رہے ہیں، یہ آپ ہی کے پروردہ ہیں…تو پھر بھگتیں۔
کیا آپ بھول گئے ہیں ، یہ کینٹینر جو اب لگائے جارہے ہیں چار سال پہلے بھی لگائے جارہے تھے ، یہ گرفتاریاں جو اب ہورہی ہیں چارسال پہلے بھی ہورہی تھیں، یہ مقدمات جو اب بنائے جارہے ہیں چار سال پہلے بھی بنائے جارہے تھے، یہ الزامات جو آج لگائے جارہے ہیں چار سال پہلے بھی لگائے جارہے تھے…اب کس کس کا ذکر کریں… اس وقت یہ درست تھا تو آج غلط کیسے ہے۔
لیکن…! ہمارے نزدیک یہ اس وقت بھی زیادتی تھی اور آج بھی زیادتی ہے…اس وقت تو اس سب کچھ کا مقابلہ کرنے والوں نے ہمت دکھائی اور رکاوٹ بننے والے کنٹینر خود ہٹا کر راہ صاف کرلی اور جہاں پہنچنا تھا پہنچ گئے، تو آپ کیا فرماتے ہیں اس مسئلہ پر …کیا آپ بھی یہ کچھ کرسکتے ہیں یا آپ کی جماعت کے دست بازو اس ہمت اور طاقت سے خالی ہیں ، آپ بہتر جانتے ہیں ۔
زیادتی جہاں بھی ہوگی ہم زیادتی کرنے والوں کے مخالف اور زیادتی کا شکار ہونے والوں کے حامی ہیں مگراسی حد تک …اس سے آگے نہیں ، انکی یا انکے مخالفوں کی سیاسی سوچ اور فکر سے ہمیں کیا لینا دینا۔
ایک پوسٹ نظر سے گذری جو ہمارے ایک سینئر ساتھی یعنی ایک صحافی کی جانب سے تھی، وہ نگران وزیراعلیٰ پنجاب محترم حسن عسکری کے شاگرد بھی ہیں، وہ لکھتے ہیں کہ یہ گرفتاریاں ، پکڑ دھکڑ اور مقدمات کالاقانون ہے اور آپ تو ہمیں پڑھایا کرتے تھے کہ کالا قانون انگریز کا دیا ہوا ہے …جی بالکل ! یہی کچھ پڑھاتے ہونگے کیونکہ ان کو اکثر ٹی وی پر تبصرہ کرتے ہوئے بھی سننے کا موقع ملا ہے ، وہاں انکے منہ سے جمہوریت کے پھول جھڑتے تھے، جمہوریت کا ذکر کرتے ہوئے ان کا چہرہ کھل اٹھتا تھا، جمہوریت کش رویوں کی بات کرتے تو انکا منہ بن جاتا تھا مگر آج …!آج یہ اس مقام پر ہیں جہاں سے اس سب کچھ کے احکامات جاری کئے جاتے ہیں ،آج یہ شہباز شریف کی کرسی پر ہیں اور شہباز شریف انکے مقام پر کھڑے ہیں، ہم سمجھتے ہیں کہ ان دونوں کرسیوں کی روح مختلف ہے ، جس کرسی پر بیٹھیں گے آپ کی سوچ اسکے مطابق ڈھل جائیگی، جمہوریت کی باتیں اس وقت تک بڑی خوبصورت ہوتی ہیں جب تک کوئی صاحب اقتدار نہیں بن جاتا…اقتدار ملتے ہی کون سی جمہوریت اور کہاں کی جمہوریت … یہ سارے مسائل پہلے شہبازمیاں کے ساتھ تھے اور آج حسن عسکری کے ساتھ ہیں جو اپنے شاگردوں کو درس اخلاق دیتے دیتے اس ”منزل “پر پہنچے تو سابقہ درس طاق نسیاںمیں رکھ دیا اور خود دوسروں سے ”اخلاق“ کا نیا درس لینے لگے۔
معاف کیجئے گا لفظ طاق نسیاںاستعمال کرگیا ہوں ، اللہ کرے محترم ضیاشاہد صاحب کالم نہ پڑھیں ورنہ اس لفظ پر انکا رد عمل کیا ہوگا؟ بس آپ تصور کرسکتے ہیں …ذرا سا مشکل لفظ ان کیلئے قابل برداشت نہیں ہوتا، ویسے انکی یہ سوچ بالکل درست ہے، اخبار کا ہرقاری ادب کا طالب علم نہیں ہوتا، اسے انتہائی کم پڑھا لکھا آدمی بھی پڑھتا ہے اور اس طرح کے مشکل الفاظ پر وہ دوسروں کا منہ ہی دیکھتا رہتا ہے ، تو عام فہم میں طاق نسیاںکا عام سا مطلب بھول جانا ہے ۔
محترم پروفیسر حسن عسکری اس درس کو غالباً فراموش کرچکے ہیں اور اب خود بیوروکریسی کی شاگردی اختیار کرلی ہے،مسئلہ یہ ہے کہ ڈیڑھ دو ماہ باقی ہیں ، ان میں جو کچھ سیکھیں گے بعد میں اسکا کیا کریںگے،ہمیں یقین تو نہیں مگر محسوس ہوتا ہے کہ اقتدار کے معاملے میں یہ ان کیلئے پہلا اور غالباً آخری موقع ہے، مقدر کے دھنی ہوئے تو کئی اور مواقع مل سکتے ہیں، شاید یہی سبق اگلی باری میں کام آجائے ورنہ عالم تنہائی میں اس درس کو دہرایا کرینگے اور اس سہ ماہی اقتدار کو یاد کرکر کے دل بہلایا کرینگے۔
ویسے اس قسم کے لوگ گفتار کے غازی کہلاتے ہیں، کاش یہ اپنے بھاشن کو اقتدار میں بھی یاد رکھیں اور یہاں بھی اس پر عمل کریں جو ہم انکی زبان سے مختلف ٹی وی پروگراموں میں سنتے رہے ہیں، واضح رہے کہ ان دنوں یہ گرفتاریاں ، مقدمات اور کنٹینر وغیرہ لگانے کے بہت بڑے ناقد تھے، ہمیں یقین ہے کہ تین ماہ کے اس اقتدار سے علیحدہ وہتے ہی یہ اپنا طنبورہ دوبارہ بجاناشروع کردینگے… یہ بھول کر کہ وہ گفتار کیا کرتے رہے ہیں اور انکا کردار کیا رہا ہے۔
حکمران تو سب کے سب اعلانات کررہے ہیں کہ انتخابات انتہائی شفاف ہونگے ، کسی قسم کی دھاندلی نہیں ہونے دی جائیگی اور عوام جس کو دل چاہے ووٹ دیں…لیکن نوازشریف کا اعلان ہے کہ ان انتخابات میں بدترین دھانلی ہونے جارہی ہے ، اس سے پہلے تو دھاندلی کا شور نتائج آنے کے بعد ہوتا تھا مگر اب انتخابات سے کئی دن پہلے لوگوں کو اس ”دھاندلی “ کا پتہ چل گیا ہے … معلوم نہیں ”بلا “زور دار ہٹ مارے گا یا شیر کی دھاڑ سنائی دیگی یا تیر ان دونوں کو چیرتا ہوا گذر جائیگا، دیکھتے ہیں 25جولائی زیادہ دور نہیں، دس بارہ دن کی بات ہے …ماضی ہمیں انتخابات کے حوالے سے بہت خوشگوار خبریں نہیں دیتا کہ کوئی نہ کوئی فریق دھاندلی کا شکار ضرور ہوا ہے یا کم از کم دعویٰ یہی کیا گیا ہے، 25جولائی کی رات جب نتائج آنا شروع ہونگے تو دیکھیں گے کہ سیکرٹری الیکشن کمیشن کے دعوے میں کس حد تک صداقت ہے …موصوف نے کل ہی فرمایا ہے ، انتخابات اتنے شفاف ہونگے کہ کوئی انگلی نہیں اٹھا سکے گا…ہم دعا گو ہیں اللہ کرے ایسا ہی ہو، انتخابات کی شفافیت پر واقعی انگلی نہ اٹھائی جاسکے اور نوازشریف صاحب کا دعویٰ حقیقت نہ بن سکے کہ بدترین دھاندلی ہونے جارہی ہے۔
٭٭٭


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved