تازہ تر ین

میرا دوست نوازشریف (38

 

ضیا شاہد
چند روز اس شور شرابے میں گزرے۔ میرے گھر سے نکل کر نیو کیمپس کی طرف جائیں تو ڈاکٹر اسرار احمد کی مسجد کے سامنے وہ بڑا پارک ہے جس کے ایک کونے پر منظور وٹو کا آبائی گھر ہے۔ منظور وٹو نے بھی وزیراعلیٰ بننے کے باوجود سیون کلب روڈ کے رہائشی مکان کی بجائے اپنے ہی گھر پر ماڈل ٹاﺅن کو سرکاری رہائش گاہ قرار دیا تھا۔ البتہ حکومت بہرحال حکومت ہوتی ہے۔ دیکھتے ہی دیکھتے یہ پلاٹ صاف بھی ہوا، سر سبز بھی اور پھولوں سے بھی بھر گیا۔ منظور وٹو کے گھر کے سامنے بھی اسی طرح استقبالیہ کمرے پارک میں بنے جس طرح نوازشریف کے گھر کے سامنے بنے تھے۔ پنجابی زبان کے محاورے کے مطابق ”اپنی منجھی کے نیچے کوئی ڈانگ نہیں پھیرتا“ لہٰذا منظور وٹو کے استقبالیہ کمرے جو کسی نقشے یا منطوری کے بغیر عوامی پارک میں بنے تھے، درست قرار پائے اور میرے دوست نوازشریف کے گھر کے سامنے ”ناجائز تعمیرات“ بلڈوزروں سے صاف کر دی گئیں۔ میٹھا میٹھا ہپ ہپ، کڑوا کڑوا تھو تھو۔
میاں نواز شریف برسوں تک حکومت میں رہے تو انہیں کون پوچھنے والا تھا۔ انہوں نے ٹھونک بجا کر گھر کے سامنے پارک میں استقبالیہ کمرے بنوائے اور لیفٹ پر بگلی دیوار کے ساتھ تکونے گراﺅنڈ میں باقاعدہ دروازہ کھول کر گیٹ لگوایا۔ یہاں اس کے خاندان کے بچے شام کو کرکٹ کھیلتے تھے اور کوئی مائی کا لعل پر نہیں مار سکتا تھا۔ اس گراﺅنڈ میں جس میں داخلے کا کوئی راستہ موجود نہیں تھا، صرف ایک راستہ نوازشریف کے گھر کے اندر سے جاتا تھا،وہاں بے شمار سیاسی جلسے بھی ہوئے اور کھانے بھی لیکن صاحب حکمران کے گرداگرد سب علاقے اس کے ہوتے ہیں۔ منظور وٹو بھلا پیچھے کیوں رہتے۔ انہوں نے بھی سرکاری رہائش گاہ اپنے گھر کو قرار دیا ،اس کے بالمقابل عوامی پارک میں استقبالیہ کمرے بنوائے اور ظاہر ہے کہ ان کی اجازت بھی کسی نے نہیں لی ہوگی۔ نوازشریف کے گھر کے سامنے سے عوامی پارک میں سے ناجائز کمرے گرا دیئے، اپنے سامنے بنوا لئے۔ نوازشریف کے والد میاں شریف کی بزرگی کا خیال نہ کرتے ہوئے بھی ان پر پولیس گردی کی اور اپنے خاندان کے بچوں بیٹی اور بیٹے تک کو سیاست میں لا کھڑا کیا۔ نہ جانے یہ ”وی آئی پی“ انداز فکر کب ختم ہو گا۔
اسی زمانے کا ایک اور بڑا واقعہ بیان کر کے ہمارے دوست نوازشریف کے دوسرے دور وزارت عظمیٰ کی طرف چلیں گے۔
ایک واقعہ نیا ہے، دوسرا آبزرویشن ہے کہ ہمارے ہاں ادارے کیوں تباہ ہوئے۔ اور تیسرا واقعہ اس ملاقات کے بارے میں ہے جو میرے چھوٹے سے آٹھ سیٹر ڈرائنگ روم میں نوازشریف سے آخری ملاقات کو ظاہر کرتا ہے۔ اور ایک روداد اسی حملے کی ہے جو گزشتہ دنوں تک ایک وفاقی وزیر کے ایماءپر خبریں کی شاہدرہ موڑ پر عوامی کچہرے کے جلسے پر ہوا جس میں سابق وفاقی وزیر اور لاہور کے سب سے بڑے مالدار، طاقتور اور نئی نویلی بیوی کے شوہر نے ان غریب شہریوں پر کروایا جو بجلی، پانی، سڑک پر گڑھوں اور سیوریج کی شکایت کے سلسلے میں اپنے اپنے مشاہدات بیان کر رہے تھے۔
نوازشریف کے دور پر قلم اٹھاتے وقت میں نے کبھی اس کے خلاف یکطرفہ ٹریفک نہیں کھولی بلکہ 35 برس تک ملکی سیاست میں اس کے اندازِ حکمرانی کے حوالے سے بہتری ہو یا بگاڑ، مثبت ہو یا منفی، سیاست کے ہر انداز کو سمجھنے کی کوشش کی۔ میں پہلے لکھ چکا ہوں کہ نوازشریف ہو یا بینظیر یہ نوجوان اور نئی قیادت تجربے کے علاوہ تاریخ کی فہم و بصیرت سے بھی لاعلم تھی۔ ایک دوسرے کے خلاف ”کٹ تھروٹ“ مقابلے میں دونوں طاقتوں نے اچھے برے کی تمیز ترک کردی۔ ریاست کے وسائل کو دو حصوں میں تقسیم کر کے ایک دوسرے کے مقابلے میں لا کھڑا کیا۔ وفاقی حکومت کے پاس سٹیٹ بنک، کمرشل بنک، مالیاتی ادارے، مواصلات، گیس، واپڈا، زرعی ترقیاتی بنک، خوشحالی بنک، نادرا، تعلیم، صحت اور زراعت کے شعبے تھے جب تک یہ سب شعبے اٹھارویں ترمیم کے تحت صوبوں کو منتقل نہیں ہو گئے۔ صوبے کی حکومتیں ، سکول، کالج، محکمہ نہر، محکمہ زراعت، محکمہ ریونیو یعنی ڈپٹی کمشنر، اسسٹنٹ کمشنر، تحصیلدار، گرداور اور پٹواری وغیرہ۔ علاوہ ازیں پولیس، تھانہ، ایس پی، ایس ایچ او، ہیڈ کانسٹیبل ، سپاہی، اس کے ساتھ برے بھلے، لولے لنگڑے بلدیاتی ادارے جن کا آدھا کام ڈپٹی کمشنر لے گئے تھے اور باقی آدھے پر ایم این اے، ایم پی اے شبِ خون مار چکے تھے۔ حتیٰ کہ پرویزمشرف کا دور آیا تو اچانک ضلعی حکومتوں کو تمام اختیارات دے دیئے گئے جو صدیوں کے بھوکے پیٹ اتنی وافر ”خوراک“ برداشت نہ کرنے کے باعث جا بجا وومٹنگ کرنے لگے۔ جونہی پرویزمشرف دور ختم ہوا منتخب اداروں اور اسمبلی کے ایوانوں نے ضلعی حکومتیں معطل کر کے بلدیادتی اداروں کو پھر سے عضوِ معطل کر دیا۔ میں آغاز میں لکھ چکا ہوں کہ بینظیر بھٹو نے بطور وزیراعظم پنجاب کے وزیراعلیٰ کی اتفاق انڈسٹری کے لیے آنے والا سکریپ کا جہاز جوناتھن کراچی ڈرائی پورٹ پر روک لیا اور عزیزم سراج منیر مجلس ترقی ادب کے دفتر میں بیٹھ کر وزیراعلیٰ کے جہاز کی بندش کے خلاف تشہیری مہم چلاتے رہے۔ چودھری سردار محمد، جہان حیرت والے ان کے نگران تھے اور سپیشل برانچ کے حمید صاحب لفافوں میں بند نقدی پہنچاتے تھے۔ پی سی آئی کے نام پر صحافت کو پروموٹ کرنے والے ادارہ کے ایک بزرگ اخباری ایڈیٹر کی سربراہی میں چند اخبار نویسوں کی مدد سے آئی جے آئی کا میڈیا سیل چلاتا تھا اور ایل ڈی اے کے فلیٹس جو بظاہر صحافت کی نشوونما کے لیے مختص کیے گئے تھے، دراصل نوازشریف کے پبلسٹی سیل تھے۔ دوسری طرف کمرشل بنکوں کے تمام ریسٹ ہاﺅس ہر ضمنی الیکشن میں پیپلز پارٹی کے پاس ہوتے تھے۔ واپڈا، گیس اور کمرشل بنکوں کی گاڑیاں مع پٹرول پیپلز پارٹی کے امیدوار کی مہم چلاتی تھیں۔ بینظیر کی سربراہی میں پیپلز پارٹی، نوازشریف کی سربراہی میں آئی جے آئی سے متصادم تھی۔ وفاقی حکومت کے وسائل پنجاب حکومت سے ٹکرا رہے تھے اور یوں لگتا تھا کہ ایک ہی براعظم کے دو مختلف ممالک کے بادشاہ ایک دوسرے کے سامنے برسرپیکار ہیں۔ پیپلز پارٹی والوں کو وفاقی حکومت سے سرکاری نوکریاں مل رہی تھیں، ٹھیکے تقسیم ہو رہے تھے اور پنجاب حکومت نے صوبائی محکموں میں ”دکانیں“ کھول رکھی تھیں جہاں سے ہر مال مفت مل رہا تھا۔ شرط اتنی تھی کہ قرآن پر ہاتھ رکھو کہ کتنے ووٹ دو گے یا دلواﺅ گے۔ سیاست کی اس سودے بازی نے میرٹ کو تباہ کیا۔ اصول اور قوانین کی دھجیاں بکھیر دیں اور ظلم اور ناانصافی کے نئے ریکارڈ قائم کیے۔ دونوں طرف بڑے بڑے شرفاءاور دانشور بکاﺅ مال بنے ہوئے تھے اور کوئی نہیں سوچ رہا تھا کہ اس ظالمانہ جنگ کا انجام کیا نکلے گا۔ چپڑاسی، کلرک، ڈرائیور، چوکیدار، ٹیلی فون آپریٹر، سپرنٹنڈنٹ، افسر، اے ایس آئی، نائب تحصیلدار اور دوسری طرف وفاقی حکومت کی نوکریاں جیسے بنک آفیسر کی نوکری، واپڈا اورگیس کی ملازمتیں، پی آئی اے، نیشنل بنک اور سٹیٹ بنک کی آسامیاں، غرض ہر طرف لوٹ مچی تھی اور برس ہا برس تک یہی کیفیت رہی اور آج اگر ملک دوحصوں میں منقسم ہے کہ سرکاری ملازموں میں یہ شریفی کیمپ اور یہ پپلی کیمپ تو اس کی ذمہ داری پوری قوم پر عائد ہوتی ہے جو گونگوں، بہروں اور اندھوں کی طرح خاموش رہی اور ہر قسم کی ناانصافی پر چپ سادھے رکھی۔
رفتہ رفتہ میرٹ کا جنازہ نکل گیا اور برسوں سے نہ کوئی ملازمتوں کے اشتہار نکلتے ہیں اور نہ انٹرویوز ہوتے ہیں۔ انٹرویو میں بھی سفارشیں چلتی تھیں مگر عام مشہور تھا کہ پانچ دس فیصد لوگ میرٹ پر بھی آجاتے تھے، لیکن پھر دیکھتے ہی دیکھتے سرکاری ملازمتوں میں ایک نیا چلن شروع ہوا۔ تمام خالی اسامیوں کی تفصیل وفاقی حکومت اور صوبائی حکومتیں اپنے پاس منگوا لیتی تھیں اور بندربانٹ کا کام شروع ہو جاتا تھا۔ وفاقی اور صوبائی حکمرانوں کی صوابدید سے ملنے والی نوکریاں، پھر ایم این اے، ایم پی اے حضرات نے شور مچایا کہ
”اے خانہ بر انداز چمن کچھ تو اِدھر بھی“
تب ٹیلی فون اوربجلی کے نئے کنکشنز کا اجرا، گیس کہاں لگنی ہے اس کا شمار، نارمل سکول کے داخلے کن کو دینے ہیں ان کا حساب، گریڈ چہارم سے اوپر تک نوکریاں کیسے بٹنی ہیں ان کا پروسیجر۔
(جاری ہے)


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved