تازہ تر ین

شہباز کو انہی کنٹینروں کا سامنا جو دوسروں کے لیے لگاتے تھے

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) کالم نگار میاں حبیب نے کہا کہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ایک شخص جو مجرم ہو اس کا استقبال ہونا چاہیے۔ چینل ۵ کے پروگرام کالم نگار میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایک ماہر قانون ہی بتاسکتا ہے کہ آئین اس حوالے سے کیا کہتا ہے کہ آیا استقبال جمہوری زمرے میں آتا ہے یا جرم کے زمرے یں آتا ہے میرے خیال میں نوازشریف آرام سے گرفتاری نہیں دیں گے اور میڈیا میں آنے کیلئے مزاحمت کی جائے گی میرے خیال میں نوازشریف کی آمد کے معاملے کو پرامن طریقے سے بھی بات ہوسکتی تھی نوازشریف اتنے بھولے نہیں وہ بھی پوری تیاری کے ساتھ آرہے ہیں جہاز کے اندر ہی مزاحمت ہوسکتی ہے۔کالم نگار ضمیر آفاقی نے کہا اس بات کا کریڈٹ نوازشریف کو دینا چاہیے کہ وہ قانون کی بالادستی کے لیے واپس آرہے ہیں حالانکہ ان کو معلوم ہے ان کے ساتھ کیا ہوگا وہ ایک بڑی جماعت کے لیڈر ہیں ان کا استقبال ہونا چاہیے نگران حکومت کا مینڈیٹ نہیں کہ وہ پولیس کو کنٹینر کھڑے کرنے کا ٹارگٹ دے اب تک بہت سے ن لیگ کے لوگ گرفتار ہوگئے ہیں۔ بہر حال جو بھی ہے معاملات تشدد کی جانب نہیں جانے چاہیئں۔ کالم نگار توصیف احمد خان نے کہا کہ نگران حکومت کا رویہ بھی وہی ہے جو شہبازشریف کی حکومت کا تھا وہی پکڑ دھکڑ اور وہی کنٹینر ہیں میرے نزدیک آئین اس بات سے نہیں روکتا کہ جرم کا استقبال کیا جائے نوازشریف کے ساتھ مسلم لیگ ن کے بہت سے ورکرز آرہے ہیں اور بین الاقوامی میڈیا کے لوگ بھی ہیں ممکن نہیں کہ نوازشریف کو لاﺅنج تک بھی آنے دیا جائے۔ کالم نگار امجد اقبال نے کہا کہ تاثر یہ تھا کہ شاید نوازشریف واپس نہ آئیں شہبازشریف نے کہا وقت ایک سا نہیں رہتا اب معلوم نہیں یہ دھمکی تھی یا کچھ اور اگر گرفتاریاں ہوئیں تو ن لیگ کا بھرم رہ جائے گا اس وقت الیکشن کا دور دورہ ہے ہر جماعت پوائنٹ سکورنگ کے چکر میں ہے۔ نوازشریف کی کوشش ہوگی باہر رک کر لوگوں سے بات کریں الیکشن کا التوا ءمسلم لیگ ن کے فائدے میں نہیں جاتا نوازشریف کے پاس وطن واپسی کے سوا کوئی آپشن نہیں تھا۔

 


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved