تازہ تر ین

فیصلے کہیں اور ہوتے ہیں؟

شاہد ندیم احمد ….صدائے سحر
ایون فیلڈریفرنس میں طویل قید اور بھاری جرمانوں کی سزا پانے والے مسلم لیگ (ن)کے قائد اورسابق وزیر اعظم میاں نوازشریف اور ان کی صاحبزادی مریم نواز کی لندن سے وطن واپسی کے بعد قومی احتساب بیوروکی ٹیم کے ہاتھوں گرفتاری اور راتوں رات اڈیالہ جیل منتقلی سے سوادوسال پہلے پاناما لیکس سے شروع ہونے والی ڈرامائی کہانی کا ایک باب اختتام کو پہنچا، تاہم قانونی ماہرین کے مطابق اعلیٰ عدالتوں میں اپیل کے نتیجے میں ان سزاﺅں پر نظر ثانی اور ان کی معطلی کا قوی امکان موجود ہے، کیونکہ سنائے گئے فیصلے میں تسلیم کیا گیا ہے کہ سابق وزیر اعظم کے خلاف کرپشن کے الزامات ثابت نہیں ہوئے۔ پاکستان کی سیاسی تاریخ رہی ہے کہ لوگ جیلوں اور عدالتوں سے بچ کر لندن جاتے ہیں ،مگر ایسا پہلی مرتبہ ہوا کہ کوئی سیاسی رہنما سزا سننے کے بعد لندن سے پاکستان واپس آیا ہے۔نوازشریف کی ذاتی رائے سے اختلاف کیا جاسکتا ہے، مگر اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ نوازشریف کا واپسی کا فیصلہ بہت جراءت مندانہ تھا،بیمار بیوی کو چھوڑ کر جوان بیٹی کی انگلی پکڑ کر گرفتاری دینے کے لئے آنا بہرحال تاریخ میں یاد رکھا جائے گا،اس سے قطع نظر کہ کس نے کمر میں چھراگھونپا اور کس نے دھوکہ دیا ۔اگر نواز شریف واپس آنے میں حکمت کا مظاہرہ نہ کرتے تو شاید آج مسلم لیگ ن کی سیاست لاہور میں کہیںدفن ہوچکی ہوتی، مگر نوازشریف نے جیل میں قدم رکھ کر مسلم لیگ ن کی سیاست کو نئی زندگی دی ہے۔نشیب و فراز سے بھرے نواز شریف کے کیرئیر میں شاید اب کسی عہدے کی طلب نہ ہو ،مگر گرفتاری میں جس حوصلے کا مظاہرہ کیا گیا،اس کی داد ضروردینی چاہئے ،اس واپسی کے اثرات 25جولائی کے انتخابات پر مرتب ہوں گے یا نہیں،پیپلزپارٹی نے اسی پنجاب سے 4الیکشن مزاحمتی سیاست کرکے جیتے ہیں،اس لئے یہ کہنا مناسب نہیں ہوگا کہ سخت بیانیہ اختیار کرکے پنجاب سے الیکشن جیتنا ناممکن ہوتا ہے۔
میاں نواز شریف کا وطن واپسی کا فیصلہ خالصتاََ سیاسی ہے ،جس کے نتائج بہت جلد ظاہر ہونا شروع ہو جائیں گے ۔میاں نواز شریف نے اپنے رفقاءکے ساتھ مشورے کے بعد پاکستان لوٹنے کا فیصلہ کیا ،کیونکہ انہیں معلوم تھا کہ اگر وہ لندن میں موجود رہے تو پارٹی کا ناقابل تلافی سیاسی نقصان پہنچے گا ،انتخابات کے وقت پارٹی قائد کی سرپرستی سے محروم ہونے کا مطلب وہ اچھی طرح جانتے ہیں ،کیونکہ اس سے پہلے ان کی پارٹی ان کی غیر موجودگی میں انتخابات میں حصہ لے کر نقصان اُٹھا چکی ہے ،موجودہ حالات کے پیش نظر وطن واپس نہ آنے کے لئے ان کے پاس محترمہ کلثوم کی علالت کا معقول جواز موجود تھا ،وہ اپنے کارکنان کو مطمئن کرسکتے تھے ،لیکن اپنی تین دہائیوں پر محیط سیاسی زندگی میں پہلی بارواپسی کا نہایت عقلمندنہ ودلیرانہ فیصلہ کیاہے۔میاں نواز شریف جیل کو ٹھری کی مشکلات ومصیبتوں سے بخوبی آشنا ہیں ،وہ اس قبل ایک ڈکٹیٹرکی حکومت میں اٹک قلعہ کی قیدکا کچھ عرصہ گزار چکے ہیں ،لیکن اس دفعہ صورتحال کچھ مختلف ہے ،میاں نواز شریف ،مریم نواز اور کیپٹن (ر)صفدر کو کرپشن کے مقدمات میں سزا سنائی گئی ہے ،جس کے بارے میں مختلف آرا ءپائی جاتی ہیں ، ماہرقانون اور عدالتی کارروائی سے واقف کے خیال میں احتساب عدالت کا فیصلہ ناقص ہے۔ حتیٰ کہ نواز شریف کے شدید مخالف سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے بھی اسے مسترد کردیا ہے ،قبل از انتخابات سیاسی انجینئرنگ اور مداخلت کے بھی الزام لگائے جارہے ہیں، ترجمان پاک فوج اپنے طور پر اسے مسترد کرچکے ہیں،لیکن اس صورتحال کا کوئی حل نکالنے کی ضرورت ہے۔ تاہم قانونی اور آئینی طورپر نگراں وزیر اعظم سے لے کر چیف الیکشن کمیشن حاضر سروس اور ریٹائرڈ ججز اس وقت ملکی معاملات چلا رہے ہیں، لہٰذا آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کا انعقاد بھی ان کی ذمہ داری ہے، سزاوجزا کے نام پر کسی ایک سیاسی رہنما یا جماعت کو نشانہ بنائے جانے کا تاثرقائم ہونا درست نہیں ہے۔
اگرچہ سیاستدان جیل کی دیواروں سے آشنائی اپنے لئے عزاز تصور کرتے ہیں اور زندگی بھر اس کا تذکرہ بڑے فخر سے کرتے رہتے ہیں ،مگر جیل کی قید مصائب برداشت کرنا حوصلے کی بات ہے ۔میاں نوازشریف دوسری مرتبہ جیل گئے ہیں ،اس سے قبل اٹک قلعہ کی قید میں گھبراکر ساتھوں کو بتائے بغیر این آر او کرکے سعودی عرب چلے گئے تھے ،جس کا گلہ آج بھی کارکنان ساتھی بڑے دکھ سے کرتے ہیں ۔میاں نواز شریف اٹھارہ سال قبل قدر جواں صحت مند ہوتے ہوئے بھی فوجی حکومت سے ڈیل کے تحت جلا وطنی اختیار کرگئے ،لیکن اب حالات مختلف ہیں ،اس مرتبہ ان کو سزا کرپشن کے الزامات ثابت ہونے پر دی گئی ہے ۔اب دیکھنا یہ ہے کہ میاں نواز شریف جیل بھگتنے کے اپنے اس سیاسی فیصلے پرکب تک ڈٹے رہتے ہیں،اگر وہ یہ سمجھتے ہیں کہ اس فیصلے سے پارٹی کو الیکشن میں کوئی بڑا فائدہ ہو گا تو یہ ان کی بہت بڑی بھول ہے ،یہ فیصلے کہیں اور ہوتے ہیںاور بہت پہلے کردیئے جاتے ہیں ،یہ بات میاں نوازشریف سے زیادہ بہتر کوئی اور نہیںجانتا،یہی وجہ ہے کہ شریف برادران ظاہری طورپر مزحمت کی سیاست کرتے ہوئے پس پردہ مفاہمتی رد عمل کے متلاشی ہیں۔
نوازشریف کی واپسی کے ساتھ ساتھ ایک اہم معاملہ تین دن میں تین خودکش دھماکوں کا ہے ،جو کچھ کوئٹہ اور خیبر پختونخوا میں ہوا ،انتہائی تکلیف دہ ہے۔وطن عزیز کو دوبارہ خون میں نہلایا گیا ہے،دہشت گردی پھر سر اٹھارہی ہے۔شاید ملک میں سیاسی قیادت کا فقدان ہے، وگرنہ ہر چیز وہیں پر ہے ماسوائے سیاسی قیادت۔ مستونگ خو د کش دھماکے کے بعد پورے ملک میں دہشت گردی کے خطرات بڑھ گئے ہیں۔ بیرونی مسائل کے ساتھ ساتھ اندرونی چیلنجز نے بھی سر اٹھا لیا ہے، معاشی طور پر کمزور پاکستان اب دوبارہ دہشت گردی کے دہانے کی طرف دھکیلا جارہا ہے۔بھارت کے دہشت گردی واقعات میں ملوث ہونے کی اطلاعات ہیں،دوسری طرف نگران حکومت سے آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک نے بات کرنے سے انکار کردیا ہے۔دونوں ادارے نئی منتخب حکومت سے بات کرنے کا انتظار کررہے ہیں،لیکن اگر شکوک و شہبات سے بھرے انتخابی نتائج سامنے آئے ،ملک میں ہیجانی کیفیت پیدا ہوئی اورسیاسی جماعتیں سڑکوں پر ہوئیں تو شاید آئی ایم ایف اور ورلڈ بنک منتخب حکومت سے بھی بات نہ کریں۔نئی حکومت کےلئے بہت بڑے چیلنجزمنتظر ہیں۔ امریکہ ہمارے دیوالیہ ہونے کا خواب دیکھ رہا ہے،چین کے بھی حالیہ صورتحال پر شدید تحفظات ہیں۔ اگر انہی حالات میں انتخابات ہوئے اور سیاسی جماعتوں کے شکو ک و شبہات برقرار رہے تو ایسے میں ہمارے لئے سی پیک کو آگے بڑھانا بہت مشکل ہوجائے گا۔وطن عزیز بہت آزمائشی حالات سے گزر رہا ہے،اگر ہم نے ذاتی انا کو پس پشت ڈال کرپاکستان کا نہ سوچاتو ہمار ا ناقابل تلافی نقصان ہوگا۔معاملہ نوازشریف کی ذات یا کسی اور عہدے پر براجمان شخص کا نہیں ہے،سیاسی قائدین اقتدار کے حصول میں تمام حدود عبور کررہے ہیں ،عشق اقتدار میں ذہن بہکے ہوئے ہیں،وہ اپنی ذاتیات میں ملک کو فراموش کررہے ہیں،اس وقت پاکستان خطرے میں ہے ، پاکستان ہے تو ہم سب ہیں،سیاست واقتدارملکی استحکام میں ہے ،ورنہ کچھ بھی نہیں،اس نازک گھڑی میں تمام سیاسی قیادت وریاستی اداروں کو دانش مندانہ رویہ اختیار کرنے کی ضرورت ہے ،حصول اقتدارکی دیوانگی کا کھیل یوں ہی جاری رہا تو سیاسی بے سمتی کا یہ سیلاب سب کچھ بہا کر لے جائے گا۔
(کالم نگار سینئر صحافی ، سیاسی ایشوز پر لکھتے ہیں)
٭….٭….٭


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved