تازہ تر ین

ریڈوارنٹ والا بھائی

توصیف احمد خان

کر لیں بات …. مفروراور اشتہاری بھائی کے ریڈوارنٹ جاری ہو گئے املاک کی ضبطی کا عمل بھی شروع اور چودہ سال سزا توسامنے ہے۔ کم بھی ہو سکتی ہے نواز شریف کی طرح کا بھاری جرمانہ الگ۔ وہ بھی روپوں میں نہیں برطانوی کرنسی یعنی پونڈ میں جو آپ کے پاس ایک بھی ہو تو پاکستانی روپے ڈیڑھ سو سے اوپر ملتے ہیں۔
آپ بھائی سے مراد کہیں ان صاحب کو نہ لے لیں جو طویل عرصہ سے لندن میں قیام پذیر ہیں…. ایسے قیام پذیر کہ کراچی اور سندھ کے کچھ شہری علاقوں تک محدود ان کی جماعت کا شیرازہ ہی نہیں بکھرا کریا کرم تک ہونے کو ہے۔ شمشان گھاٹ کی راہ میں بڑی رکاوٹیں کھڑی کی جا رہی ہیں مگر دیکھتے ہیں وہاں تک کا سفر رک پاتا ہے یا نہیں۔
یہاں بھائی سے ہماری مراد ڈار بھائی ہیں یعنی اسحاق ڈار جو طویل عرصے سے مرد بیمار بنے بیٹھے ہیں اور لندن کے کسی ”ہسپتال“ میں نرسوں کی تیماری داری سے لطف اندوز ہو رہے ہیں۔ لطف اندوز خاک ہو رہے ہونگے انہیں تو روزانہ سوتے میں گرفتاری اور جیل کے ڈراﺅنے خواب نظر آتے ہونگے اوپر سے املاک کی قرقی الگ…. کتنی ”محنت“ سے یہ مال کمایا تھا…. سب کچھ جاتا نظر آ رہا ہے معلوم نہیں چیئرمین نیب نے انہی کے بارے میں فرمایا تھا یا وہ کوئی اور ہیں کہ چھ مرلے کے مکان میں رہتے تھے اور اب دبئی میں وسیع جائیدادیں ہیں۔ واقعی یہ اسحاق ڈار کے بارے میں ہے تو چپکے سے بتا دیں۔ یقین دلاتے ہیں کہ آگے بالکل بات نہیں کریں گے۔ کسی سے کی بھی تو کم از کم اسے ضرور منع کر دینگے کہ وہ اپنی زبان کو قابو میں رکھے۔
ان کی املاک کی تفصیل دیکھ کر ہماری تو عقل ماری گئی۔ کیا کرتے ہونگے اس قدر املاک کا۔ اب تو انہیں نام بھی یاد نہیں ہونگے حالانکہ وقت ایسا ہے کہ دن رات دہراتے رہتے ہونگے…. ویسے کیا کرینگے اس قدر جائیداد کا روزانہ دیگوں کے حساب سے تو کھا نہیں سکتے کھانے کو وہی ایک آدھ چپاتی ہو گی اور بس اوپر سے ”دل کے مرض“ پال لیے…. مرض کہاں سے لگا …. ہمیں علم نہیں ایک نام تو سامنے آیا تھا۔ ہو سکتا ہے یہ جراثیم وہیں سے منتقل ہوئے ہوں کوئی صاحب بتا دیں کہ دل میں بھی جراثیم ہوتے ہیں یا نہیں۔
بیس برس سے زیادہ پرانی بات ہے ایک صحافی بھائی نے کرپشن کے حوالے سے کتاب لکھی تھی جس میں محترم آصف علی زرداری اور محترمہ بینظیر بھٹو کے اثاثوں کی طویل فہرست دیکھ کر یقین نہیں آیا۔ اب تو ماشاءاللہ اس میں اضافہ ہی ہو رہا ہو گا کمی کا تو کوئی سوال ہی نہیں سنا ہے۔ دوران اقتدار بہت ”خریداری“ کی گئی ہے….
جتنے بھی مالدار ہیں وہ یہ مال ساتھ تو لے جا نہیں سکتے۔ کسی نے سنایا تھا کہ پرانے زمانے میں ایک صاحب کے پاس بہت مال ودولت تھا۔ وہ مرنے لگا تو اس نے کہا میری ساری دولت میرے ساتھ قبر میں رکھ دی جائے وہ کاغذ کی کرنسی کا زمانہ نہیں تھا۔ دھات کے سکے چلتے تھے۔ وہ اگلے جہاں سدھارا تو سارے سکے بھی قبر میں رکھ کر اوپر مٹی ڈال دی گئی۔ ایک کفن چور یا مال چور دیکھ رہا تھا رات کہ وہ قبرستان گیا اس کی قبر سے مٹی ہٹائی اور اندر کا منظر دیکھا۔ سارے سکے اس کے جسم کے ساتھ چمٹے ہوئے تھے اور دبک رہے تھے۔ یہ منظر خوفزدہ کرنے والا تھا مگر لالچ کب پیچھا چھوڑتا ہے۔ اس نے ہاتھ بڑھا کر ایک سکہ اٹھانا چاہا تو سکے نے ان انگلیوں کا حلیہ بگاڑ دیا جن کے ساتھ سکہ اٹھایا گیا تھا۔ کوئی طبیب اس کا علاج نہ کر سکا اس نے مٹی کا ایک برتن گردن کے ساتھ لٹکایا ہوتا تھا جس میں لسی ہوتی اور وہ اپنی انگلیاں اس لسی میں ڈبوئے رکھتا تو تکلیف کم ہوتی جونہی ہاتھ نکالتا جلن اسے کسی پل چین نہ لینے دیتی۔ یہ اس کیلئے زندگی بھر کا روگ بن گئی۔ معلوم نہیں موت کے بعد بھی اس تکلیف سے اس کا پیچھا چھوٹا یا نہیں۔
تو یہ ہوتا ہے انجام مال وزر کی ہوس کا۔ انسان خالی ہاتھ آتا ہے اور خالی ہاتھ ہی جانا ہوتا ہے۔ انسان زندگی میں جوکچھ کماتا ہے عموماً اولاد اسے اجاڑنے میں دیر نہیں لگاتی خصوصاً حرام مال تو حرام طریقوں سے ہی جاتا ہے اب دیکھتے ہیں اسحاق ڈار صاحب کا کیا بنتا ہے۔ بہتر ہو گا وہ آصف زرداری صاحب کی شاگری میں آ جائیں۔ پگڑی سر پراور ایک سو ایک روپیہ ان کے ہاتھ پر رکھیں اور ان کے سامنے جھک جائیں۔ یہ ایک سو ایک روپیہ تو پرانے وقتوں کی علامت کے طور پر لکھ دیا گیا۔ آج تو معلوم نہیں بات کروڑوں، اربوں تک جا پہنچی ہو۔ ویسے زرداری صاحب بہت بڑے فنکار ہیں۔ ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ اندر ہوئے کہ ہوئے۔ سپریم کورٹ کے سخت احکامات تھے نام بھی ای سی ایل میں ڈالنے کی کارروائی ہو رہی تھی پھر اچانک معلوم ہوا کہ سپریم کورٹ نے اس قسم کے احکامات ہی جاری نہیں کیے۔ الٹا انہیں رعایت مل گئی کہ الیکشن تک نہ چھیڑا جائے انہیں ہی نہیں سارے سیاستدانوں کو رعایت مل گئی مگر جن کو چھیڑا جا چکا ہے ان کا کیا بنے گا؟
ذکر تھا کہ اسحاق ڈار آصف زرداری کی شاگردی اختیار کرلیں۔ سنتے تھے زرداری صاحب پر اربوں کا الزام ہے مگر پہاڑ کھود کر کیا نکلا…. صرف ڈیڑھ کروڑ روپیہ وہ بھی معلوم نہیں نکلا ہے یا یونہی کمپنی کی مشہوری کیلئے ڈال دیا گیا ہے…. موصوف نے ایک ایک وقت میں کئی مقدمات بھگتے ہیں۔ سب میں سرخرو رہے ہیں حتیٰ کہ این آر او والے مقدمات دوبارہ کھلے تو ان سے بھی نجات حاصل ہو گئی کہ سیاستدانوں کیلئے وہی اصلی گرو ہیں۔
جس دن سے نواز شریف کی آمد اور پھر جیل جانے کا غلغلہ اٹھا ہے اس دن سے نگران حکومتوں پر کڑی تنقید ہو رہی ہے ان میں وفاق اور پنجاب کی حکومتیں شامل ہیں۔ نگران وزیر اعظم تو پھر تجربہ رکھتے ہیں کہ پاکستان کے چیف جسٹس کے عہدہ جلیلہ پر فائز رہے ہیں مگر پنجاب میں ہمارے معصوم سے پروفیسر….! انہیں کیا علم ایڈمنسٹریشن کیا ہوتی ہے یہ تو سیاستدانوں نے ان کے گلے میں بلا ڈال دی لہٰذا وہ بھگت رہے ہیں بلا سے مراد کرکٹ کا بلا ہر گز نہ لیں اگرچہ مسئلہ انہی کا پیدا کردہ ہے یعنی یہ تحریک انصاف کے نامزد کردہ ہیں۔
سمجھ نہیں آتی یہ سیاستدانوں کو دانشور قسم کے لوگ نگرانوں کے طور پر نامزد کرنے کا کیا شوق ہے اس کیلئے تو گھاگ مگر ایماندار لوگوں کی ضرورت ہے جو ایڈمنسٹریشن خصوصاً ملکی یا صوبائی ایڈمنسٹریشن کا وسیع تجربہ رکھتے ہوں اور رموز مملکت ان کی دسترس میں ہوں۔ دانشور اور پروفیسر قسم کے لوگوں کے بس کی بات نہیں کہ ملکی انتظامی امور سے نمٹیں۔
اطلاعات ہیں کہ مریم نواز نے جیل میں درس وتدریس کی ”مشقت“ کی خواہش ظاہر کی ہے قید بامشقت میں کچھ نہ کچھ تو کرنا ہی پڑے گا۔ ویسے اسحاق ڈار صاحب اپنے بیٹے کی سالی سے سبق حاصل کریں جس نے جرا¿ت کا مظاہرہ کرتے ہوئے لندن کی آرام دہ زندگی کے مقابلے میں پاکستانی جیل کی مشقت قبول کر لی۔ اب موصوف کی طرح بزدل تو نہیں کہلائے گی۔
٭٭٭


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved