تازہ تر ین

میرا دوست نوازشریف (41

 

ضیا شاہد
وہ کس ڈھٹائی سے شیخ مجیب الرحمن کو محب وطن قرار دے رہا تھا اور پاکستان دشمنی میں ستّرستّر، اسّی اسّی سال کے بزرگوں کو پھانسیوں پر لٹکانے والی حسینہ واجد کو خراج تحسین پیش کر رہا تھا۔
عزت اور ذلت اللہ کے ہاتھ میں ہے مگر کیا دنیا میں ایک بھی پیمانہ ایسا نہیں جو میرے دوست نوازشریف کو جانچ سکے، پرکھ سکے کہ جس تاریخ کا خود اسے بھی علم نہیں اس کے جملے کون میاں صاحب کی زبان سے ادا کروا رہا ہے۔ پس اے عبرت والو! عبرت پکڑو ان واقعات سے اگر تمہاری آنکھیں کام کرتی ہیں۔
میں نے یہ باتیں سنیں تو بے اختیار جی چاہا کہ اپنے پرانے دوست محمد نوازشریف سے جا کر ملوں اور اس کے دونوں ہاتھ پکڑ کر درخواست کروں میرے بھائی آپ کو کیا ہو گیا۔ یہ انڈین لابی آپ کو کہاں لے آئی، آپ تو ایک اچھے دردمند پاکستانی ہوتے تھے، آپ تو کبھی کسی کے آلہ کار نہیں بنے، یہ آپ کے کانوں میں نفرت کا سیسہ کون انڈیل رہا ہے۔ یہ بھارت کی کس یونیورسٹی سے فارغ التحصیل ریسرچ سکالرز آپ کی سوچ کو یکسر بدل رہے ہیں۔ نوازشریف میرا دوست تو ہر گز ایسا نہیں تھا، اس میں بہت خوبیاں تھیں اور انسان ہونے کے ناطے شاید کچھ خامیاں بھی ہوں لیکن میں جس نوازشریف کو جانتا ہوں وہ اوّل و آخر پاکستانی تھا۔ وہ اندراگاندھی، واجپائی اور مودی کا حاشیہ نشین نہیں بن سکتا تھا۔ وہ پہلی بار وزیراعظم بنا تو آئی ایس آئی والے نجم سیٹھی کو اٹھا کر سیف ہاﺅس میں لے گئے تھے اور ہماری قابل احترام بھابھی جگنو محسن آواری ہوٹل میں اے پی این ایس کی میٹنگ میں شکایت کرنے آئی تھی کہ آپ کے ایک ساتھی اخبار ایڈیٹر کو نوازشریف دور میں فوج والے اٹھا کر لے گئے ہیں۔ ہم نے اس عمل پر احتجاج بھی کیا تھا لیکن پھر کیا ہوا۔ نجم سیٹھی ہو یا ان کی بیگم جگنو محسن وہ دونوں آپ کی صاحبزادی مریم نواز کے اتالیق بن گئے۔ گارڈن کالج راولپنڈی میں شیخ رشید سے ہارنے والا پرویز رشید جو این ایس ایف کا لیڈر شمار ہوتا تھا اور جس نے سب سے پہلے پاک فوج کے خلاف طلبہ کا جلوس نکالا تھا، آپ کے جسم سے پھر چپک گیا جیسے کوئی ”چپ“ گوشت کے ساتھ پوست کر دی جاتی ہے۔ پھر بھٹو کا شیدائی طارق عزیز ہو جو اس پر فلم بنانا چاہتا تھا وہ بھی آپ کی پارٹی کا نفس ناطقہ بنا اور اس پرانے دوست نے سجاد علی شاہ کے چیف جسٹس سپریم کورٹ ہونے کے دوران ان پر حملہ کیا اور کئی سال کے لئے سیاست سے نااہل ہو گیا۔ نوازشریف یہ کون لوگ تھے، کہاں سے آئے تھے۔ کس مشن پر تھے، جنہوں کے میرے بھولے بھالے دوست کو ذہنی طور پر اغوا کر لیا۔ میرا ذہین دوست نذیر ناجی کون تھا، کوثر نیازی کے اخبار میں فلم ایکٹریس نغمہ کے بل باٹم پر لباس میں نغمہ کے چہرے پرمولانا مودودی ؒکا چہرہ کس نے سجایا تھا۔ یہ سارے دوست چن چن کر آپ کے گرد جمع کئے گئے۔ یہ مشاہد حسین کون تھا، آپ چاہیں تو اس کی آمد پر ایک کتاب لکھ دوں۔ لیکن پاکستان کی نام نہاد ایجنسیاں ہوں یا دوست ممالک کے خفیہ ادارے ”جسے پیا چاہے وہی سہاگن“ آپ کے وزیراطلاعات کے منصب سے اترے تو پتہ چلا سب پکڑے گئے مگر مشاہد حسین گھر میں نظر بند ہیں، پھر معلوم ہوا کہ شاید وعدہ معاف گواہ بن رہے ہیں۔ آخر میں ان کا منہ دھلوایا گیا کہ نوازشریف کارنگ و روغن اتر جائے اور پھر مسلم لیگ ق میں ٹھونس دیا گیا۔ چودھری شجاعت ہوں یا چودھری پرویز، میں انہیں پاکستان کے معصوم ترین، بھولے ترین سیاستدان قرار دیتا ہوں۔ بھولے اتنے کہ شجاعت کے والد مرحوم چودھری ظہور الٰہی کے قاتلوں کو چھڑانے والے کتنے پپلیے ہیں جو بعد ازاں ق لیگ میں شامل ہوئے، بڑے عہدے پائے اور وزارتیں لیں۔ نوائے وقت کے چیف ایڈیٹر جناب مجید نظامی ہم سب کے استاد تھے۔ ایک دن میں نے ظہور الٰہی کے خلاف ایک کلر صفحہ چھاپ دیا کہ پنجاب حکومت کی اپنی رپورٹ کے مطابق جسے سلمیٰ تصدق حسین نے مرتب کیا تھا اور جس میں لکھا تھا کہ مشرقی اور بھارتی پنجاب میں 55 ہزار نوجوان مسلمان لڑکیوں کو قافلوں سے اغوا کیا گیا تھا جو پاکستان کی طرف آ رہے تھے۔ اتفاق سے میرا اپنا خاندان بھی انہی قافلوں میں سے ایک پر بیل گاڑیوں میں سوار تھا اور شاید تین سالہ ایک بچہ بیماری اور بخار کی حالت میں لحاف کے ایک ٹکڑے میں بند تھا۔ کہا جاتا تھا کہ ہندوﺅں نے صرف پلاننگ کی تھی عملی کارروائی جنگجو سکھوں نے کی تھی۔ ان کے پاس کرپانیں تھیں۔ تلواریں اور خنجر تھے۔ سڑک کے اطراف میں جو کنوئیں تھے ان میں بھاری مقدار میں گندھک ڈال دی گئی تھی ، جو شخص ان کا پانی پیتا تھا اس کو شدید اسہال ہو جاتا تھا اور انتڑیاں کٹ کر باہر آنے لگتی تھیں۔ضیاءالحق دورمیں چودھری ظہورالٰہی نے اپنے گھر واقع لاہور کے صحن میں سکھ زائرین کو دعوت دی۔ رہبر واٹر کولر کا ایک تحفہ، کھیوڑہ کا صاف نمک ایک اور تھیلے میں بند کر کے تحفے کے طور پر پیش کیا گیا۔ مجھے نوائے وقت کی پالیسی کا علم تھا تاہم میں تسلیم کرتا ہوں کہ میں نے اس مضمون کی کوئی اجازت جناب مجید نظامی صاحب سے نہیں لی تھی۔ میں صبح سویرے دس بجے کے قریب دفتر نوائے وقت پہنچا جہاں میں میگزین ایڈیٹر کے طور پر کام کر رہا تھا تو جناب مجید نظامی کے خادم خاص منیر نے مجھے بلایا کہ نظامی صاحب یاد کر رہے ہیں۔ مجید نظامی صاحب کے کمرے میں چودھری ظہور الٰہی بیٹھے تھے، عام طور پر وہ گرمیوں میں بھی سرد سوٹ اور ٹائی پہنتے تھے۔ انہوں نے بڑے پیار سے مجھے سمجھایا کہ آپ نے جو لکھا ہے اس میں وزن ہے لیکن میں بھی آپ کو حقائق بیان کر رہا ہوں۔ جنرل ضیاءالحق صاحب نے مجھے ہدایت کی ہے کہ سکھ زائرین سے محبت پیار کریں، ماضی میں جو ہوا اسے بھول جائیں کیونکہ اب سکھ ہندو تسلط سے کافی بیزار ہیں اور بھارت کے علاوہ دنیا بھر میں سکھ اندرا سرکار کے خلاف جمع ہو رہے ہیں۔ میں ان کی بات سنتا رہا۔ نظامی صاحب میرے محترم ایڈیٹر تھے اور چودھری ظہور الٰہی صاحب کی میں عزت کرتا تھا۔ وہ بات مکمل کر چکے تومیں نے نظامی صاحب سے اجازت چاہی کہ کیا مجھے کچھ کہنے کا حق حاصل ہے۔ نظامی صاحب نے اثبات میں سر ہلایا تو میں نے گفتگو شروع کی اور کہا کہ جن مسلمان لڑکیوں کو سکھوں نے زبردستی روک لیا تھا ان کی تعداد میں نے نہیں پنجاب حکومت کی سرکاری رپورٹ 55 ہزار بتاتی ہے۔ آج جن لوگوں کے دلوں میں سکھوں کی محبت جاگ اٹھی ہے وہ حقائق پڑھ لیں۔ تلواریں، بلم، نیزے سکھ حملہ آوروں کے پاس ہوتے تھے جو پاکستان آنے والے نہتے مسلمانوں پر حملہ کرتے تھے۔ جناب کتابوں میں تذکرہ پڑھ لیجئے کہ حاملہ عورتوں کے پیٹ پھاڑ کر جنین بچے نیزوں پر لٹکا کر سکھ حملہ آوروں نے دکھائے تھے۔ اور جناب حکومت پنجاب کی چھپی ہوئی رپورٹس پڑھ لیجئے کہ جب 1947ءکے چند سال بعد چن چن کر بھارتی پنجاب کے دیہاتوں میں جا کر مسلمان لڑکیوں کو بازیاب کیا جاتا تھا تو وہ روتی تھیں، چیختی تھیں اور ہاتھ جوڑتی تھیں کہ ہم اپنے بھائی بندوں کو جانتی ہیں، وہ ہمارے پیٹوں میں پلنے والے سکھڑوں کو کبھی معاف نہیں کریں گے۔ ہمیں بھول جاﺅ بھائی ،اور جاﺅ اپنے پاکستان کی فتح کا جشن مناﺅ جس کی بنیادوں میں ہماری غیرت، ہمارا لہو اور ہمارا جسم سڑ رہا ہے۔ مجھے یاد ہے کہ میں یہ گفتگو کرتے ہوئے رو پڑا تھا۔ چودھری ظہور الٰہی نے اپنا ہاتھ اٹھا کر میرے ہاتھ پر رکھا اور کہا ضیا شاہد صبر کریں، تاریخ کا پہیہ جب کسی طرف اٹھ جاتا ہے تو واپس نہیں آتا جو ہو چکا ہے اب اسے سنبھالنا ہے۔ میرے بیٹے تو نے ٹھیک لکھا، میں تجھ سے خفا نہیں لیکن ہمیں آگے کی طرف دیکھنا ہے۔ ہندو نے سکھ قوم کو بے و قوف بنایا تھا اور مسلمان سے لڑا دیا تھا۔ اب دنیا بھر میں سکھ اپنی غلطی پر پچھتا رہے ہیں، وہ ہندو قوم کا تسلط برداشت نہیں کرتے۔ میں نے کہا چودھری صاحب میرے پاس جینوسائیڈ انڈیا کے علاوہ پنجاب حکومت کی ساری رپورٹیں موجود ہیں، میں معافی چاہتا ہوں۔میں نے تو بہت کم لکھا ہے۔ مجید نظامی صاحب اس دوران خاموش رہے اور آخر انہوں نے کہا ضیا شاہد تسی جاﺅ اپنے کمرے میں ریسٹ کرو۔
میں نے چودھری شجاعت اور چودھری پرویز الٰہی کو بھی سادہ لوح اور معصوم انسان قرار دیا ہے۔ یہ کم سے کم الفاظ ہیں، جو میں ان کے بارے میں ادا کر سکتا ہوں۔ وہ میل ملاقات کے اعتبار سے اچھے انسان ہیں۔ چودھری ظہور الٰہی پر وضع داری ختم تھی۔ میری شادی چودھری ظہور الٰہی کے گھر واقع کچہری روڈ سے چند گز دور اس سڑک پر طے ہوئی تھی۔ اب تو وہ پرانا دور چلا گیا ،کوئی کسی کو نہیں پوچھتا، مگر میرے سسر ایم اے، ایل ایل بی تھے اور چودھری ظہور الٰہی میری شادی کے بعد میری طالب علمی کے زمانے میں ہمیشہ پرانی وضع داری کے لحاظ سے کہا کرتے تھے، ضیا شاہد ساڈے گجرات دا جوائی اے، ساڈا پتر اے۔
(جاری ہے)


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved