تازہ تر ین

شریف خاندان کے خلاف تفتیشی افسر اور استغاثہ کو نوٹس ، سماعت جولائی کے آخری ہفتہ تک ملتوی

اسلام آباد(ویب ڈیسک) ہائی کورٹ نے ایون فیلڈ ریفرنس میں نواز شریف، مریم نواز اور کیپٹن (ر) صفدر کی سزا کے خلاف اپیلوں پر نیب کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کرلیا۔ جسٹس محسن اختر کیانی اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب پر مشتمل 2 رکنی بنچ نے ایون فیلڈ ریفرنس میں نواز شریف، مریم نواز اور کیپٹن صفدر کی سزا معطل کرنے کی اپیلوں کی سماعت کی۔ ہائیکورٹ نے احتساب عدالت کے فیصلے کے خلاف اپیلوں پر نیب کو نوٹس جاری کرتے ہوئے مقدمے کا ریکارڈ طلب کر لیا اور تفتیشی افسر کو بھی پیش ہونے کا حکم دیا۔دوران سماعت نوازشریف کے وکیل خواجہ حارث نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ یہ آمدن سے زائد اثاثہ جات کا کیس ہے، احتساب عدالت کے فیصلہ میں اثاثہ جات کی قدر و قیمت نہیں بتائی گئی، جب اثاثہ جات کی حقیقی قیمت کا علم نہ ہو تو کیسے زائد اثاثہ جات کا الزام ثابت ہو سکتا ہے، ہم نے پاناما جے ا?ئی ٹی کے سربراہ اور نیب کے گواہ واجد ضیائ سے بھی پوچھا کہ پراپرٹی کی قیمت بتائیں، تو وہ بھی ناکام رہے، ہم سزا کی معطلی چاہتے ہیں۔جسٹس محسن اختر کیانی نے مریم نواز کے وکیل امجد پرویز سے پوچھا کہ مریم کو کس بنیاد پر سزا ہوئی؟۔ امجد پرویز نے کہا کہ مریم نواز اس پراپرٹی کی مالک نہیں، صرف موزیک فونسیکا کے 2012 میں ایف آئی اے بی وی آئی کو لکھے گئے خطوط پر انحصار کیا گیا، کیپٹن صفدر کو کیلبری فانٹ کی ٹرسٹ ڈیڈ کے گواہ ہونے پر سزا سنائی گئی، ٹرسٹ ڈیڈ کے چار گواہ ہیں، سب نے ٹرسٹ ڈیڈ کی تصدیق کی۔
عدالت نے شریف خاندان کے خلاف تفتیشی افسر اور استغاثہ کو نوٹس جاری کرتے ہوئے تفتیشی افسر کو اگلی سماعت پر عدالت میں ذاتی حیثیت میں پیش ہونے کا حکم دیا۔ہائیکورٹ نے سماعت جولائی کے آخری ہفتہ تک ملتوی کرتے ہوئے ہدایت کی کہ جو بینچ بھی میسر ہو اس میں کیس لگایا جائے۔


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved