تازہ تر ین

ا لفاظ کے استعمال میں احتیاط کی ضرورت

ڈاکٹر عمرانہ مشتا ق دِل کی بات
وہ لوگ جو تعریف کے بھوکے اور خوشامد کے بل بوتے پر دنیا میں اپنے نام بلند سمجھتے ہیں دراصل وہ اپنی ذات کے ساتھ بھی دھوکا کر رہے ہوتے ہیں اور دوسروں کو بھی دھوکا دے رہے ہوتے ہیں ۔ لفظی بازی گروں نے جتنا ابہام شخصیات کی تعمیری بد ذوقی کے حوالے سے سرانجام دیا ہے، اس کی باز پرس ہوگی۔ا لفاظ کے استعمال میں ہمیں بہت احتیاط سے کام لینا ہوگا۔ اس کے اثرات ماحول پر بھی پڑتے ہیں اور حالات کو سنگین اور واقعات کو سنگلاخ چٹانوں سے بھی زیادہ ٹھوس کر دیتے ہیں۔ ہمیں لفظوں کے استعمال میں بڑی احتیاط کی ضرورت ہے، لوگ ٹھیک ہے بات تو کر لیتے ہیں مگر وہ بات شخصیت کو لے ڈوبتی ہے ۔
آج ہمارے سیاستدانوں نے اپنی زبان کو جس طرح بگاڑ رکھا ہے اور ایک دوسرے پر لفظی گولا باری سے شخصیات کے سارے محلات کو مسمار کر دیئے ہیں اور آنے والی نسلوں کی فصلوں کو تباہ کر دیا ہے۔ لفظوں کی اذیت ناک تکلیف انسان کو انسانیت کے بلند مقام سے گرا دیتی ہے اور وہ انتقام کی آگ میں جل کر جوابی کارروائیوں میں لفظوں کی شدید ژالہ باری سے نئی نسل کی فصلوں کو تباہ کر دیتا ہے۔ اس وقت جو منہ میں آرہا ہے وہ بے دھڑک کہا جارہا ہے ۔ تحریک انصاف کے چیئرمین جناب عمران خان کو اب تھوڑا سا انداز بدلنا ہوگا۔ اگر وہ مستقبل قریب میں پاکستان کے وزیر اعظم کے منصب کو سنبھالنے چلے ہیں تو اس عہدے کی عظمت اور حکمت عملی کا تقاضا ہے کہ اُس کے مقام کو بھی سمجھا جائے ۔ پاکستانی قوم نے ہی آپ کو ووٹ دینا ہے اور آپ کے حریفوں کو بھی یہی لوگ ووٹ دیں گے۔ ووٹر کو عزت دو پر کوئی بھی عمل نہیں کررہا ۔ ووٹ کی عزت کا نعرہ لگانے والے بھی پس دیوار زنداں ووٹ کو عزت دے رہے ہیں اور اس وقت ووٹررل گیا ہے ،مہنگائی کی تاریک راہوں میں بے نام مرنے والوں کو کون یاد کرے گا۔
آج ہم دہشت گردی کے تپتے ہوئے صحرا میں جھلس رہے ہیں ،اس پر یہ ظلم مزید ہورہا ہے کہ ہم نے مغلظات کو بھی اپنے منشور کا حصہ بنا لیا ہے ایسا ہرگز نہیں ہونا چاہئے۔ نواز شریف اور مریم نواز جن کے اشارے پر قانون حرکت میں آتا تھا، آج وہ قانون کے شکنجے میں خود کس دیئے گئے ہیں۔ اللہ انسانوں سے محبت کرتا ہے اور وہ اللہ جو 70 ماﺅں سے زیادہ محبت اپنے بندوں سے کرتا ہے، اس سے ڈرنا چاہئے یا ہمیں ڈرنا اپنے اعمال کی خوفناکی سے چاہئے جو ہم نے کرتوت کر رکھے ہیں ۔وطن عزیز کو لوٹنے والوں اور وطن عزیز سے محبت کرنے والوں کے درمیان پاکستانی قوم نے پہلی بار ایک حد فاصل قائم کر دی ہے اور ووٹ مانگنے والوں کے منہ پر ووٹر اپنے علاقے میں ہونے والی نا انصافیوں کی تصویر دکھا رہا ہے ۔ اس انتخاب میں کئی جگہ لڑائی جھگڑے اور شدید ترین نفرت میں ڈوبی ہوئی زبان بھی استعمال کی گئی ہے ۔ اس وقت میرا زور صرف یہی ہے کہ ہم اخلاق کا دامن ہاتھ سے نہ جانے دیں اور وہ لوگ جو تعریف کے بھوکے ہیں ،اُن کی بھوک کب ختم ہوگی جب وہ اُن لوگوں کے درمیان تمیز کرنا سیکھیں گے کہ اُن کے ہمدرد کون ہیں؟ وہ لوگ جو تعریف کے بھوکے ہوتے ہیں وہ اندر سے خالی ہوتے ہیں، وہ کسی کا کوئی فائدہ سوچتے ہی نہیں بلکہ اپنی ذات کی پرستش کرواتے ہیں۔ اس وقت یہی صورت حال ہمارے سامنے ہے ۔ زرداری سے لے کر نواز شریف تک سارے سیاستدانوں نے حالات کو سنگین تر کر دیا ہے، کوئی بھی ایسا بزرگ سیاستدان اب ہمارے درمیان نہیں ہے جو تصادم کی راہ کو روکے اور اخوت و رواداری کی باد بہاری سے اس وطن کی زلف پریشاں کو سنوار دے۔ نوابزادہ نصراللہ خاں میں یہ خوبی تھی کہ وہ سیاستدانوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرلیتے تھے۔ آج وہ لوگ جو جیل میں ہیں، اُن کو یقینا اس بزرگ سیاستدان کی یاد آئی ہوگی جو زبان و بیان کی ندرتوں کا خیال رکھتا تھا۔ آج ہمیں کیا ہوگیا ہے اور ہمارے دانشوروں کو جو کانٹوں کو پھول اور رات کو صبح صادق لکھ رہے ہیں۔
پیدا کہاں ہےں ایسے پراگندہ طبع لوگ
شاید کہ تم کو میر سے صحبت نہیں رہی
(کالم نگارمعروف شاعرہ‘سیاسی وسماجی موضوعات پر لکھتی ہیں)
٭….٭….٭


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved