تازہ تر ین

ہماری وطنی سالمیت اور پاک فوج

منظر اعظم….نقطہ نظر
وطن عزیز کے معرض وجود میں آتے ہی پاک فوج کو مختلف چیلنجز کا سامنا رہا۔ آج بھی ہر روز پاک فوج کے سپاہی اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرتے ہیں۔ سرحد پار سے بھارتی گولہ باری کے نتیجے میںمرد، عورتیں‘ بچے شہید ہوتے رہتے ہیں، آنکھیں بیکار کردی جاتی ہیں۔ راتوں کو گھروں میں گھس کر خواتین کی عزتیں پامال ہوتی رہتی ہیں اور ہم جیسے احمق‘ بے وقوف لوگ ہندوﺅں کے ساتھ مل کر امن کی فاختائیں اڑاتے رہتے ہیں۔ مجھے اکثر پبلک ٹرانسپورٹ میں سفر کا موقع ملتا رہتا ہے۔ میٹرو بس‘ سپیڈوبس جس میں پاک فوج اور جرنیلوں کے خلاف بات چیت سننے میں آتی رہتی ہےں جو کبھی کبھار ہوتی ہے اور خاصے پڑھے لکھے لوگ شامل ہوتے ہیں۔
خدانخواستہ اگر مودی کی فوج پاکستان میں داخل ہوجائے تو کیا بنے گا؟ کبھی سوچا آپ نے؟ ہماری بہنوں‘ بیٹیوں اور بہوﺅں کو تول تول کر چوراہوں میں بیچا جائے گا۔ مردوں کے سر تن سے جدا کردیئے جائیں گے۔ عورتوں کوعصمت دری کے بعد کاٹ کاٹ کر پھینک دیا جائے گا۔ کیا یہ آپ کو منظور ہے؟ پاک فوج میں انفرادی طور پر لاکھوں برائیاں سہی لیکن یہ ہماری اپنی فوج ہے۔ ہمارے ہی بھائی بیٹے اس میں کام کررہے ہیں ۔ اس کو پہلے بہت سارے چیلنجز درپیش تھے اور اب بھی ہیں۔
ہندو ذہنیت کیا ہے؟ بڑی مکروہ اور پرانی تصویر کا تصور کریں۔ میری والدہ محترمہ مسز آئی اعظم مرحومہ، ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ پنجاب میں تھیں۔ تقسیم کے وقت جالندھر امرتسر سے بذریعہ ٹرین لاہور آرہی تھیں۔ بقول ان کے‘ سامنے والی سیٹ پر ایک ہندو عورت کا گودی کا بچہ مسلسل رو رہا تھا۔ ایک ماں دوسری ماں کا دکھ سمجھ سکتی ہے۔ والدہ نے کہا‘ ”بہن جی! بچے کو پیاس لگی ہے، یہ پانی دے دیں۔ ہندو عورت نے جواب دیا۔ ”نہیں، بہن جی! ایسی کوئی بات نہیں۔ یہ بچہ ویسے ہی رو رہا ہے۔“ دو تین سٹیشن گزرنے کے بعد آواز آئی۔ ”ہندو پانی، ہندو پانی“ اس عورت نے اپنا بچہ وہیں پٹکا۔ دوڑی دوڑی گئی، پانی لاکر بچے کو پلایا تو بچہ خاموش ہوگیا۔ یعنی ہندو عورت نے اپنے پیاس سے بلکتے ہوئے بچے کو ”مسلے“ کے ہاتھ کا پانی دینا گوارا نہ کیا۔ کہاں گئی امن کی فاختہ، دفع ہوگئی یا اڑ گئی۔
اگلا واقعہ۔ والد بزرگوار پروفیسر محمد اعظم گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور کا بھی سن لیں۔ وہ بھی اسی طرح دلی سے ہاتھوں پر چاقو کھاتے کھاتے پاکستان پہنچے۔ اس دوران جب ان کی گردن تلوار سے جدا کی جانے لگی تو ہندو نعرہ لگا کر جان بچائی۔ ”جے کالی ماتا، جے کالی ماتا۔“ ہندو ذہنیت نہ تبدیل ہوئی اور نہ ہوگی۔
اب ہم ایک اہم تکون کی بات کریں گے۔ برمودا ٹرائی اینگل کی طرح۔ (اس کو نیٹ سے سرچ کرلیں) دونوں تکونوں کا مقصد ایک ہی ہے۔اسلام کا خاتمہ، صفحہ ہستی سے۔ ایک تکون سمندر میں ہے اور دوسری تکون زمین پر واقع ہے، بات سمجھنے کی ہے۔ دوسری تکون کا ہرکونہ ایک علیحدہ ملک کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ تکون پاک فوج کوگھیرے میں لے کر کمزور کرنا چاہتی ہے۔ ظاہر ہے فوج کمزور تو ملک بھی کمزور تاکہ پاکستان کو لیبیا‘ شام اور لبنان بنایا جاسکے۔ تکون کا پہلا کونہ ایک ایسے ملک کو ظاہر کرتا ہے جو تمام دنیا پر حکمرانی کے خواب دیکھ رہا ہے۔ ”نیو ورلڈ آرڈر“ والا۔ اور یہ ملک جہاں موقع ملتا ہے، مسلمانوں کو نیست و نابود کردیتا ہے۔ دوسرا کونہ۔ ایک دوسرے ملک کو ظاہر کرتا ہے جو ناجائز ریاست ہے۔ اللہ تعالیٰ کا سخت نافرمان، نبیوں کو قتل کرنے والا اسرائیل، یہ دونوں ملک آپس میں ماں بیٹی کی طرح ہیں۔
تیسراکونہ تیسرے ملک کو ظاہر کرتا ہے جو ہم پر کئی جنگیں مسلط کر چکا ہے اور موقع ملتے ہی ہمارے وطن عزیز کی پیٹھ میں چھرا گھونپ دیتا ہے۔ اور کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیا۔ آپ سمجھ گئے، یہ لوگ جانور کے موتر اور گوبر میں رہنا اور اس کو کھانا پینا پسند کرتے ہیں۔ اور ”پوتر“ بنتے ہیں۔
کیا میر جعفر، میر صادق اور پورنیا جیسے لوگ جو وطن فروش تھے، غدار تھے، ختم ہو گئے ہیں۔ ہرگز نہیں۔ ان کی نسلیں آگے چل رہی ہیں۔ اور ان کی رگوں میں انہی خنزیروں کا خون تیزی سے گردش کر رہا ہے۔ آپ پاکستان کو پسند نہیں کرتے، اس کی جڑوں کو موقع ملتے ہی کھوکھلا کرتے ہیں، دھماکے کرتے ہیں۔ یہاں مرنے کے بعد دفن تک ہونا پسند نہیں کرتے۔ براہ کرم! یہاں سے چلے جائیں۔
٭….٭….٭


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved