تازہ تر ین

لہو لہو مستونگ

حیات عبداللہ……..انگارے
اغیار اور ان کے یارومددگار ہماری آنکھوں میں بسے کسی ایک خواب کو شکستہ نہیں کر پائے، ناامیدی اور نامرادی آج تک آس اور مراد کی دیواریں پھاند کر ہمارے دل میں فروزاں کسی بھی عزم کی بزم کو مسمار نہ کر سکیں، ناآشنا ہواﺅں کے اجنبی جھونکے اور اماوس کی کل منھی راتوں کے سلسلے کسی بھی سمت سے آئے۔ آپریشن راہ نجات، ضرب عضب اور ردالفساد نے ان باغی جھکڑوں کی ناک میں نکیل ڈال دی۔ بم دھماکوں کے باعث خون میں لت پت اپنے جگر گوشوں کے لاشے دیکھ کر ہماری آنکھوں سے اشکوں کے پیمانے ضرور چھلکے، درست، صحیح اور بجاکہ بارود کی آگ میں جھلسے اپنے پیاروں کے چہرے دیکھ کر ہم نے ایک طویل عرصے تک عذاب جھیلے، اس میں کوئی شک نہیں کہ درد کے بوجھ سے لدی ہماری آنکھوں میں اشکوں کی جھڑیاں بھی کتنی ہی بار لگیں، جانے کب کب ہمارے نیم جان لبوں پر خشکی دوڑ گئی۔
ہم نے جھیلا ہے زندگی کو عدم
تم عذابوں کی بات کرتے ہو
مگر ہم نے اپنی آنکھوں میں امید کے دیپ کی لو کبھی مدھم نہ ہونے دی، پاک فوج کے جوانوں نے اپنے لہو سے چراغ روشن کیے اور اندھیروں کی گردن دبوچ کر انہیں یوں نشان عبرت بنایا کہ سپر طاقتیں بھی ششدر رہ گئیں، خوش نما آوازوں، دل ربا نعروں اور دل کشا وعدوں کے لبادے تان کر دہشت گردی کا عفریت جس روپ میں بھی آیا اس کو نیست و نابود کر دیا گیا۔ آج جب دہشت گردی کی بڑی بڑی طاقتوں کو شکست دے دی گئی تو داعش کو افغانستان میں بٹھا دیا گیا ہے۔ ایک تسلسل کے ساتھ خبریں آ رہی تھیں کہ داعش کو پاک افغان اور پاک ایران سرحدوں پر اتارا جا رہا ہے تاکہ پاکستان پر ایک جنگ مسلط کی جا سکے، یہ خودکش دھماکے اسی بھیانک جنگ کی ابتدا ہیں، یعنی ان لمحات میں جب پاکستان، روس، چین اور ایران کی انٹیلی جنس ایجنسیاں، داعش کی کمر توڑنے کے لیے اجلاس کر رہی تھیں۔ مستونگ میں انتخابی ریلی میں خودکش دھماکہ کر کے بلوچ قبیلے کے سردار سراج رئیسانی سمیت 188 سے زائد افراد کو شہید کر دیا گیا۔ مستونگ لہولہان ہے۔ پشاور سسکیوں سے اٹا ہے اور بنوں کے درودیوار سے آہیں اور چیخیں ٹپک رہی ہیں، آپ اپنے جس آنسو کو بھی ٹٹول کر دیکھ لیجیے اس کے عقب میں امریکہ دکھائی دے گا۔ آپ اپنے خون کے جس قطرے کو بھی پھرول لیجیے اس کا ذمہ دار بھارت ہی محسوس ہو گا۔ ان بم دھماکوں نے سینکڑوں چہروں پر مصائب و آلام مسلط کر ڈالے۔
آنچ دیتے ہوئے انگارے تو دیکھے ہوں گے
کبھی دیکھا ہے کوئی غم سے سلگتا چہرہ
روس کا نمائندہ خصوصی ضمیر کاہلوف بھی یہ باور کرا چکا ہے کہ افغانستان میں داعش کے کم از کم سات ہزار جنگجو موجود ہیں۔ افغانستان کا جنرل محمد رادمنش بھی یہ تسلیم کر چکا ہے کہ داعش کے اہل کار صرف تین صوبوں ننگرہار، کنٹر اور جزوان تک محدود ہیں۔ کوئی افغان فورسز سے پوچھے کہ افغانستان کے ”صرف“ تین صوبوں میں دا عش کون سی سوغات لیے بیٹھی ہے اور انہیں وہاں سے نکالا کیوں نہیں جا رہا؟
دنیا بخوبی جانتی ہے کہ جب بھی سڑکوں، بازاروں اور مسجدوں میں خون بکھرا وہ ہمارا ہی تھا مگر عالمی طاقتیں ہمیں ہی موردالزام ٹھہرا کر ہمارے خون کا تماشا کرتی رہیں، پاک فوج کو بہ یک وقت تین محاذوں پر برسرپیکار ہونا تھا، عالمی طاقتوں کی سازشوں کی سرکوبی، ان کے آلہ کار لوگوں کی بیخ کنی اور براہ راست دہشت گردوں سے صف آرائی کرنا تھی، سو بے دریغ قربانیوں کے بعد ہر محاذ پر ہمارے سکیورٹی ادارے کامران ٹھہرے، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہمارے کتنے ہی فوجی جوان اپنے لہو سے وضو کر کے سرخرو ہوئے، انہوں نے لازوال قربانیوں کی سنہری تاریخ رقم کر کے دہشت گردوں کی سرکوبی کی مگر اب سازشوں کے جس بھنور میں دھکیلا جا رہا ہے وہ دہشت گردی کا خاتمہ کرنے والی پاک فوج اور سکیورٹی اداروں کے خلاف عوام الناس کے دلوں میں عناد و بغض پیدا کرنا ہے۔ یہ ایک انتہائی خطرناک حربہ ہے جو استعمال کیا جا رہا ہے۔ دشمن خوب جانتا ہے کہ پاکستان کی محافظ پاک فوج ہے اس لیے اس واحد ایٹمی مسلمان مملکت کی فوج اور عوام کو رنجشوں اور عداوتوں کی سلگتی بھٹی میں جھونک دیا جائے۔ بہت سے سیاست دان محض اقتدار کے حصول کے لیے دشمنوں کے آلہ کار بن کر اس سازش کو انگیخت دیے جا رہے ہیں۔ سو پاک فوج کے خلاف ہمہ قسم کے اندرونی اور بیرونی پروپیگنڈے اور شرانگیزی کو نکیل ڈالنا ازحد ضروری ہے۔ پاک فوج کے خلاف سازشوں کا تعاقب کرنا اور سکیورٹی اداروں کے خلاف گھناﺅنے منصوبوں کا محاسبہ کرنا انتہائی ناگزیر ہے۔
سراج رئیسانی شہید ہو یا ہارون بلور سمیت سینکڑوں لوگوں کی شہادت ان کے خون کے ایک ایک قطرے کا قرض ہم پر واجب ٹھہرا، اس قرض کی پہلی قسط کلبھوشن کو پھانسی دے کر نہایت آسانی کے ساتھ اتاری جا سکتی ہے۔
سلگتے گھر کی چنگاری بھی بدلہ لینے والی ہے
یہ منظر دیکھنا لیکن سنبھل کے دیکھنا اب کے
(کالم نگارقومی امور پر لکھتے ہیں)
٭….٭….٭


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved