تازہ تر ین

پاکستان کے خلاف خفیہ بھارتی جنگ

محمد فیصل سلہریا….زبان زد عام
یہ مت دیکھو کون کہہ رہا ہے، یہ دیکھو کیا کہہ رہا ہے، اس مقولے کا اطلاق علمی میدان میں تو ہوتا ہو سیاست میں ہرگز نہیں ،ورنہ دیرآید درست آید کے مصداق سابق وزیر داخلہ رحمان ملک سمیت متعدد سابقین کی یہ دہائی صدا بصحرا ثابت نہ ہوتی کہ پاکستان میں ہونے والی دہشتگردی کے پیچھے امریکا اور بھارت ہے۔ (رحمان ملک جب سابق نہیں تھے تب امریکا اور بھارت کو ”بیرونی ہاتھ“ کے نام سے پکارتے تھے)۔ دی ہندو گروپ آف پبلی کیشنز کے پندرہ روزہ جریدے فرنٹ لائن نے بھی کچھ عرصہ قبل ببانگ دہل تسلیم کر لیا تھا کہ بھارت 2013ءسے پاکستان کے خلاف خفیہ جنگ چھیڑے ہوئے ہے۔ پراوین سوامی کی تحقیقی رپورٹ میں پاکستان میں گرفتار جاسوس کلبھوشن یادیو کے نیٹ ورک کی مکمل تفصیل بتائی گئی تھی اور آخر میں دونوں اطراف کی حکومتوں کو یہ دلچسپ مشورہ بھی دیا گیا تھا کہ وہ مذاکرات کے ذریعے خفیہ جنگ کے اصول مرتب کریں۔
” جنوبی ایشیا میں علاقائی حرکیات اور تزویراتی خدشات“ کے موضوع پراسلام آباد پالیسی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے دو روزہ سیمینار کے افتتاحی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے جنرل زبیر محمود حیات نے بتایا تھا کہ ”را“ نے سی پیک کو نشانہ بنانے کیلئے 50 کروڑ ڈالر مختص کر دیئے ہیں۔یہ انکشافات گویا الجھی ڈور کا سرا ملنے کے مترادف ہیں مگر اسے سلجھانے کے عمل میں ہی دل چسپی رکھنے والوں نے چونکہ بشری تقاضوں کے تحت ڈور کے مطلوبہ حصے کاٹ کر جیبوں میں ڈال رکھے ہیں لہذا انہیں تو یہ خوف دامن گیر رہتا ہے کہ سرا مل گیا تو ڈور سلامت نہیں ملے گی۔ انہیں سلجھاﺅ میں ہی عافیت نظر آتی ہے اور ان کی خواہش ہے کہ یہ سلسلہ اس وقت تک چلتا رہے جب تک ہماری داستان بھی نہ رہے داستانوں میں۔
پاکستان کی احتیاط پسندی کا بخوبی اندازہ تو اقوام متحدہ کی جنرل کونسل کے سالانہ اجلاس ہی میں ہو گیا تھا، جب بھارت کی فرسٹ سیکرٹری اینام گمبھیر نے پاکستان کے ابتدائی حصے ”پاک“ کو نشانہ بنایا، اس میں اپنی نفرت کا زہر انڈیلا اور اسے دہشتگردی کی پاک سرزمین قرار دیتے ہوئے ”ٹیررستان“ کہا تو اس کے جواب الجواب میں پاکستانی سفارتکار نے کلبھوشن یادیو کا نام اس احتیاط کے ساتھ لیا کہ کسی کو پتا نہ چل جائے کہ کس کی بات ہو رہی ہے۔جملہ ملاحظہ فرمائیے yadev caught red handed ہم پاکستانیوں کو جن کے ہاں وہ گرفتار ہے، نام سے نہیں بلکہ ”رنگے ہاتھوں“ کے الفاظ سے یاد آیا۔۔۔ اوہ کلبھوشن کی بات ہو رہی ہے!!، اس میں کیا مضائقہ تھا کہ یادیو کا پورا نام لے لیا جاتا اور تقریر لکھتے ہوئے موصوف کے متعلق ایک اڑتے ہوئے جملے کے بجائے اس کے کارناموں پر مشتمل پورا پیراگراف تحریر کر لیا جاتا۔(اگر ایسی تقاریر کی ڈرافٹنگ ہم خود ہی کرتے ہیں)۔ امریکہ کو پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی پر کبھی تشویش نہیں رہی ،انہیں اطمینا ن تھا کہ انہوں نے پاک سرزمین پر جو المیہ کھیل رچایا ہے اس کی ہدایتکاری بھارت کے ذمے ہے۔ہماری حکومت کا شرمانا لجانا اور احتیاط پسندی سمجھ سے باہر ہے ،کبھی لگتا ہے یہ شرمانا بھارت سے نہیں بلکہ اپنے ہی ان آزاد خیال ،جمہوریت پسنداور مکالمہ کے حامی دانشوروں سے ہے جو بڑے انہماک اورتندہی سے دہشت گردی کی جڑیں پاکستان کے وجود میں تلاش کرنے میں جتے رہتے ہیں،پاکستان میں بھارتی مداخلت تسلیم کرنے سے ان کے وضو ٹوٹ جائیں گے،اس کے لیے ہمیں کسی بھارتی اقرارنامہ کا انتظار کرناپڑے گاجو مذکورہ ویب سائٹ کے ذریعے ہم تک پہنچے گا۔کبھی دل میں خیال آتا ہے کہ اب تو ساحر لدھیانوی بھی نہیں ہے جو اس شرمانے لجانے کی کوئی گرہ ہی کھول دے۔
گویا یہ سرا ہمیں خود ہی تلاش کرنا ہے اور اس کے لیے ماہر سراغ رسانوں کی بھی ضرورت نہیں، بس ایک عدد بلب درکار ہے، کیوں کہ ڈور کا سرا جہاں پڑا ہے وہاں جان بوجھ کر اندھیرا کر دیا گیا ہے۔ روشنی کرنے پر ہم دنگ رہ جائیں گے کہ وہ طالبان جنہوں نے جی ایچ کیو، نیول اور کامرہ ایئر بیس سمیت متعدد اہم تنصیبات اور شخصیات کو ہدف بنا کر یہ تاثر دیا کہ وہ ناقابل شکست ہیں، وہ نیٹو کو مسلسل ہدف بنا کر امریکا کو متبادل سپلائی لائن اختیار کرنے پر مجبور نہ کر سکے۔ پاکستانی عوام کے لیے خوف کی علامت تو بن گئے مگر امریکیوں کو ڈرانے میں کامیاب نہ ہوئے۔ تحریک طالبان پاکستان ہمارے ملک میں امریکی سرگرمیوں اور افرادی قوت میں کمی کے بجائے اضافے کا باعث بنی۔ حتیٰ کہ پاکستان کے ہم جنس پرستوں کی بھی سنی گئی اور امریکا نے ان کے حقوق کے تحفط کا بیڑا اٹھایا۔ ایک خطرناک ملک کے ان مظلوم شہریوں کے حقوق کا دفاع بجز امریکا کوئی کر بھی نہیں سکتا تھا۔ ( پاکستان کے ہم جنس پرستوں کو ٹی ٹی پی کا شکر گزار ہونا چاہیے)۔
بلب بجھانے اور آنکھیں بند کر کے ذہن کی سلور سکرین پر ٹی ٹی پی کے متحرک دنوں کی فلیش بیک چلانے سے کھلے گا کہ امریکا نے نہ صرف ہٹ دھرمی سے ڈرون حملے جاری رکھے بلکہ اسی تواتر سے اس کے ردعمل کو کافروں کا ساتھ دینے والے ملک پاکستان اور اس کی فوج کے خلاف استعمال بھی کیا۔ یہ طالبان امریکا کی طرف پیٹھ کر کے صراط مستقیم پر چلتے، جو مشن انہیں سونپا جاتا اس سے سرمو انحراف نہ کرتے۔ کوئی واقعہ یا کوئی سانحہ ان کی توجہ اپنے مشن سے ہٹانے میں کامیاب نہ ہوتا چاہے یہ گستاخانہ خاکوں کا معاملہ ہو یا کسی پادری کے ہاتھوں توہین قرآن کا ، عافیہ صدیقی کی قید کا مسئلہ ہو یا ریمنڈ ڈیوس کی فائرنگ سے پاکستانی شہریوں کی ہلاکت کا۔
آنکھیں کھولتے ہی یہ حقیقت کھلے گی کہ ہمارے ریڈی میڈ طالبان اس امریکی وہم کی پیداوار تھے کہ پاک فوج افغانستان میں نیٹو سے نبردآزما طالبان کی مدد کر سکتی ہے۔ لہذا حفظ ما تقدم کے طور پر پاکستانی طالبان ظہور پزیر ہوئے۔ یوں اس نعرے کو بھی عملی جامہ پہنایا گیا کہ ” ہمارا دشمن ایک ہے“۔ امریکا بھی طالبان سے لڑ رہا ہے اور پاکستان بھی۔ قرائن بتا رہے کہ فلم اب وائنڈ اپ کی طرف بڑھ رہی ہے۔ (عام طور پر فلیش بیک تکنیک والی فلموں کا اختتامیہ طربیہ ہوتا ہے)۔ امریکا افغانستان سے جانے کی تیاریوں میں ہے۔ اس لیے ہمارے ’وہمی طالبان‘ نے بھی مذاکرات کا بگل بجایا تھا۔ تب مولانا فضل الرحمن نے اے پی سی برپا کر کے یہ غلط فہمی دور کر دی تھی کہ انہیں کون سے طالبان کی ثالثی کے لیے قطر بلایا گیا تھا۔ شاید واقفان حالات کو یاد ہو کہ مولانا فضل الرحمن نے اعلامیے میں یہ نکتہ بھی واضح کر دیا تھا کہ دہشت گردی امریکی ٹریڈ مارک ہے اور اس کے زمرے میں وہی سرگرمیاں داخل ہیں جن میں امریکی مفادات کو نشانہ بنایا جائے۔ لہذا پاکستانی طالبان محض بے امنی پھیلانے کے مرتکب ہوئے۔ مکانی طور پر اب یہ طالبان بھی افغانی ہیں اور حیرت انگیز طور پر افغان طالبان کی طرح امریکیوں کی نشانے پر بھی آنے لگے ہیں۔ ٹی ٹی پی کے سربراہ ملا فضل اللہ عرف مولانا ریڈیو کی امریکی ڈرون حملے میں ہلاکت غیرمعمولی واقعہ ہے اور امریکی سوچ میں تبدیلی کی چغلی کھاتا ہے۔ گویا بھارت کو دبوچنے کا سنہری موقع ہے۔
(کالم نگارسیاسی وسماجی موضوعات پرلکھتے ہیں)
٭….٭….٭


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved