تازہ تر ین

ڈالر کی اڑان،بدامنی کاایجنڈا

عبدالودودقریشی

ڈالر تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا ڈالرمارکیٹ میں 129روپے میں فروخت ہورہا ہے۔موجودہ وزیر خزانہ کو شوکت عزیز ایک خاص ایجنڈے کے تحت باہر سے گورنر سٹیٹ بینک بنانے کے لئے لائے وہ ان سے وہ کام لینا چاہتے تھے جس کے لئے انہیں پاکستان بھجوایاگیا تھا ابھی وہ ایجنڈا ادھورا تھا اور جنرل پرویز مشرف نے ڈالر کو 52روپے سے زیادہ بڑھنے سے روک دیا تھا جبکہ شوکت عزیز اسے 90روپے تک لے جانا چاہتے تھے ساری دنیا میں سٹیٹ بینک اور وزارت خزانہ ریاست کی کرنسی کا دفاع کرنے کے لئے بھرپور اقدام کرتی ہے۔ ساری دنیا میں جب کہیں زرمبادلہ کی کمی شروع ہوتی ہے تو فوری طور پر اسے پورا کرنے کا اہتمام کیا جاتا ہے۔میں ذاتی طور پر جانتا ہوں کہ جنرل پرویزمشرف کے دور میں پرائیویٹ جیٹ طیاروں پر دوبئی سے ڈالر لاکر مارکیٹ میں پھیلائے جاتے تھے اور یوں روپے کی قدر مستحکم رہی۔میاں نواز شریف اور اب نگران حکومت کے دور میں ایئرپورٹوں اور سمندری راستوں پر شدید سختی کر دی گئی ہے کہ پاکستان کے اندر ڈالر لانا محال ہے جبکہ اس سارے عرصہ کے دوران ملک سے باہر ڈالر لے جانے پر کوئی قدغن نہیں لگائی گئی۔ عیان علی سے لے کر شریف خاندان جیٹ طیاروں میں ڈالر بھجواتا رہا ہے۔جس کا ثبوت بیرون ملک پاکستانیوں کی جائیدادیں ہیں۔موجودہ گورنر سٹیٹ بینک اپنے سابقہ دوست کو نیشنل بینک کا صدر بنانے کے لئے بھی کوشاں ہیں جس کے لئے وہ تمام کاغذی کاروائی وزارت خزانہ میں مکمل کروا چکے ہیں یہ سب کچھ ایک خاص ایجنڈے کے تحت کیا جارہا ہے جبکہ ملک میں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کی ملی بھگت سے لگائے جانے والے وزیر اعظم کو سرکاری پروٹوکول کے مزے لوٹنے،عزیزوں اور رشتے داروں کو دعوتوں پر بلانے سے ہی فرصت نہیں ۔ اس لئے کہ ان کے پاس بھی بیرون ملک اور اندرون ملک جائیدادوں کے علاوہ خطیر رقم ہے اگر روپے کی قدر میں کمی اور ڈالر مہنگا ہوگا تو انھیں بھی ذاتی طورپر فائدہ ہوگا۔مگر اس حوالے سے ساری قوم جو سزا بھگتے گی وہ ہفتوں اورمہینوں کی نہیں برسوں کی بات ہوگی۔قوم پر ایک دن میں بیرونی قرضہ 800ارب بڑھ گیا اور سٹاک ایکسچینج میں 600پوائنٹ کی کمی ہوگئی وزیر خزانہ کی ہدایت پر ڈالر کا بینک ریٹ 128روپے سے اوپر کر دیا گیا ہے پاکستان کے روپے کی قدر میں کمی کا ایجنڈا ڈاکٹر عشرت حسین کے دور سے ہی شروع کر دیا گیا تھا جب پانچ ہزارروپے کا کرنسی نوٹ جاری کیا گیا۔انہوں نے مجھے خود بتایا تھا کہ آج جو چیز ایک ہزار روپے میں مل رہی ہے وہ 2018میں پانچ ہزار روپے کی ملا کرے گی۔جب ان سے سوال کیا گیاکہ یہ کیوں ؟ تو انھوں نے کہا کہ ہم پر غیر ملکی دباﺅ ہے آمدن نہیں ہورہی قرضے زیادہ لے لئے گئے ہیں اور لئے گئے قرضے کسی ترقیاتی کام پر لگانے کی بجائے ووٹرز کو متوجہ کرنے اور کمیشن بنانے پر لگا دیئے گئے۔قومی ترجیحات کو یکسر نظر انداز کیا گیا ہے ان کا کہنا تھا کہ میں بھی اس حوالے سے مجبور تھا کہ سمندر میں رہ کر بڑے مگرمچھوں سے بیر لینا موت کو دعوت دینے کے مترادف ہے۔وزارت خزانہ اور سٹیٹ بینک کی ڈالر کی قدر بڑھنے اور روپے کی قیمت میں فوری طور پر اتنی کمی مجرمانہ غفلت کا نتیجہ ہے جسے پوچھنے والا کوئی نہیں ہے ۔ نہ ہی مسلم لیگ ن،پیپلز پارٹی یا عمران خان نے کوئی آواز اٹھائی اور نہ ہی مستقبل میں ایسی کسی آواز کے اٹھنے کی امید ہے۔حالانکہ ساری دنیا میں حکومتیں اپنی کرنسی کا دفاع کرتی ہیں افغانستان میں طالبان کے دور حکومت میں جب امریکہ اور یورپ ان سے ناراض تھا تو وہاں پچاس ہزار روپے کا نوٹ جاری کر دیا گیا اور اب افغانستان میں ایک ہزار روپے کا نوٹ ہے جو پاکستان کے دوہزار کے برابر ہے۔کیا افغانستان کی معیشت پاکستان سے بہتر ہوئی ہے وہاں کوئی صنعت ہے زراعت ہورہی ہے یا پورے افغانستان پر افغان حکومت کی عملداری ہے یہ سب چیزیں نہ ہونے کے باوجود اگر افغان کرنسی کو مضبوط اور مستحکم کیا گیا تو اس کی کوئی وجہ ہے پاکستان کی کرنسی کو گرایا جارہا ہے اس کی بھی کوئی وجہ ہے اور وجہ یقیناً پاکستان کے حق میں نہیں۔ اس کا فائدہ بیرونی دنیاامریکہ، اسرائیل، بھارت،سرمایہ داروں اور سیاسی حکمرانوں کو ہی ہونا ہے جو اربوں ڈالر پاکستان سے باہر لے گئے ہیں۔ڈالر کی بڑھتی ہوئی اس قیمت سے ملک میں جائیدادوں کی قیمتیں فوری طور پر بڑھ گئی ہیں کھاد کی قیمت میں یکدم پچاس اور سو روپے کا اضافہ کر دیا گیا ہے اس سے کھانے پینے کی چیزیں مزید مہنگی ہونگی پٹرول گیس اور ڈیزل کی قیمتیں مزید بڑھائی جارہی ہیں یہ مہنگائی کا سیلاب دراصل اس طوفان کو لانے کی سازش ہے جس کے تحت لوگوں کو سڑکوں اور گلیوں میں احتجاج کے لئے نکالا جائے اور پھر پاکستان کو عراق،لیبیا جیسی صورتحال سے دوچار کیا جائے مگر حیرت ہے کہ دانشوروں،کالم نگاروں اور محب وطن سیاستدانوں کو اس کی کانوں کان خبر نہیں ۔ سب ریت میں منہ دبائے آرام کررہے ہیں۔کیا اس معاملے پر بھی چیف جسٹس میاں ثاقب نثار ہی نوٹس لیں گے اور ایک جی آئی ٹی بنائیں گے کہ وزارت خزانہ سے لے کر دیگر محکموں میں آنے والے افراد بیرون ملک کن کن ممالک میں کس کس تنخواہ پر خدمات انجام دیتے رہے ہیں اور ان میں سے کتنے لوگوں کی دوہری شہریت ہے۔ سابقہ گورنر سٹیٹ بینک اشرف وترا نے شراب کے نشے میں دھت ہوکر پاکستان آنے کی بجائے ہسپتال جانے کو ترجیح دی اور اسحاق ڈار نے انھیں پارلیمنٹ میں شور پڑنے پر عہدے سے ہٹایا۔ڈالر کی قیمت بڑھانے سے پہلے اپنا تمام سرمایہ ڈالروں میں تبدیل کروا کر اسحاق ڈار نے دوبئی،برطانیہ اور کئی ممالک میںجائیدادیں بنا لیں اور غیر ملکی کرنسی میں اپنے اور بچوں کے بینک اکاﺅنٹ کھلوا کر اپنے سرمائے کو محفوظ بنا لیا یہ کام تو انڈیا میں انگریز نے کبھی نہیں کیا تھا کہ وہ انڈیا کا تمام اثاثہ اس طرح لوٹ کر لے جائے اگر وہ یہاں سے پیسہ لے جاتا تھا تو اس کے بدلے کچھ دیتا تھا برطانیہ سے لوہے کی بنی ریل کی پٹڑیاں لاتا انھیں بچھاتا اور اس کے بدلے خزانے سے پیسہ وصول کرکے برطانیہ بھجواتا جس سے اس کی ملیں اور مزدور خوشحال ہوتے وہ مختار کل تھا کسی کو جواب دہ نہیں تھا مگر اس طرح کی ڈکیتی اس نے بھی نہیں کی۔حیرت ہے کہ پاکستان کے نگران وفاقی حکمران وزارت خزانہ اور سٹیٹ بینک غیر ملکی ایجنڈے کی تکمیل کے لئے اتنی سرعت سے ڈالر کو اوپر جانے سے نہیں روک رہی جو اس کی ذمہ داری ہے۔اس حوالے سے فوری طورپر دوسرے اداروں کو اقدام کی ضرورت ہے ورنہ ملک میںہنگاموں اور بدامنی کے لئے گراﺅنڈ تیار کی جارہی ہے۔
٭٭٭

 


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved