تازہ تر ین

طوفان آرہاہے

توصیف احمد خان

طوفان کو روکنا تو اب کسی کے بس کی بات نہیں لگتی، انکی بھی نہیں جو ہرطوفان سے ٹکرانے کی صلاحیت اور اہلیت رکھتے ہیں، آنے والے اس طوفان کا رخ موڑنا ہر ایک کی دسترس سے باہر معلوم ہورہاہے، طوفان سے ٹکرانے والوں کے سامنے ہدف ہوتا ہے لیکن آنے والا طوفان ایسا ہے جو مرئی بھی ہے اور غیر مرئی بھی، یعنی نہ نظر آنے کے باوجود نظر آرہاہے۔
ہے نا عجیب بات …لیکن حقیقت یہی ہے، ہم اس طوفان کی بات کررہے ہیں جو گذشتہ روز اخبارات کی شہ سرخیوں میں موجود تھا، ان شہ سرخیوں کا مطلب یہ تھا کہ بالائی علاقوں میں شدید بارشوں کے باعث پانی کا ریلا زیریں علاقوں تک پہنچا ہی پہنچا، آپ میں سے کچھ ہماری بات سمجھ گئے ہونگے اور کچھ نہیں سمجھے ہونگے…دراصل بات کیا تھی اور کہاں جا پہنچی، ہم ڈالر کی بہت بلند پرواز اور روپے کی تاریخی بے قدری کی بات کررہے ہیں، جس کی وجہ سے سب کچھ اوپر نیچے ہوتا دکھائی دیتا ہے ، جس طوفان کی ہم بات کررہے ہیں وہ کوئی اور نہیں مہنگائی کا طوفان ہے جو بس آیا ہی چاہتا ہے،کہا جاتا ہے کہ روپے کی بے قدری کا فیصلہ آئی ایم ایف کے سامنے کشکول دراز کرنے کی غرض سے کیا گیا ہے، حکومت یہی کہے گی کہ یہ مارکیٹ فورسز کا کیا دھرا ہے مگر ایسا ممکن نہیں کہ مارکیٹ فورسز سرکارکی آشیرباد کے بغیر اس قسم کے گھاو¿ لگاتے پھریں، ماہرین کے مطابق جب کوئی کشکول لے کر جاتا ہے تو اسے سب سے پہلے یہی کہا جاتا ہے کہ اپنی کرنسی کی قیمت کم کرو، بجلی ، تیل وغیرہ کے بارے میں شرائط بعد میں عائد کی جاتی ہیں۔
ہم اصل میں قرض اتارنے کیلئے قرض لے رہے ہیں، قرض کی مے پیتے ہوئے ہمیں بالکل احساس نہیں ہوتا کہ یہ مے نوشی ایک دن رنگ لائے گی، یہ بات بزبان شعر نہیں کہی جارہی لہٰذا الفاظ پر توجہ نہ دی جائے، قرض ضرورتیں پوری کرنے کیلئے لیا جاتا ہے مگر بہت سی ضرورتیں حکمرانوں کے چونچلوں کی حیثیت رکھتی ہیں، جن کے بغیر بھی کارِ جہاں پر کوئی فرق اور اثر نہیں پڑیگا۔
کیا زمانہ تھا…! اپنے بعد کی نسل کے سپوتوں کو بتاتے ہیں تو وہ یقین کرنے کیلئے آمادہ ہی نہیں ہوتے، بالکل اسی طرح جیسے ہم پہلی نسلوں کی باتیں ماننے کیلئے تیار نہیں تھے…انکے دور میں روپے پیسے تو بہت بڑی کرنسی تھی، عمومی طور پر د مڑیوں وغیرہ سے خریداری ہوجاتی تھی، جو پیسے سے بہت چھوٹی کرنسی تھی، بالکل اسی طرح جیسے آج پیسے کی کوئی حیثیت اور اہمیت نہیں، اب تو شاید ایک روپے کا سکہ بھی عوام کی اکثریت نے کئی سال سے نہیں دیکھا ہوگا۔
آجکل شاہین یعنی ڈالر کا مقام اور اسکا بسیرا اورہے اور بلندیوں پر ہے، ایک زمانہ تھا کوئی اسے پوچھتا نہیں تھا، پاکستان کے قیام سے کچھ عرصہ پہلے تک ہندوستانی روپیہ اور ڈالر برابر تھے یعنی ایک روپے کا ایک ڈالر، اس سے سوسال پیچھے چلے جائیں تو ایک روپے کے چودہ ڈالر ملتے تھے، پھرڈالر نے بڑی آہستہ روی کیساتھ پرواز شروع کی ، مگر 1998میں پاکستان اور بھارت نے ایٹمی دھماکے کئے تو اس نے بھی پر پھیلالئے، بھارت میں کم مگر ہمارے یہاں نرخ بہت بڑھ گئے جس میں ہماری اپنی حکومت اور اس کے معاشی ماہرین کی حماقت کا عمل دخل بہت زیادہ تھا، انہوں نے ڈالر اکاو¿نٹس پر پابندی عائد کردی ، پھرچل سو چل …آج بات چل سو چل سے بھی آگے چلی گئی ہے، آج تو تیز دوڑنے کا مقابلہ ہے اور اس مقابلے میں واحد کھلاڑی ڈالر ہے ۔
ایک دور تھا بھارتی روپیہ ہم سے بہت پیچھے اور نیچے تھا، پاکستانی کرنسی اور معیشت بھارت کے مقابلے میں بہت مضبوط تھی مگر آج صورتحال یہ ہے کہ ہم سے کم قیمت کا بھارتی روپیہ ہم سے دوگنا حیثیت اختیار کرچکا ہے ، ہماری اٹھنی بھارتی روپے کے برابر ہوا کرتی تھی…آج ہمارا روپیہ بھارتی اٹھنی کے مساوی ہے…آپ کو اٹھنی کے بارے میں بتانا پڑیگا… ایک زمانہ تھا روپے میں سولہ آنے ہوا کرتے تھے اور اٹھنی آٹھ آنے کے برابر تھی، چونی یعنی چار آنے اور دونی یعنی دو آنے کا سکہ بھی تھا، ایک آنا اور پیسے اس سے الگ تھے۔
بات ہم نے ڈالر کی قیمت اور مہنگائی سے شروع کی تھی …جب روپے کی بے قدری ہوگی یعنی اس کی قیمت میں کمی کی جائیگی تو لامحالہ اس کی قوت خرید کم ہو جائیگی، جس قدر روپیہ سستا ہوگا اسی قدر اشیاءکی قیمتوں میں اضافہ ہوتا جائیگا، …تنخواہیں وغیرہ تو وہی ہیں، ان میں اضافہ نہیں ہورہا جس کی وجہ سے عام آدمی کی قوت خرید کم ہوجائیگی، ہم ایک طرح سے افراط ِ زر کی سی صورتحال کی جانب بڑھ رہے ہیں، دنیا میں ایسے ممالک آج بھی موجود ہیں جہاں لوگ خریداری کیلئے نکلتے ہیں تو اپنی کرنسی بیگ میں بھرکر لے جاتے ہیں ، اس بات کا پھر بھی امکان رہتا ہے کہ مال کم ہو جائے اور پوری خریداری نہ کی جاسکے، ہماری پوزیشن بھی وہی ہونے جارہی ہے ۔
گذشتہ کالم میں ایک ہزار درآمدی اشیاءپر ریگولیٹری ڈیوٹی میں اضافے کا ذکر تھا، ان میں اگرچہ فضولیات کی بڑی تعداد موجود ہے تاہم ضرورت کی بھی کئی ایک اشیاءہیں، ڈیوٹی بڑھے گی تو قیمت بھی بڑھے گی، ڈالر مہنگا ہوگا تو مال بھی مہنگا ہوگا کہ اب تو سب کچھ ڈالر کے ساتھ منسلک ہے…یہ صورتحال اسی وقت بدل سکتی ہے جب معیشت کو مضبوط کیا جائیگا…معیشت کو کون مضبوط کریگا…؟ فی الحال اس کا کوئی امکان نظر نہیں آتا، کم از کم نگرانوں کے بس کی بات تو بالکل نہیں، جبکہ وہ بنیادی نوعیت کے فیصلے کئے جارہے ہیں جن کا انہیں اختیار ہے نہ استحقاق ۔
سنا ہے امارات کی ایک ریاست فجیرہ کے شہزادے شیخ راشد بن حمدالشرقی نے قطر میں سیاسی پناہ طلب کی ہے، بیان شہزادہ محترم کا یہ ہے کہ ابوظہبی کے حکمران اس کے دشمن بن گئے ہیں، امارات میں شامل ریاستوں میں ابوظہبی کو بڑے بھائی یا سرپرست کی سی حیثیت حاصل ہے ، اسی لئے اس کے اختیارات بھی لامحدود ہیں، کچھ عرصہ پہلے دوبئی کی ایک شہزادی ملک سے فرار ہوتے ہوئے پکڑی گئی تھی…وہ شہزادی صاحبہ تو معلوم نہیں اب کہاں ہیں، کسی جیل میں ہیں یا کہیں اور … اس امکان کو بھی مسترد نہیں کیا جاسکتا کہ وہ ہیں بھی یا نہیں…شہزادہ یا شہزادی کہلانے میں انسان بڑا فخر محسوس کرتا ہے اور اسے اپنا سر اونچا دکھائی دیتا ہے لیکن اس سر کے کٹنے کے امکانات اتنے ہی زیادہ ہوتے ہیں ، شہزادہ حمد الشرقی خوش قسمت ہے کہ قطر جاپہنچا جس کی باقی خلیجی ممالک سے دشمنی ہے، حمد نام کے ایک قطری شہزادے نے ہمارے یہاں بڑی شہرت پائی ہے، اب مناسب ہوگا کہ دونوں شہزادے مل بیٹھ کر آہ و زاریاں کریں۔
٭٭٭


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved