تازہ تر ین

میرا دوست نوازشریف (43

 

ضیا شاہد
میں تو اسی اسلامی ماحول کی جھلکیاں دیکھنے کو ترس رہا تھا مگرجو ہوا وہ بالکل اس کے برعکس تھا۔مہینوں سے نہیں برسوں سے میں دبے دبے لفظوں میں شکایت کر رہا تھا کہ لڑائی میں دونوں طرف سے ایک جیسے ہتھیار کام کر رہے ہیں۔ لوٹ مار کا ہتھیار، ناجائز اختیارات کا ہتھیار، رشوت اور ناجائز خوری کا ہتھیار، کچھ بھی تو نہیں بدلا تھا۔ ہاں چہرے بدل گئے تھے اور انداز تبدیل ہو گئے تھے۔ مسلم لیگ ن بہت بڑی سیاسی جماعت تھی اور میں اس کا ایک چھوٹا سا، ادنیٰ سا ورکر جسے لیڈر کی توجہ حاصل تھی یا لیڈر جس کی بات سن لیتا تھا، بس اس سے زیادہ میرا اس جماعت میں کوئی استحقاق نہ تھا۔ پھر بھی میں جہاں اور جتنا بن پڑتا بات ضرور کرتا تھا۔
سب سے پہلے میں نے نام نہاد کھلی کچہریوں پر اعتراض کیا۔ ہر اتوار کی صبح دس گیارہ بجے ضرورت مندوں کا ایک قافلہ نوازشریف کے ماڈل ٹاﺅن والے گھر کے گرد جمع ہو جاتا۔ شروع میں مجھے خوشی ہوتی تھی کہ ضرورت مند، مظلوم، محروم لوگ اپنے مسائل لے کر لیڈر کے پاس پہنچ سکتے تھے، لیکن رفتہ رفتہ یہ غلط فہمی بھی دور ہونے لگی۔ ہر کس و ناکس کو بیرونی دروازے پر روک لیا جاتا تھا جو کسی ایم پی اے، ایم این اے، پرانے ورکر، پرانے واقف کار کا جاننے والا ہوتا تھا صرف اسے اندر آنے کی اجازت ملتی تھی۔ چند ہفتے بعد ایک سکروٹنی لگ گئی۔ پیسے مانگنے والے، بیمار کا علاج کروانے کے لیے چٹیں مانگنے والے غریب اور نادار، میلے کچیلے کپڑوں والے لوگ اب اندر نہیں آ سکتے تھے۔ انہیں باہر گارڈز کے پلاٹ پر بنے ہوئے کمروں پر ہی روک لیا جاتا تھا۔ پھر بھی کوئی اکا دکا ضرورت مند اندر آ جاتا اور صحن میں پڑی ہوئی کرسیوں پر بیٹھ جاتا تو ”خواص“ اسے اٹھا دیتے اور بتاتے کہ یہ ”شرفائ“ کے بیٹھنے کی جگہ ہے۔ رفتہ رفتہ یہ عوامی کھلی کچہری جو لیڈر آف اپوزیشن کی ایک جھلک دیکھنے کے لیے ہر اتوار کو جمع ہوتی تھی، چھٹنے لگی اوراس کی جگہ دوسرے شہروں بلکہ صوبوں سے آئے ہوئے سیاسی لوگوں نے یہ کرسیاں سنبھالیں جو نوازشریف کی شان میں اپنے اپنے طور پر مختلف قصیدے بیان کرتے تھے۔ میں نے کچھ پرانے اور کھڑپینچ قسم کے ورکروں سے پوچھا جناب ان سیاسی تقریروں کا کیا فائدہ۔ ان سے پہلے جو ضرورت مند آتے تھے تو کم از کم ان کی کچھ سنی جاتی تھی، کسی کے علاج کا بندوبست ہو جاتا تو کسی کے خلاف زیادتی کے ازالے کے لیے کسی ایم پی اے، ایم این اے سے کہہ دیا جاتا۔ ایک زیادہ کھڑپینچ نے میرا ہاتھ پکڑ کر کہا ضیا صاحب! آپ کتنے بھکاریوں کو خیرات دیں گے، سارا ملک ہی غریب ہے، نوازشریف کی کھلی کچہری سے اس کا حوصلہ بڑھتا ہے۔ آپ اس کے گھر کو یتیم خانہ تو نہ بنائیں۔ میں خاموش ہو گیا اور قسم قسم کے تماشے دیکھتا رہا۔ کوئی کرسچین لیڈروں کو لے کر آتا جو ہمارے لیڈر کی شان میں مداح سرائی کرتے، کوئی مزدور لیڈر آتا جو حکومت کی مزدوروں کے لیے اصلاحات کا ذکر چھیڑتا، کوئی مولوی صاحبان آتے جو بینظیر بھٹو کی تقریر اذان بج رہا ہے، پر تبصرہ کرتے اور میاں صاحب کی شان میں قصیدے پڑھتے۔ کوئی غریبوں کے لیے میاں صاحب کی اصلاحات کا خیرمقدم کرتا اور لیڈر کا حوصلہ بڑھاتا۔ سنجیدہ گفتگو کچھ بڑھنے لگتی تو ہر بار معمر فلم ایکٹر الیاس کشمیری جنہیں میاں صاحب کے ساتھ بٹھایا جاتا تھا، سے فرمائش ہوتی کہ تایا جی ہو جائے پھر کچھ ڈائیلاگ۔
ہم سکول میں پڑھتے تھے جب پنجابی کی ہر فلم میں الیاس کشمیری ولن ہوا کرتے تھے اور ہم چھ آنے کی کلاس میں بیٹھنے والے فلم بین زیادہ خوش ہوتے تھے کہ ہیرو سنتوش کمار اور اسلم پرویز سے زیادہ ”جارحانہ انداز محبت“ فلم ایکٹر سدھیر کا ہوتا تھا، جو صبیحہ خانم ہو یا مسرت نذیر سے گھٹ گھٹ کر جپھیاں مارتے تھے، لیکن جس زمانے کی بات میں کر رہا ہوں تب تایا الیاس کشمیری کہلاتے تھے اور بڑے اصرار کے بعد ایک ہی ڈائیلاگ سناتے تھے کہ ”اوئے میں کشت کٹ کے آیا واں تے وخت پا دیاں گا“ نوازشریف بھی اس پر خوب ہنستے تھے اور ہم سب حاضرینِ محفل بھی انتہائی خوشی کا اظہار کرتے تھے۔ آئندہ الیکشن میں صرف چند ماہ باقی تھے اور مفہوم اس ڈائیلاگ کا یہ تھا کہ میاں صاحب نے جو کشت کاٹنا تھا کاٹ لیا، اب وہ وخت ڈال کر رہیں گے۔ ایک بار تو چند پرجوش تماشائیوں نے انہیں کندھوں پر اٹھانا چاہا، ماشاءاللہ ان کا وزن کافی زیادہ ہو چکا تھا اور چار پانچ نوجوان بھی ان کا بھاری بھر کم جثہ نہ اٹھا سکے۔ کچھ ہم نے بھی اس خیال سے کہ کہیں گر نہ جائیں اور کوئی ہڈی نہ تڑوا بیٹھیں لونڈوں لپاٹوں کو سختی سے منع کیا۔یوں کھلی کچہریوں کے خلاف شروع ہی سے میرا استدلال بہت بھرپور ہوتا تھا۔ نوازشریف بڑے بھی تھے اور پارٹی لیڈر بھی، میں ہمیشہ بڑے ادب سے درخواست کرتا کہ کوئی شخص کیا کہہ رہا ہے اس کی صداقت کا اندازہ اس وقت تک نہیں لگایا جا سکتا جب تک مقابلے میں کھڑا ہونے والا فریق اپنی زبان نہیں کھولتا۔ انہی دنوں مجھے دو روز کے لیے اپنے گاﺅں بہاولنگر جانا پڑا تو میں نے واپسی پر نوازشریف کو ایک لطیفہ سنایا کہ جناب میں ایک جاننے والے ایس پی یعنی سپرنٹنڈنٹ پولیس کے پاس چائے پی رہا تھا کہ ایک عورت اپنے باپ کے ساتھ متعلقہ اے ایس آئی کے خلاف فریاد لے کر آئی۔ اس عورت کا باپ کہہ رہا تھا ایس پی صاحب بہادر” تساں سنو تے سئی میری دھی کیہ پئی فرماندی اے کہ تہاڈا اے ایس آئی کیہ پیا بکواس کریندا اے۔“ چائے پیتے ہوئے میں ہنس پڑا اور ایس پی صاحب سے تفصیل پوچھی اور وہی تفصیل میں نے نوازشریف کو بیان کر کے کہا کہ جب تک دوسرے فریق کی بات نہ سنی جائے ،فیصلہ سچ اور حق پر کیونکر ہو سکتا ہے۔ میں نے بتایا نا کہ میرا دوست مغل بادشاہوں کے انصاف سے بہت متاثر ہے، اسے محل کے جھروکے میں بیٹھے ہوئے بادشاہ بننے کا شوق ہے جس کے سامنے یکطرفہ شکایت لائی جائے اور موقع پر ہی فیصلہ سنا دے۔ نہ کوئی فائل، نہ کوئی بیان، نہ کوئی گواہ، نہ کوئی دستاویز ،پڑھنے پڑھانے اور فائلیں دیکھنے کا دلدّر کون کرے جو منہ سے نکل گیا وہ انصاف اور حق ٹھہرا اور جو زنجیر عدل کے سامنے آ کر اسے کھٹکھٹانے کی جرا¿ت نہ کر سکا وہ گنہگار اور مجرم مقہور ٹھہرا۔ پہلے میاں صاحب کے پاس وقت ہوتا تھا پھر وہ وزیراعظم بن گئے تو ہمارے دوست لاہور کے میئر خواجہ ریاض محمود کرسی عدل پر براجمان ہوئے۔ کچھ مہینے انہوں نے یہ ڈفلی بجائے اور جب ضلعوں سے ان کے کیے جانے والے فیصلوں کے جواب میں یہ شکایات آنے لگیں کہ دوسرے فریق کی بات سنے بغیر یکطرفہ فیصلے نہ کرو تو یہ سلسلہ ٹھپ ہو گیا۔
واقعات بیسیوں نہیں سینکڑوں ہیں مگر رفتہ رفتہ محسوس ہونے لگا کہ میرا دوست جس حلقے میں گھر گیا ہے شاید اس میں سے باہر نکلنے کا کوئی راستہ موجود نہیں۔ میاں صاحب کو کرکٹ کھیلنے کا شوق تھا لیکن یہ بھی مشہور تھا کہ باﺅلر زیادہ تیز بال نہ کروائے اور کیچ ہو رہا ہو تو بھی دائیں بائیں ہاتھ کر کے ڈراپ کر دیا جائے تو بہتر ہے۔پھر چشم فلک نے یہ منظر بھی دیکھا کہ وزیراعظم لارنس گارڈن میں جم خانہ گراﺅنڈ کے اندر میچ کھیل رہے ہیں کہ بہت لمبی تار لے جا کر ایک سیکرٹری کے دونوں ہاتھوں پر ٹیلی فون رکھا ہے اور وزیراعظم صاحب کو فون سنوا رہے ہیں۔ اس موقع کی تصویر اخبارات میں شائع ہوئی اور خبریں کے صفحہ اول پر آج بھی موجود ہے۔ پھر جھوٹی یا سچی خبریں چھپی کہ لاہور سے ہیلی کاپٹر پر نہاری اور پائے کا ناشتہ ایوان وزیراعظم اسلام آباد پہنچا ہے۔ کاش جن باتوں پر نوازشریف بحث کرتا تھا کہ حکومت ملنے پر فلاں اصلاح کروں گا اورفلاں قانون بناﺅں گا، کچھ اس طرف توجہ ہوتی مگر افسوس کہ میرا دوست وقتی عیش و عشرت کی زندگی میں پھنس گیا، اس نے کبھی بنیادی اصلاحات کی طرف توجہ نہ دی۔ غربت، بے انصافی اور بیروزگاری کو دور کرنے کی کبھی کوشش ہی نہ کی۔ ہاں! سرکاری نوکریوں کا پٹارہ اپنے سامنے رکھ لیا کہ جس کو چاہا کچھ بخش دیا۔ اس ملک کو کیسے بچانا ہے، اس بارے میں کبھی ہم سوچا کرتے تھے کہ دنیا بھر سے فرش پر چادر بچھا کر چندہ جمع کیا جائے اور ایک بار سارے قرضے اتار دیئے جائیں۔ یہ ڈرامہ ہوا تو ضرور مگر مدتوں یہ پتہ نہ چلا کہ پیسے کتنے جمع ہوئے تھے اور کتنا قرضہ اترا۔ نوازشریف پہلی بار وزیراعظم بنا تو فضا اتنی سازگار تھی کہ مجھ ایسے معمولی انسان نے بھی پیش کش کی کہ ہر شعبے میں معیشت کی بحالی کے لیے پلان بنایا جائے۔ ایک سال تک میں پی ٹی وی پر ہر ہفتے ایک گھنٹے کا پروگرام کرتا رہا۔ یہ حکومت کی مداح سرائی نہیں تھی بلکہ مسائل کی نشاندہی تھی اور ہر پروگرام میںسابق حکومت کے وزیر، کبھی افسر جمع کرتا اور ان سے پوچھتا کہ وہ کیا کام تھا جوآپ نہیں کر سکے اور اب ہونا چاہئے، لیکن جلد ہی پی ٹی وی ہیڈ آفس سے اوپر کسی نے حکم دیا کہ اپوزیشن کو ہرگز نہ بلایا جائے۔
(جاری ہے)


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved