تازہ تر ین

دوقیدیوں میں مکالمہ

محمد اشرف کمالوی….اندازِ بیاں اور
کتنے لوگ تھے؟ اڈیالہ جیل میں قیدی نمبر 3421نے قیدی نمبر 3422سے سوال کیا۔ قیدی نمبر 3422نے جواب دیا۔ استقبال کے لیے ائیرپورٹ تو کوئی نہیں پہنچ پایا۔ہاں ! چچا میاں کے ساتھ دور دور کھیل تماشا کرنے والے امیدواران قومی و صوبائی اسمبلی کے زور زبردستی سے لائے گئے دہاڑی دار ،پلاﺅ بریانی کھانے کے شوقین تین سے پانچ ہزار لوگ ضرور دیکھے گئے۔ شہباز استقبال کے لئے کیوں نہیں آیا؟ جبکہ فلائٹ بھی دو گھنٹے تاخیر سے پہنچی۔ قیدی نمبر 3421نے استفسار کیا۔ ابا حضور پہنچتے وہ ہیں جنہوں نے پہنچنا ہوتا ہے۔ جن کا مقصد محض گونگلوں سے مٹی جھاڑنا ہوتا ہے وہ ایسے ہی گاڑی میں دبکے بیٹھے رہ کر ادھر اُدھر وقت گزاری کر کے کاروائی ڈالتے ہیں۔ قیدی نمبر3421کے چہرے پر تشویش کے سائے منڈلانے لگے۔پوچھا!میں نے تو پورے پاکستان سے شیروں کو ائیر پورٹ پر دھاڑنے حکم دیا تھا لیکن ایک بھی شیر ائیر پورٹ کا جنگلہ کیوں نہ پھلانگ سکا؟ابا حضور! یہ اقتدارکے سائبان تلے حکومتی اختیار ات کے زور پر معصوم ہرنوں کا شکار کرنے والے کاغذی شیر راستے کی معمولی رکاوٹوں کے سامنے بکری ثابت ہوئے ۔جہاں روکے گئے وہیں چارہ کھانے لگے۔مگر میری اطلاع کے مطابق یہ رکاوٹیںتو بہت معمولی نوعیت کی تھیں۔جیسی رکاوٹیں عمران خان ،ڈاکٹر طاہر القادری اور پرویز خٹک کو روکنے کے لئے ہم لگایا کرتے تھے انکی تو بات ہی کچھ اور تھی۔بڑے بڑے کنٹینروں سے بڑی بڑی شاہراہیںیوں بلاک کر دیا کرتے تھے کہ پرویز خٹک جیسا سنگل پسلی نیچے سے کھسک کر بھی نہیں نکل سکتا تھا ۔ہم پنجاب پولیس کو اتنے زیادہ پر تشدد اختیارات سے نواز دیا کرتے تھے کہ وہ اپنے روز مرہ معمولاتِ زندگی سر انجام دینے کے لیے ان رکاوٹوں کے قریب بھی پھٹکنے والے معصوم بے گناہ شہریوں کا مار مارکر بھرکس نکال دیاکرتی تھی۔قیدی نمبر3421دوبارہ گویا ہوا لیکن میں حیران و پریشان ضرور ہوں مگر پشیمان نہیں کہ میرے حکم پر آپ کے چچا شہباز میاں اور ان کے حواریوں نے ڈاکٹر طاہر القادری کے اداراہ منہاج القرآن میں کیسے کیسے ظلم ڈھائے۔ یہاں تک کہ چودہ بے گناہ مردو خواتین کو شہید بھی کر دیا گیا۔سوکے قریب شدید زخمی بھی ہوئے ۔ ان میں سے بہت سے زندگی بھر کے لیے معذور بھی ہو گئے۔ لیکن ڈاکٹر طاہر القادری کے پر جوش و با ہمت اور نظریاتی کارکنوں کے آگے میرا ،تمہارے چچا اور اقتدار کی چھتری تلے بھڑکیں مارنے والے کاغذی شیروں کا کوئی زور نہ چل سکا۔اور آج بھی ماڈل ٹاﺅن کا یہ کیس میری اور تمہارے چچا کی نیندیں حرام کیے ہوئے ہے۔ کہ یہ لٹکتی تلوار کسی بھی وقت مصنوعی بالوں والے ہمارے سروں پر گر سکتی ہے۔ یہی سب کچھ ہم نے عمران خان کے دھرنوں اور احتجاجی ریلیوں کے ساتھ پوری ایمانداری اور برابری کی سطح پر روا رکھا تھا۔لیکن نہ جانے کیسے ان دونوں کے کارکن اور لیڈر ہمارے تمام حربوں کو ہربار ناکام بنا کر رکھ دیتے تھے۔ جہاں پہنچنا ہوتا تھا وہاں پہنچ کر ہی دم لیتے تھے۔ جبکہ تیس سال میں پہلی بار ہمارے شیروں کو اپنی اقتدار کی کچھاروں سے نکلنا پڑا تو چند قدم چل کر ہی یہ چڑیا گھر کے شیر ثابت ہوئے ، ان کا سانس پھولنے لگا اور وہ ہانپتے کانپتے راستوں میں ہی ڈھیر ہوگئے۔ ہاں البتہ تمہارے چچامیاں مال روڈ جیسی پر ہجوم با رونق سڑک پر میرا استقبال کرتے ہوئے اُس وقت ضرور نظر آئے جب میرا طیارہ اسلام آباد کے ائیر پورٹ پر لینڈ کر چکا تھا۔ چلیں اس کا اتنا تو ضرور فائدہ ہوا کہ پچیس جولائی کو ہو نے والے الیکشن میں ہم بالکل ہی فلاپ ہونے سے بچ جائیں گیں۔کچھ نہ کچھ بے شک آٹے میں نمک برابر سیٹیں ضرور مل جائیں گی ۔ جس سے نون لیگ کی نمائندگی وفاق اور پنجاب میں برقر اررہے گی۔دوسرے صوبوں میں تو ہمیں پہلے بھی عوام نے کبھی گھاس نہیں ڈالی اس بار جنوبی پنجاب سے بھی ہمارا صفایا ہونا نوشتہ دیوار ہے ۔ لیکن ایک بات کا مجھے اڈیالہ جیل آ کر پہلے سے بھی زیادہ دھڑکا لگنے لگا ہے کہ کہیںاس الیکشن میں آٹے میں نمک برابر جیتنے والے ہمارے ممبرانِ اسمبلی کو چکری کا چوہدری نثار علی خاں چکر دے کر اپنی جیپ میں بٹھا کر میاں تیرے جانثار ، سب فرار ،سب فرار کا نعرہ سچ ہی ثابت نہ کر دے۔ اور ہاں ایک اور سوال قیدی نمبر3421نے قیدی نمبر 3422کو مخاطب کرتے ہوئے کہایہ بات میری سمجھ سے بالا تر ہے کہ ہمارے جلسوں میں جو لاکھوں بھوکے ننگے ، صاف پانی کو ترستے ،لوڈشیڈنگ کے مارے بے روزگار لوگ” شیر اک باری فیر“ کے نعرے لگا یا کرتے تھے ۔ جو اس بات سے بالکل بے خبر تھے کہ وہ ہم ہی ہیں جنہوں نے اُن کی آئندہ آنے والی نسلوں کو بھی اربوں کھربوں کا مقروض کر دیا ہے۔وہ ہڑبونگ مچاتے، شیشے توڑتے، ٹائر جلاتے، سیکورٹی اہلکاروں سے ہاتھا پائی کرتے مجھے اور تمہیں اپنے گھیرے میں لے کر ائیر پورٹ سے باہر نکالنے ، گرفتاری سے بچانے کے لیے کیوں نہ پہنچے؟ قیدی نمبر3422اس سوال کا جواب سوچ ہی رہی تھی کہ علم و ادب کے بے تاج بادشاہ ، ہمارے یونیورسٹی دور کے اُستاد پروفیسر سر بلند آزاد کا ادھرسے گزرہوا ،جو اپنے ایک دوست جو کہ ملک و قوم کے اربوں کھربوں روپے لوٹنے کی پاداش میں نہیں بلکہ ایک خالصتاً سیاسی مقدمہ میں اڈیالہ جیل میں قیدتھے اور اپنی سیاسی جدوجہد پر ایک کتاب بھی لکھ رہے تھے سے ملنے کے لیے آئے تھے ۔ انہوں نے ان دونوں قیدیوں کو دیکھتے ہوئے ایک سرد آہ بھری اور کہا ۔”بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے“۔ قیدی نمبر3421نے اپنا یہی آخری سوال اُن کے سامنے بھی رکھ دیا ۔ پروفیسر صاحب نے قیدی نمبر3421سے مخاطب ہو کر کہنا شروع کیا کہ دیکھو بھئی قیدی نمبر3421،تیس سالہ مسلسل اقتدارنے تمہارا ، تمہارے برادر خورد اور تمہارے دیگر افرادِ خانہ کا دماغ ساتویں آسمان پر پہنچا دیا تھا۔تم لوگ ملاقات کے منتظر اپنے ہی ایم۔این ۔ایز ، ایم۔پی۔ایز،حتیٰ کہ وزیروں مشیروںتک کو بھی کئی کئی مہینے گھاس نہیں ڈالتے تھے تاوقتکہ عمران خان نے آکر تمہاری گردنوں سے اتفاق کا سریا نکال نہیں دیااور تمہارے ان نسبتاً بہتر لوگوں کو تحریک انصاف میں شامل نہیں کر لیا۔یہ جلسوں میں چند ہزار لوگ جو تمہیں لاکھوں میں نظر آتے تھے۔ سب تمہاری سرکاری مشینری کا کیا دھرا ہوتا تھا۔ پٹواریوں، تحصیل داروں اور گاﺅں کے نمبر داروں کو ڈرا دھمکا کر تمہارے جلسے بھرے جاتے تھے۔امیدورانِ اسمبلی اپنا ٹکٹ پکا کرنے کے لیے دھاڑی دار لوگوںکو لا کر اپنی کارکردگی دکھایا کرتے تھے۔ سکول ٹیچروں، کلرکوں ، مالیوں،بیلداروںاور درجہ چہارم کے دیگر ملازمین کی حاضریاں تمہارے جلسوں میں لگا کرتی تھیں۔جنہیں دیکھ کر تم اپنے آپ کو نیلس منڈیلا سمجھ بیٹھے تھے کہ یہ لوگ تمہاری کال پر لبیک کہیں گے۔جبکہ حضور ! یہ ہیںوہ ذرائع جن کے ذریعے تمہاری عقل پر پڑے اقتدار کے پردے کا رنگ اور گہرا کر دیا گیا تھا۔یہ سب مجبورو بے کس دھاڑی دار لوگ تھے اسی لیے یہ تمہارے پلان کے مطابق ائیر پورٹ پر تمہیں حفاظتی گھیرا ڈال کر رینجرز ،ایف آئی اے اور نیب کے شکنجے سے آزاد کرانے نہ پہنچے۔پروفیسر سر بلند آزاد نے قیدی نمبر 3421اور قیدی نمبر3422کو مخاطب کرتے ہوئے مزید کہا کہ کنٹینر لگا کر راستے بند کرنا ،موبائل فون سروس معطل کرنا پولیس ،رینجرز کا بے دریغ استعمال کرنا، سیاسی کارکنوں کے خلاف رات کے اندھیرے میںکریک ڈﺅن کرنا ،اگر تمہارے دورِ اقتدار میں عین جمہوریت کی خدمت تھی تو آج اس کو جمہوریت دشمنی قرار مت دو۔تمہارا حال اس وقت اس شعر کے مصداق ہے۔
کاغذ کے پھول سر پہ سجا کر چلی حیات
نکلی بیرونِ شہر تو بارش نے آلیا
پروفیسر صاحب نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے مزید فرمایا کہ آج میڈیا نے عوام کو اس قدر باشعور کر دیا ہے کہ وہ سوچنے لگ گئے ہیں کہ ہمارے بچوں کے پاس نہ روزگار ہے ،نہ ہسپتالوں میں کوئی قابل ذکر دوائی مفت ملتی ہے ، ایک ایک بیڈ پر تین تین مریض زندگی موت کی کشمکش میں مبتلا رہتے ہیں ، دہشت گردی کا خوف سر پر منڈلاتا رہتا ہے ۔ آدھی سے زیادہ آبادی کو پینے کا صاف پانی میسر نہیں۔ کروڑوں لوگوں کے پاس سر چھپانے کے لیے اپنی ذاتی چھت تک نہیں لیکن تیس سالہ اقتدار کی بدولت تمہارے خاندان میں پیدا ہونے والا ہر بچہ اربوں پتی ہے جبکہ اس غریب قوم کا پیدا ہونے والا ہر بچہ ڈیڑھ لاکھ روپے کا مقروض ہے ۔پروفیسر صاحب نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا قیدی نمبر3421تم اپنی غلطیوں کو کھلے دل سے تسلیم کرو ۔ یادرکھو! اﷲ کے گھر میں دیر ہے اندھیر نہیں ۔اپنی خود ساختہ سرکاری مقبولیت کے مصنوعی حصار سے باہر نکلو سودن چور کے ایک د ن سادھ کا۔پانامہ کیس کے متعلق تمہارے ہی صدر ممنون حسین کا کہا سچ ثابت ہو چکا ہے کہ یہ خدائی پکڑ ہے ۔اس کی زد میں بڑے بڑے نام آئیں گے۔اب یہ کہنا کہ پانامہ پر نہیں اقامہ پر سزا ہوئی ، کرپشن ثابت نہیں ہوئی پھر بھی جیل بھیج دیا ، میرے نام پر کوئی پراپرٹی نہیں، مجھے جج صاحب نے کرپشن کے الزام سے بری کر دیا ہے،اپنے آپ کو مذاق بنانے کے مترادف ہے۔ کیونکہ لندن فلیٹس اور دنیا کے دیگر بائیس ممالک میں موجود تمہاری پراپرٹی چوری کے مال کی صورت میں برآمد ہو چکی ہے ۔اب ایسے بیانات دینے کا کہ میں جمہوریت اور غریب عوام کی خدمت کے لیے اپنی بیوی کو نازک صورتحال میں چھوڑ کر آیا ہوں۔عمران خان اور طاہرالقادری کے دھرنوں نے لوڈشیڈنگ ختم نہیں کرنے دی ۔یہ بے تکی باتیں اب عوام کو مزید بےوقوف نہیں بنا سکتیں۔ نون لیگ کو کسی طرح کی ہمدردی کا کوئی ووٹ ہر گز نہیں مل سکتا کیونکہ تم دونوں قیدی کرپشن کے الزام میں ملک کی اعلیٰ ترین عدالتوں سے مجرم قرار دے دئیے گئے ہو،تم غریب عوام کی ہمدردی کے لیے نہیں بلکہ اپنی کھربوں کی دولت کو بچانے کے لیے اپیل دائر کرنے ملک میں آکر گرفتار ہوئے ہو۔جتنا قرضہ اس غریب ملک پر تمہارے دورِ اقتدار میں چڑھا دیا گیا اس کی ملکی تاریخ میں مثال نہیں ملتی ۔گورنر سٹیٹ بنک کے حالیہ بیان کے مطابق آج ملک کی حالت یہ ہے کہ ہم بیرونی ممالک کے قرضوں پر زندہ ہیں۔ ووٹ کو عزت دو کا تمہارا بیانیہ اس ملک کی عوام نے اس بری طرح مسترد کر دیا ہے کہ تمہاری گرفتاری پر پورے ملک میں کوئی قابل ذکر احتجاج نہیں ہوا۔ تمہارے چھوٹے بھائی کی مال روڈ والی ریلی میں پورے ملک سے جتنے لوگ جمع ہوئے وہ شرم سے ڈوب مرنے کا مقام ہے۔ اتنے لوگ تو لکی ایرانی سرکس کا شو ٹوٹنے پر نظر آجاتے ہیں۔اس پر تمہارے بردارخورد کی انتظامیہ کو دھمکیاں کہ ہم اقتدار میں آکر تمہا رادماغ درست کر دیں گے۔اقتدار ۔ایں خیال است و محال است و جنوں ۔ کیا برادر خورد نہیں جانتے یا جاننا نہیں چاہتے؟ کہ احد چیمہ اور فواد حسن فواد کی صورت میں دو طوطے جن میں آپ لوگوں کی جان ہے جو آپ دونوں حضرات کی کرپشن کے عینی شاہد ہیں، بہت کچھ اُگل چکے ہیں۔ جس کے نتیجے میں برادرخورد کی نیب میں پیشیاں شروع ہو چکی ہیں ۔ عوام کی عدالت نے پچیس جولائی کو جو فیصلہ سُنانا ہے اس کا ٹریلر آپ کی ائیر پورٹ سے باآسانی گرفتاری پر چل چکا ہے ۔ آپ دیکھ چکے ہیں کہ ائیر پورٹ کی حدود میں آپ کے شیروں کا دھاڑنا تو کجا کوئی چڑیا بھی پر نہیں مار سکی ۔ بہتر یہی ہے کہ اپنے دونوں بیٹوں اور سمدھی اسحاق ڈار کو جس کو تمہارے وزیر اعظم شاہد عباسی نے اپنے جہاز میں فرار کروایا ہے اپنی طرح گرفتار ہونے کا مشورہ دو ورنہ پاکستان کی عدلیہ اب ان سب کو انٹر پول کے ذریعے گھسیٹ کر واپس لائے گی۔ پروفیسر سر بلند آزاد نے آخر میں قیدی نمبر3421اور قیدی نمبر3422کو نصیحت کی کہ آپ کے پورے خاندان کی بقاءاسی میں ہے کہ اپنی نام نہاد مقبولیت جو صرف اقتدار کے دم قدم سے قائم تھی۔ کے خول سے اب باہر نکل آئیں۔اپنی لوٹی ہوئی دولت جو دنیا کے مختلف ممالک میں پراپرٹی اور بینک بیلنس کی صورت میں موجود ہے کوواپس لا کر پاکستان کے قومی خزانے میں جمع کروائیں۔تاکہ تمہاری اورتمہارے اقتدار کے ساتھی آصف علی زرداری کی لوٹ مار کی بدولت ملک پر جو بھاری قرضہ چڑھ چکا ہے وہ اتر سکے اوروطن عزیز گرے لسٹ سے باہر نکل سکے۔ بیس کروڑ عوام سے اپنے کیے کی معافی مانگیں اور آئندہ سے رزق حلال پر قناعت کر کے دنیا و آخرت میں سرخرو ہوں۔ نون لیگی لیڈروں کومخاطب کرتے ہوئے پروفیسر صاحب نے مزید کہا کہ اگرانہیں سیاست میں زندہ رہنا ہے تو کسی خاندان کی صرف اپنی ذات کے لیے کی گئی کرپشن کا دفاع مت کرو ۔کیونکہ آصف علی زرداری کی کرپشن کا دفاع کرتے کرتے پیپلز پارٹی آج اپنے انجام کو پہنچ چکی ہے۔ یہاں اپنے آپ کو مقبولیت کا کوہ گراں سمجھنے والوں کی پھانسی پر ہمالیہ کی آنکھوں سے ایک آنسو بھی نہیں ٹپکا تھا۔راتوں رات معافی مانگ کر جدہ بھاگنے کا کوئی چانس بھی اب موجود نہیں ہے۔مخدوم جاوید ہاشمی کےساتھ شریف بردران نے جدہ سے واپسی پر جو سلوک روا رکھا وہ آپ لوگوں کی آنکھیں کھولنے کے لیے کافی ہے۔ قیدی نمبر 3421 اور قیدی نمبر3422 کی کرپشن ثابت ہونے پر سزا کے وقت اگرکوئی احتجاج ہونا ہوتا تو کب کا ہو چکا ہوتا۔کیونکہ عوامی احتجاج لیڈر شپ کی کسی کال کا محتاج نہیں ہوتا، یہ فوراً اور بے ساختہ ہوا کرتا ہے ۔قیدی نمبر 3421نے جمہوریت کی مالا تو خوب جپی لیکن کبھی پارلیمنٹ کو اہمیت نہ دی ۔ ورنہ پانامہ کا مسئلہ پارلیمنٹ میں حل ہوسکتا تھا۔ عمران خان کا چار حلقے کھولنے کا مطالبہ مانا جا سکتا تھا،ڈاکٹر طاہر القادری کی ایف آئی آر درج ہو سکتی تھی۔اپنی ضد اور ہٹ دھرمی چھوڑ کر چوہدری نثار علی خان کو منایا جاسکتا تھا۔ ختم نبوت جو ہمارے ایمان کا جزو اعظم ہے کے سلسلہ میں اپنے سنگین گناہ پر اﷲ تعالیٰ اور عالم اسلام سے معافی مانگی جاسکتی تھی، لیکن یہ سب کچھ تب ممکن ہوتا جب آپ کے لیڈر کی کوئی سیاسی تربیت ہوتی وہ جزل ضیاءالحق کی آمریت کی نرسری میں پلا بڑھانہ ہوتا ۔ لیکن جب ملک و قوم کے مفادات پر ذاتی مفاد اور عقل و شعور کی باتوں پر جھوٹی انا اور ضد غالب آجائے،مقصد صرف لوٹ مار سے جمع کی ہوئی اپنی اربوں کھربوں کی دولت بچانا ٹھہرے تو عقلوں پر پردے پڑ جایا کرتے ہیں۔ تو حضور! یہ ہیں وہ ذرائع جو آپ کو قیدی نمبر3421 اور آپکی بیٹی کو قیدی نمبر3422 بنانے کا سبب بنے۔ پھر بھی اﷲ تعالیٰ کا شکر ادا کریںکہ محض اتفاق سے آپ کو قیدی نمبر 3420کا نمبر الاٹ نہیں ہوا۔ پاکستانی قوم آپکی اور آپکے خاندان کی طوطا مینا کی کہانیاں سُن سُن کر تھک چکی ہے۔اب اُسکا مطالبہ ہے کہ اُسے بتایا جائے کہ تمہارے تیس سالہ دورِ اقتدار میں تمہارے خاندان کی چند فیکٹریاں تو لاتعداد ملوں میں تبدیل ہوگئیں لیکن بیس کروڑ عوام کو دو وقت کی روٹی کے لیے روزانہ دھکے کھاناپڑتے ہیں، اُن کے لیے سر چھپانے کی چھت ہے نہ امن و سکون ، علاج معالجہ کی سہولت ہے نہ تعلیم، پورا پاکستان پکار رہا ہے ۔
رودادفصلِ گل نہ سُنا ،تو حساب دے
اے باغباں بتا میرے حصے میں کیا پڑا
(کالم نگارسیاسی ایشوزپرلکھتے ہیں)
٭….٭….٭


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved