تازہ تر ین

رجو اور ہماری بے حسی

تحسین بخاری….درد نگر سے
دنیا کا کوئی بھی ایسا انسان نہیں جوعزت کی زندگی جینے کی خواش نہ رکھتا ہو اور معاشرے میں باوقار طریقے سے رہنا پسند نہ کرتا ہو نہ ہی اس دنیا میں کوئی خوشی سے بدنامی کا داغ اپنے دامن پر سجاکر معاشرے میں جینا چاہتا ہے ۔یہ انسانی فطرت ہے کہ انسان سب کچھ برداشت کر لیتا ہے مگر عزت کے معالے پر کبھی سمجھوتا نہیں کرتاعورت تو انتہائی حساس مزاج رکھنے والی صنف نازک ہے اس کی طرف کوئی ٹیڑھی نظر بھی اگر دیکھ لے تو یہ اپنی اس تذلیل پر کئی کئی راتوں تک سو نہیں سکتی‘ مرداگراسے دو وقت کی روٹی عزت سے چار دیواری کے اندر مہیا کرتا رہے تو یہ بغیر کسی مزید مطالبے کے روکھی سوکھی کھا کر چادر کے تحفظ کیلئے چار دیواری کے باہر بھی نہیں جھانکتی تو پھر آخر وہ کون سی مجبوریاں ہیں جو کسی حوا زادی کو ناچنے کیلئے کوٹھے تک لے جاتی ہیں کون سی ایسی ضرورت ہوتی ہے جسے پورا کرنے کیلئے وہ اپنی عزت کو چند ٹکوں کے عوض نیلام کرنے پر تل جاتی ہے ،یہ وہ سوال تھا جو گزشتہ کئی برسوں سے میرے زہن میں بڑی بے قراری سے گھوم رہا تھا ،میرے اندر کا انسان ان وجوہات اور ان تلخ حقائق تک پہچنے کیلئے بڑا بے چین تھا ،مگر رجو کوٹھے والی نے نہ صرف میری یہ بیقراری ختم کر دی بلکہ اس کی گفتگو نے میرے رونگٹے کھڑے کر دیے چند روز قبل جب میں اپنے دفتر بیٹھا ہوا تھا تو ایک خاتون میرے پاس آئی جس نے اپنا نام رجو بتایا رجو کی عمر کوئی 45سال کے قریب ہو گی پاﺅں کے سینڈل اور سر پر اوڑھی چادر بتا رہے تھے کہ رجو کھاتے پیتے گھرانے سے تعلق رکھتی ہے اس کے سلام کا جواب دینے کے بعد میں نے اسے سامنے پڑی کرسی پر بیٹھنے کا اشارہ کیاوہ بیٹھ گئی تو میں نے آنے کی وجہ پوچھی ،رجو نے بتایا کہ وہ فحاشی کا اڈہ چلاتی ہے میں نے کہا کہ پھر آپ کا میرے پاس آنے کیا مقصد ہے۔رجو نے ہاتھ میں پکڑے رومال سے ماتھے کا پسینہ صاف کرتے ہوئے کہا کہ میرے ساتھ زیادتی ہوئی ہے پولیس نے میرے اڈے پر چھاپہ مارا ہے ۔تو اس میں زیادتی والی کون سی بات ہے پولیس چھاپہ نہ مارے تو اس طرح کے کام میں آپ کو ہار پہنائے میں نے نا گواری کے انداز میں بات کر کے منہ دوسری طرف کر لیا ،کہنے لگی کہ ایگریمنٹ کے بعد اس طرح کی حرکت کرنا زیادتی کہلاتا ہے ،میں اس ایگریمنٹ والی بات پہ تھوڑا چونک گیا اور اس کے نقاب زدہ چہرے پر سوالیہ نظریں گاڑ دیں ،بخاری صاحب اس اڈے کو چلانے کیلئے متعلقہ پولیس ہر ماہ اپنا ایک معقول حصہ وصول کرنے کے علاوہ اپنے اور اپنے مہمانوں کیلئے مفت داد عیش بھی وصول کرتی ہے مگر اس کے با وجود جب چاہے یہ منہ مارنے سے بھی نہیں رہتی ،کل بھی پولیس نے ہمارے اڈے پر چھاپہ مار کر ہماری لڑکیوں کو اٹھا لیا میں پولیس کے خلاف پریس کانفرنس کرنا چاہتی ہوں۔ میں نے کہا کہ بی بی آپ کا پولیس سے مک مکا اپنی جگہ مگر آپ کون سا اچھا کام کر رہی ہو آپ بھی تو معاشرے میں برائی پھیلا رہی ہو اس سے تو بہتر ہے کہ کسی گھر میں کام کاج ہی کر لو۔ چلو دو وقت کی عزت کی روٹی تو ملے گے تم جیسی عورتوں کو اس معاشرے میں جینے کا کوئی حق نہیں خود بھی غلط کام کرتی ہو اور پتہ نہیں کتنی اور لڑکیوں کو بھی اس دھندے پر لگایا ہوگا تم نے ،کوئی شرم و حیا نام کی چیز تو ہے ہی نہیں تم میں۔میں نفرت بھرے لہجے میں اس پر بڑے بے رحمانہ انداز سے اس پر طنز و تنقید کے پتھر پھینکتا جا رہا تھا پھر میں نے اپنی نظریں اس کے چہرے پر ڈالیں تو اس کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے ،وہ اٹھ کر جانے لگی تو میں نے اسے روک لیا رجودوبارہ بیٹھ گئی ،میں نے رونے کی وجہ پوچھی تو رجو اونچی آواز میں رونا شروع ہو گئی میں نے اس کے سر پر ہاتھ رکھا اسے تسلی دی مگر چپ ہونے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی وہ جیسے میں نے اس کی کوئی دکھتی رگ چھیڑ دی ہو بڑی مشکل سے چپ ہوئی تو میں نے اس سے دوبارہ رونے کی وجہ پوچھی ۔اس نے اپنی درد انگیزبپتا بیان کرتے ہوئے کہامیں اپنے دو بھائیوں کی اکلوتی بہن تھی میری عمر جب آٹھ سال کی تھی تو میری والدہ انتقال کر گئیں دونوں بھائی مجھ سے بڑے تھے ان کی شادیاں ہو گئیں تب میری عمر 16 سال تھی مگر میرے باپ نے لالچ میں آ کر میرا رشتہ ایک 35سالہ شخص سے کر دیا۔ میں نے باپ کو بڑا روکا مگر اس نے ایک نہ سنی اور میری رخصتی کر دی شادی کے بعد مجھے پتہ چلا کہ میرا شوہر منشیات کا عادی ہے ،روزانہ شراب پی کر مجھ پر تشدد کرتا وہ کام بھی کوئی نہیں کرتا تھا اس کی جو تھوڑی بہت زمین تھی وہ بھی نشے میں بیچ دی تھی۔ رجو نے نے لمبی سانس لی پہلو بدلہ اور دوبارہ مخاطب ہوئی میرا شوہر مجھ سے نشے کیلیے پیسے طلب کرتا‘ نہ دیتی تو وحشیانہ تشدد کرتا میرا زیور اس کے نشے میں بک گیا پھر میں اپنے باپ کے گھر چلی گئی تو میری بھابھیاں روز مجھ سے لڑائی کرتیں اپنا گھر تو بسا نہیں سکتی اب ہمارے سر پہ سوار ہو گئی ہو۔ آخر باپ نے بھی کہہ دیا کہ اپنے گھر چلی جاﺅ‘ مرتی کیا نہ کرتی میں واپس گھر آ گئی میرے شوہر نے جب دیکھا کہ اسے میکے والوں نے بھی نہیںرہنے دیا تو وہ پہلے سے بھی زیادہ تشدد کرتا بات بات پہ طعنے دیتا ،ایک رات جب وہ شراب کے نشے دھت ہو کر گھر آیا اور مجھ سے روٹی مانگی میں نے اچار کے ساتھ روٹی دی۔ اس نے سالن کا تقاضا کیا میں نے کہا کہ میں سالن کہاں سے لاتی گھر میں تو ہے کچھ نہیں۔ بس اس نے صحن میں پڑی کلہاڑ ی اٹھا ئی میرے سر میں ماری میری چیخیں نکلیں تو ہمسائیوں نے آکر میری جان چھڑائی شوہر نے کہا جب تجھے نیند آئے گی تو آج تیرے ٹکڑے کروں گا ،خوف کے مارے میںوہاں سے بھاگ نکلی۔ رات قریبی فصل میں گزاری اور صبح ہی صبح شہر کی طرف چل پڑی ،شہر جا کر ایک بنگلے پر گئی کہ مجھے کام پر رکھا جائے۔ جواب ملا جوان اور خوب صورت لڑکی ہو ضرور کوئی ناٹک ہو گا انکار سن کر آگے چلی گئی سارا دن کام کی تلاش میں رہی مگر جہاں بھی جاتی سب انکار کر دیتے۔ ایک کوٹھی والے صاحب نے جو سرکاری افسر تھے کام پررکھا اور شرط میں صرف دو وقت کی روٹی تھی۔ چند روز بعد جب میں نے محسوس کیا کہ وہ مجھے ہوس بھری نظروں سے دیکھنے لگا ہے تو میں نے وہ گھر بھی چھوڑ دیا ۔ایک فیکٹری میں گئی وہاں پانچ ہزار روپے تنخواہ شروع ہوئی رہائش کا مسئلہ تھا اس لیے رات فیکٹری میں ہی گزارنا تھی فیکٹری کے مینیجر نے کھانا کھلایا اور چائے بھی پلائی میں نے اس کا شکریہ ادا کیا مگر مجھے کیا پتہ اس مہر بانی کی بھی کوئی قیمت ادا کرنی پڑے گی۔ اس نے چائے میں گولیاں ڈال کر میری عزت لوٹ لی ،شکایت لیکر تھانے گئی تو تھانے کے منشی نے پیسے مانگے۔ پیسے نہ ہونے پر منشی نے کہا کہ پھر ایسا کرو رات کو میرے کوارٹر پہ آجا نا،آخر کا روہاں سے بھی روتی آنکھوں کے ساتھ چلی گئی ۔باہر نکل کر سڑک کنارے بیٹھی رو رہی تھی کہ ایک خاتون آئی اور اس نے روتا دیکھ کر وجہ پوچھی میں نے مختصر واقعہ سنایا تو اس نے کہا کہ میرے ساتھ چلو پھر وہ مجھے اپنے گھر لے گئی اس کے گھر میں دو لڑکیا ں اور بھی تھیں مرد کوئی نہیں تھا ،میں نے سوچا کہ یہ اس کی بیٹیاں ہوں گی ،اس نے مجھے اپنا سوٹ دیا اور کہا کہ نہا کر سوت بدل لو پھر مجھے اچھا کھانا کھلایا اس کے گھر مردوں کا وقت بے وقت آنا جانا دیکھ کر میں نے پوچھا تو اس نے ساری داستان سنادی کہ میری کہانی بھی تمہاری طرح ہے ‘جس نے مجھے یہ راستہ اختیا ر کرنے پر مجبور کردیا۔ بہتر ہے تم بھی یہی راستہ اختیا رکر لو ،میں نے انکار میں سر ہلایا تو اس نے کہا پھر آپ کی مرضی میں آپ کو یہاں نہیں رکھ سکتی ،میں جانے لگی تو اس نے مجھے سمجھایا کہ تم ایک خوبصورت نوجوان لڑکی ہو جہاں بھی جاﺅ گی کسی نہ کسی کی ہوس کا نشانہ ہی بنو گی۔ بہتر ہے ادھر ہی رہ جاﺅ تمھیں اچھے خاصے پیسے بھی ملیں گے آرام سے زندگی بسر کرو گی،میں نے بھی سوچا کہ آخر میں یہاں سے نکل کر جاﺅں گی بھی کہاں اور پھر میں نے اپنی مجبوریوں کے آگے ہتھیا ر ڈال دیے کچھ دن تو بڑے عجیب لگے پھر آہستہ آہستہ میں اس ماحول کا حصہ بن گئی ،میں نے دو سال وہاں کام کیا پھر میری اس خاتون سے کسی بات پر ان بن ہو گئی اور میرے پاس پیسے بھی اب کافی تھے لہٰذا میں وہاں سے دوسرے شہر چلی گئی اور وہاں جا کر یہ کام شروع کر دیا اب میرے پاس تین خوبرو لڑکیاں ہیں میں نے 25ہزار ماہانہ پر ایک کوٹھی کرائے پر لے رکھی ہے اس میں اچھا فرنیچر ہے ہر کمرے میں ائر کنڈیشنڈ لگا ہوا ہے اور میں پر سکوں زندگی گزار رہی ہوں ۔اس نے دوپٹے سے اپنے آنسو صاف کرتے ہوئے مزید کہا کہ بخاری صاحب کسی کو شوق نہیں ہوتا کہ وہ کیچڑ بھری زندگی گزارے ،معاشرے کا بے رحمانہ سلوک ہی انسان کو اس طرف لاتا ہے اور پھر بعد میں یہ معاشرہ فتوے جاری کرنے میں لگ جاتا ہے ۔ مگر اب میں نے اپنی اس زندگی کو خیر آباد کہنے کا فیصلہ کر لیا ہے اب میں حج پر جاﺅں گی اللہ سے اپنے گناہوں کی معافی مانگوں گی وہ بڑا رحیم و کریم ہے اور مجھے قوی یقین ہے کہ وہ مجھے ضرور معاف کردے گا ۔پھر میں بقیہ زندگی صاف ستھری گزاروں گی۔کہانی سنا کر رجو تو چلی گئی مگر سوچوں کی گہری وادی میں اتر چکا تھا ۔
قارئیں کرام رجو کی کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ ایک تو ہمیں اپنی بچیوں کے رشتے سوچ سمجھ کر کرنے چاہیںاور اگر ہو سکے تو ان کی مرضی اس میں لازمی شامل کیا جانا چاہیے ،دوسرا یہ کہ اپنے ارد گرد نظر دوڑائیں کہیں ہمارا بے رحمانہ سلوک معاشرے میں کسی کو غلط راستوں کی طرف تو نہیں لے جا رہا ۔کہیں ایسا نہ ہو کہ روز قیامت کوئی رجو اٹھ کر ہمارا گریبان پکڑ لے۔
(سیاسی و سماجی ایشوز پرلکھتے ہیں)
٭….٭….٭


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved