تازہ تر ین

پاکستان بچانے کا سنہری موقع

افتخار خان ….اظہار خیال
70 سال گزر گئے اور ہم کچھ بھی نہ حاصل کرسکے۔ غریب ،غریب سے غریب تر ہوتا گیا اور اب تو نوبت یہ آپہنچی ہے کہ نہ غریب کے سر پر چھت ہے۔ نہ بدن پر کپڑے ہیں اور نہ کھانے کو روٹی ہے یعنی روٹی کپڑا مکان کا نعرہ مذاق بن کر رہ گیا ہے۔ اس کی ایک ہی وجہ ہوسکتی ہے کہ ہمارے لیڈر سیاست دان نااہل تھے۔ آج تک ایک غریب شخص کو بھی روٹی کپڑا اور مکان نہیں دے سکے۔ سب سے پہلے ان لوگوں نے قائداعظم کو مارا۔ پھر لیاقت علی خان کو شہید کیا اور یہ ثابت کر دیا کہ یہ کھوٹے سکے تھے۔ ان پر ایوب خان نے وارکیا اور سالہا سال بادشاہ بن کر حکومت کرتا رہا۔ اور 22 امیر خاندانوں کو پاکستان پر مسلط کر گیا۔ ذوالفقار علی بھٹو کا تحفہ پاکستان کو جہیز میں دے گیا۔ ذوالفقار علی بھٹو پڑھا لکھا ضرور تھا لیکن وہ سمجھتا تھا کہ پاکستان اُس کی ذاتی جاگیر ہے اور ہر شخص اس کے ماتحت ہے۔ اس کو کسی کی عزت کا پاس نہیں تھا۔ ذہنی طور پر اسے کرپٹ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا۔ اس نے عوام کو بیکاری اور قبضہ گروپ بنایا۔ پاکستان کو دو ٹکڑے کر دیا تاکہ دوسرے حصہ پر قبضہ کر سکے۔ اس بات کو ثابت کرنے کی ضرورت نہیں۔ اللہ نے یقینا اسی کی سزا بھٹو، مجیب اور اندرا گاندھی کو دی ہے۔ اس بات سے ثابت ہوتا ہے کہ پاکستان کی اللہ کے نزدیک کتنی اہمیت ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اللہ کے حکم سے پاکستان بنا۔ اس بات کے شواہد موجود ہیں لیکن کھوٹے سکوں نے پاکستان بننے کا مقصد بدل دیا۔
ابھی میں نے T.V پر سنا ہے کہ ڈالر 6 روپے کی جمپ سے 128 روپے کا ہوگیا ہے۔ ہم قرضوں میں ڈوبے ہوئے ہیں۔ اس کالم کا مقصد سیاست دانوں کو بے نقاب کرنا تھا۔ بھٹو زندہ ہے کا نعرہ آج بھی زور و شور سے گونج رہا ہے۔ حالانکہ روٹی کپڑا مکان کا نعرہ لگانے والے نے ایک غریب کو بھی گھر بنا کے نہیں دیا۔ کچی آبادیوں پر قابض کروا کے قبضہ گروپ بنا دیا اور بے نظیر انکم سپورٹ سے لوگوں کو بیکاری بنا دیا۔ بھٹو نے انڈسٹری کو تباہ کر دیا۔ لیبر کو چوڑ کر دیا۔ لیبر نے ریلوے، سٹیل مل، پی آئی اے اور دیگر تمام سرکاری اور غیر سرکاری اداروں میں کام کرنا چھوڑ دیا۔ بغیر ضرورت کے محکموں میں ہزاروں کے حساب سے بھرتیاں کردیں۔ لیڈر وہ اچھا ہوتا ہے جس نے کوئی اچھا کام کیا ہو۔ اگر 28 سال بعد ملک کا آئین بنا دیا تو کونسی توپ چلائی۔ ہندوستان نے ایٹم بم بنا کر دھماکہ کردیا تو پھر بھٹو صاحب نے ایٹم بم بنانے کا ارادہ کیا۔ سٹیل مل ایوب کے دور میں کیوں نہ بنی۔ بھٹو صاحب دس سال سے ایوب کے بیٹے بنے ہوئے تھے۔ ان کے اپنے بنائے ہوئے ججوں نے جب ان کو پھانسی دی تو شہید بن گئے۔ اگر یہ جوڈیشل مرڈر تھا تو ذمہ دار بھی یہ خود ہی تھے۔ بھٹو صاحب نے اچھے کام کم کیے اور بُرے کام بہت زیادہ کیے۔ اسی وجہ سے ہمارا ملک ترقی نہ کر سکا اور غریب غریب سے غریب تر ہوتا گیا۔
بھٹو صاحب کی بیٹی نے صرف باپ کو شہید بنایا اور بھٹو زندہ ہے کا نعر ہ لگایا اور لیڈر بن گئیں۔ اس عورت کے کریڈٹ میں ایک بھی اچھا کام نہیں بُرے کام بہت ہیں۔ مثلاً NRO سائن کیا جو آٹھواں عجوبہ ہے۔ زرداری سے شادی کرنا ہماری سمجھ سے باہر ہے۔ اگر یہ زرداری فیملی کو نہیں پہچان سکی تو ملک کا کیا فائدہ کر سکتی ہے۔ زرداری کی کمائی اس کو نظر نہ آئی۔ اس کو یقینا نظر آئی اور یہ اس میں حصہ دار تھی۔ اس کا انجام بھی اس کے باپ جیسا ہوا۔ اس کے اردگرد لوگوں نے اس کو مارا اور یہ شہید بن گئی۔ بے نظیر نے بھی ایک غریب آدمی کو گھر بنا کر نہیں دیا۔ زمین کی قیمتیں اتنی اوپر چڑھ گئیں کہ اب غریب آدمی گھر بنا ہی نہیں سکتا۔ روزگار، صحت اور تعلیم کا لفظ تو ان کی زبان سے نہیں نکلا۔ بس بھٹو زندہ ہے۔ اب بلاول بھٹو زرداری صاحب ان کی پارٹی کے چیئرمین ہیں۔ اس بچے سے کیا توقعات لگا سکتے ہیں۔ پی پی کے سینئر ممبر مثلاً اعتزاز احسن نے کس طرح اس بچے کے ماتحت کام کرنا منظور کیا۔ سچ پوچھیں تو پی پی کے تمام لیڈر خود تو صفر ہیں اور صرف بھٹو زندہ ہے کے نعرہ کے بل بوتے پر سیاست میں ہیں۔
اس کے بعد شریف فیملی میدان میں آگئی بلکہ جنرل ضیاءالحق ان کو ہاتھ پکڑ کر سیاست میں لائے۔ پی پی والے کھوٹے سکتے اور شریف جعلی سکے نکلے۔ یعنی یہ سیاست دان ہی نہیں تھے۔ میاں شریف نے محنت کی اور باقی ساری فیملی محفلیں سجانے میں لگی رہی۔ ہر برائی اُن میں پائی جاتی ہے۔ اُن کا آئی کیو شاید صفر سے بھی کم تھا۔ موج میں آکر پھٹے پر برف بیچنے والے کو لاہور کامیئر بنا دیا۔ اپنے مشقتی کو ڈی جی ایل ڈی اے لگا دیا۔ تمام ممبرز کے بیٹوں کو پٹواری اور پولیس انسپکٹر لگا دیا۔ اُن کے پاس خدائی پاورز تھیں۔ آج کل قید میں ہیں اور بچوں کو بھی لے ڈوبے ہیں۔ یہ ان کی کم عقلی کا واضح ثبوت ہے۔ کون کہتا ہے کہ نواز شریف نے ایٹمی دھماکہ کیا۔ کون کہتا ہے کہ نواز نے ملک سے دہشت گردی ختم کی۔ کون کہتا ہے کہ نواز نے بجلی پیدا کی۔ یہ سب گمراہ کرنے والے نعرے ہیں۔ ہاں نواز نے ملک میں رشوت کو خوب فروغ دیا۔ 3 کنال کے گھر سے 3000 کنال والے گھر میں شفٹ ہونے والا کیسے لیڈر ہوسکتا ہے۔ بقایا سب لیڈروں کا بھی یہی حال ہے۔ جماعت اسلامی صرف اپنے پرانے ممبروں کو پال رہی ہے۔ ANP کا ایک ہی کاروبار ہے کہ پاکستان میں کسی طرح ڈیم نہ بنے اور پاکستان اندھیروں میں ڈوب جائے۔ مولوی مل کر بھی کوئی قابل ذکر کام نہ کرسکے۔ ان کے فرقے کبھی اسلام کو نافذ نہیں ہونے دیتے۔ انگریز دور میں جاگیردار بننے والوں کے بچے کس طرح اچھے لیڈر ہوسکتے ہیں۔ ان سب کو ملک بدر کرنا ہوگا۔ اور نئے لیڈروں کو ڈھونڈنا ہوگا جو ملک کو خوشحالی دے سکیں۔ غریب کی حالت کو بدلیں، مہنگائی کم کریں۔ رشوت کو ختم کریں۔ نئے لیڈر ملک کی آمدن کو کئی گنا زیادہ کر سکیں تاکہ ہم اپنے مسائل اپنے وسائل سے حل کرسکیں۔ یہ لوگ سات دن کے اندر ہر کیس کا مکمل فیصلہ کر کے سستا اور فوری انصاف لوگوں کو پہنچا سکیں۔ یہ نئے لوگ سودی نظام کو فوری ختم کریں۔ یہ لوگ زمینداروں کو مفت بجلی، پانی، بیج اور کھاد دے سکیں۔ یہ لوگ انڈسٹری کو ایک روپیہ فی یونٹ بجلی فراہم کر سکیں۔ ہر شخص کو صحت اور تعلیم کی سہولیات دے سکیں۔ مہنگائی ختم کریں۔ زمین کی قیمتیں بہت زیادہ کم کرنے کا بندوبست کریں۔ لیکن یہ کام لوگوں سے زمین چھین کر نہیں ہونا چاہیے۔ ہر شخص کو 2000 روپے ماہانہ قسط پر پانچ مرلے کا مکان دستیاب ہو۔ ہر شخص کو اس کے گھر کے قریب نوکری میسر ہو۔ اس کو حاصل کرنے کے لیے ہمیں کڑا احتساب کرنا ہوگا اور پھر الیکشن کروانے چاہئیں۔ موجودہ الیکشن سے اور زیادہ افراتفری پھیلے گی۔
(کالم نگارقومی وسماجی امورپرلکھتے ہیں)
٭….٭….٭


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved