تازہ تر ین

میرا دوست نوازشریف 44

ضیا شاہد
میں دو ماہ تک تو یہ بحث کرتا رہا اور بالآخر پروگرام چھوڑ دیا کیونکہ صرف آنے والوں کو خوشامد مجھے منظور نہیں تھی،میں تو مسائل کا کھوج لگانا چاہتا تھا۔
ایسا ہی ایک اور واقعہ مجھے یاد آ رہا ہے۔ غلام حیدر وائیں میرے پرانے دوست تھے۔ وزیراعلیٰ بنے تو اٹھتے بیٹھتے کہا کرتے تھے کہ ضیاشاہد بھی میرے ساتھ شاہی قلعے میں بند رہا ہے۔ میں پاکستان اخبار کا چیف ایڈیٹر تھا جس کے فنانسر اکبر علی بھٹی ایم این اے ا ور میڈیسن کنگ آف پنجاب تھے۔ مجھے لاہور ٹی وی سے پیغام ملا کہ وزیراعلیٰ چاہتے ہیں کہ آپ ان کا انٹرویو کریں۔ میں نے پوچھا کس موضوع پر، انہوں نے کہا بھل صفائی پر، میں نے معذوری ظاہر کی کہ مجھے اس موضوع سے زیادہ واقفیت نہیں مگر یکے بعد دیگرے دو مرتبہ وائیں صاحب کا سیون کلب روڈ سے فون آیا کہ میں چاہتا ہوں آپ ہی سوال کریں۔ آدھا گھنٹہ پہلے میرا سیکرٹری آبپاشی آپ کو سمجھا دے گا کہ بھل صفائی کیا ہوتی ہے۔ جب میں لاہور ٹی وی پہنچا تو ڈی جی پی آر اور میرا دوست اورکلاس فیلو ملک محمد حسین بھی موجود تھا۔ سیکرٹری زراعت اور سیکرٹری آبپاشی بھی میسر تھے۔ انہوں نے بتایا بھل صفائی کیوں ضروری ہے اور اس سے کس قدر فائدہ ہوتا ہے۔ جب ہم سیٹ پر گئے تو وائیں صاحب سے ملاقات ہوئی۔ وہ ہمیشہ کی طرح محبت سے ملے اور قصے سنانے لگے کہ کس طرح وہ میرے ساتھ مقدمے میں گرفتار ہوئے اور کیونکر شاہی قلعے کے بعد کیمپ جیل میں رہے۔ وائیں صاحب ڈیوس روڈ پر مسلم لیگ کے دفتر میں بیرونی کمرے میں بیٹھ کر حقہ پیتے تھے اور مسلم لیگ پنجاب کے جنرل سیکرٹری تھے۔ وہ گرفتار تو ضرور ہوئے تھے مگر ان کی سفارش بہت تگڑی تھی۔ پیر صاحب پگاڑا نے ان کی سفارش بھٹو صاحب سے کی اور وہ چند ہی روز میں رہا ہو گئے۔ ہم جیسے احمق جو کسی سفارش کے بغیر سیاست نہیں بلکہ صحافت میں ہوتے تھے مہینوں جیل میں بھی رہے اور چودہ دن شاہی قلعے میں بھی۔ بہرحال وزیراعلیٰ بن کر اچانک وائیں صاحب تبدیل ہو گئے اور انہوں نے خوب چمکدار سفید کپڑے پہننا شروع کر دیئے، جوتے بھی نئے تھے۔ میں نے جوتوں کی تعریف کی، کہا آپ کو بھی ایک منگوا دوں گا، سائز بتا دو۔ میں نے شکریہ ادا کیا کہ پرانے ہی کافی ہیں۔ انٹرویو شروع ہوا تو میں نے ان کا تعارف کروایا، اتنے میں ملک محمد حسین جو ڈی جی پی آر تھے دوڑتے ہوئے آئے اور مائیک پر ہاتھ رکھ کر بولے رک جاﺅ، رک جاﺅ، کیمرہ مین نے ساﺅنڈ بند کر دیا تو ملک صاحب بولے آج کل سارے انٹرویوزکرنے والے وائیں صاحب کے نام سے پہلے درویش وزیراعلیٰ کہتے ہیں، آپ بھول گئے۔ میں ہنس پڑا اور میں نے کہا ملک محمد حسین صاحب یہ درویش کب سے ہو گئے۔ اس موقع پر میرے پرانے دوست وائیں صاحب پنجابی میںبولے ”یار سارے ای کہندے نے تویں کہہ دے“ میں نے ہنس کر کہا وائیں صاحب میں نے تو کسی کو کہتے نہیں سنا، آپ کا اسرار ہے تو کہہ دیتا ہوں۔
ذکر ہو رہا تھا میرے ماڈل ٹاﺅن والے گھر کے چھوٹے سے ڈرائنگ روم کا جس میں شاید پانچویں چھٹی مرتبہ نوازشریف آئے تھے۔ یہ ان کی مہربانی تھی اور ذرہ نوازی تھی ورنہ میں کیا اور میری بساط کیا۔ ان اقساط کے شروع میں سب سے پہلے میں نے یہی واقعہ لکھا تھا، لیکن شاید نامکمل چھوڑ دیا تھا۔ گرمیوں کا موسم تھا، ڈرائنگ روم میں اے سی لگا ہوا تھا البتہ ساتھ والے ڈائننگ روم میں اے سی بند تھا، تیسرے کمرے میں جو عدنان شاہد مرحوم کا بیڈ روم ہوتا تھا اے سی چل رہا تھا۔ نوازشریف نے مجھے کہا کہ سیف الرحمن کو اس کمرے میں بٹھا دیں۔ شاید وہ نہیں چاہتے تھے کہ سیف الرحمن ہماری گفتگو میں شریک ہوں۔ زیادہ خیال انہیں میری گفتگو کا تھا کیونکہ میں پچھلے کئی مہینوں سے کافی جارحانہ گفتگو کررہا تھا۔ میں سیف الرحمن کو ڈائننگ روم کے راستے عدنان شاہد کے کمرے میں لے گیا اور وہاں بٹھا دیا۔ واپسی پر نوازشریف سے گفتگو شروع ہوئی۔ نوازشریف کا طرز گفتگو ہمیشہ کی طرح بہت نرم اور شائستہ تھا۔ انہوں نے پرانے وقتوں کو یاد کیا، شاید کچھ میری خدمات کی تعریف بھی کی ہو جس کے جواب میں مجھے بھی یہ کہنا پڑا ہو کہ میں نے جو کچھ کیا، کسی لالچ اور طمع کے بغیر نہیں کیا۔ میں واقعی آپ کو پسند کرتا تھا اور میرا خیال تھا کہ بینظیر بھٹو کے مقابلے میں آپ حکومت میں آ جائیں تو بہت بہتری ہو سکتی ہے۔ رفتہ رفتہ ہماری گفتگو میں تیزی آنے لگی۔ پچھلے کئی برسوں کی شکایتیں، شکوے کھل کر بیان ہوئے۔ خلاصہ اس اجمال کا یہ تھا کہ نوازشریف نے کہا ضیا صاحب سیاست کے لیے تو پیسہ چاہئے۔ چند روز بعد گوجرانوالہ میں جلسہ ہے، تین کروڑ سے اوپر کا تخمینہ ہے، کتنے پیسے ڈالو گے۔ میں نے کہا میں نہ سیاستدان، نہ ایم این اے نہ ایم پی اے نہ سنیٹر، میں کاہے کے لیے پیسے ڈالوں گا۔ مجھے تو ماہوار تنخواہ ملتی ہے، سیاست میں نہیں صحافت میں ہوں اور اپنی روٹی خود کماتا ہوں۔ نوازشریف بولا پھر بھی کتنے پیسے دو گے، چندہ جو جمع کرنا ہے۔ میں نے کہا پانچ دس ہزار دے دوں گا۔ وہ ہنسا اور پھر بولا دس بارہ دن بعد سرگودھا میں جلسہ ہے وہاں پانچ کروڑ کا خرچہ ہے۔ سرگودھا والے جلسہ میں کتنا پیسہ ڈالو گے۔ میں نے کہا نہ یہاں نہ وہاں۔ پھر میں نے اسے صاف لفظوں میں بتایا کہ میں سیاست میں نہیں ہوں صحافت میں ہوں۔ اسمبلی کا ممبر بننا ہے نہ وزیر کبیر، شروع سے میری خواہش یہ رہی کہ میرے ہم خیال سیاست میں آئیں اور ترقی کریں، لیکن اللہ جانتا ہے کہ کبھی سیاست میں آنے کا خیال آیا نہ میرے پاس کبھی اتنے پیسے جمع ہوئے۔ نوازشریف نے کہا لیکن ایک دفعہ تم نے سینٹ کا الیکشن تو لڑا تھا۔ میں نے کہا کہ مجھے افسوس ہے کہ آپ اس وقت بھی میری بات نہیں سمجھے۔ میں نے کہا شیخ رفیق عالمی شہرت کے قانون دان نہیں ہیں، اس لیے سینٹ کی ٹیکنیکل سیٹ پر کھڑے نہیں ہو سکتے۔ اعتزاز احسن اور وسیم سجاد ہو سکتے ہیں۔ آپ مجھے دو سیٹیں ایم پی اے کی دے دیں ،میں شیخ رشید کو عدالت سے ان سیٹ کروا دوں گا اور میں نے یہ کام کروا دیا، البتہ سیٹ خالی ہو گئی۔ میری اس کاوش کا مقصد ایک غلط قانون کو واضح کرنا تھا۔ میں نے کبھی کسی الیکشن میں آپ سے ایم پی اے، ایم این اے یا سنیٹر کی سیٹ نہیں مانگی۔ نوازشریف نے کہا کہ آپ یقین جانیں شروع سے اب تک آپ نے اتنی محنت کی ہے، کئی بار میں نے سوچا اس بار جن پہلے دس افراد نے حلف اٹھانا ہو اس میں چھٹا ساتواں نمبر آپ کا ہونا چاہئے، لیکن آپ ہر شخص سے لڑتے جھگڑتے ہیں، دوسروں پر تنقید کرتے ہیں، میری پارٹی کے لوگ کہتے ہیں کہ کوئی دوسرا اخبار چھوٹی خبر بھی لگاتا ہے تو ضیا شاہد کا اخبار جلی سرخیاں شائع کرتا ہے۔ لوگوں سے بنا کر رکھو تو بہت ترقی کرو گے۔ میں نے کہا جناب میں اوّل و آخر اخبار نویس ہوں۔ ہرگز ہرگز سیاستدان نہیں، میں چھوٹا سا آدمی ہوں مگر خواب دیکھنے کا حق تو ہر شخص کو حاصل ہے۔ میں بھی خواب دیکھتا ہوں کہ قائداعظمؒ کا پاکستان سامنے آئے اور لوٹ مار کا خاتمہ ہو۔ میں نے تو آپ کو لیڈر سمجھا تھا کہ یہ پاکستان میں ظلم اور استحصال کاخاتمہ کرنیوالا لیڈر ہے لیکن اس کے خلاف عمل دیکھتا ہوں تو دل ڈوبنے لگتا ہے۔ مجھے کچھ نہیں چاہئے جناب! میں اس گھر میں خوش ہوں‘ اس دال روٹی میں بھی اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں۔ کوئی بڑا گھر نہیں چاہئے‘ نہ کوئی بڑا فارم ہاﺅس‘ یہ ایک کنال کا گھرمیرے لئے کافی ہے۔ ہاں وہ جن کے پاس کچھ بھی نہیں ان کے لئے ضرور کچھ کرنا چاہتا ہوں۔ آپ صحیح راستے پر چلیں گے تو اپنے گھر سے روکھی سوکھی کھا کر ،اپنی گاڑی میں پٹرول ڈلوا کر آپ کے ساتھ مارا مارا پھروں گا اور اگرصورتحال اس کے برعکس ہے تو آپ کا راستہ آپ کو مبارک ہو، میں انہی گلیوں‘ انہی گھروں میں خوش ہوں جناب۔ بحث کچھ زور پکڑ گئی۔ انہوں نے میاں اظہر کے حق میں میری گفتگو کو لتاڑا اور کہا کہ یہ آپ کے اندر کا آرائیں بول رہا ہے۔ میں نے کہا میں برادری ازم پر یقین نہیں رکھتا۔ میری شادی قریشی فیملی میں ہوئی۔ میری بیٹی علوی خاندان میں بیاہی ہے۔ جب آپ کے خلاف مقدمات زوروں پر تھے تو میں نے میاں اظہر کو پچیس رجسٹریوں کی گٹھڑی باندھ کر مال روڈ پر سٹیٹ بنک آف انڈیا کی پرانی عمارت میں جاتے دیکھا ہے۔ کیونکہ اس کا کہنا تھا کہ نوازشریف پرمقدمات کے سلسلے میں ضمانتیں جمع کروانی ہیں۔ جو لوگ مشکل وقت میں آپ کے کام آئیں آسان وقتوں میں انہیں نہیں بھولتے، میاں صاحب۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس دن سے آج تک میری میاں اظہر سے کبھی ملاقات نہیں ہوئی۔ ہاں میں نے یہ ضرور بحث کی تھی کہ ان کی جگہ پر آپ نے جو نو دولتیا رکھا ہے ، وہ ایک اور ایم این اے کے ساتھ مل کر ڈرگ کا کاروبار کرتا ہے اور اٹک سے رحیم یار خان تک ہیروئن سے بھرا ہوا ہر ٹرک پنجاب گزارنے پرکل قیمت کا پانچ فیصد وصول کرتا ہے۔ نوازشریف نے کہا مجھے نہیں معلوم وہ کیا کام کرتا ہے لیکن اس کی پیشکش مجھے معلوم ہے۔ پنجاب میں ہرضلع میں مسلم لیگ کے جلسے کے لئے 5 سے 7 لاکھ اور لاہور شہر میں ہرکھانے پر قناعتیں‘ خیمے‘ کراکری‘ میز کرسیاں اور دوسرا سامان اس کے ذمے ہے۔ کیا تم یہ کام کرلو گے۔ پھر اس نے کہا سیاست میں تو پیسہ لگتا ہے۔ میں نے کہا جوپیسہ لگائے گا وہ دس گنا زیادہ کمائے گا بھی اور یہ سلسلہ کبھی ختم نہیں ہوگا۔
(جاری ہے)

 


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved