تازہ تر ین

نئے میثاق کے لئے سیاستدانوں کی دہائی

عبدالودودقریشی
منگل کو چار سیاسی جماعتوں پیپلز پارٹی، مسلم لیگ ن،اے این پی اور جمعیت علمائے اسلام کے سینٹروں نے باہم رابطوں سے ایک اتحاد کے لئے پیشرفت کی ۔ طے پایا کہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کی اقتدار کے لئے باریاں ختم کرنے کے لئے کوئی نئی راہ نکالی جائے اور اس کی اپنی اپنی توجیہات پیش کی جائیں اس اتحاد کا پہلا قدم سینٹ کا اجلاس بلانا تھا جس پر ان چار سیاسی جماعتوں نے دستخط کرکے اجلاس طلبی کا نوٹس دیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ سینٹ کو انتخابات کی نگرانی کرنی چاہئے جس کی آئین اور قانون میں کوئی گنجائش نہیں ہے۔اس اتحاد کا مقصد عمران خان کی راہ میں روڑے اٹکانا اور انتخابی شکست کے بعد ایک نئے قبل از وقت اتحاد کی بنیاد ڈال دینا ہے ان چاروں سیاسی جماعتوں کے قائدین اس اتحاد کے لئے اپنی اپنی تاویلیں پیش کر رہے ہیں۔ بلاول بھٹو زرداری نے آصف علی زرداری کے ایماءپر یہ اعلان کر دیا ہے کہ سیاسی جماعتوں سے بات چیت میں کوئی حرج نہیں۔ میں ان کو پیشکش کرتا ہوں کہ آئیں نیا میثاق جمہوریت کریں۔شہباز شریف نے بھی اپنے خطاب میں سیاسی جماعتوںکے ساتھ مشاورت کے اشارے دیئے ہیں اور مولانا فضل الرحمن نے تو کہہ دیا ہے کہ آنے والی حکومت ملک میں نظام اسلام کا راستہ روکنے کے لئے لائی جارہی ہے۔ لہٰذا سب کو مل کر آگے بڑھنا ہوگا اور اس مقصدکے لئے ایم ایم اے سے باہر جماعتیں ہمارا ساتھ دیں۔مستقبل میں ہونے والے احتساب سے سابقہ حکمران جماعتیں سخت قسم کے اضطراب میں مبتلا ہیں اور وہ اس کے لئے کوئی راستہ تلاش کررہی ہیں بلاول بھٹو چونکہ ابھی سیاست میں نووارد ہیں لہٰذا انہوں نے کھل کر نئے میثاق جمہوریت کی بات کر دی ہے۔ لندن میں ہونے والے میثاق جمہوریت میں سیاسی جماعتوں نے اپنے مفاد کے لئے سب کچھ کیا مگر اس میں عوام کی خاطر ایک لفظ بھی نہیں تھا۔ مثال کے طورپر نگران وزیر اعظم اور نگران وزراءاعلیٰ کیسے ہوں گے،قومی احتساب بیورو کا چیئرمین کیسے لگایا جائے گا اور قومی اسمبلی کی احتسابی کمیٹی کی سربراہی اپوزیشن لیڈر کو دی جائے گی وغیرہ وغیرہ ۔جمہوری حکومتیں اور ان کے نمائندے عوام کے نمائندے کہلاتے ہیں۔ جب وہ کوئی قانون سازی کرتے ہیں یا ذیلی کمیٹیوں میں بحث و مباحثہ ہوتا ہے اس میں اس حوالے سے ماہرین کو طلب کیا جاتا ہے اس کی تشہیر کی جاتی ہے تاکہ بننے والا قانون اتنا شفاف اور صحیح ہوکہ پھر اس میں کبھی ترمیم کی ضرورت پیش نہ آئے مگر جمہوریت کے بڑے چیمپئن بننے والے رضا ربانی نے آئین میں ہونے والی اٹھارویں ترمیم کو میڈیا اور عوام سے خفیہ رکھا جیسے وہ کوئی ایٹم بم یا میزائل بنا رہے تھے اور پھر وہ ترامیم عوام کو بتائے بغیر کرڈالیں جن میں تعلیم اور صحت صوبوں کے حوالے کر دیا گیا جس کے ثمرات آج بھگتے جارہے ہیں اور صوبوں میں لسانی تعصب کا بیج بویا جارہا ہے یہی حال میاں نواز شریف کی پارٹی کے برطرف کردہ وزیر قانون زاہد حامدنے انتخابی اصطلاحات کی سترویں ترمیم میں کیا اور ہر بات کو خفیہ رکھتے ہوئے قومی اسمبلی اور سینٹ سے یہ بل منظور کروا لیا جس پر ختم نبوت کے پروانوں نے دھرنا دیا آٹھ نوجوان شہید ہوگئے سارا ملک جام ہوگیا اس سے یہ پیغام واضح طورپر سامنے آتا ہے کہ اکثر جمہوری نمائندے دراصل غیر ملکی مفادات اور اپنے ذاتی مفادات کو عوامی مفاد پر مقدم سمجھتے ہیں اور اس کام کے لئے وہ تمام غیر جمہوری رویے اپناتے ہیں جس کا خمیازہ قوم کو بھگتنا پڑتا ہے اپنے ہی بنائے گئے قوانین میں یہ سیاستدان پھنستے ہیں تو پھر میثاق جمہوریت کا نام لے کر ایک نیا معاہدہ کرتے ہیں اور اپنی تمام تر بدعنوانیوں کو اس میں لپیٹنا چاہتے ہیں این آر او میں مجرموں کو چھوڑ دیا گیا نیب اور پولیس کی جانب سے برآمد کی گئی بدعنوانی کی رقوم انہیں واپس کی گئیں برطرف شدہ بدعنوان اپنے عہدوں پر ترقیاں پاکر پھر سے بحال ہوگئے یہ ہے وہ این آراو اور میثاق جس کی پھر سے سیاستدانوں کو خواہش ہے اور اس پر یہ متفق ہوچکے ہیں کیونکہ ان کو اپنے کیئے ہوئے تمام کرتوت نہ صرف یاد ہیں بلکہ جائیدادوں،بینک بیلنس کی صورت میں ان کے سامنے نیا بننے والا اتحاد پچیس جولائی کے انتخابات کو دھندلانے کے لئے بھی ایک روڈ میپ دے چکا ہے جس کی ابتداءفرحت اللہ بابر کی پریس کانفرنس،میاں نواز شریف کے بیانات،اسفند یار ولی کے بیانات اور مولانا فضل الرحمٰن کے بیانات ہیں جس میں ان چاروں سیاسی جماعتوں کے قائدین نے برملا کہا ہے کہ انتخابات میں انھیں مساوی مواقع نہیں دیئے جارہے مگر ان میں سے کوئی بھی ان مساوی موقع کی نشاندہی نہیں کررہا کہ انہیں کون سی چیز ہے جو نہیں دی جارہی اور دیگر جماعتوں کو دے دی گئی ہے اس لئے کہ اس سے قبل ان جماعتوں کے قائدین سرکاری گاڑیوں،سرکاری پٹرول اور سرکاری ڈرائیوروں کو لے کر پولیس کی فوج ظفر موج کا پروٹوکول حاصل کرتے ہوئے انتخابات میں حصہ لے کر لوگوں کو مرعوب کرتے تھے۔اس سلسلے کو سپریم کورٹ نے روکا جبکہ نگران وزیر اعظم اور چاروں صوبوں کے نگران وزرائے اعلیٰ جس حد تک بھی ان لوگوں کی مدد کرسکتے تھے کررہے ہیں جس کا ثبوت جیل میں قید مجرموں کو موبائل فون اور سمیں دینے کے علاوہ ان جماعتوں کے افراد پر قانون کا اطلاق نہ کرنے کے احکامات ہیں ان تمام لوگوں کو نگران حکومت نے پولیس کا پروٹوکول بھی واپس کر دیا ہے اور مرکزی وزارت خزانہ تو لگتا ہے آئی ایم ایف،ورلڈ بینک اور امریکہ کی تابعداری میں اس حد تک بچھ گئی ہے کہ اپنے مینڈیٹ سے ہٹ کراس نے پاکستانی روپے کی قدر میں تشویشناک حد تک کمی کر دی ہے۔ جس سے مہنگاہی کا سیلاب آگیا ہے اور لوگ ملک میں مظاہرے اور ہڑتالیں کرنے کے لئے بالکل تیار ہیں۔لوگوں کی انہی مشکلات کو آڑ بنا کریہ جماعتیں پچیس جولائی کے انتخابات کو اپنے مقصد کے لئے متنازع قرار دینے کا ایجنڈا بنانے کے لئے سوچ رہی ہیں مگر ان عاقبت نا اندیش سیاستدانوں کو اس کی ذرہ برابر بھی پروا نہیں کہ بین الاقوامی تناظر میں بھارت، امریکہ اوراسرائیل پاکستان میں افراتفری پھیلا کر اسے لیبیا،عراق اور شام بنانا چاہتے ہیں۔ ان تمام افراد کے اثاثے کسی نہ کسی حوالے سے بیرون ملک ہیں اکثر کی جائیدادیں ہیں اور وہ کسی بھی آفت کی صورت میں بیرون ملک منتقل ہونے کےلئے اپنی تیاریاں مکمل کرچکے ہیں۔مگر پھر بھی وہ آخری میثاق کے لئے متحد ہورہے ہیں تاکہ جب تک قوم کا مال لوٹ سکیں جمہوریت کے نام پر لوٹتے رہیں کیونکہ ان کے نزدیک جمہوریت ہی عوام کے لئے بہترین انتقام ہے۔
٭٭٭


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved