تازہ تر ین

معاملہ مزید سنجیدہ ہوگیا ہے

توصیف احمد خان
ڈان لیکس انٹرنیشنل ایجنڈا تھاتو پھر یہ معاملہ اور بھی سنجیدہ ہوگیا ہے کہ بات پاکستان کے اندر نہیں رہی باہر بھی چلی گئی تھی ، اس سلسلے میں ایک تازہ بیان اتنی اہمیت کا حامل ہے کہ اس پر فوری توجہ کی ضرورت ہے… حکومت کی… خواہ وہ نگران حکومت ہی کیوں نہ ہو…محترم چیف جسٹس کی … کہ انہیں ملکی سلامتی بہت عزیز ہے …ملکی سلامتی سے متعلق اداروں کی … کہ اسکا براہ راست تعلق ملک کی سلامتی کیخلاف سازش سے ہے … اس وقت کی حکومت نے جو انکوائری کرائی وہ ابھی تک منظر عام پر نہیں آسکی تاہم امکان غالب ہے کہ اس کا تعلق اندرون ملک کے معاملات اور خبر کی اشاعت کے ذرائع تک ہی ہوگا، اب خود خبر چھاپنے والوں نے کہہ دیا کہ خبر ملک کے اندر سے نہیں باہر سے ملی تھی اور باہر سے ملنے والی یہ خبر یقینا پاکستان کے ہمدردوں نے نہیں دی ہوگی، ان کے پیش نظر پاکستان اور اسکے اداروں کو رسوا کرنا ہوگا… تحقیقات طلب بات یہ ہے کہ وہ کون سے غیر ملکی ذرائع ہیں جن سے خبر حاصل کی گئی، ہوسکتا ہے یہ توجہ ہٹانے کی کوشش ہولیکن ضروری نہیں … واقعی انٹرنیشنل ذرائع سے خبر آئی ہے تو وہ کون سے ذرائع تھے جن کو پاکستان میں اس نوعیت کی خبر شائع یا نشر کرانے میں دلچسپی تھی… پھر خبر حاصل کرنے والوں کا ان ذرائع سے کیا تعلق…؟
ہم ملک کے اندر ٹامک ٹوئیاں مارتے رہے اور اب بتایا جارہاہے کہ معاملہ تو اندرون ملک کا ہے ہی نہیں، اگر نہیں تو پھر بیچارے پرویز رشید، طارق فاطمی اور راو¿ تحسین وغیرہ کا کیا قصور تھا کہ وہ سزا بھگتتے رہے … ہم پہلے ہی شک کا اظہار کرچکے ہیں کہ یہ توجہ ہٹانے کی کوشش ہوسکتی ہے اور یہی معاملہ ایسا ہے جس کی ہر قیمت پر انکوائری ہونی چاہئے، وہ انکوائری حکومت کرائے ، سپریم کورٹ کرائے یا ملکی سلامتی کے ادارے کرائیں ، معاملے کی نزاکت کے پیش نظر ایسا کیا جانا اور ان ذرائع کا پتہ چلانا ضروری ہے جنہوں نے سارا مواد فراہم کیا اور پھر اس کے پس پردہ مقاصد کیا تھے۔
چودھری نثار علی خان وزیرداخلہ تھے، اصولی طور پر سب کچھ کے ذمہ دار بھی وہی تھے تاہم انکی باتوں کو لیا جائے تو لگتا ہے کہ وہ محض ذمہ دار تھے، اصل معاملات دوسروں کے ہاتھ میں تھے، وہ اکثر و بیشتر رپورٹ کو منظر عام پر لانے کا مطالبہ کرتے رہے ہیں، اب یہ سارا معاملہ ایک دوسرا رخ اختیار کرچکا ہے لیکن اس رخ کا جائزہ لینے سے پہلے ضروری ہے کہ پہلے والے معاملے سے لوگوں کو آگاہ کیا جائے، یعنی وہ انکوائری رپورٹ پبلک کردی جائے جس کی بنا پر کچھ لوگوں کے خلاف کارروائی ہوئی تھی، اسکے بعد دوسرے معاملہ پر ہاتھ ڈالا جائے۔
معلوم نہیں چوہدری نثار علی خان نگرانوں کی آمد کے بعد سے اس معاملے پر کیوں خاموش ہوگئے ہیں ، ممکن ہے الیکشن کی مصروفیت یا کوئی دوسری وجہ ہو، اب وقت ہے کہ رپورٹ ظاہر کرنے کا مطالبہ کیا جائے، اب تو حکومت میں کوئی بھی ایسا فرد موجود نہیں ہوگا جو اسکی راہ میں رکاوٹ بن سکے ، ویسے بھی نگرانوں کیلئے کیا مسئلہ ہے ، وہ بہت سے ایسے کام کررہے ہیں جو ان کو نہیں کرنے چاہئیں، ایسے میں ڈان لیکس رپورٹ کیوں شائع نہیں کی جاسکتی یا یہ بھی ماضی اور حال کی اسی پالیسی میں شامل ہے کہ کسی بھی سرکاری انکوائری کمیٹی یا کمیشن کی رپورٹ کی عوام کو ہوا تک نہیں لگنے دی جائیگی خواہ اس کا تعلق ملکی سلامتی ہے ہی کیوں نہ ہو، اس معاملے پر بھی چوہدری نثار کو ہی آگے بڑھنا ہوگا ورنہ ہم سمجھیں گے کہ ن لیگ کی حکومت گئی تو چودھری صاحب کی دلچسپی بھی ختم ہوگئی ۔
عزیز ی بلاول بھٹو نے ایک نئی تجویز دیدی ہے، اصل میں نئی تو نہیں پر انی ہی تجویز ہے بلکہ پرانی تحریر کا توسیعی منصوبہ ہے جسے وہ دو جماعتوں سے نکال کر غالباً دوسو جماعتوں پر لاگو کرنا چاہتے ہیں ، انہوں نے تمام سیاسی جماعتوں کا ذکر کیا، اس سے ان کی مراد وہ جماعتیں ہیں جو باقاعدہ انتخابی جماعتیں ہیں تو پھر پندرہ بیس شمار کرلیں لیکن وہ ساری رجسٹرڈ پارٹیوں کو اس کا حصہ بنانا چاہتے ہیں تو پھر غالباًہم دو سو کی تعداد کم لکھ گئے ہیں ، الیکشن کمیشن سے معلوم کرنا پڑیگا کہ انکی تعداد کتنے سو ہے ، کیونکہ ان سب کو الیکشن کمیشن ہی رجسٹر کرتا ہے اور اس میں وہ جماعتیں بھی شامل ہیں جن کے پاس شاید عہدے پورے کرنے کیلئے بھی ارکان نہیں ہونگے، اس سے ہماری مراد شیخ رشید کی عوامی مسلم لیگ ہرگز نہیں، وہ تو خود ایک بہت بڑی جماعت ہیں، وجود کے حساب سے بھی اور قد کاٹھ کے حساب سے بھی، وہ اتنے طویل القامت نہیں کہ قد کاٹھ کو شمار کیا جائے ، ہماری مراد انکے سیاسی قد سے ہے جو ماشااللہ ان سے بھی بہت بلند ہے، ان کے پاس پورے عہدیدار نہ بھی ہوں تو کوئی فرق نہیں پڑتا، ویسے بھی انکو عہدیداروں کی ضرورت نہیں ، تمام عہدے خود انہی کی ذات کا حصہ بن چکے ہیں۔
تو بلاول بھٹو کی جانب سے سیاسی میثاق یا میثاق جمہوریت کی تجویز کو لیا جائے تو اوپر کے حساب سے یہ ممکن نہیں…ہاں ! نیچے کی جتنی پارٹیاں چاہیں اس میں شامل کرلیں، اس سے ان کو تو کوئی فرق پڑے نہ پڑے بہت ساری جماعتیں پھولے نہیں سمائیں گی اور بڑے فخر سے بیان کریں گی کہ ہمارا پیپلزپارٹی سے اتحاد ہوگیا ہے، بالکل اس طرح جیسے تحریک انصاف نے بہت سی جماعتوں سے سیٹ ایڈجسٹمنٹ کی ہے جو شاید ایک آدھ نشت ہی جیت پائیں ،وہ بھی ہمدردی کے ووٹ حاصل کرکے، اب ہر ایک کیلئے ووٹروں کے دلوں میں ہمدردی کے جذبات ایک جیسے تو نہیں ہونگے ، ہر جماعت کے ساتھ اسکی یک رکنی قیادت کے حساب سے علیحدہ معاملہ ہوگا… کہنے کا مطلب یہ ہے کہ تحریک انصاف کو تو ان کے ساتھ سیٹ ایڈجسٹمنٹ کرکے زیادہ فرق نہیں پڑیگا مگر یہ بھی ہر ایک کو فخریہ بتاتی پھر رہی ہونگی کہ ہمارا عمران خان کی جماعت سے اتحاد ہوگیا ہے۔
ہم بات کررہے تھے کہ اوپر کے حساب سے بلاول کا میثاق جمہوریت ممکن نہیں…اس ملک میں قومی سطح پر تین بڑی سیاسی جماعتیں ہیں ، تحریک انصاف، ن لیگ اور پیپلزپارٹی ، ان میں پیپلزپارٹی کے تیسرے نمبر پر کسی کو کوئی شک یا اعتراض نہیں، جبکہ ن لیگ اور تحریک انصاف کا پہلی اور دوسری پوزیشن کیلئے دنگل پڑنے والا ہے اور یہ دنگل 25جولائی کو پڑیگا، عوام اس وقت تک انتظار کریں، تحریک انصاف پیپلزپارٹی کے ساتھ مل بیٹھنے کو تیار نہیں۔
عمران خان کا کہنا ہے کہ وہ کسی کرپٹ جماعت کے ساتھ نہیں ملیں گے، اگرچہ مسٹر زرداری منظر سے غائب ہیں مگر پیپلزپارٹی کے اصلی اور وڈے لیڈر تو وہی ہیں اور عمران انہیںعلانیہ کرپٹ قرار دیتے ہیں، ایسا ہی معاملہ ن لیگ کے ساتھ ہے ، جبکہ ن لیگ اور پیپلزپارٹی کئی برس پہلے میثاق جمہوریت کرچکی ہیں، دونوں پارٹیوں نے ہی نہیں عوام نے بھی اس کا حشر اور انجام دیکھ لیا ہے …یہ نیا میثاق جمہوریت کرلیں تو وہ کون سا نیا چاند چڑھا دیگا۔
ویسے بھی بلاول کس بات پر میثاق جمہوریت چاہتے ہیں، اس تقریر میں انہوں نے اعلان کیا کہ کٹھ پتلی اتحادوں کا پہلے مقابلہ کیا اور اب بھی کرینگے، میثاق جمہوریت اگرچہ اتحاد نہیں لیکن اس میں تو وہ لوگ یا جماعتیں بھی شامل ہونگی جن کو کٹھ پتلی قرار دیا جارہاہے، مناسب ہوگا عزیزی بلاول اس سب کچھ کے خدوخال کی وضاحت کریںتاکہ ہم اور دوسرے لوگ سمجھ سکیں، موجودہ صورت میں ہماری موٹی عقل زیادہ کام نہیں کررہی۔
٭٭٭


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved