تازہ تر ین

آپ بھی جانیئے فیس بُک پر جعلی ،گمراہ کن خبروں سے کیسے بچناہے ؟

لاہور( ویب ڈیسک ) سوشل میڈیا پر جعلی خبروں اور گمراہ کن تصاویر کے فروغ سے بچاوکے لیے سماجی رابطے کی ویب سائٹ فیس بک نے صارفین کے لیے آگاہی مہم کا آغاز کیا ہے۔سماجی رابطے کی ویب سائٹ فیس بک نے افواہوں کے فروغ اور حادثات کی گمراہ کن منظر کشی سے محفوظ رہنے کے لیے صارفین کو چند ہدایات جاری کی ہیں جن پر عمل پیرا ہو کر صارفین حقائق پر مبنی خبروں اور جھوٹی افواہوں کے درمیان فرق کرسکیں گے اور اس طرح صرف مصدقہ خبریں ہی شیئر ہو پائیں گی۔فیس بک نے اس حوالے سے اپنی ایک پوسٹ میں صارفین کو خبروں کے چناومیں محتاط برتنے کی تجویز دیتے ہوئے کہا ہے کہ جعلی خبروں کی شہہ سرخیاں اکثر بڑے حروف میں اور دلکش ہوتی ہیں تاہم مندرجہ ذیل باتوں پر عمل کرتے ہوئے خبروں کی صداقت کو پرکھا جا سکتا ہے۔URL کو غور سے دیکھیں۔ جعلی خبروں والی بہت سی ویب سائٹس کسی بڑے خبر رساں ادارے کی URL میں معمولی تبدیلیاں کر کے مصدقہ اخباری ذرائع کی نقالی کرتی ہیں۔ اس لیے کسی بھی خبر کے URL کو درست طریقے سے جانچ لیا کریں۔
خبر کے ذرائع کی تصدیق کرلیں۔ صارف اس بات کو یقینی بنائیں کہ آیا خبر کسی غیر مانوس تنظیم یا ویب سائیٹس کی جانب سے تو نہیں آئی ہے۔ اس لیے ہمیشہ مصدقہ ویب سائٹس اور URL سے متعلق جانچ پڑتال کریں۔خلاف معمول فارمیٹنگ دیکھیں۔ جعلی خبروں والی کئی سائٹس پر املاءکی غلطیاں اور بے تکے لے آو¿ٹ ہوتے ہیں۔ اگر یہ علامات نظر آئیں تو احتیاط سے پڑھیں یہ جعلی ہو سکتی ہیں۔
تصاویر پر غور کریں۔ جعلی خبریں اکثر ترمیم کردہ تصاویر اور ویڈیوز پر مشتمل ہوتی ہیں۔ بسا اوقات ہو سکتا ہے تصاویر اصلی ہو لیکن سیاق و سباق کے خلاف لی گئی ہو۔ اس لیے تصاویر اور ویڈیوز کو تلاش کرلیں کہ وہ کہاں سے آئی ہیں۔تاریخوں کا جائزہ لیں۔ جعلی خبروں والی کہانیاں غیر معقول اوقات یا تقریب کی تبدیل کردہ تاریخوں پر مشتمل ہو سکتی ہیں۔

 


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved