تازہ تر ین

ترکی اور ملائیشیا کے شان دار نتائج….(آخری قسط)

عبدالغفار عزیز….خاص مضمون
دوسری جانب دوسری عالمی جنگ کے دوران ہی ایک ملائیشین عالم دین ڈاکٹر برہان الدین حلمی کی صدارت میں ایک تنظیم مالاوین قومی پارٹی تشکیل پا چکی تھی۔ ڈاکٹر حلمی نے ہندوستان میں تعلیم حاصل کی تھی اور شاہ ولی اللہ دہلوی کی تحریک سے متاثر تھے۔ اس تحریک نے آزادی کا پرچم بلند کیا اور اپنے پیش نظر ایک حقیقی اسلامی ریاست کا قیام رکھا۔ جنگ کے بعد برطانیہ نے اس تحریک سمیت دیگر تمام تنظیموں پر پابندی لگا دی تو ان کے ذمہ داران و کارکنان بھی UMNO میں شامل ہوکر اس پلیٹ فارم سے کام کرنے لگے۔اسی زمانے میں اسلامی تحریک کی شروعات علمائے کرام کی ایک تنظیم سے ہوئی، جو بعد میں پاس (PAS) کے نام سے جماعت کی بنیاد بنی۔ 1955ءمیں ملک کے پہلے انتخابات ہوئے تو 52 ارکان پر مشتمل اسمبلی میں”پاس“ کو ایک سیٹ ملی۔ آزادی کے بعد پہلے ہی انتخابات میں ”پاس“ نے صوبہ کلنتان کی30 میں سے 28 اور صوبہ ترنگانو کی 24 میں سے 13 نشستیں جیت کر دو صوبائی حکومتیں بنا لیں۔
1959ءکے بعد سے آج تک یہی چار بنیادی گروہ ملک کی باگ ڈور سنبھالنے کے لیے کبھی حلیف اور کبھی حریف بنتے چلے آ رہے ہیں۔ اس دوران کئی نئی جماعتیں اور اتحاد بھی وجود میں آتے رہے۔ نوجوانوں میں کام کرنے کے لیے ABIM نامی پلیٹ فارم بہت مو¿ثر ثابت ہوا۔ انور ابراہیم جیسے فعال اور ذہین افراد اس کے کارکن اور پھر سربراہ بنے۔ اس میں بنیادی طور پہ ایک قومی اور اسلامی سوچ رکھنے والے باصلاحیت نوجوان جمع ہوتے آئے ہیں۔ انور ابراہیم نے ABIM کے ساتھ ساتھ ”امنو“ میں بھی اہم مقام حاصل کیا۔ انھیں مہاتیر محمد کا اعتماد حاصل ہوا۔ وزیر خزانہ اور ڈپٹی وزیراعظم بنے۔ سب انھیں مہاتیر کا جانشین قرار دینے لگے۔ لیکن پھر 1998ءمیں اچانک ایک ایسا لمحہ آیا کہ دونوں میں بداعتمادی جڑ پکڑنے لگی۔ اسی وقت ساری دنیا حیرت زدہ رہ گئی جب وزیراعظم مہاتیر محمد نے شرم ناک الزام لگاتے ہوئے انھیں جیل بھجوا دیا اور کرپشن کے الزامات پر 6 سال کی سزا سنا دی گئی۔ انور ابراہیم نے نہ صرف ان الزامات کو مضحکہ خیز قرار دیا بلکہ عدالتوں کا سامنا کرنے کے ساتھ ساتھ 2008 میں اپنی نئی سیاسی جماعت (جسٹس پارٹی) بنا کے عوامی عدالت میں جانے کا بھی فیصلہ کر لیا۔ ساتھ ساتھ انھوں نے ’پاس‘ (PAS) اور چینی نسل کے گروہوں سے بھی رابطہ کیا۔ اس اتحاد کو قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں قابل ذکر مقام حاصل ہوتا رہا۔ ایک وقت میں اس اتحاد کی چار صوبائی حکومتیں بنیں۔ ’پاس‘ کے سربراہ عبدالہادی اوانگ مرکز میں اپوزیشن لیڈر اور تیل سے مالامال صوبہ ترنگانو کے وزیراعلی بھی بنے۔
2003ءمیں مہاتیر محمد نے اپنی22 سالہ وزارت عظمیٰ چھوڑنے کا اعلان کرتے ہوئے حکومت عبداللہ بداوی کے سپرد کر دی۔ پانچ سال بعد 2009ءمیں نجیب عبدالرزاق وزیراعظم بنے۔ ان کے والد عبدالرزاق حسین 1970ءمیں ملک کے دوسرے وزیراعظم بنے تھے۔ اب حالات نے ایک نیا پلٹا کھایا۔ 93سالہ مہاتیر محمد نے نجیب پر کرپشن کے سنگین الزامات لگانا شروع کر دیے۔ ادھر ”پاس“ اور انور ابراہیم کے مابین غلط فہمیاں جنم لینے لگیں۔ خود”پاس“ کے کئی اعلیٰ تعلیم یافتہ اور پختہ نظریاتی ارکان اسمبلی کا جھکاﺅ بھی انور ابراہیم کی جانب ہونے لگا اور بالآخر انھوں نے الگ ہو کر ایک نئی جماعت ”امانتہ پارٹی“ بنا لی۔ 2018ءکے انتخابات سے پہلے ”پاس“ اور” امنو“ دونوں تقسیم ہو چکی تھیں۔
وہی مہاتیر محمد جنھوں نے انور ابراہیم کے ساتھ انتقامی سلوک کیا تھا، ”امنو“ کے بجاے جسٹس پارٹی کے قریب آنے لگے، جسے جیل میں قید انور ابراہیم کی اہلیہ وان عزیزہ اور صاحبزادی نورالعزہ چلّا رہی تھیں۔ انھوںنے اعلان کیا کہ وہ انور ابراہیم کے ساتھ ہونے والی تمام زیادتیوں کا ازالہ کریں گے۔ اب جسٹس پارٹی، مہاتیر کی نئی پارٹی اور”پاس“ سے الگ ہونے والی امانتہ پارٹی کا اتحاد بن گیا۔ چینی جماعت بھی ساتھ آن ملی اور اس اتحاد نے 9 مئی 2018ءکو ہونے والے انتخابات میں واضح اکثریت حاصل کر لی۔اسے 222 کے ایوان میں 122 سیٹیں ملیں۔”امنو“ کو 1959ءکے بعد پہلی بار شکست ہوئی لیکن اس نے پ±رامن انتقال اقتدار کو یقینی بنایا۔ کامیاب ہونے والے اتحاد کے مابین معاہدہ طے پایا کہ چار سالہ اقتدار کے پہلے دو سال مہاتیر وزیراعظم رہیں گے۔ ان کے ساتھ وان عزیزہ نائب وزیراعظم ہوں گی اور پھر باقی دو سال کے لیے انور ابراہیم وزیراعظم بنیں گے۔ 93 سالہ مہاتیر نے وزارت عظمی سنبھالتے ہی وسیع پیمانے پر اہم اقدامات کا اعلان کیا ہے۔ نجیب عبدالرزاق پر ملک سے باہر جانے کی پابندی ہے اور ان کے خلاف مقدمات تیار کیے جا رہے ہیں۔ ان کے گھر سے 120 ملین رنگٹ کی نقد کرنسی اور قیمتی جواہرات ضبط کر لیے گئے ہیں۔
دوسری جانب”پاس“ (PAS) نے تمام تر اندرونی تقسیم اور انتہائی کڑے مقابلے کے باوجود کلنتان اور ترنگانو میں واضح اکثریت حاصل کر لی ہے۔ قومی اسمبلی میں بھی اس کے 118 ارکان پہنچ گئے ہیں اور دو مزید صوبوں میں ان کے ارکان کا کردار اہم ترین ہے۔ مجموعی طور پر 13 صوبائی اسمبلیوں میں اس کے ارکان کی تعداد 90 سے متجاوز ہے، انھیں 17 فی صد ووٹ ملے۔ نئی حکومتیں تشکیل پانے کے بعد”پاس“ کے سربراہ نے صوبہ ترنگانو میں اپنے وزیراعلیٰ کے ہمراہ وزیر اعظم مہاتیر سے ملاقات کرتے ہوئے انھیں مبارک باد دی اور ہر مثبت اقدام میں مکمل تعاون کا یقین دلایا ہے۔
ملائیشیا کے حالیہ انتخابات اور حکومت سازی کا سب سے ا±مید افزا پہلو حکومت میں انور ابراہیم کو اہم مقام حاصل ہونا ہے،جو تحریک ِ اسلامی کے حلیف اور جانے پہچانے رہنما ہیں۔ اپوزیشن میں بھی ’پاس‘ جیسی فعال جماعت ہے جو دو صوبوں میں مکمل اور دو میں جزوی اختیار و نفوذ رکھتی ہے۔ انتخابات سے قبل پائے جانے والے اختلافات و تناﺅ کی شدت بھی نہ ہونے کے برابر ہے۔
ترک انتخابات سے دو دن قبل 22 جون کو انور ابراہیم ترکی گئے۔ نمازِ جمعہ صدر طیب اردوان کے ساتھ ادا کی اور دنیا کو دونوں اہم برادر ملکوں کے شانہ بشانہ ہونے کا پیغام دیا۔ پاکستان کے بارے میں بھی دونوں ملکوں کی قیادت کے جذبات یکساں طور پر مثبت ہیں۔ آج کی دنیا میں ایک منصوبہ، فتنہ سازوں کا ہے جو مسلم ا±مت کی تقسیم در تقسیم کا ہدف رکھتا ہے۔ مسلم ریاستوں کو ایک دوسرے کے خون کا پیاسا بنا رہا ہے۔ لیکن ایک فیصلہ اللہ کی توفیق سے مسلم ا±مت کا ہے، جو اہم مسلمان ملکوں کو ایک دوسرے کا پشتیبان بنا رہا ہے (یوسف :21)ترجمہ ”اور اللہ اپنا کام کر کے رہتا ہے“۔
(بشکریہ: ماہنامہ ترجمان القرآن)
(کالم نگارعالمی ایشوزپرلکھتے ہیں)
٭….٭….٭


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved