تازہ تر ین

جھوٹ عروج پر ہے

عبدالودودقریشی

انتخابات کے انعقاد میں پانچ دن باقی ہیں مگر جھوٹ کی سیاست عروج پر ہے ایک اشتہار چلتا ہے کہ پی ٹی آئی نے صوبہ کے پی کے میں ایک یونٹ بھی بجلی نہیں بنائی چند سیکنڈ بعد وہیں پر اشتہار چلتا ہے کہ عمران خان بجلی پیدا کرنے کے منصوبے کا افتتاح کررہے ہیں اور اتنے منصوبے لگائے اور لوگوں کو سب سے سستی بجلی مہیا کی۔ایک طرف یہ کہا جاتا ہے کہ نیب کے اختیارات کو بڑھائیں گے اسے عزت دیں گے مگردوسری جانب نیب کے طلب کرنے پر پیش نہیں ہوتے جو لوگ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کی حکومتوں میں وزراءرہے ان کے ترجمان رہے انھیں پی ٹی آئی میں جانے پر لوٹے اور نہ جانے کون کون سے الفاظ سے یاد کیا جاتا ہے جس میں بدعنوان،بے ضمیر جیسے خطاب بھی شامل ہیں۔ایک طرف کچھ لوگوں کو بدعنوانیوں میں ملوث ہونے پر طلب کیا جارہا ہے دوسری جانب 462ارب کرپشن کیس میں ملوث ڈاکٹر عاصم کو بیرون ملک جانے کی اجازت دیدی گئی ہے۔قومی اسمبلی اور سینٹ میں انتخابی اصلاحات بل2017ءمیں مولانا فضل الرحمٰن حکومت کے حامی تھے انھیں ووٹ دیا اور ان کا ڈیرہ اسماعیل خان سے بیان ہے کہ نگران وزراءاپنی حدود میں رہیں ختم نبوت کے مسئلے کو نہ چھیڑیں ورنہ ان کے لئے بہتر نہ ہوگا۔ایک جانب میاں نواز شریف کے جیل سے پیغامات ٹی وی چینلوں پر اشتہار کی صورت میں جاری ہیں جس کی قانون اور جیل مینول اجازت نہیں دیتا دوسری جانب مسلم لیگ ن والے یہ اعلان کرتے پھر رہیں ہیں کہ انھیں سہولیات نہیں دی گئیں ،جن لوگوں نے کل میاں نواز شریف سے اڈیالہ جیل میں ملاقات کی رات انھوں نے اخبارات میں بیان جاری کیئے کہ انھیں ملاقات کی اجازت نہیں دی جارہی اور انکار کر دیا گیا ہے۔جنرل پرویز مشرف نے عمران خان پر سنگین الزامات عائدکیئے ہیں کہ میں انھیں اپنے دور اقتدار میں دس سیٹیں دے رہا تھا ان کا کہنا تھا کہ میں سو سیٹیں جیتوں گا جبکہ ایک سیٹ جیتے، وہ جھوٹے اور بدعہد ہیں دوسری جانب اپنی پارٹی کو کہا کہ ملک بھر میں تحریک انصاف کے خلاف کھڑے امیدوار اس کے حق میں دستبردار ہوجائیں اور اپنی پارٹی آل پاکستان مسلم لیگ کو تحریک انصاف میں ضم کرنے کے لئے شرائط طے کریں۔نگران وزیر اعلیٰ پنجاب کا کہنا ہے کہ وہ قانون اور آئین کی عملداری پر عملدرآمد کروائیں گے جبکہ وہ سزا یافتہ خاتون کو وی آئی پی پروٹوکول دینے کے لئے سہالہ میں اعلیٰ افسران کی تربیت کے ریسٹ ہاﺅس میں منتقل کرنے کے احکامات جاری کر چکے ہیں میاںنواز شریف کو موبائل فون اور دیگر سہولتیں دے دی گئی ہیں جو جیل مینول اور قانون کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے۔ٹی وی چینلوں پر ایک دوسرے کو چور،ڈاکو،غدار امریکہ کا ایجنٹ ،یہودیوں کا ایجنٹ،مذہب کو بیچنے والا اور نہ جانے کون کون سے الزامات لگائے جارہے ہیں جنھیں سننے کے بعد عقل دنگ رہ جاتی ہے۔گلی محلوں میں ایک دوسرے کی پارٹیوں کی خاطر لوگوں نے اپنی برسوں کی دوستیاں،تعلق داریاں اور رشتہ داریاں داﺅ پر لگا دی ہیں پچیس جولائی کے بعد یہ سیاستدان ایک میز پر بیٹھے ہوں گے، وہ حکومتی اتحاد بنا رہے ہوں گے یا اپوزیشن کا اتحاد مگر سادہ دل لوگ عمر بھر کی کمائی کو غارت کرچکے ہوں گے جو انھوں نے تعلق داریوں اور رشتہ داریوں کی صورت میں قائم کی تھیں۔مندرجہ بالا حقائق سب کے سامنے ہیں کیا مہذب قوموں میں یہ ہوتا ہے کیا اس کی کوئی مذہب اجازت دیتا ہے ، ہرگز نہیں مگر اسے روکنا بھی تو کسی کی ذمہ داری ہے اور وہ اول نمبر پر حکومت اور دوسرے نمبر پر الیکشن کمیشن کی ہے کہ وہ ایک ضابطہ اخلاق بنا کر اتنی شدت سے اس پر عملدرآمد کروائیں کہ کسی کو کسی پر بے بنیاد الزام لگانے کی جرات نہ ہو کہا جارہا ہے کہ پاکستان کا الیکشن کمیشن بھارت کے مضبوط ترین الیکشن کمیشن سے زیادہ بااختیار ہے جسے بھارتی چیف الیکشن کمیشن ٹی ایچ سیشن نے بنایا تھا ٹی ایچ سیشن خود شکایت کے حلقے میں جاتے اورامیدواروں کو نااہل کرتے ہیں، انھوں نے وزیر اعظم کو ایک حلقے میں خود جاکر موقع پر روکا، ضلع سے باہر جانے کا حکم دیا اور یہ کہا کہ اگر آپ چار گھنٹے کے اندر ضلع نہیں چھوڑیں گے تو میں آپ کو نااہل قرار دے دوں گا اور آپ کی وزارت عظمٰی آج ہی ختم ہوجائے گی چیف جسٹس آف پاکستان ملکی حالات کے پیش نظر ہر جگہ خود جارہے ہیں حالات دیکھ رہے ہیں ان کے اس اقدام سے لوگوں کے دلوں میں ان کی پذیرائی ہورہی ہے جبکہ یہ کام حکمران سیاستدان کرکے لوگوں کے دل جیت سکتے تھے مگر سیاستدانوں نے یہ کام نہیں کیا، چیف الیکشن کمیشن اور اس کے صوبائی ممبران کی یہ ذمہ داری نہیں کہ وہ خود ایئر کنڈیشنڈ دفتروں اور گاڑیوں سے باہر نکل کر دیکھیں کہ واقعی انتخابات کے لئے طے شدہ ضابطہ اخلاق کی عملداری ہورہی ہے یا کھلم کھلا اس کی دھجیاں اڑائی جارہی ہیں۔مگر پورے ملک میں ایک بھی خبر ایسی نہیں آئی جہاں چیف الیکشن کمشنر یا صوبائی الیکشن کمشنر گئے ہوں اور انھوں نے معاملات کو اپنی آنکھوں سے دیکھا ہو اس لئے کہ بیورو کریسی کے یہ اعلیٰ ترین ارکان ایئرکنڈیشن گاڑیوں اور کمروں سے نکل کر کسی میلے آدمی سے بات کرنا بھی اپنی توہین سمجھتے ہیں ایسی صورت میں انتخابات کے بعد جب الیکشن کمیشن پر الزامات لگیں گے تو اس کی ذمہ داری کس پر ہوگی یہ الیکشن کمیشن کی ہی کمزوری اور چشم پوشی ہے جس کی وجہ سے انتخابی عمل میں ہونے والی دھاندلیوں اور بدعنوانیوں کو لوگ مقتدرحلقوں،عدلیہ اور فوج کے کھاتے میں ڈال رہے ہیں۔چونکہ الیکشن کمیشن بااختیار اور خود مختار ہے اور اس خودمختاری میں جائز طور پر بھی مداخلت کرنے والا گرد زنی قرار پائے گا لہٰذا الیکشن کمیشن کو پوچھنے والا کوئی نہیں کہ ان کے اخراجات کس طرح ہورہے ہیں کیا حکومت پاکستان سے ملنے والی رقوم پر جو کام کروائے جارہے ہیں اس پر کوئی این جی او مدد کررہی ہے یا نہیں اور اگر کررہی ہے تو پھر ان اخراجات میں ان کا حصہ کتنا ہے کیونکہ گذشتہ انتخابات میں بیلٹ بکس سے لے کر مختلف تشہیری مہمات پر غیر ملکی این جی اوز نے رقوم خرچ کیں لیکن بعد میں وہ بل حکومت پاکستان سے وصول کر لئے گئے وہ رقم کس کس کی جیب میں گئی اس کا اندازہ الیکشن کمیشن سے ریٹائر ہونے والے بعض افسران کے اثاثوں اور جائیدادوں سے لگایا جاسکتاہے اس وقت اور ہمیشہ انتخابات کے بعد الیکشن کمیشن کو ایک ممنوع علاقہ قرار دے دیا جاتا ہے جبکہ وہاں نہ تو انتخابی فہرستیں اور نہ بیلٹ پیپر ہوتے یابیلٹ بکس ہوتے ہیں، اصل بات وہاں پر اخراجات کے معاملات ہیں جنھیں میڈیا اور قوم سے پوشیدہ رکھا جاتا ہے جب سیاستدان اقتدار کے جھمیلوں میں مصروف ہوتے ہیں تو الیکشن کمیشن اپنے حساب کو بے باک کر چکا ہوتا ہے۔یوں الیکشن کمیشن سے لیکر انتخابات میں حصہ لینے والوں اور سیاسی پارٹیوں کی انتخابی مہم مکمل جھوٹ پر مبنی نظر آتی ہے اورجھوٹ کا نتیجہ خیر کی صورت میں کیسے نکل سکتا ہے۔
٭٭٭


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved