تازہ تر ین

نواز شریف ،مشرف ،الطاف ،پیر پگاڑا ،شجاعت سمیت تمام بڑی سیاسی جماعتوں کے سر براہ الیکشن سے آﺅٹ

پاکستان(ویب ڈیسک)انتخاباتمیں اگرچہ ملک کی تمام بڑی سیاسی جماعتوں سمیت غیر معروف پارٹیوں کے امیدوار بھی میدان میں اتریں گے۔تاہم 25 جولائی کو پاکستان کے عوام ملک کی اہم ترین سیاسی جماعتوں کے سرپرست اور اپنے چند پسندیدہ ترین رہنماؤں کو منتخب کرنے سے محروم رہیں گے۔الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) میں انتخابات کے لیے اہل میں سے اگرچہ اس بار بھی کم سے کم 2 درجن سیاسی پارٹیوں کے قائد، سرپرست، چیئرمین، صدر اور سربراہ عام انتخابات میں حصہ نہیں لے رہے۔تاہم اس بار کچھ ایسے سیاسی رہنما بھی انتخابی عمل سے باہر ہوئے، جنہوں نے پہلے ہی 2018 کے

انہیں لندن میں غیر قانونی طور پر جائیداد رکھنے کے ایون فیلڈ ریفرنس کیس میں اسلام آباد کی احتساب عدالت نے 10 سال قید بامشقت اور جرمانے کی سزا سنائی تھی۔نواز شریف پہلی مرتبہ 1990 سے 1993، دوسری مرتبہ 1997 سے 1999 جبکہ تیسری اور آخری مرتبہ 2013 سے جولائی 2017 تک ملک کے وزیراعظم رہے۔

الطاف حسین – بانی متحدہ قومی موومنٹ

—فائل فوٹو: بشکریہ خلیج ٹائمز
—فائل فوٹو: بشکریہ خلیج ٹائمز

ماضی میں پاکستان کی سیاست میں تہلکہ مچانے والے 64 سالہ الطاف حسین نے اگرچہ کبھی بھی انتخابات میں حصہ نہیں لیا، تاہم سندھ بلخصوص کراچی کے الیکشن میں ان کا کردار ہمیشہ ہی رہا ہے۔

گزشتہ انتخابات میں ان کی قیادت میں ہی ایم کیو ایم نے انتخابات میں حصہ لیا تھا، تاہم اس بار ایم کیو ایم کے رہنما اپنے بانی قائد کو ہی پارٹی سے نکال چکے ہیں، داخلی انتشار کا شکار متحدہ قومی موومنٹ، ایم کیو ایم پاکستان کے نام سے الیکشن لڑ رہی ہے۔

جنرل (ر) پرویز مشرف – سرپرست آل پاکستان مسلم لیگ

—فائل فوٹو: ڈان
—فائل فوٹو: ڈان

پاک فوج کے سابق سربراہ اور سابق صدر مملکت 74 سالہ پرویز مشرف نے انتخابات سے پہلے اعلان کیا تھا کہ وہ نہ صرف عام اتنخابات میں حصہ لیں گے، بلکہ وہ جیت کر پاکستان کی قسمت بھی بدلیں گے۔

ماضی میں طاقت اور اقتدار کا مزہ لوٹنے والے پرویز مشرف اس وقت خود ساختہ جلاوطنی کی زندگی گزار رہے ہیں اور وہ عام انتخابات کی دوڑ سے بھی باہر ہیں۔

البتہ ان کی سیاسی جماعت کے صدر ڈاکٹر امجد سمیت درجنوں امیدوار انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں۔

پیر پگارا – صدر پاکستان مسلم لیگ (ف)

—فائل فوٹو: ڈان
—فائل فوٹو: ڈان

پاکستان مسلم لیگ (ف) کی یہ روایت رہی ہے کہ ان کے سرپرست انتخابات میں حصہ نہیں لیتے۔

پیر پگارا صبغت اللہ شاہ راشدی سے قبل پارٹی کے سرپرست رہنے والے حروں کے چھٹے روحانی پیشوا سید شاہ مردان شاہ ثانی نے بھی کبھی انتخابات میں حصہ نہیں لیا تھا۔

اپنی روایات کو برقرا رکھتے ہوئے حالیہ پیر پگارا بھی خود انتخابی میدان میں نہیں اترے، تاہم ان کی قیادت میں درجنوں امیدوار گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس (جی ڈے اے) کے پرچم تلے الیکشن لڑ رہے ہیں۔

طاہر القادری – بانی قائد پاکستان عوامی تحریک

—فائل فوٹو: ڈان
—فائل فوٹو: ڈان

اگرچہ پی اے ٹی کے صدرقاضی زاہد حسین ہیں، تاہم طاہرالقادری ہی اس پارٹی کے سرپرست ہیں۔

تحریک منہاج القرآن اور پی اے ٹی کے سرپرست 74 سالہ طاہر القادری 2004 میں رکن قومی اسمبلی رہ چکے ہیں، تاہم وہ 2008 اور 2013 کی طرح اس بار بھی انتخابات میں ذاتی طور پر حصہ نہیں لے رہے۔

تاہم طاہر القادری سیاسی طور پر متحرک رہتے ہیں اور 2012 میں پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) اور 2014 میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کی حکومت کے خلاف لانگ مارچ اور کئی روز تک دھرنے دے چکے ہیں۔

چوہدری شجاعت حسین – صدر پاکستان مسلم لیگ (ق)

—فائل فوٹو: ڈان
—فائل فوٹو: ڈان

ماضی میں مختصر مدت کے لیے ملک کے وزیراعظم سمیت وفاقی وزیر داخلہ رہنے والے 72 سالہ چوہدری شجاعت حسین بھی اس بار انتخابات میں حصہ نہیں لے رہے۔

وہ 2009 سے 2015 تک سینیٹر بھی رہ چکے ہیں، جبکہ ان کا شمار ملک کے اہم ترین سیاستدانوں میں ہوتا ہے، لیکن اس کے باوجود وہ اس مرتبہ انتخابات میں حصہ نہیں لے رہے۔

غنویٰ بھٹو – چیئرپرسن پاکستان پیپلز پارٹی (شہید بھٹو)

—فائل فوٹو: ڈان
—فائل فوٹو: ڈان

سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کے مقتول بیٹے مرتضیٰ بھٹو کی لبنانی نژاد بیوی غنویٰ بھٹو اگرچہ آج تک رکن ایوان منتخب نہیں ہوئیں، تاہم وہ ماضی میں انتخابی دوڑ میں شامل ہونے کی کوشش کرتی رہیں۔

تعلیمی اہلیت نہ رکھنے اور غیر ملکی ہونے کی وجہ سمیت دیگر اسباب کی بناء پر ماضی میں ان کے کاغذات نامزدگی بھی مسترد ہوتے رہے، تاہم اس بار انہوں نے انتخابات میں خود ہی حصہ نہیں لیا۔

پارٹی ذرائع کے مطابق صحت کی خرابی کی وجہ سے انہوں نے 2018 کے انتخابات میں حصہ نہیں لیا۔

حافظ خادم حسین رضوی – سرپرست تحریک لبیک پاکستان

—فائل فوٹو: ڈان
—فائل فوٹو: ڈان

پاکستان مسلم لیگ (ن) کی حکومت کے خلاف نومبر 2017 میں لاہور سے اسلام آباد تک مارچ کرنے اور پھر دارالحکومت میں احتجاجی دھرنےدے کر حکومت کو مشکل میں ڈالنے والے 52 سالہ حافظ خادم حسین رضوی بھی انتخابات میں حصہ نہیں لے رہے۔

ان کی پارٹی کے متعدد امیدوار ملک کے چاروں صوبوں سے قومی و صوبائی حلقوں سے انتخابات لڑ رہے ہیں، وہ خادم حسین رضوی ان کی انتخابی مہم میں بھی نظر آتے ہیں، تاہم وہ خود اس بار الیکشن کے امیدوار نہیں ہیں۔

انتخابات میں حصہ لے کر اپنی جیت سے متعلق قیاس آرائیاں کی تھیں۔


اہم خبریں





دلچسپ و عجیب
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2021 All Rights Reserved Dailykhabrain