تازہ تر ین

میرا دوست نوازشریف 65

ضیا شاہد
نوازشریف صاحب، ان پر بہت مہربان تھے۔ لہٰذا انہیں کرکٹ بورڈ کا چیئرمین بنا دیا گیا۔ ایک دفعہ عدالت نے ان کی چیئرمینی ختم کر دی تو بھی نوازشریف نے دوبارہ کوئی تگڑم لڑایا اور وہ اب تک اس عہدے پر براجمان ہیں۔ حالانکہ کرکٹ سے ان کا اتنا ہی تعلق ہے جتنا میرا جوڈو کراٹے یا باکسنگ سے۔ وہ کیسے خوش کرنا چاہتے تھے؟ مجھے اُسی وقت اندازہ ہو گیا تھا۔ لیکن اگر کوئی شخص ذلت کی آخری حدوں کو چھونا چاہتا ہے، تو اپنا شوق پورا کر لے۔ پڑھنے والے دیکھ سکتے ہیں کہ میں نے تو کم از کم اس طویل تحریر میں ہر جاننے والے کو دوست اور بھائی ہی لکھا ہے۔ ہاں! اگر کوئی اللہ کی گرفت میں آ گیا ہے تو میں کیا کر سکتا ہوں؟
بہرحال! میرا دوست کبھی پاکستان مخالف نہیں رہا۔ نہ کبھی اُس نے کشمیر اور پانی وغیرہ کو چھوڑ کر بھارت سے یاری نبھانے کی حمایت کی۔ لیکن رفتہ رفتہ نہ جانے کیا ہوا کہ ایک طرف وہ بین الاقوامی سطح پر امریکہ، برطانیہ، اسرائیل، سعودی عرب، ایران ہی نہیں سب سے بڑھ کر بھارت کی اسرائیل دوستی کے باوجود پاک فوج سے متعلق منفی تنقید کا حامی بنتا چلا گیا۔ تو دوسری طرف خود اِسی فوج کی گود میں پلنے والے سیاسی بچے کے باوجود جوانی میں وہ یکسر فوج کے اثرورسوخ سے نہ صرف آزاد ہو گیا بلکہ برسوں تک جنرل ضیاءالحق کو شہید کہنے والا نوازشریف اپنے سیاسی گُرو کا نام لینے سے گریز کرنے لگا۔ اس مکتبہ فکر میں بُری طرح گھرنے کا سب سے بڑا سبب پرویز رشید تھا اور ہے۔ جو اول و آخر ذوالفقار علی بھٹو کا شیدائی ہے۔ مگر بھٹو کو پھانسی لگانے والے ضیاءالحق کو کبھی معاف نہیں کر سکتا ہے۔ کیا یہ حادثاتی امر ہے کہ پرویز رشید بھٹو صاحب کا کیمپ چھوڑ کر اس کے سب سے بڑے مخالف ضیاءالحق کے سیاسی وارث نواز شریف کی ٹیم میں ”فُل بیک“ بن گیا۔ جو اس ٹیم کے خلاف ہونے والے ہر گول کو روکتا رہا اور رفتہ رفتہ ضیاءالحق نے جسے اپنا سیاسی وارث قرار دیا تھا۔ اُسے ضیائی سوچ سے کوسوں دور لے گیا۔ بے چارہ اعجاز الحق جو کبھی ہر سال 17 اگست کو شاہ فیصل مسجد کے سامنے ضیاءالحق کی قبر پر نہ صرف تقریب منعقد کرتا ہے بلکہ برس ہا برس تک اس تقریب کا مرکزی اور آخری مقرر نوازشریف ہوتا تھا۔ اعجاز الحق کی والدہ بیگم شفیقہ ‘نواز شریف کو اپنا بڑا بیٹا قرار دیتی تھیں۔ مگر وہی نوازشریف آج نہ صرف ضیاءالحق کے دیئے ضیاءالحقی اقدام کا مخالف ہے۔ بلکہ وہ تو ایک طرف رہا۔ اس کے چھوٹے چھوٹے ”چھٹانکی“ لیڈر بھی ضیاءالحق پر کھلم کھلا نکتہ چینی کرتے ہیں اور اس صف میں کھڑا ہوا خواجہ سعد رفیق سب سے زیادہ ممتاز دکھائی دیتا ہے۔ کیونکہ اس کے باپ خواجہ رفیق شہید پر گولی چلانے کے واقعے میں راقم الحروف خود سعد رفیق کے والد سے آخری مصافحہ کرنے والوں میں شامل تھا، جو ایئرمارشل (ر) اصغر خان کے ساتھ اپنی مُنی سی سیاسی جماعت تحریک اتحادکو لے کر نیلا گنبد سے چیئرنگ کراس تک پہنچا اور وہاں سے رخصت ہو کر اسلامیہ کالج کوپر روڈ کے قریب پنجاب اسمبلی کے پیچھے نامعلوم قاتلوں کی گولیوں کا نشانہ بن گیا۔ معلوم نہیں یہ بات سچ تھی یا جھوٹ مگر اس وقت سارے لاہورمیں یہ الزام عام تھا کہ خواجہ رفیق کو گورنرغلام مصطفی کھر کے لوگوں نے جان سے مارا ہے۔ خواجہ سعد رفیق کی آج سے بیس سال پہلے تقریریں اینٹی بھٹو اور اینٹی کھر ہوتی تھیں جبکہ اس کی سوچ گزشتہ کچھ عرصے سے اچانک تبدیل ہوئی ہے۔ پچھلے چند سالوں سے وہ ہر سال اپنے باپ کی برسی پر کھلم کھلا یہ کہتا ہے کہ بھٹو کو پھانسی دے کر ضیاءالحق نے انتہائی ظلم کیا۔ وقتاً فوقتاً وہ بھٹو صاحب کی شان میں کوئی مختصر قصیدہ کہنے سے بھی نہیں چوکتا۔ انقلابات ہیں زمانے کے! اس وقت مشرقی پاکستان میں فوجی ایکشن کے حامی خواجہ رفیق کے قتل کا الزام اُٹھانے والا مصطفی کھر بعد میں اُسی فوج کی ایک نگران حکومت میں واپڈا کا وفاقی وزیر بھی رہا اور آج ”خلائی مخلوق“ کے ”لاڈلے“ عمران خان کی تحریک انصاف میں شامل ہے اور خواجہ رفیق کا بڑا بیٹا خواجہ سعد رفیق عدلیہ سے فوج تک سب کو رگڑنے کی ہر ممکن کوشش کر چکا۔ البتہ وہ سیانا ”منجی پیڑی“ ٹھوکنے والا سیاستدان ہے۔ لہٰذا جب عدلیہ کی طرف سے نوٹس ملنے لگے اور اسٹیبلشمنٹ نے آنکھیں دکھانا شروع کیں تو اچانک سعد رفیق نے خاموشی اختیار کر لی۔ زمانے نے پھرایک کروٹ لی۔ کہاں تو سعد رفیق دعوے کر رہا تھا کہ عمران خاں پانچوں سیٹوں سے ہار کر گھر جائے گا۔ مریم نواز اور مریم اورنگزیب کی نگرانی میں چلنے والا نون لیگ کا میڈیا سیل دھڑا دھڑ سعد رفیق کی شان میں قصیدے سنا اور دکھا رہا تھا کہ غریب محلوں اور چھوٹی بستیوں کے لوگ سعد رفیق کے عاشق ہیں۔ جبکہ عمران خان کو پسند کرنے والی ”لَو لَو پو پو“ کلاس ڈیفنس کی کچھ آبادیوں تک محدود ہے مگر نتیجہ کچھ یوں نکلا کہ سعد رفیق مقبولیت کے دعووں کے باوجود عمران سے لاہور میں ہار گیا اور دوسری بار گنتی کروانے پر بھی نہ جیت سکا۔ اب یقینا اس کے لہجے میں عدلیہ اور فوج کے لئے تلخی کچھ زیادہ ہو گئی ہو گی۔ یوں وہ نوازشریف کے بعد مریم نواز کے ساتھ کھڑا تھا۔ پُراسرار طاقتوں سے خلائی مخلوقات تک سب کو ننگا کرنے کے د عوے کر رہا تھا۔ میرا دوست نوازشریف جو کبھی بقول شیخ رشیدکے آرمی کے گیٹ نمبر4 کی پیداوار تھا۔ فوج کی لگائی ہوئی نرسری میں اس ننھے سے پودے کی نمود وپرداخت ہوئی تھی۔ کارگل کے واقعے کے بعد اب وہ کھل کر یہ کہتا ہے کہ پرویز مشرف تو پاکستان کو ہار بیٹھا تھا۔ اگر میں یعنی نوازشریف واشنگٹن جا کر بھارت سے صلح نہ کرواتا۔ اس واقعے کی تفصیل میرے دوست نے کتاب ”غدار کون“ (نواز کی کہانی، ان کی زبانی) مصنف سہیل وڑائچ نے بیان کی ہے۔ چند ماہ سے یہ خبریں بھی چھپ چکی ہیں کہ نوازشریف لندن میں بھارتی اور اسرائیلی سفیروں سے بھی ملتا رہا ہے۔ لیکن میںاس الزام کی صحت پر اصرار نہیں کرتا۔ کیونکہ میرے پاس اخباری خبروں کے سوا کوئی ٹھوس ثبوت موجود نہیں ہے۔ تاہم اُوپر نیچے تین واقعات ایسے گزرے ہیں۔ جنہوں نے نوازشریف کو پاکستان میں پروانڈین لابی کا پرستار بنا دیا ہے۔ آئیں ایک ایک جملے میں اس الزام کا پس منظر دیکھتے چلیں۔
-1نوازشریف نریندر مودی کی تخت نشینی کی تقریب میں بیٹوں سمیت دہلی پہنچا۔
-2 نوازشریف کی نواسی کی مہندی کی تقریب میں کابل سے واپسی پر نریندر مودی خود رائیونڈ آیا اور تحائف پیش کئے۔
-3 جندال کنیکشن کی بات پرانی ہو چکی ہے۔ تاہم اقتدار کے آخری برس جندال کی مری آمد کی داستانیں بھی کافی عام ہوئیں۔
-4 بھارتی وزیر داخلہ کے اس دعویٰ کی تفصیل معلوم نہیں ہو سکی جب اس نے یہ کہا کہ ہم نوازشریف کی اقتدار سے علیحدگی کے ہرگز حامی نہیں کیونکہ ہم نے نوازشریف پر بہت ”انویسٹمنٹ“ کی ہے۔ یہ سرمایہ کاری کب اور کیسے ہوئی اس موضوع پرپوری کتاب لکھی جا سکتی ہے۔
-5 ڈان لیکس ایک اور بڑا دھماکہ ہے۔ جو پاکستان کے سب سے بڑے انگریزی اور معتبر اخبار ڈان میں شائع ہوئی۔
خلاصہ یہ تھا کہ ڈان لیکس کے ڈانڈے حسین حقانی کی ”میموگیٹ“ سے ملتے تھے۔ جس میں پاکستان کی فوج میں امریکہ کی مرضی سے قیادت لانے کی تجویز پیش کی گئی تھی۔ اُدھر ڈان لیکس کے مطابق خفیہ مشاورت میں بھارتی موقف کی حمایت کا الزام لگا اور فوج کے دباﺅ پر نوازشریف نے بطور وزیراعظم اپنے سب سے چہیتے وزیر پرویز رشید کی قربانی پیش کر دی۔ یہی نہیں بلکہ وفاقی وزیر خارجہ طارق فاطمی اور سابق پرنسپل انفارمیشن آفیسر راﺅ تحسین بھی تلے گئے۔
-6 نوازشریف کے ملتان میں جلال الدین رُومی کے گھر سرل المیڈا کو جو انٹرویو دیا گیا اس کا خلاصہ بھی یہ تھا کہ ممبئی میں حافظ سعید کے لوگوں نے دہشت گردی کی تھی۔گویاپاکستان کے سابق وزیراعظم نوازشریف نے تسلیم کرلیا کہ پاکستان نے بمبئی حملے کے لئے یہاں سے کچھ لوگ بھجوائے تھے۔بے چارے نواز شریف نے یہ بات بہ سبیل تذکرہ کہی ہو مگر انڈین چینل سے اسے یوں بڑھا چڑھا کرپیش کیاگیا۔ پاکستان کے سابق وزیراعظم نے تسلیم کرلیا کہ بمبئی حملوںمیں وہ برابر کاشریک تھا۔
-7 جوں جوں نوازشریف کا کیس اختتام کی طرف بڑھا اس کے لہجے میں تلخی آتی گئی اور اس نے یہاں تک کھل کر لائن اختیار کی کہ لوگوں نے 2013ءمیں کس کو ووٹ دیئے تھے۔ اب تمہارے ووٹ کی تذلیل ہو رہی ہے۔ کیا تم یہ تذلیل برداشت کر لو گے؟ نوازشریف کی صاحبزادی محترمہ مریم نواز صاحبہ نے تو پبلک جلسوں اور پریس کانفرنسوں میں بھی یہ بات کھل کر کہنا شروع کی جن پانچ ججوں نے نواز شریف کو حکومت سے ہٹایا ہے۔ انہیں کٹہرے میں لایا جائے گا۔
-8 اس سے قبل نوازشریف کی چینی بنانے والی فیکٹری میں بہت سے بھارتی مشکوک افراد کی آمد کو ان کے سیاسی مخالف ڈاکٹر طاہر القادری نشانہ بنا چکے تھے کہ ان لوگوں کو کیسے ضروری چھان بین کے بغیر براہ راست لاہور کے ایئرپورٹ پر سرکاری ٹیم کے پروٹوکول میں پاکستان لایا جاتا رہا ہے۔
-9 ڈان لیکس کے بعد سرل المیڈا کے ملتان میں نوازشریف کے انٹرویو نے طوفان کھڑا کر دیا۔ نوازشریف بار بار اُسی رپورٹر اور اُسی اخبار کو استعمال کر رہے تھے۔ جس کی پہلی خبر بھی ابھی تک فوج برداشت نہ کر سکی تھی۔
(جاری ہے)


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved