تازہ تر ین

کالا باغ ڈیم اور ضیا شاہد

ایس ایم ظفر ….توجہ طلب
کالا باغ ڈیم کی کہانی نئی نہیں ہے۔ جب انڈس واٹر ٹریٹی پر سمجھوتہ ہو رہا تھا اور تین دریاﺅں کا پانی بھارت کویعنی ستلج بیاس اور راوی اسی طرح تین دریاﺅں کا پانی پاکستان کو یعنی دریائے سندھ جہلم اور چناب مختص کر دیا گیا تو پاکستان کے مستقبل کی ضروریات کو سامنے رکھتے ہوئے انڈس واٹر معاہدے میں یہ بات بھی رکھی گئی کہ کیونکہ بہت سارے ہیڈ ورکس تبدیل ہو جائیں گے جس سے پانی دریائے راوی اور دیگر دریاﺅں سے پاکستان کو ملتا تھا اسی لئے پاکستان کو ایک ڈیم بنانے کی ضرورت پڑے گی چنانچہ معاہدے میں یہ بھی شامل تھا کہ ورلڈ بنک ایک بڑا ڈیم بنانے کے اخراجات برداشت کرے گا اور پاکستان اس رقم سے پانی کا ذخیرہ کرنے کیلئے ایک بڑا ڈیم اپنے دریاﺅں پر بنا سکے گا۔ اطلاع کے مطابق اس وقت بھی جو سفارش کی گئی تھی وہ کالا باغ ڈیم کی تھی جس پر فربلٹی رپورٹ بھی تیار کر کے ورلڈ بنک اور حکومت پاکستان کے درمیان تبادلہ کی کارروائی ہوتی رہی ساتھ ہی ساتھ تربیلا ڈیم بنانے کا ذکر بھی کابینہ میں ہوتا رہا۔ یہ تمام واقعات میرے وزارت میں آنے سے پہلے کے ہیں اور جب میں نے 1965ءمیں ایوب کابینہ میں شمولیت اختیار کی تو انڈس واٹر ٹریٹی اور تربیلا ڈیم بننے کی تفصیلات کا علم ہوا۔ مجھے فیلڈ مارشل ایوب خان سے براہ راست تو معلوم کرنے کا موقع نہیں ملا لیکن میں نے ایک گفتگو میں وزیر خزانہ شعیب احمد جن سے میری بے تکلفی کافی بڑھ چکی تھی سے یہ سوال کیا کہ جب کالا باغ ڈیم کی تفصیلات پر معاملات طے ہو رہے تھے تو تربیلا ڈیم کا ذکر کہاں سے آگیا‘ جواباً انہوں نے ایک غیر ٹیکنیکل اور زیادہ سیاسی بیان دیا کہ کالا باغ ڈیم واضح طور پر اتنا قابل عمل ہے کہ اس کے لئے جب حکومت پاکستان چاہے گی بیرون ملک سے امداد حاصل کرنے میں کوئی دقت نہیں ہو گا جبکہ یہ سہولت تربیلا ڈیم کے لئے حاصل نہیں تھی۔ معلوم ہوتا ہے۔ اس وقت کی حکومت کے ذہن میں دو ڈیم تھے۔ تربیلا ڈیم اور کالا باغ ڈیم ۔تربیلا کو اس لئے ترجیح دی گئی کہ ورلڈ بنک سے فوراً جو پیسے انڈس واٹر ٹریٹی کی وجہ سے مل رہے تھے انہیں استعمال کر لیا جائے اور پھر کالا باغ ڈیم کیلئے اس کی افادیت اور شہرت اتنی زیادہ ہے کہ اس کے لئے بیرونی کنسوریشم اور فائنینشل انسٹی ٹیوشن سے رقم حاصل کر لی جائے یہ جواب سن کر میرا ذہن تو مطمئن ہو گیا لیکن مزید تفصیلات معلوم کرنے کیلئے جب میں نے ڈپٹی چیئرمین پلاننگ کمیشن محمد احمد سے وزیر خزانہ شعیب احمد کی گفتگو کا ذکر کیا تو ان کا جواب تھا”ہاں کچھ ایسا ہی معاملہ تھا“۔
یہ تو ماضی کی بات ہے لیکن وزارت ہی کے دوران اس خط و کتابت پر بھی نظر پڑی جو انڈس واٹر ٹریٹی کے دوران مختلف فریقین کے درمیان ہوتی رہی۔ حکومت ہند کی جانب سے ایک خط جسے بہتر یہ ہے کہ خط نہ کہا جائے بلکہ کمنٹس کہا جائے تو بہتر ہو گا پڑھنے کا موقع ملا ایک بھارتی سیاستدان نے بیان دیا تھا کہ پاکستان کو کسی ڈیم کی کیا ضرورت ہے ان کے پاس تو اتنا وافر پانی ہے کہ بیشتر بارشوں کا پانی سمندر میں چلا جاتا ہے‘ اتفاق کی بات ہے کہ کئی سالوں کے بعد جب میں پلڈاٹ کی ایک تقریب کی صدارت کر رہا تھا اور کالا باغ ڈیم کا ذکر آیا تو اس وقت بھی بھارت کی جانب سے آئے ہوئے نمائندگان میں سے ایک صاحب نے یہی الفاظ دہرائے۔ ایک چھوٹا سے واقعہ اور بیان کردوں۔ بیلجیم سے جب میں وزیر قانون تھا تو ایک پارلیمانی گروپ مجھ سے ملنے راولپنڈی جہاں اس وقت وزارت قانون کا دفتر واقع تھا تو انہوں نے ایک عجیب سوال مجھ سے کیا کہ مشرق پاکستان ایک دوسرے سے اتنا دورہے تو آپ ان کے درمیان حکومتی امورکس طرح چلائیں گے اور مغربی پاکستان اور مشرقی پاکستان جو اس وقت چاروں صوبوں کو اکٹھا کر کے ون یونٹ بنا دیا گیا تھا یہاں بہت سی قومیں بس رہی ہیں ان کے درمیان آپ اتحاد اور یکجہتی کس طرح قائم رکھیں گے؟ پہلے سوال کاجواب تو میں نے یہ دیا کہ پاکستان اس وقت بنا ہے جب سائنس بہت دور کے علاقوں کو بذریعہ الیکٹرانک اس طرح منسلک کر رہی ہے کہ کوئی دوری نہیں رہ گئی یقینا اس میں مزید اضافہ ہو گا اور جس طرح آپ کی گزشتہ تاریخ ہے کہ آپ بیلجیم میں بیٹھے ہوئے دوردراز ملکوں پر اپنی حکومت کے معاملات چلا رہے تھے جو کہ ایک ناجائز قبضہ تھا اور ہم تو اپنے کلچر اپنی زبان اور ہم مذہب ہونے کی وجہ سے خود ایک ملک سے ہیں لہذا اب یہ دوری بے معنی ہے۔ جہاں تک دوسرے سوال کا تعلق ہے کہ اس علاقے میں دریاﺅں کا سلسلہ ایسا ہے کہ ہم ایک دوسرے پر انحصار کرتے ہیں اور اگر ایک ڈیم کو ہم بنا چکے ہیں لیکن اگر کالا باغ ڈیم بھی بن جائے اور باہمی اشتراک سے اس کے پانی کا استعمال ایک معاہدے کی شکل اختیار کرلے جیسے کہ یورپ اور امریکہ میں کئی بڑے بڑے دریاﺅں کے انٹرنیشنل اور مقامی معاہدے پانی کے استعمال کے اور ڈیموں کے بنانے کے لئے ہو چکے ہیں اسی طرح ہم بھی یقیناً ایساکرلیں گے اور یہ خود ایک ایسا سیاسی فارمولا ہو گا جس سے ساری قومیں ایک دوسرے سے جڑ جائیں گی میں نے نوٹ کیا کہ پہلے سوال کا جواب جو میں نے دیا اس پر وہ مطمئن نہیں تھے لیکن دوسرے جواب پر انہوں نے کافی حامی بھری تھی۔
شاید کالا باغ ڈیم کا مسئلہ پھر نہ اٹھتا اور وہ تاریخ کے اوراق میں مدھم ہوتا چلا جاتا لیکن موسمیات کی تبدیلی نے تکلیف دہ یہ بات ہر شخص پر واضح کر دی ہے کہ آئندہ چند سالوں میں پاکستان میں پانی کی بے حد قلت ہو جائے گی اور وہ ملک جو پانی کے لحاظ سے خود کفیل تھا وہ آئندہ چل کر اس نعمت سے شدید محروم ہو جائے گا۔ آئندہ معلوم ہو گا کہ پاکستان کے علاقے خشک سالی کا شکار ہو کر صحرا بن جائیں گے ۔ اس احساس نے سپریم کورٹ جیسے ادارے کو ڈیم کیلئے فنڈز اکٹھا کرنے پر مجبور کیا اور فی الحال بھاشا ڈیم پر کام شروع کر دیا گیا ہے۔ ایکسپرٹس کی رائے ہے کہ پاکستان کو ایک سے زائد ڈیموں کی ضرورت ہے۔ کئی حکومتیں پاکستان میں ایسی طاقتور آئیں جو اس منصوبے کو مکمل کر سکتی تھیں ذوالفقار علی بھٹو ایک مقبول سیاستدان تھے لیکن ان کا زیادہ وقت سوشلسٹ پالسیز اور نیشنلائزیشن کیلئے صرف ہوتا رہا۔ ضیا الحق نے قوم کا قبلہ درست کرنے میں اپنا وقت بھی ضائع کیا اور قوم کو بھی کمزور کر دیا یہی صورتحال مشرف کے دور کی ہے۔ کالا باغ ڈیم پر جتنے اعتراضات کئے جا رہے ہیں وہ سارے ٹیکنیکل ہیں اور آج کی دنیا میں جبکہ فلک بوس عمارتیں تعمیر ہو رہی ہیں اور پانی کی تقسیم کے معاہدے طے کرنے کے نظام موجود ہیں جس سے پانی کی روانی اور فلوکو بھی معاہدے کا حصہ بنایا جا سکتا ہے تو پھر ٹیکنیکل اعتراض کے پیچھے ایک اہم قابل عمل اور بہتر ڈیم کو نہ بنانا اور صرف اس لئے نہ بنانا کہ سیاسی طور پر ایک موقف(سٹینڈ) لے لیا گیا ہے اب اس سے پیچھے نہیں ہٹا جا سکتا افسوس کی بات ہے ۔ اسی سال بارشیں 40 فیصد کم ہوئی ہیں اور آئندہ چل کر اور بھی کم ہوتی جائیں گی وقت ہاتھ سے نکلتا جا رہا ہے۔
ضیا شاہد صاحب نے کئی درخواستیں کالا باغ ڈیم کی تعمیر کے لئے ہائیکورٹ اور سپریم کورٹ میں دی ہیں جہاں سے بڑی تیزی سے سوموٹو اختیار استعمال ہو رہے ہیں اور کئی غلط کام درست کئے جا رہے ہیں وہاں یہ حیران کن بات یہ بھی ہے کہ ضیا شاہد کی درخواست پر ابھی تک کوئی قابل ذکر پیشرفت نہیں ہو سکی۔ اگر سپریم کورٹ ان تفصیلات میں نہیں جانا چاہتی جیسے کہ واقفانِ تفصیلات کہتے ہیں تو وہ کم از کم کالا باغ ڈیم کے لئے کوئی قابل اعتماد فورم یا کونسل آف کامن انٹرسٹ کی طرح کا فورم تشکیل دے کر اس کے سپرد یہ معاملہ کر سکتی ہے لیکن اب جبکہ درخواستیں دی جاچکی ہیں اس پر عمل نہ ہو یہ کوئی مناسب دکھائی نہیں دیتی۔
(کالم نگار سابق وفاقی وزیر اور ممتاز قانون دان ہیں)
٭….٭….٭


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved