تازہ تر ین

کمپنی راج

وجاہت علی خان….مکتوب لندن
ملک کے ممتاز صحافی مصنّف اور دانشور جناب ضیا شاہد نے اگلے روز ایک ٹی وی پروگرام میں میرے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے اس بات پر شکایت اور افسوس کا اظہار کیا ہے کہ تم لوگ جو برطانیہ میں مقیم ہو برطانوی عدل و انصاف کے گن تو گاتے ہو لیکن ماضی و حال کی ان برطانوی ناانصافیوں کوبیان نہیں کرتے جو انہوں نے اپنی نو آبادیات میں بھی کیں اور آج بھی اپنے ملک میں قانون و انصاف کی دھجیاں اڑاتے ہوئے کر رہے ہیں انہوں اظہار خیال کر تے ہوئے مجھے یہ طعنہ بھی دیا کہ شائد تم لوگ بھی برطانوی‘ ایجنسیوں سے ڈرتے ہو!! ضیا صاحب نے برطانوی ایسٹ انڈیا کمپنی“ کا بھی ذکر کیا کہ وہ کس طرح دھوکے سے تجارت کے بہانے ہندوستان میں وارد ہوئے اورظلم و ستم ناانصافیوں اور لوٹ کھسوٹ کرتے ہوئے اس ملک کو لوٹتے ہیں‘ تاریخ کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے انگریزوں کی مکاریوں و ناانصافیوں کی درست منظر کشی کی ہے‘ اصل میں ٹیلی ویژن پر یہ گفتگو حال ہی میں متحدہ قومی موومنٹ کے سابق قائد پر اور منی لانڈرنگ کیس میں مزید شواہد کی تلاش میں پاکستان پہنچنے والی ایک برطانوی تفتیشی ٹیم کے تناظر میں ہو رہی تھی‘ اگلی بات سے پہلے ذرا ایسٹ انڈیا کمپنی کا مختصراً جائزہ لیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ کمپنی تو مغل شہنشاہ جہانگیر کے دور میں ہی پہنچ چکی تھی 1613ءمیں اسے تجارت بھی مل گئی۔ تاریخی حقیقت تو یہ بھی ہے کہ کمپنی کی گرفت 1757ءمیں جنگ پلاسی کے بعد مضبوط ہوئی اس جنگ میںنواب سراج الدّولہ کو کیوں شکست ہوئی اور لارڈ کلائیو کیونکر فاتح ٹھہرا سب جانتے ہیں کہ 500 انگریز فوجیوں اور اڑھائی ہزار ہندوستانی فوجیوں یعنی کلائیو کی کل 3000 فوج کا سراج الدّولہ 70 ہزار افواج سے کوئی مقابلہ ہو ہی نہیں سکتا تھا لیکن سراج الدّولہ کی شکست کی وجہ صرف اورصرف وزیراعظم میر جعفرتھا جو سراج الدّولہ کی افواج کا جرنیل تھا اور انگریزوںکے ساتھ مل چکا تھا تا کہ وہ خود نواب بن سکے حقائق یہ بھی ہیں کہ ان دنوں کمپنی میں صرف 187 یورپی سول افسر تھے جو تین کروڑ ہندوستانیوں پر حکومت کرتے تھے ان کی فوج میں بھی 70 فیصد ہندوستانی تھے۔ اب ذرا اس تاریخ پر بھی غور کر لیا جائے کہ تقسیم ہند کے بعد بھی پاکستان پر عملی طورپر گورنر جنرل کی حکومت تھی۔ اگست 1947ء سے فروری 1952 تک انگلینڈ بادشاہ جارج ششم کی اور بعد ازاں 1956ءتک ملکہ الزبتھ دوم کی یہاں حکمرانی رہی اور یہ سارا عرصہ ڈومینین آف پاکستان کے نام سے مشہور ہے۔ پاکستان کو باقاعدہ عملی اختیار و آزادی 23 مارچ 1956ءکوملی جب پاکستان کا پہلا آئین عمل میں آیا اور منظور ہوا۔
مذکورہ تاریخی تفصیل میںجانے کی ضرورت اس لئے ہے کہ ماضی و حال میں ہونے والی ان زیاتیوں ناانصافیوں کی بنیادی وجوہ ہماری اپنی کوتاہیاں‘عاقبت نااندیشیاں‘ پاکستان میں نہ ختم ہونے والے معاشی‘ جمہوری اور سیاسی عدم استحکام ہیں جس کی وجہ سے انگریز ہوں یا دیگر مغربی اقوام نہ تو ہمیں برابری کا درجہ دیتی ہیں اور نہ ہی عالمی سطح پر طے شدہ اصول و ضوابط کو خاطر میں لاتی ہےں ہمارے اندر کے انتشار اکھاڑ بچھاڑ اور ”مائیٹ ازرائیٹ“ کی پالیسیزکی وجہ ہمیں کسی قسم کے انصاف اور غیر امتیازی سلوک کے قابل نہیں سمجھا جاتا خود مختار اور زندہ قوموں کی خارجہ اور مجموعی قومی پالیسی جس کے متعلق یہ امید کی جا سکے کہ ہمیشہ اس پر عمل کیا جا سکے گا صرف وہی ہو سکتی ہے جس میں ہمارے قومی مفاد کیلئے پورے طور پر واضح تحفظ موجود ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ کوئی بھی قوم بین الاقوامی مفاد کو اپنے قومی مفاد پر ترجیح دینے کیلئے تیار نہیں ہوتی چنانچہ جب ہم کہیں بین الاقوامی قانون کے تحت اپنے لئے انصاف کے خواہاں ہوتے ہیں تو ہمیں اس نکتے کو آئین میں ضرور رکھنا چاہئے کہ کیا ہمارے قومی مفادات بین الاقوامی مفادات کیساتھ مطابقت رکھتے ہیں۔ یہ بھی مان لیا جائے جو بظاہر ایک حقیقت بھی ہے کہ پاکستان ایک آزاد ملک ہے لیکن کیا پوری ذمہ داری سے یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ پاکستان معاشی، سائنسی نقطہ نظر سے ایک محکوم ملک نہیں ہے اور محکوم ملکوں کے لوگوں کی تمام فکرو عمل اپنی اندرونی سیاسی و سماجی موشگافیوں میں مصروف عمل رہتی ہے۔
یقینا برطانیہ بھی ایک آزاد ملک ہے۔ یہ بین الاقوامی طورپر طے شدہ بعض اصول و ضوابط اور حدود و قیود کا پابند بھی ہے لیکن جب اور جہاں کہیں بھی کسی معاملہ پر ان کے قومی یا سکیورٹی معاملات پر زد پڑتی ہے تو قانون و انصاف کی تمام عمارات یکدم ریزہ ریزہ ہو جاتی ہیں، قومی مفاد کے سامنے تمام اصول و ضوابط ، اخلاقی تقاضے، انسانی حقوق کی علمبرداری کے دعوے اور بین الاقوامی معاہدات تک ریزہ ریزہ ہو جاتے ہیں ، ان کی اولین ترجیح فقط اپنا وسیع تر مفاد ہوتا ہے۔ پاکستان میں گزشتہ کئی سال سے برطانیہ کے ادارہ انصاف پر تواتر کے ساتھ انگلیاں اٹھ رہی ہیں اور میں سمجھتا ہوں یہ تنقید درست بھی ہے، مثال کے طورپر متحدہ کے الطاف حسین پر منی لانڈرنگ اور ڈاکٹر عمران فاروق کے قتل کی تفتیش پر بڑے سوال اٹھے اور آج بھی اٹھائے جارہے ہیں کہ سب کچھ ثابت ہو جانے پر بھی الطاف کو سزا نہیں دی گئی اور یہ مقدمات سرد خانے میں ڈال دیئے گئے کہ 2010ءمیں ڈاکٹر عمران فاروق کا قتل شمالی لندن میں ہوا، شواہد الطاف حسین کی دہلیز تک گئے پھر 2012ءمیں جب لندن پولیس تفتیش کر رہی تھی تو اسی دوران الطاف کے گھر اور دفتر سے پانچ لاکھ پونڈ کی کیش رقم پولیس نے برآمد کی چار سال تک پولیس پیشیاں ہوتی رہیں لیکن پولیس نے یہ مقدمہ عدالت میں پیش نہیں کیا اور آخر کار اکتوبر 2016ءیہ دونوں کیس سردخانے میں ڈال دیئے گئے۔ اس دوران پولیس نے چھ افراد کو گرفتاری کمے بعد رہا کیا، ساڑھے چار ہزار افراد سے تفتیش کی، ساڑھے سات ہزار کاغذات کا جائزہ لیا، اڑھائی ہزار تفتیشی نکات پر کام کیا لیکن آخر کار اس کا کوئی نتیجہ نہیں نکلا، عام طور پر یہی سمجھا جاتا ہے کہ ڈاکٹر عمران فاروق کے قتل کا اعتراف کرنے والے دو مبینہ قاتل کیونکہ پاکستانی ایجنسیوں کی تحویل میں ہیں انہوں نے اعتراف کیا ہے کہ الطاف کے کہنے پر انہوں نے یہ قتل کیا، لیکن جب تک یہ دونوں برطانیہ آ کر عدالت میں یہ بیان نہیں دیتے ملزم کو سزا نہیں دی جاسکتی، لیکن میں سمجھتا ہوں کہ یہاں آ کر اگر وہ یہ کہہ دیں کہ پاکستان میں ہم نے تشدد سے خوفزدہ ہو کر مذکورہ بیان دیا تھاتو بھی تمام ملزم اس کیس سے بری ہو جائیں گے اور پھر ویسے بھی الطاف حسین گزشتہ 27 سال سے لندن میں مقیم اور برطانیہ کا ”بلوآئیڈ بوائے“ ہے۔ لہذا اس ضمن میں یہی حقیقت ذہن میں رکھنے کی ضرورت ہے کہ جہاں قومی و ریاستی مفاد کا معاملہ ہوتا ہے تو سچائی یا قانون و انصاف کا گلا گھونٹ دیا جاتا ہے۔ چنانچہ آپس کی بات ہے ایسے معاملات میں یہاں کی ایجنسیاں بھی حکم صادر کرتی ہیں۔
قومی و ریاستی مفاد کی ایک اور تاریخی مثال یوں ہے کہ پہلی جنگ عظیم کا زمانہ تھا یکم مئی 1915ءکو برطانیہ کالوسی تینیزایک بحری جہاز نیویارک سے برطانیہ کیلئے روانہ ہوا اس میں دو ہزار افراد سوار تھے ان میں سینکڑوں امریکی بھی شامل تھے اس وقت تک امریکہ اس جنگ میں شامل نہیں ہوا تھا۔ انگلینڈ اکیلا جرمنی کی مضبوط بحری و فضائی طاقت کا مقابلہ نہیں کرسکتا تھا اور چاہتا تھا کہ امریکہ اس میں شامل ہو، حالانکہ امریکہ یہ نہیں چاہتا تھا، جہاز جب آئرلینڈ کے قریب پہنچا تو جرمنی کی ایک آبدوز نے تارپیڈومار کر اسے تباہ کر دیا جس کے نتیجہ میں 12سو افراد ڈوب گئے جبکہ بہت سوں کو بچالیا گیا اس حادثہ کے فوری بعد امریکہ بھی اس جنگ میں کود پڑا کیونکہ اس کے اپنے شہری ہلاک ہوئے تھے لیکن بعدازاں بعض برطانوی راز دانوں نے سچائی یہ بتائی کہ اصل میں برطانیہ نے خود ہی اس جہاز کو ڈبویا اور الزام جرمنی پر ڈال دیا تھا تاکہ ایک تو امریکہ اس جنگ میں ان کے ساتھ شامل ہو دوسرابین الاقوامی طور پر جرمنی کے خلاف پراپیگنڈا کا موقع میسر آ سکے کہ اس نے ایک مسافر بردار جہاز کو نشانہ بنا کر بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کی، لہٰذا یہ کہ یہاں بھی برطانیہ کے مفاداتی فلسفہ کی مثال ملتی ہے کہ جب اس کا ریاستی مفاد سامنے تھا تو اس نے اپنے جہاز اور اپنے ہی لوگوں کی بھی پروا نہ کرتے ہوئے اس قسم کا ظالمانہ فعل کیا اور کسی قسم کے بھی اخلاقی‘ انسانی اقدار و قوانین کی پروا نہیں کی۔
پاکستان میں بار ہا یہ خبریں سامنے آتی ہیں کہ برطانیہ کو درخواست دی جائے گی کہ ایون فیلڈ فلیٹس پاکستان کو واپس دیئے جائیں کیونکہ سابق وزیراعظم نے قومی خزانے سے لوٹ کر یہ جائیدادیں بنائیں !! پہلے تو اس بات کو پلے باندھ لیا جائے کہ نوازشریف فیملی کی ملکیت لندن یا برطانیہ میں صرف ایون فیلڈ فلیٹس ہی نہیں درجنوں دیگر جائیدادیں اور اکاﺅنٹس بھی ہیں‘ دوسرا یہ کہ اس ”حمام“ میں صرف شریف خاندان نہیں پاکستان کے ہزاروں دیگر لوگ بھی ہیں جن میں جرنیل‘ ججز‘ بیوروکریٹس‘ سیاستدان‘ بزنس مین اور صحافی بھی شامل ہیں اور ان کی جائیدادیں و اکاﺅنٹس یہاں موجود ہیں۔ ان پر بھی ذرا نظر کرم رکھیں۔ ابھی دو روز ہوئے ”احتساب بیورو“ کی جانب سے متوقع طور پر ایک حکم جاری ہونے کی نوید دی جارہی ہے کہ برطانیہ و دبئی میں کھربوں کی جائیدادیں رکھنے والے پاکستانیوں کو نوٹس جاری کئے جائیں گے۔ دست بستہ پاکستان کے اداروں سے عرض ہے کہ پہلے تو اس حقیقت کو سمجھیں کہ غیرملکی انویسٹمنٹ کسی بھی ملک کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی سمجھی جاتی ہے۔ برطانیہ بھی اس زرّیں اصول کو سمجھتا ہے۔ انہیں اس بات سے غرض نہیں ہوتی کہ ان کے ملک میں پیسہ کہاں سے آرہا ہے اور کون لا رہا ہے۔ بس ذرا اوپر اوپر سے ڈھیلے ڈھالے قانون بنائے ہوتے ہیں۔ خلیجی‘ عرب ممالک سے لے کر افریقی‘ مشرقی‘ شمالی اور مشرق بعید حتیٰ کہ روس تک کے کھربوں ڈالرزکی انویسٹمنٹ برطانیہ میں موجود ہے۔ صرف قطر کی برطانیہ میں انویسٹمنٹ 40 ارب پونڈ سے زیادہ ہے۔ آدھے سے زیادہ لندن کی قیمتی ہاﺅسنگ مارکیٹ غیرملکیوں کی ملکیت ہے۔ انگلینڈ اور ویلز میں تقریباً 97 ہزار جائیدادیں اوورسیز کی ملکیت ہیں جو برطانیہ میں رجسٹرڈ بھی نہیں۔ ان فرمز کی تعداد گیارہ ہزار سے زیادہ ہے جو بیرونی ممالک میں رجسٹرڈ ہیں۔ گزارش ہے کہ ہم کون سی دنیا میں رہتے ہیں کیا ہم یہ سمجھتے ہیں کہ برطانیہ پاکستان کی طرف سے ایک خط ملنے پر ایون فیلڈ فلیٹس سمیت کھرب ہاپونڈز کی جائیدادیں آپ کے حوالے کرنے کے ساتھ ساتھ آپ کو مطلوب اپنے شہری بھی آپ کے حوالے کرکے ”انصاف کے تقاضے“ پورے کرے گا؟ میرے خیال میں تو ایسا سوچنا بھی عبث ہے۔ اگر برطانیہ اس ڈگر پر چلنا شروع کردے تو یہ کنگال ہوجائے گا۔ لہٰذا پاکستان نے ایسا کوئی مطالبہ برطانیہ سے کرنا بھی ہے تو سب سے پہلے خود کو اخلاقی‘ معاشی اور مضبوط سماجی قدروں کے حوالہ سے امریکہ‘ چین‘ روس اور یورپی ممالک جیسی بلندیوں پر لے جائے۔ اپنے اندر جمہوری قدروں اور جمہوری آزادیوں کی اصل روح کو بحال کرے تو یقین رکھیں جس روز پاکستان میں ”کمپنی راج“ ختم ہوا اور اصل عوامی راج و جمہوریت بحال اور اس جمہوریت کے نمائندگان کو ذاتی مفاد کی بجائے ریاستی مفاد عزیز ہونے لگا تو پھر آپ اپنی دولت اور اپنے ملزم بالکل اسی طرح دوسرے ممالک سے واپس لے سکیں گے جس طرح امریکہ پاکستان سے لے جاتا ہے۔
( کالم نگار”خبریں“ کے لندن میں بیوروچیف ہیں)
٭….٭….٭


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved