تازہ تر ین

اوورسیز پاکستانیوں کے مسائل

فیصل مرزا……..اظہار خیال
اوورسیز پاکستانی جو کہ زرمبادلہ پاکستان بھیج کر پاکستان کی ڈوبتی معیشت کی کشتی کو پار لگانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیںلیکن ان اوورسیز پاکستانیوں کے ساتھ بیرون ملک میںموجود پاکستانی ایمبیسیز ، ہائی کمیشنزاور کونسل خانے جو سلوک کرتے ہیں ان سے بظاہر لگتا ہے کہ یہ اپنے ہم وطنوں کے لئے سہولت خانے کم اور اذیت خانے زیادہ ہیں، اس کے علاوہ اوورسیز پاکستانیوںکو اپنی شناختی دستاویزات کے حصول اور منسوخی کیلئے پاکستان میں موجود اداروں کی طرف سے بہت سی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
میرے کافی عزیز اور دوست دنیا کے مختلف ممالک سپین، اٹلی، جرمنی، برطانیہ، فرانس، امریکہ، ملائشیا، سعودیہ، دوبئی وغیرہ میں قیام پذیر ہیں جو گاہے بگاہے بیرون ملک موجود پاکستانی سفارت خانوں کی طرف سے درپیش مشکلات کے بارے میں آگاہ کرتے رہتے ہیں، زیادہ تر شکایات سفارت خانوں کی طرف سے غیر معیاری رویہ اور غیر دفتری زبان کے استعمال کی جاتی ہیں۔اور اس کے علاوہ درخواست دہندہ کوبیسیوںچکر لگوائے جاتے ہیں۔ اوورسیز پاکستانی لاکھوں کی تعداد میں مختلف ممالک میں بسلسلہ روزگار مقیم ہیں اور ان میں سے 50فیصد سے زائد غیر قانونی طور پر مقیم ہیں ان اوورسیز پاکستانیوں کے بیرون ملک پہنچنے کیلئے دو طریقے عمل میں لائے جاتے ہیں ایک طریقہ ٹریول ایجنٹس کے ذریعے جبکہ دوسرا انسانی سمگلرز کی مدد سے ، انسانی سمگلنگ کا کام دنیا بھر میں عروج پر ہے اور تمام ممالک اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم پر اس کے تدارک کے لئے کوشاں ہیں، اوورسیز پاکستانی جو انسانی اسمگلرز کے ذریعے بیرون ملک جاتے ہیں ان کے جانے کی ایک وجہ بہترین روزگار کا حصول ہے جس کیلئے انہیںدشوار گذار رستوں سے گذر کراور ایران ، ترکی اور یونان کے بارڈرز کو غیر قانونی طریقہ سے پار کرنا پڑتا ہے جس میں جان کھو جانے کے 70فیصد چانس ہوتے ہیں، اور بے شمار لوگ آنکھوں میں سہانے مستقبل کا خواب لئے راستہ میں جان گنوا بیٹھتے ہیں، جو چند لوگ یورپین ممالک میں پہنچنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں، پہنچنے کے بعد وہ لیگل قیام کیلئے کوششیں کرتے ہیں جس کیلئے ان کو اپنے شناختی کارڈ اور پاسپورٹ درکار ہوتے ہیں ،پہلے سے حاصل شدہ شناختی کارڈ اور پاسپورٹ انسانی سمگلر ان سے لیکر ضائع کر دیتے ہیں، شناختی کارڈ اور پاسپورٹ کے حصول کیلئے اوورسیز پاکستانیز پاکستانی سفارت خانوں کا دورہ کرتے ہیں جہاں ان کو عملہ کی طرف سے بہت سی پریشانیاں پیش آتی ہیں جس میں غیر معیاری رویہ اور بد تمیزی کا سامنا کرناعام ہے، شناختی کارڈ کے حصول کیلئے تمام سفارتخانوں میں نادرا کا عملہ موجود نہ ہے ، سفارتی عملہ کی طرف سے رہنمائی دی جاتی ہے کہ نادرا کی ویب سائٹ www.nadra.gov.pk پر آپ اپنا شناختی کارڈ اپلائی کر سکتے ہیں پڑھے لکھے لوگ تو با آسانی شناختی کارڈ کے اجراءکیلئے آن لائن درخواست دے سکتے ہیں جبکہ ان پڑھ لوگ مشکلات میں پھنس جاتے ہیں، اقوام متحدہ کے مطابق پاکستان میں شرح خواندگی صرف 26فیصد ہے، اسی شرح سے اوورسیز پاکستانیوں کی زیادہ تر تعداد بھی ناخواندہ اور نیم خواندہ ہے ،جن کیلئے آن لائن سسٹم کے ذریعے شناختی کارڈ کا حصول اتناآسان ثابت نہیںہوتا، جن ممالک میں اوورسیز پاکستانیوں کی تعداد زیادہ ہے ،وہاں نادرا نے اپنے دفاتر سفارتخانوں میں قائم کر رکھے تھے لیکن کچھ ماہ قبل ان میں سے اکثر دفاتر کو سپریم کورٹ کے حکم پر بند کر دیا گیا، جس کی وجہ سے اوورسیز پاکستانیوں کو شناختی کارڈ کے حصول میں مشکلات درپیش ہیں، اوورسیز پاکستانیوں کو نادرا کے سفارتخانوں میں قائم دفاتر اور آن لائن سسٹم دونوں کی موجودگی میں بہت آسانی اور سہولت تھی، جبکہ اب ناخواندہ لوگ شناختی کارڈ کے حصول کے لئے بیرون ملک میں قائم نجی کمپیوٹر سینٹرز سے بھاری معاوضہ کے عوض مدد لینے پر مجبور ہیں۔ شناختی کارڈ کے حصول کے بعد پاسپورٹ کا مشکل ترین مرحلہ شروع ہوتا ہے ، سفارتخانوں میں قائم دفاترمیں پاسپورٹ کے حصول کی سرخ فیتہ پالیسی درخواست دہندہ کو برسوں ذلیل کرنے کی منہ بولتی تصویر ہے، اوورسیز پاکستانی جو غیر قانونی مقیم ہوں کو گم شدہ پاسپورٹ کے حصول کیلئے کہا جاتا ہے کہ پالیسی کے مطابق آپ کا نیشنل سٹیٹس چیک کروایا جائے گا کہ آپ پاکستانی ہیں بھی یانہیں ، ایک پاکستانی جس کے پاس شناختی کارڈ موجود ہے اور اس کے گمشدہ پاسپورٹ کا تمام ڈیٹا پاسپورٹ کے کمپیوٹر میں محفوظ ہے ،اس کو ڈپلیکیٹ پاسپورٹ جاری کرنے کیلئے سفارت خانوں کو اس کا نیشنل سٹیٹس کنفرم کیا جاتاہے،آخر کیوں؟ دنیا بھر میں اس کی مثال سوائے پاکستانی سفارت خانوں کے کہیں دیکھنے کو نہیں ملتی، نیشنل سٹیٹس پاکستانی حساس اداروں آئی بی اور سپیشل برانچ سے چیک کروایا جاتا ہے جن کے پاس نیشنل سکیورٹی کے علاوہ اس طرح کی درخواستوں کے انبار لگے ہوتے ہیں، لہٰذا اس نیشنل سٹیٹس میں کم سے کم 6ماہ کا عرصہ درکار ہوتا ہے۔ اس طریقہ کار اور پالیسی کے باعث اوورسیز پاکستانیوں کو گمشدہ پاسپورٹ کے حصول میں سال بھر کا وقت لگ جاتا ہے جبکہ اگر سفارت خانوں میں گھومتے پھرتے ٹا¶ٹ سے کسی اوورسیز پاکستانی کی ملاقات ہو جائے تو پھر بھاری رقم کے عوض بغیر نیشنل سٹیٹس کے مشین ریڈایبل پاسپورٹ جاری کر دیا جاتا ہے۔
پاسپورٹ کی منسوخی کا مرحلہ اوورسیز پاکستانیوں کوان کی نانی یاد کروا دیتا ہے۔پاسپورٹ کی منسوخی کیلئے سفارتخانہ میں دی جانے والی درخواست کو پاکستان میں پاسپورٹ ہیڈ کوارٹر بھیجنے اور پہنچنے میں ایک سے ڈیڑھ ماہ کا عرصہ لگ جاتا ہے، جبکہ کچھ اوورسیز پاکستانیوںکے عزیز و اقارب پاسپورٹ ہیڈ کوارٹر اسلام آباد میں بذات خود جا کردرخواست دیتے ہیں، درخواست کی وصولی کے بعد محکمہ پاسپورٹ کی طرف سے شناختی کارڈ منسوخ ہوجانے کے باوجود کوائف کی تصدیق کیلئے سپیشل برانچ کو کیس بھیج دیا جاتا ہے ، اس تصدیق میں 3سے 6ماہ کا عرصہ لگ جاتا ہے، تصدیق ہونے کے بعدپاسپورٹ منسوخی کی بھاری جرمانہ فیس جو کہ 25ہزار اور 50ہزار ہے، ادا کی جا تی ہے جس کے بعد اسی درخواست کو مکمل کرنے کیلئے سیکریٹری وزارت داخلہ کی منظوری درکار ہوتی ہے ۔اس منظوری میں اوورسیز پاکستانیوں کے کئی ماہ ضائع ہو جاتے ہیں، ذرائع کے مطابق پاسپورٹ منسوخی کی آخری منظور ی مئی کے اواخر میں سابقہ سیکریٹری داخلہ کی طرف سے دی گئی تھی، اس کے بعد 2ماہ سے زائد کا عرصہ گذرنے کے باوجود موجودہ سیکریٹری داخلہ جو نگران حکومت کی طرف سے تعینات کئے گئے ،نے کوئی منظوری نہ دی، ذرائع کے مطابق 430کے قریب درخواستیںموجودہ سیکریٹری داخلہ یوسف نسیم کھوکھر کو بھیجی گئیں لیکن وہ تاحال منظور ی نہیں ہوسکیں، جس کی وجہ سے سینکڑوں اوورسیز پاکستانی پاسپورٹ کی منسوخی کے منتظر ہیں ۔
محترم سیکریٹری داخلہ سے گزارش ہے ہے کہ حضور یہ اوورسیز پاکستانی بہت ستائی ہوئی قوم ہےں اور پاکستان کی معیشت کی ترقی کیلئے یہ ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں، سابقہ حکومت نے سیکریٹری داخلہ کوپاسپورٹ کی منسوخی کی کمیٹی کا صدر تعینات کیاتھا ،لہٰذا آپ اوورسیز پاکستانیوں کے مزید کئی قیمتی ماہ ضائع کرنے کے بجائے ان کے غلط کوائف والے پاسپورٹ منسوخی کی منظوری دے کر سینکڑوں خاندانوں کی دعائیں لیں اور ایسی حکمت عملی بنائیں کہ کمیٹی کی میٹنگ ہفتہ واربنیادوں پرمنعقدکی جائے تاکہ اوورسیز پاکستانیوں کا وقت ضائع نہ ہو اور وہ پاسپورٹ کے چکر سے نکل کر روزگار پر توجہ دیں اور زیادہ سے زیادہ زرمبادلہ پاکستان بھیج سکیںتاکہ پاکستان جلد ازجلد معاشی بحرانوں سے نکل کر اپنے پاﺅں پر کھڑا ہوسکے۔
(کالم نگارسماجی اورمعاشرتی امورپر لکھتے ہیں)
٭….٭….٭


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved