تازہ تر ین

ہم سب کی ”امی جان“

(اعتبار ساجد….مستقل کالم
کچھ کتابیں ایسی ہوتی ہیں جو خود کو پڑھو ابھی لیتی ہیں، منوا بھی لیتی ہیں۔ ”امی جی“ بھی ایک ایسی ہی دلگداز کتاب ہے جسے ضیاشاہد صاحب جیسے کہنہ مشق ادیب اور نامور صحافی نے تحریر کیا ہے۔ ان سے آج کی نہیں برسوں کی شنا سائی ہے ان کی تحریریں، خبریں اور تراجم ایسے لاجواب ہوتے تھے کہ پہلی سطر سے آخری سطر تک آدمی پڑھتا جائے اور تحریر تاثیر کی آبشار میں نہاتا چلا جائے۔ میں نے اس کتاب کی بہت تعریفیں سن رکھی تھیں، اسے پڑھنا بھی چاہتا تھا لیکن یہ مجھے دستیاب نہیں ہو رہی تھی۔ آخر ایک دن جب میں ان سے ملنے دفتر گیا تو اس جوہر شناس، اندروں بیں شخص نے میری طلب میری آنکھوں سے پڑھ لی اور نہایت محبت سے مانگے بغیر کتاب مجھے پیش کر دی۔ اتنی خوبصورت، شفاف اور با تصویر کتابیں بہت کم چھپتی ہیں۔ تصویروں سے گزر کر جونہی میں پہلے صفحے تک پہنچا ورق الٹنے سے پہلے ہی میری آنکھوں میں نمی تیرنے لگی۔ یہ سطور میں آپ کو اس لئے پڑھانا چاہتا ہوں کہ آپ اس کیفیت کو محسوس کر سکیں جو مجھ پر گزری۔ ضیا شاہد صاحب بغیر کسی لمبی چوڑی تمہید کے براہ راست لکھتے ہیں:
”گزشتہ دنوں علالت کے سبب کچھ دن گھر، باقی ہسپتال میں گزارے اور بار بار یہ خوف آتا رہا کہ اپنے سلسلہ مضامین ”یادیں اور ملاقاتیں“ کیلئے ضروری کردار نظر انداز ہو گیا جس پر دراصل برسوں سے کچھ لکھنے کی ہمت ہی نہیں پڑ رہی تھی۔ یہ میری والدہ (ماجدہ) کا تذکرہ تھا جنہیں عرف عام میں بی بی جی کہتے تھے اور جب ہم لکھ پڑھ گئے تو گھر میں انہیں امی جان بولنے لگے۔ میں نے اپنی زندگی میں ان سے زیادہ بہادر، باہمت اور منتظم خاتون نہیں دیکھی۔ ان کا نام حشمت بیگم تھا اور وہ مشرقی پنجاب کے ضلع جالندھر کی تحصیل نکودر میں دریائے ستلج کے کنارے آباد ایک گاﺅں ”رائے پور آرائیاں“ میں پیدا ہوئیں۔ تاریخ پیدائش ہمارے نانا مرحوم نے لکھ چھوڑی تھی جو 1915ءہے۔ وفات لاہور میں 5 اگست 2002ءمیں ہوئی۔ ماڈل ٹاﺅن ایکسٹشن N بلاک کو مڑنے والی سڑک پر ایک چھوٹے سے پر سکون اور صاف ستھرے قبرستان میں ان کی قبر ہے۔ جس پر لکھا ہے۔ ”حشمت بیگم زوجہ چودھری جان محمد مرحوم، نیچے درج ہے۔ والدہ ضیا شاہد، ڈاکٹر مظفر النسائ، ڈاکٹر بقا محمد (مرحوم) مزمل مہدی (مرحوم)۔“
یہاں تک تو آپ محترمہ مرحومہ امی جی کے بارے میں کچھ ابتدائی کوائف سے آگاہی حاصل کرتے ہیں۔ لیکن اگلا پیراگراف آپ کی آنکھوں میں نمی لائے بغیر نہیں رہتا۔ لکھتے ہیں:
”ان کے پہلو میں ان کے پوتے عدنان شاہد مرحوم کی قبر ہے جو ”خبریں“ کے علاوہ انگریزی روزنامہ ”دی پوسٹ“ کے ایڈیٹر بھی رہے اور 36 سال کی عمرمیں مجھے اور اپنی ماں کو امریکہ سے لاتے ہوئے ایک رات کے قیام کے بعد لندن میں لاہور کی پی آئی اے کی فلائٹ کے ٹکٹس پر سیٹ نمبر تبدیل کروانے ٹریولنگ ایجنسی کے دفتر گئے تو اچانک کاﺅنٹر کے سامنے گڑ پڑے اور 36 سال کی عمر میں پہلی بار ہونے والے ہارٹ اٹیک نے انہیں ہم سے چھین لیا۔“
اس پہلے صفحے سے آخر تک میں پڑھتا گیا۔ کبھی دل سے آہ نکلی۔ کبھی منہ سے آہ نکلی۔ امی جی محترمہ کو جس طرح ضیاشاہد صاحب نے پورٹرے کیا ہے اتنی درد مندی، اتنی دلسوزی اور اتنی گہری پرانی یادوں کے ساتھ شاید ہی ہمارے کسی اہل قلم نے کیا ہو۔ ہم کالج کے زمانے سے قدرت اللہ شہاب مرحوم کی ”ماں جی“ پڑھتے آئے ہیں۔ ہر چوتھے پانچویں نقاد نے اس کے حوالے سے لکھا بھی خاصا ہے لیکن ہم نہایت دیانت داری اور غیر جانب داری کے ساتھ بڑی ذمہ داری کے ساتھ کہہ سکتے ہیں کہ ضیا شاہد صاحب کی ”امی جی“ کے سامنے قدرت اللہ شہاب مرحوم کی ”ماں جی“ اتنی تاثر انگیز نہیں ہے۔ وجہ ایک تو یہ ہے کہ ”ماں جی“ ایک افسانہ ہے اور ”امی جی“ ایک مکمل اور جامع کتاب ہے جس میں ضیا شاہد صاحب نے اپنی روایتی صاحب گوئی، حقیقت بیانی اور انتہائی سادگی سے کام لیا ہے۔ ایک فقرہ بھی مصنوعی نہیں۔ صفحے کے صفحے الٹ جایئے ہر صفحہ پر آپ کو حقیقت بیانی کا ایسا خوبصورت اور دلپذیر انداز ملے گا جو کہیں اور ملنا مشکل ہے۔ بے شک میکسم گورکی ”ماں“ ایک عمدہ ناول ہے لیکن وہ صروف ناول ہے۔ یہاں ایک سعادت مند، پختہ کار ادیب اور صحافی ”امی جی“ کو کتابی شکل میں خراج عقیدت پیش کر رہا ہے۔ فرق صاف ظاہر ہے۔ ایک جگہ فکشن ہے۔ ایک جگہ رئیلٹی ہے۔ جہاں تک اس کتاب کی مجموعی کرافٹنگ اور اظہار بیان کا تعلق ہے تو اس کی مثال ہمیں صحافت اور ادب میں کم ملتی ہے کہ جب بھی اماںمرحومہ کو یاد آئے گی میں ہاتھ بڑھا کر سب سے پہلے ”امی جی“ کا مطالعہ کروں گا۔ کیونکہ مائیں سب کی سانجھی ہوتی ہیں!
(کالم نگارمعروف شاعر ہیں)
٭….٭….٭


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved