تازہ تر ین

جھگڑا نمٹا

توصیف احمد خان

چلیں مسئلہ ختم ہواورجھگڑا نمٹا… عمران خان نے سب کو بلکہ پورے پاکستان کو دکھا کر ووٹ ڈالا جس کی قانون میں سزا چھ ماہ قید اور نااہلی اسکے علاوہ ہے…عمران خان نے ایک کیس میں غیر مشروط معافی مانگ لی، الیکشن کمیشن نے انکی معافی قبول کرلی، رکا ہوا ایک نوٹیفکیشن جاری ہوگیااور جن تین حلقوں پر شرط عائد کی گئی تھی وہ بھی ختم ہوچکی…جس حلقے میں ووٹ دکھایا وہ معاملہ بھی معافی مانگنے پر ختم ہو جائے گا۔ اب پی ٹی آئی کے سربراہ صاف ستھرے ، دھلے دھلائے اور اجلے اجلے ایم این اے ہیں، ایک کم پانچ حلقوں سے ، دو چار دن بعد جب قومی اسمبلی کا اجلاس ہوگا تو جس حلقے سے چاہیں حلف اٹھائیں اور وزیراعظم منتخب ہوجائیں، ہمیں یقین ہے کہ وہ لاہور کو حلف اٹھانے کا اعزاز ہرگز نہیں بخشیں گے، لاہور کے حلقے میں تو سعد رفیق انکی جان کو آگیا ہے …دوبارہ گنتی ہوگی…نہیں ہوگی…فی الحال کچھ نہیں کہا جاسکتا، یہ سعد رفیق کے موڈ پر منحصر ہے کہ وہ معاملہ آگے لے جاناچاہتے ہیں یا نہیں ، سپریم کورٹ نے انکے لئے یہ دروازہ بند نہیں کیا، انہیں دوسرے دروازے کا راستہ دکھایا ہے …وہ اس دوسرے دروازے کی گھنٹی بجاتے ہیں یا نہیں …اسکے بارے میں فی الحال کچھ نہیں کہہ سکتے لیکن یقین یہی کہتا ہے کہ وہ چھوڑیں گے اور نہ پیچھے ہٹیں گے۔
ایسے ہی ایک قصے میں ہمیں اپنا مرحوم دوست عبدالستار لالیکا یاد آگیا…سعد رفیق والا قصہ تو خیر اس قدر سنگین او سنجیدہ نہیں زیادہ سے زیادہ کیا ہوسکتا ہے …عمران خان کی سیٹ چلی جائیگی اور بس …ویسے بھی دوچار دن کی بات ہے، انہوں نے اس نشست سے حلف نہ اٹھایا تو بات ختم ہوجائیگی…پھر ضمنی الیکشن کی تیاری، لگتا ہے سعد رفیق خود ضمنی الیکشن نہیں لڑیں گے کیونکہ پنجاب میں قائد حزب اختلاف بننے میں انہیں زیادہ دلچسپی ہوگی…لیکن عبدالستار لالیکا کا قصہ کیا تھا…؟ پرویز مشرف کے دور میں اسمبلیاں گریجویٹ ہوتی تھیں یعنی صرف بی اے پاس یا اسکے مساوی ڈگری رکھنے والا ہی الیکشن لڑسکتا تھا، لالیکا نے ایچی سن کالج سے تعلیم تو ضرور حاصل کی تھی مگر معلوم نہیں گریجویشن کیوں نہیں کرسکے، بہت سے اور لوگوں کی طرح انہوں نے بھی کہیں سے ڈگری حاصل کرلی، انکے مخالف احسان باری نے یہ نقطہ پکڑ لیا اور ڈگری کے پیچھے پڑگئے، معاملہ کافی لمبا چلا، احسان باری اسے چھوڑنے کیلئے تیار نہیں تھے، دوسری جانب سوال یہ تھا کہ عبدالستار لالیکا اس ڈگری کو ثابت کس طرح کرتے جس کی حیثیت کاغذ کے ایک ٹکڑے سے زیادہ نہیں تھی، سارا عرصہ شدید ذہنی دباو¿ کا شکار رہے، آخر کب تک، ایک دن دل نے جواب دیدیا، بس پھر کیا تھا، دوگز زمین جہاں ہم سب کو جانا ہے ، اللہ تعالیٰ وہاں انکے اور ہم سب کے ساتھ اچھا معاملہ کرے…(آمین) ۔
ڈاکٹر احسان باری کے مضامین وغیرہ کئی ایک اخبارات میں شائع ہورہے ہیں، ارادے کے بڑے پکے ہیں، جس کام کے پیچھے پڑتے ہیں اسے چھوڑتے نہیں، 1977ءمیں بھی ایسا ہی ایک معاملہ ہوا تھا ، صادق قریشی پنجاب کے وزیراعلیٰ تھے، وہ ملتان سے الیکشن لڑ رہے تھے، ذوالفقار علی بھٹو کی طرح چاروں وزرائے اعلیٰ کو بھی بلا مقابلہ کامیابی کا شوق چرایا، صادق قریشی انہی میں سے تھے، احسان باری اس دور میں طالب علم لیڈر تھے اور صادق قریشی کے مقابلہ میں الیکشن لڑنا چاہتے تھے، جو انہیں نہیں لڑنے دیا گیا، وہ خاموش ہوکر نہیں بیٹھ گئے، جہا ںتک بس چلا اس معاملے کو اٹھاتے رہے…آخر کار پورے ملک میں ایسی تحریک چلی کہ ”پھر اسکے بعد چراغوں میں روشنی نہ رہی“۔
صادق قریشی 1977ءتک پنجاب کے وزیراعلیٰ تھے، آج یعنی 2018میںکون یہ عہدہ سنبھالتا ہے ، دو تین نام ہیں ، نصراللہ دریشک کے صاحبزادے اور چیچہ وطنی سے رائے مرتضیٰ کے نام لئے جارہے ہیں ،خسروبختیار کے بھائی بھی ہیں، خیال ہے کہ چکوال کے راجہ یاسر ہمایوں سرفراز یہ عہدہ لے جائیں گے، چونکہ شرط نوجوان ہونا ہے او روہ یہ شرط پوری کرتے ہیںوہ ایچی سن کالج اور امریکہ سے تعلیم یافتہ ہیں، انکے دادا راجہ سرفراز 1949ءمیں ایم ایل اے تھے، یہ سابقہ پیپلزپارٹی اور حالیہ پی ٹی آئی کے لیڈر راجہ ریاض کے بھی عزیز ہیں، اس عہدے کیلئے انکا نام کئی بار آچکا ہے اور میڈیا پر قیاس آرائیاں بھی کی جاچکی ہیں، انکا انتخاب قریں قیاس ہے تاہم دیکھتے ہیںکہ عمران خان پنجاب کو کس اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان کے حوالے کرنا چاہیں گے جو مسٹر کلین بھی ہو، اللہ کرے جو بھی آئے مسٹر کلین ہی رہے، اس قسم کے عہدے اور ارد گرد کے لوگ ان معاملات میں بڑے ظالم ہوتے ہیں، وہ چاٹ لگانے کی پوری کوشش کرتے ہیں، اب یہ صاحب ِ عہدہ پر منحصر ہے کہ وہ ان کی چاٹ کی طرف دھیان کرتے ہیں یا نہیں۔
پنجاب کا معاملہ تو فی الحال لٹکا ہواہے لیکن عمران خان نے پرویز خٹک اور عاطف خان کے جھگڑے کا حل اس طرح نکالا ہے کہ ایک تیسری شخصیت کو صوبہ خیبر پختونخوا کا وزیر اعلیٰ نامزد کردیاہے، یہ محمود خان ہیں، اس صوبے میں تو آپ کو ہر شخص خان ہی ملے گا …ان صاحب کے بارے میں دلچسپ اطلاعات ہیں، سوات کے ارب پتی ہیں، مالاکنڈ ڈویژن سے پہلی شخصیت ہیں جن کو یہ عہدہ مل رہاہے ، پرویز خٹک کی کابینہ میں شامل رہے ہیں، جہاں دو تین بار انکے قلمدان تبدیل کئے گئے ، معلوم نہیں کیا وجہ تھی ، پہلے وزیرداخلہ بنایاگیا، پھر کچھ عرصہ کیلئے وزیر آبپاشی رہے اور آخر میں وزیر کھیل بنادیئے گئے، چار برس قبل یعنی 2014ءمیں انکا نام اخبارات کی شہ سرخیوں میں رہا کہ پشاور ہائیکورٹ میں انکے خلاف کرپشن کا ایک کیس دائر ہوگیاتھا، کہا یہ گیا کہ انہوں نے اٹھارہ لاکھ روپے کے فنڈ اپنے ذاتی اکاو¿نٹ میں ڈلوالئے تھے، آخر کار اس معاملہ کی باقاعدہ انکوائری ہوئی جس میں انکو بری الذمہ قرار دیدیا گیا ، مگر کس طرح …؟
اس طرح کہ رقم تو موصوف کے اکاو¿نٹ میں گئی ہے مگر اسکے ذمہ دار وہ خود نہیں وزارت میں انکے ماتحت ہیں جنہوں نے رقم انکے اکاو¿نٹ میں جمع کرادی، عجیب معاملہ ہے …وزیرصاحب کو علم ہی نہیں کہ سرکاری فنڈز کا اٹھارہ لاکھ روپیہ انکے اکاو¿نٹ میں چلا گیا ہے، ظاہر ہے پھر نزلہ بھی بیچارے انہی افسروں پر گرا ہوگا جبکہ وزیر صاحب کو مسٹر کلین کا سرٹیفکیٹ مل گیا…انکی وزارت کے افسر بھی عجیب موٹے دماغ کے ہیں کہ خود ڈکارنے کی بجائے رقم وزیرصاحب کے اکاو¿نٹ میں ڈال دی، انہیں پھنسانے کیلئے یا کچھ اور معاملہ ہوگا، ویسے ہم پٹھان اسی طرح کے موٹے دماغ کے ہوتے ہیں، اس طرح کی حرکتیں سرزد ہوتی رہتی ہیں، معلوم نہیں محمود خان کی وزارت کے افسروں نے ایسی حرکت کیوں کی، ان سے سرزد ہوگئی یا سرزد کرائی گئی۔
یہ قصہ تو اب آیا گیا ہوگیا، محمود خان اب وزیر نہیں، وزیر اعلیٰ ہونگے، ماضی کے تجربات انکی رہنمائی کرینگے، اور ہم یقین سے کہہ سکتے ہیں کہ وہ اپنے کسی ماتحت کو اپنا اکاو¿نٹ نمبر بتائیں گے اور نہ اکاو¿نٹ میں رقم ڈالنے دینگے، ویسے ارب پتی ہیں، انہیں تو یہ بھی معلوم نہیں ہوگا کہ کس اکاو¿نٹ میں کتنے ارب موجود ہیں، ایسے میں دس بیس لاکھ کا کیا پتہ چلے گا، نشاندہی نہ ہوتی تو وہ ابھی تک نہ جان پاتے ….اللہ اللہ اور خیر سلا۔
٭٭٭


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved