تازہ تر ین

الیکشن کمیشن کے سامنے قابل مذمت تقاریر

عبدالودودقریشی

آٹھ اگست کو الیکشن کمیشن کے سامنے اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد نے جو احتجاج کیا اس میں شہباز شریف شامل نہیں تھے۔مگر اس احتجاج میں جو زبان استعمال کی گئی ہے وہ قابل اعتراض ہی نہیں قابل مذمت بھی ہے عدلیہ اور فوج کے بارے میں جو نعرے اور الزام لگائے گئے اس سے انتہائی نرم جملے دہلی میں سپریم کورٹ کے ایک سینئر وکیل نے بولے تھے مگر اس کی وہاں ایسی دھنائی کی گئی کہ وہ زمین پر گر پڑا۔مسلم لیگ ن کے سوا اس اتحاد میں جو جماعتیں شامل ہیں وہ سب کی سب قیام پاکستان کی مخالف تھیں پارلیمنٹ میں آکر سہولتیں اور مراعات لینے کے لئے ان لوگوں نے چپ سادھی ہوئی تھی اور جب قومی خزانے کی بوری سے ان کے منہ ہٹتے ہوئے نظر آئے ہیں تو یہ چیخنا شروع ہوگئے ہیں۔ ان کے اندر سے وہی احرار اور سرخ پوش نکل آئے ہیں جنہیں اس وقت عوام نے شکست دی تھی اور اب بھی عوام نے انہیں شکست دی ہے۔ان انتخابات میں ان لوگوں کو مسترد کرنے کے بعد جس طرح سے یہ قومی اداروں اور پاکستان کے بارے میں ہرزہ سرائی کر رہے ہیں۔ اس سے ان کا اصلی چہرہ قوم کے سامنے آگیا ہے۔انہیں مال زرداری سے ملے یا نواز شریف سے سب اچھا ہے خاص کر جب انہیں دھاندلی کے ذریعے اقتدار میں آنے سے روک دیا گیا ہے تو یہ چلا اٹھے ہیں۔پہلے انتخابات میں دھاندلی ہوتی تھی مگر یہ پہلا موقع ہے کہ افواج پاکستان اور اداروں نے دھاندلی نہیں ہونے دی۔اس مظاہرے میں اعلان کیا گیا تھا کہ ان جماعتوں کے ٹکٹ ہولڈر ہونگے مگر آٹھ نو سو افراد میں اکثریت دھاڑی دار تھے۔ اسلام آباد میں دفعہ 144نافذ ہے مگر انتظامیہ نے انھیں اس مظاہرے سے نہیں روکا اور نہ ہی مظاہرے میں آنے والے دھاڑی داروں سے باز پرس کی کہ وہ مختلف چوکوں سے اٹھ کرکیسے مقدس اداروں کے سامنے پاکستان اور پاکستانی اداروں کے خلاف نعرے بازی کررہے ہیں۔ان لوگوں کو ایک لسانی عصبیت کے افراد راولپنڈی اور اسلام آباد میں کام کرنے والے دھاڑی داروں کے اڈوں سے اٹھا کر لائے اور پھر انھیں کھانا دینے کا بھی وعدہ کیا گیا تھا جو مہیا نہیں کیا گیا لہٰذا انہوں نے سارا راز افشا کر دیا۔البتہ مکروہ نعرے لگانے والے اے این پی اور پیپلز پارٹی سے تعلق رکھتے تھے اسلام آباد اور راولپنڈی کی دینی درسگاہوں نے مولانا فضل الرحمٰن کے اس مظاہرے میں شرکت سے انکار کر دیا تھا ویسے بھی پاکستان میں مسلک کے حوالے سے مولانا فضل الرحمٰن اقلیت میں ہیں۔سواد اعظم اہلسنت و الجماعت بریلوی ہیں اب تو کراچی میں بھی مولانا شاہ احمد نوارانی کے بیٹے کو بریلوی مکتبہ فکر کے لوگ کسی قسم کی قیادت دینے سے انکاری ہیں۔جبکہ جماعت اسلامی کی مجلس شوریٰ اور سینئر ارکان نے امیر جماعت اسلامی سراج الحق سے سخت بازپرس کی ہے کہ انھوں نے جماعت اسلامی کو ایم ایم اے کے نام پر مولانا فضل الرحمٰن کی گود میں کیسے بٹھا دیا حالانکہ وہ پاکستان اور افواج پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی کررہے ہیں اور جماعت اسلامی کی ہمیشہ پالیسی پاکستان اور افواج پاکستان کی حمایت رہی ہے۔جمعیت علماءاسلام نے دو سال میں دو بار جمعیت علماءاسلام کا صد سالہ جشن منایا جس کے بارے میں ادارے خاموش رہے ایک سال میں دو بار صد سالہ جشن کیسے ہوسکتا ہے اور اسی سال بھی پورے نہ ہوئے ہوں تو سو سالہ جشن کیسے ہوسکتا ہے اس کے پس پردہ بھاری چندہ جمع کرنا تھا جو کیا گیا اور اس میں پاکستان دشمن ممالک نے بھی بالواسطہ طور پر اپنا حصہ ڈالا۔وزیر اعظم ہاﺅس کی ایک ٹیلی فون پر دہلی میں پاکستانی سفارتخانے نے پچاس سے زائد فوری طور پر بغیر کسی تفتیش اور تحریر کے ویزے جاری کرنے کا حکم جاری کیا یہ حکم فواد حسن فواد نے میاں نواز شریف کی ہدایت پر میری موجودگی میں دیا تھا۔مولانا فضل الرحمٰن کی نواز شریف سے ایک دن قبل میٹنگ کے بعد ان کے بھائی یہ ویزے جاری کروانے وزیر اعظم ہاﺅس تشریف لائے تھے۔یہ 51افراد کون تھے اور انھوں نے جن پاسپورٹوں پر سفر کیا واقعی یہ وہی افراد تھے ان میں علماءکرام کتنے تھے اور واردات ڈالنے والے کتنے اس پر ابھی تک پردہ پڑا ہوا ہے مگر پاکستان اور پاکستانی اداروں کے خلاف مولانا فضل الرحمٰن کی یہ ہرزہ سراہی ان 51افراد کی لائی ہوئی چمک کا نتیجہ لگتی ہے۔ صد سالہ تقریب میں بھی پاکستان کے بارے میں بہت کچھ کہا گیا جس کا مطلب آنے والوں کو یہ پیغام دینا تھا کہ ہم ستر سال بعد بھی وہیں کھڑے ہیں جہاں ہماری اصل جماعت جمعیت الااحرار کھڑی تھی۔طالبان کی پسپائی اور پاکستان میں دہشتگردی کے خاتمے کے بعد بھارت نے بھاری سرمایہ کاری کی ہے وہ مایوس اور پریشان ہے اور اپنی اس حزیمت کو مٹانے کے لئے پاکستان میں اپنے ہر مہرے کو سامنے لارہا ہے۔مگر یہ سب پانی کے عارضی بلبلے ہیں جنھیں چار پانچ ہفتوں میں اپنی اصل حالت میں ہی آنا ہے۔عبوری حکومت اور اس کے وزیر اعظم کو اپنی ذمہ داری پوری کرتے ہوئے پاکستان میں پاکستانی اداروں کے خلاف ہرزہ سراہی کرنے والوں کے خلاف مقدمات درج کروا کر انھیں کٹہرے میں لانا چاہئے۔ اس سے پہلے کبھی پاکستان مخالف قوتوں کو یہ جرات نہیں ہوئی تھی کہ وہ شاہراہ دستور پر آکر پاکستان اور پاکستانی اداروں کے خلاف بکواس کریں۔یہ ایک ناقابل معافی جرم ہے اگر آج کا شکست خوردہ قیادت والا اپوزیشن اتحاد اپنے دور اقتدار میں عمران خان اور طاہر القادری پر دہشتگردی کے مقدمات بنا سکتا ہے تو یہ کیا آسمان سے آئے ہوئے فرشتے ہیں کہ ان کے خلاف قانون حرکت میں نہ آئے۔اپنی شکست پر مولانا فضل الرحمٰن،اسفند یار ولی،محمود اچکزئی وغیرہ جمع ہوگئے ہیں مگر نوشہرہ میں اے پی ایس سکول پر دہشتگردوں کے حملے اور دو سو بچوں کی شہادت پر انھوں نے اے پی سی نہیں بنائی کلبھوشن یادیو کے پکڑے جانے پر انھوں نے اے پی سی نہیں بنائی کشمیرمیں بھارتی جارحیت پر اے پی سی نہیں بلائی ،پاکستان کے سی اورین طیارے گرانے پر انہوں نے اے پی سی نہیں بلائی،پاکستان کے پانیوں کی بندش پر انھوں نے اے پی سی نہیں بلائی،قومی دولت لوٹنے پر انہوں نے اے پی سی نہیں بلائی مگر اپنی ذاتی شکست کے بعد انہوں نے فوری طور پر ناکام اے پی سی بلائی۔ مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کو سیاست میں وراثت کا طعنہ دینے والے مولانا فضل الرحمٰن نے اپنا بیٹا ڈپٹی سپیکر کے لئے پیش کر دیا ہے اگر جیتنے والے سب دھاندلی کے ذریعے آئے ہیں تو پھر مولانا فضل الرحمٰن کا بیٹا بھی دھاندلی کی پیداوار ہے اور گذشتہ بیس سالوں سے مولانا فضل الرحمٰن بھی دھاندلی کے ذریعے اقتدار میں آتا رہا ہے اصل بات اور چبھن اس بار صاف اور شفاف انتخابات کا ہونا ہے جس میں یہ لوگ شکست کھا گئے اور لوگوں نے ان کے چہرے سے نقاب نوچ کر ان کا اصلی چہرہ بے نقاب کر دیا۔ان لوگوں سے رعایت جرم ہے یہ ناقابل رحم لوگ ہیں جو پاکستان اور پاکستانی عوام کے خلاف کسی اور کا آلہ کار بن رہے ہیں اور چاہتے ہیں کہ انھیں تاقیامت اقتدار دیاجاتا رہے خواہ لوگ انھیں ووٹ دیں یا نہ دیں۔
٭٭٭


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved