تازہ تر ین

میرا دوست نوازشریف (66

 

ضیا شاہد
-10 نریندر مودی وزیراعظم بھارت نے کشن گنگا میں نئے بند کے افتتاح کے موقع پر کشمیر کا دورہ کیا۔ اِس واقعہ پر پانی کو مزید روکنے کے سلسلے میں وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے قانونی ماہرین پر مشتمل ایک وفد عالمی بینک کے پاس بھیجا جو ناکام ہو کر واپس آ گیا۔
-11 یہ امر بھی قابل غور ہے کہ گزشتہ6 برس میں جس میں پانچ برس نواز شریف کی حکومت کے بھی شامل ہیں۔ ہر سال انڈس واٹر ٹریٹی کے پاکستانی کمشنر پی سی ون بنا کر بھیجتے ہیں کہ ہمیں ستلج اور راوی سارا سال پانی کی بندش کے مسئلہ کو بین الاقوامی مصالحتی عدالت میں لے جانا چاہئے۔ مگر مسلسل چھ برس سے وفاقی حکومت بڑا سا نو لکھ کر بھیج دیتی ہے کہ پیسے نہیں ہیں۔ غضب خدا کا! کہ پاکستان کو سارا سال ستلج اور راوی کی چارجنگ کے لئے تھوڑا بہت پانی بھی بھارت سے نہیں ملتا۔ جس کے باعث زیر زمین پانی نیچے سے نیچے جا رہا ہے۔ نوازشریف کی حکومت پانی کے سلسلہ میں لاپروائی اور بھارت کی بالواسطہ حمایت خوفناک اور تشویشناک ہے۔ یاد رہے کہ میں نے اس سلسلے میں سپریم کورٹ آف پاکستان میں ایک رٹ بھی دائر کی ہے۔جس کے جواب میں چیف جسٹس ثاقب نثارصاحب اور تین دیگر ججوں کے علاوہ وزارت خارجہ‘ وزارت آبی وسائل اورواپڈاکو نوٹس بھی کرچکے ہیں۔
-12 لاہور کے قریب رائیونڈ میں جاتی امراءکے نام پر نواز شریف کے والد میاں شریف نے جو بستی آباد کی وہ دراصل امرتسر کے اس گاﺅں کا نام ہے۔ جہاں شریف فیملی 1947ءسے قبل آباد تھی۔ اس نام کو یاد کرنا بھی کوئی حیرت انگیز بات نہیں لیکن یہ حقیقت حیران کن ہے کہ میاں محمد شریف مرحوم نے امرتسر میں پرانے جاتی امراءکو بے تحاشہ پیسہ خرچ کر کے ماڈل ویلیج کی شکل دی۔ جس پر قدرتی طور پر چہ میگوئیاں ہوئیں۔واضح رہے کہ رائیونڈ میں نئے جاتی امراءکے گردوپیش ایسی بے شمار آبادیاں اور بستیاں موجود ہیں۔ جہاں نہ پینے کا سرکاری پانی ہے اور نہ سیوریج کی سہولتیں لیکن نوازشریف کے والد محترم نے امرتسر والے جاتی امراءمیں بجلی لگوائی۔ سرکاری نلکے نصب کروائے۔ پختہ سڑکیں بنوائی۔
-13 یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ پنجاب میں شوگر مل کے ساتھ بجلی سازی کے یونٹ ہوں دبئی میں بنائی جانے والی سٹیل مل ہو یا سعودی عرب میں تعمیر ہونے والی ایشیا کی سب سے بڑی سٹیل مل زیادہ انجینئرز، مشینری اور ٹیکنیکل ماہرین بھارت ہی سے آئے۔ کیا ہم معمولی سطح پر بھی اتنے خود کفیل نہیں ہوئے کہ کوئی سٹیل مل یا شوگر مل بھارت کی بالواسطہ یا بلاواسطہ امداد کے بغیر لگا سکیں۔
-14 یہ امر بھی حیرت انگیز ہے کہ فوج کے خلاف زیادہ للکارنے والے خواجہ آصف کو شاید اسٹیبلشمنٹ کو چڑانے کے لئے وزیر دفاع بنایا گیا۔ یہ اس خواجہ صفدر کے بیٹے تھے۔ جنہیں جنرل ضیاءالحق نے اپنی مجلس شوریٰ کا سپیکر نامزد کیا تھا۔ یاد رہے مجلس شوریٰ ساری کی ساری نامزد ادارہ تھی اور اس میں کوئی الیکشن نہیں ہوتا تھا۔اسی مجلس شوریٰ میں احسن اقبال کی والدہ محترمہ آپا نثارفاطمہ کو بھی ضیاءالحق نے نامزد کیاتھا
-15 آپ میرے دوست محمد نوازشریف کا نام لکھیں اور اس کے نیچے دو خانے بنائیں پہلے خانے میں سن(سال) اور سیاسی دور کا نام لکھیں۔ اور دوسرے خانے میں اینٹی انڈیا، نیوٹرل یا پروانڈیا کے الفاظ درج کریں۔ اگر آپ معمولی سیاسی شُدبُد رکھتے ہیں تو بھی آپ کو اندازہ ہو جائے گا کہ صدر ضیاءالحق کے لگائے ہوئے اس پودے نے پاکستانی فوج کی کیا دُرگت بنائی۔
-16 نوازشریف نے جیسے تیسے ضیاءالحق کو برداشت کیا ہو مگر بعد ازاں! جنرل جہانگیر کرامت کو نیشنل سکیورٹی کونسل بنانے کے بیان پر فارغ کیا۔
بعد ازاں! آصف نواز جنجوعہ اگرچہ اچانک فوت ہو گئے کہ ورزش کرتے ہوئے ان کا دِل کام کرناچھوڑ گیا تھا۔ مگر الزام نوازشریف پر لگا کہ ہمارے دوست میجر رشید وڑائچ مرحوم نے قانونی طور پر مقدمہ بھی درج کروایا تھا کہ آرمی چیف کو قتل کیا گیا ہے۔ ان دنوں یہ بھی کہا گیا تھا انہیں سلوپوائزنگ دیا گیا ہے۔ اگرچہ یہ مقدمہ کامیاب نہ ہو سکا۔ لیکن کئی برس تک افواہیں پھیلتی رہیں کہ نوازشریف کسی تگڑے آرمی چیف کو برداشت نہیں کرتے۔
پروانڈین لابی کو جتنا نواز شریف نے قوم کے سر پر سوار کیا اس کی مثال نہیں ملتی۔ حتیٰ کہ سب جانتے ہیں کہ پہلی بار وزیر اعظم بنتے ہی جس نجم سیٹھی کو آئی ایس آئی کے سیف ہاﺅس اسلام آباد میں رکھا گیا اور پوچھ گچھ ہوتی رہی کہ بلوچستان کے باغیوں کی وہ کیا اور کتنی مدد کر رہے تھے؟ اُسے اب تک الیکشن کے خاتمہ کے باوجود کرکٹ کنٹرول بورڈ پر بٹھایا گیا یہ کیموفلاج ہے جس میں کسی پروانڈین لابی کو بھرپور پاکستانی سرکاری مراعات مل سکتی ہیں۔ میں پہلے بھی لکھ چکا ہوں لیکن ایک بار پھر غور فرمائیں کہ 1971ءکے 48 سال بعد اچانک ہی میرے دوست نواز شریف کو بنگلہ بدھو شیخ مجیب الرحمان کی یاد نے کیونکر تڑپایا کہ سابق پاکستانی وزیر اعظم نے شیخ مجیب کو ٹاپ کا محب الوطن قرار دے دیا۔ یہی وہی انڈین لابی ہے جو بار بار تجویزپیش کر چکی ہے کہ پاکستان کے دانشوروں اور سابق فوجی جرنیلوں اور افسروں کو مل کر ڈھاکہ جانا چاہیے۔ بنگالی قوم پرستوں کے ساتھ پاکستانی فوج کی زیادتیوں پر اخلاقی طور پر معافی مانگنی چاہیے۔ صاف ظاہر ہے کہ اگر میرے دوست کو دوبارہ حکومت میں آنے کا موقع ملا تو اول تو وہ پاکستانی فوج کو اس قدر کمزور بے بس کرے گا کہ آئندہ وہ کارگل جیسی کوئی حرکت نہ کر سکے۔ ظاہر ہے کہ ڈھاکہ جا کر نواز شریف جو مجھ سے زیادہ صوم وصلوٰة کا پابند ہے شیخ مجیب کی قبر پر جا کر سجدہ سہو ضرور ادا کرے گا۔
چلتے چلتے بنگلہ دیش کی آزادی کیلئے جان اور عزت قربان کرنے والی بنگالی بیٹیوں کو خراج تحسین پیش کرنے کا واقعہ سن لیجئے۔ 1971ءاور 1972ءمیں بے تحاشہ یہ بات اچھالی گئی کہ پاکستان کی ریگولر آرمی نے بنگالی بچیوں کی عزتیں تار تار کی ہیں۔ دنیا میں یہ پراپیگنڈا بھی کیا گیا کہ ڈھاکہ میں ان غریب ومظلوم بچیوں کی کالونی بنائی گئی ہے کہ اب نہ ان کا کوئی گھر ہے اور نہ ٹھکانہ۔ ایک آسٹریلین جرنلسٹ جس کا نام میں بھول رہا ہوں لیکن میری کتابوں میں وہ کتاب مل جائے گی جو میں شوکت عزیز سابق وزیر اعظم کے ساتھ سارک کانفرنس کے سلسلے میں ڈھاکہ جانے کے دوران دیگر آٹھ دس کتابوں کے ساتھ خرید کر لایا تھا۔ یہ آسٹریلین جرنلسٹ لکھتا ہے کہ بی بی سی پر شیخ مجیب الرحمان کا ٹی وی انٹرویو سننے کے کچھ عرصہ بعد وہ خود ڈھاکہ پہنچا اور اس نے آسٹریلین وزارت خارجہ کے ذریعے بنگلہ دیشی وزارت اطلاعات سے خواہش ظاہر کی کہ وہ ان سینکڑوں بہادر اور مظلوم بیٹیوں سے ملنا چاہتا ہے جس کے ساتھ پاکستانی فوج کے باوردی افسروں اور اہلکاروں نے مہینوں زیادتی کی تھی پوری کوشش کے باوجود سرکاری گاڑی میں بنگلہ دیشی وزارت اطلاعات کے کچھ اہلکار آسٹریلوی جرنلسٹ کو ڈھاکہ کی ایک آبادی میں لے گئے جہاں بمشکل وہ چھ ایسی لڑکیوں سے مل سکا جنہیں بنگلہ دیش کی آزادی کی خاطر قربان ہونے والی ”شہزادیاں“ کہا جا رہا تھا۔ آسٹریلوی جرنلسٹ لکھتا ہے کہ مجھے بمشکل چھ ایسی لڑکیاں ملیں۔ وہ انگریزی سے نابلد تھیں پھر بھی ٹرانسلیٹر کی مدد سے پوچھ گچھ کی تو اندازہ ہوا کہ ان میں سے بعض ایسی ”شہزادیاں“ تھیں جن پر ان کے بقول 1975-76ءمیں زیادتی ہوئی تھی۔ حالانکہ آسٹریلوی جرنلسٹ لکھتا ہے کہ 16 دسمبر 1971ءکو پاکستانی فوجی بھارتی فوجی جنرل اروڑا کے سامنے ہتھیار ڈال چلے تھے پھر پانچ سال بعد اگر کسی فوجی نے کسی بنگلہ دیشی لڑکی سے کوئی زیادتی کی تو بھی یہ کیسے سمجھ لیا جائے کہ زیادتی کا مجرم پاکستانی فوجی تھا جو پانچ سال پہلے ڈھاکہ سے بھارتی قیدی بنا کر لے جایا جا چکا تھا۔
غالباً 1973-74ءمیں مجھے سابق جنرل امیر عبداللہ خان نیازی سے ملنے کا موقع ملا۔ وہ لاہور کینٹ راحت بیکری کے قریب بڑی سڑک سے مڑنے والی چھوٹی سڑک واقعہ ایک گھر میں مقیم تھے۔ میں نے ان کا تفصیلی انٹرویو بھی کیا تھا جو ان دنوں میری زیر ادارت ہفت روزہ صحافت میں شائع ہوا۔
میں نے ان سے پوچھا تھا کہ پاکستانی فوج ہمارے ہی بھائی بھتیجے ہیں۔ انفرادی طور پر غلطی کسی سے بھی ہو سکتی ہے لیکن ان دنوں چھپنے والی کئی کتابوں میں جب تواتر کے ساتھ یہ الزام دوہرایا گیا کہ پاکستانی فوجیوں کا طرزعمل بہت قابلِ اعتراض تھا۔ جنرل نیازی غصے میں آ گئے وہ ڈرائنگ روم سے اُٹھ کر اندر گئے اور تھوڑی دیر بعد بھارت میں چھپی ہوئی ایک کتاب لے کر آئے۔ یہ انگریزی میں تھی تاہم جنرل نیازی نے اس کے چند باب اور ان کے عنوانات دکھائے اور کہا پاکستانی فوج ایک ڈسپلن میں رہنے والی آرمی ہے۔ کیا آپ کا دل تسلیم کرتا ہے کہ اپنے گھروں سے ہزاروں میل دور ایسی فوج جو انتہائی مشکل حالات میں شہری آبادی کے ایک حصے کے خلاف اسلام آباد کی حکومت کو بچانے کیلئے جنگ کر رہی ہو۔
(جاری ہے)


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved