تازہ تر ین

فوج‘ عدلیہ اور نواز شریف

بریگیڈئیر(ر) حامد سعیداختر اظہارخیال
موجودہ انتخابات میں شکست کھانے کے بعد پاکستان مسلم لیگ (ن) کی طرف سے مسلسل یہ پراپیگنڈہ کیا جا رہا ہے کہ ان کی حکومت کے زوال اور تحریک انصاف کی کامیابی کے پیچھے فوج کا ہاتھ ہے لیکن درحقیقت ایسی باتیں حقائق سے نظریں چرانے کے مترادف ہےں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پاناما لیکس ایک بین الاقوامی نوعیت کا انکشاف تھا جس میں پاکستان کے علاوہ دنیا کے دیگر بہت سے ممالک کے بر سر اقتدار لوگوں کے نام بھی تھے ۔ ظاہر ہے کہ نہ تو یہ انکشافات پاک فوج کے کہنے پر کئے گئے تھے اور نہ ہی یہ صرف پاکستان کے سیاستدانوں تک محدود تھے۔ لہٰذا یہ الزام سراسر بے بنیاد ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا شریف خاندان فوج کو مورد الزام کیوں ٹھہرا رہا ہے اور فوج کے ساتھ ان کے اختلافات اگر ہیںبھی تو ان کی نوعیت کیا ہے حقیقت یہ ہے کہ پاناما لیکس تو محض آئس برگ کا ایک ٹکڑا ہے جس کی وجہ سے نواز شریف خاندان کے خلاف مقدمات کا قانونی جواز ملا۔ جبکہ ان کی بے قاعدگیوں اور مالی کرپشن کا سلسلہ بہت طویل ہے۔ یہ بات بھی پیش نظر رہے کہ موجودہ اعلیٰ فوجی قیادت نہ صرف میاں نواز شریف کی اپنی نامزد کردہ ہے بلکہ انٹیلی جنس کے سربراہ کے ساتھ ان کا قرابت داری کا رشتہ بھی ہے۔ ان حقائق کی موجودگی میں دوسرا سوال سامنے آتا ہے کہ فوج کے ساتھ شریف خاندان کے اختلافات کی باتیں کیا ہیں اور کیا واقعی اس خاندان کے زوال کے پیچھے فوج کا ہاتھ ہے‘ حقیقت یہ ہے کہ فوج کے ساتھ میاں صاحب کے اختلافات کی ذمہ دار بنیادی طور پر مریم نواز شریف ہے۔ جس نے ایک میڈیا سیل کے ذریعے فوج پر تابر توڑ حملوں کی ابتدا کی۔ جب ڈیلی ڈان میں سرل ریمنڈ کے ذریعے کیبنٹ میٹنک کے حوالے سے کچھ بے سرویا باتوں کا انکشاف کیا گیا تو فوج نے اس معاملے کو بہت سنجیدگی سے لیا وجہ صاف ظاہر تھی کہ اگر یہ انکشافات حقیقت پر مبنی تھے تو پھر تو یہ معاملہ بہت ہی حساس نوعیت کا تھا اور اگر یہ انکشافات جھوٹے تھے تو اس کے پس پردہ بھی سوچے سمجھے گھناﺅنے عزائم تھے۔ سننے میں آیا ہے کہ آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے وزیراعظم سے ون آن ون ملاقات کرکے ڈان لیکس میں ملوث افراد کے خلاف ایکشن کا مطالبہ کیا تو میاں صاحب نے مریم نوازشریف کو بھی وہیں بلا لیا اور جنرل راحیل سے کہا کہ یہ آپ کی بیٹی ہے‘ آپ اس کے سر پر دست شفقت رکھ دیں۔ اس پر جنرل راحیل شریف نے کہا کہ مریم کو تو ایک طرف رہنے دیں لیکن لیکس کے ذمہ دار باقی افراد کے خلاف ہر صورت قانونی ایکشن ہونا چاہئے۔ میاںصاحب نے وعدہ کیا کہ ایک ہفتے کے اندر اندر ایسے افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔ یہ جنرل راحیل شریف کی ملازمت کے آخری ایام تھے لہٰذا میاں صاحب اس معاملے کو طوالت دیتے رہے حتیٰ کہ جنرل راحیل ریٹائرڈ ہوگئے۔ میاں صاحب کا خیال ہوگا کہ نئے آرمی چیف کو کمان سنبھالنے کے بعد اتنی فرصت ہی نہیں ملے گی کہ وہ اس معاملے پر کوئی توجہ دے سکیں۔ تاہم فوج کے اندر پائے جانے والے اضطراب کے باعث جنرل قمر جاوید باجوہ نے بھی میاں صاحب سے اپنے وعدے پر عملدرآمد کرنے کا مطالبہ کیا۔ کچھ عرصہ آئیں بائیں شائیں کرنے کے بعد باقی ملوث افراد کو ان کے موجودہ منصب سے ہٹانے کے بعد اس سے بھی زیادہ پرکشش مناصب پر فائز کردیا۔ اس کے نتیجے میں فوج کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا کہ ہم اس فیصلے کو مسترد کرتے ہیں۔ یہ صورتحال فوج اور حکومت کے درمیان براہ راست تصادم کی شکل اختیار کرگئی۔ میاں صاحب نے آرمی چیف جنرل باجوہ کے ساتھ ملاقات میں مطالبہ کیا کہ فوج اپنا ٹویٹ واپس لے لیں۔ اس موقع پر بھی مریم نواز کو بلا کر جنرل باجوہ کو اس کے سر پر دست شفقت رکھوانے کا ڈرامہ دہرایا گیا۔ فوج نے اپنا ٹویٹ واپس لے لیا لیکن حکومت پھر اپنے موجودہ وعدے پر قائم نہ رہی۔ اس موقع پر فوج کی اعلیٰ قیادت کو اپنے جونیئرز کی طرف سے شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔اس دوران میں پانامہ لیکس کے اوپر مزید پیشرفت ہوچکی تھی اور عمران خان عدلیہ کو قائل کرنے میں کامیاب ہوچکے تھے کہ میاں صاحبان کی کرپشن کی تحقیقات اشد ضروری ہے۔ پارلیمنٹ میں میاں صاحب کے بیان کے بعد کہ ہمارے پاس اپنی تمام تر دولت اور اثاثوں کے ثبوت موجود ہیں اور ایک ایک پائی کا حساب ہم دے سکتے ہیں۔ عدلیہ نے جے آئی ٹی تشکیل دے دی تو میاں صاحب نے اس پر خوشی کے شادیانے بجائے کیونکہ ان کا خیال تھا کہ حسب سابق یہ انکوائری بھی نتیجہ خیز ثابت نہیں ہو گی اور سارا معاملہ ٹھپ ہو جائے گا۔ ادھر لندن میں بیٹھے ہوئے اس کے بیٹے حسین نواز نے بیان دے دیا کہ بے شک ایون فیلڈ کے فلیٹس ہماری ہی پراپرٹی ہیں۔ ادھر مریم نے ایک ٹی وی انٹرویو میں بیان دیا کہ میری کوئی پراپرٹی لندن تو کجا پاکستان میں بھی نہیں ہے۔ باور کیا جاتا ہے کہ فوج کی اعلیٰ کمان کی جانب سے یہ ہدایت کی جائے کہ فوج کسی معاملے میں فریق نہیں بنے گی۔ ہمیں صرف قانون اور آئین کی پاسداری کرنی ہے اور اگر عدلیہ نے ہم سے معاونت چاہی تو ہم اسے معاونت فراہم کرنے کے پابند ہیں۔ یہی وہ مرحلہ تھا جب میاں محمد نوازشریف پر برخلاف توقع یہ واضح ہو گیا کہ فوج کے ادارے نے ان کے سر سے دست شفقت ہٹا لیا ہے۔ اس سے یہ ثابت ہو گیا کہ پاک فوج کا ادارہ قطعاً ان کا مخالف نہیں بن گیا تھا بلکہ اس نے آئین اور قانون کی رو سے عدلیہ کی معاونت کا فیصلہ پوری طرح سوچ سمجھ کر کیا تھا لیکن یہ بات نوازشریف کو ناگوار گزری اور یہ بات ان کیلئے ناقابل تصور اور ناقابل برداشت تھی۔ اسی بنا پر وہ پاک فوج کے تمام اداروں کو اپنا دشمن اور حریف سمجھنے لگے ہیں۔
جے آئی ٹی نے جس تیزی سے انکوائری کو مکمل کیا اس سے نوشتہ دیوار صاف دکھائی دینے لگا۔ اس پس منظر میں نیب عدالت میں بھی تیزی سے پیشرفت ہوئی اور میاں صاحبان یہاں اپنے غیرقانونی اثاثہ جات کا کوئی بھی ثبوت فراہم کرنے میں ناکام رہے۔ چونکہ فیصلے کے خدوخال واضح ہوچکے تھے اس لئے حسن اور حسین نوازشریف نے برطانوی شہری ہونے کی آڑ میں پاکستان سے راہ فرار اختیار کی۔ جب عدالت نے میاں نوازشریف کو صادق اور امین نہ ہونے کی بنا پر سیاست سے نااہل قرار دیا تو انہوں نے عوام سے بھرپور احتجاج کی توقعات وابستہ کر لیں جس میں انہیں خاطرخواہ کامیابی نصیب نہ ہوئی۔ سیاسی محاذ پر ان کا نعرہ ”ووٹ کو عزت دو“ بھی مقبولیت حاصل نہ کر سکا تو ان پر مایوسی طاری ہونے لگی۔ دوسری جانب عمران خان نے اپنی انتخابی مہم پورے زوروشور سے شروع رکھی اور وہ عوام میں مقبولیت حاصل کرتے گئے۔ 2018ءکے انتخابات میں شریف خاندان کی ناکامی اور عمران خان کی کامیابی میں چار عوامل سرفہرست تھے۔
1۔ شریف خاندان کی مالی کرپشن۔
2۔ ملکی اداروں سے ٹکراﺅ کی پالیسی۔
3۔ ملکی مفادات کے خلاف بیانات۔
4۔ عوام میں عمران کی بڑھتی ہوئی مقبولیت اور شریف خاندان کیلئے عوام کے دلوں میں روزافزوں پنپتی ہوئی ناپسندیدگی۔
اس سارے معاملے میں مریم نوازشریف کے قائم کردہ میڈیا سیل کا بہت بڑا کردار ہے جس نے اپنے والد کے زوال کیلئے بہت سے غیردانشمندانہ اقدامات کئے جو اس کے بچگانہ ذہنی رویئے کے مظہر ہیں۔
میں یہ سوال قارئین کے سامنے رکھتا ہوں کہ کیا سرل المیڈا کو ڈان کیلئے دیئے جانے والے پہلے بیان کے بعد دوسری مرتبہ پھر المیڈا کو یہ بتانا کہ ممبئی حملوں کے ذمہ دار پاکستان سے گئے تھے میاں صاحب کی پست ذہنی اور فکری رویئے کو ظاہر کرنے کیلئے کافی نہیں ہے اور کیا اس کے بعد بھی پاک فوج کو اپنے مخالف ادارے کا طعنہ دیا جا سکتا ہے۔ کیا اس کے باوجود بھی فوج کے سربراہ سے یہ توقع رکھی جانی درست ہے کہ وہ ملکی مفادات کو پس پشت ڈال کر محض میاں صاحب کی خوشنودی کی خاطر ان کی پشت پناہی کرتے رہیں۔ کیا اب بھی عوام اور میاں صاحب سمجھتے ہیں کہ بین الاقوامی طور پر دیگر حکومتوں کے ذمہ دار افراد کو گرفت میں لانے والا پانامہ لیکس کا معاملہ کیا فوج نے گھڑا ہے۔ ایون فیلڈ والے فلیٹس اور دیگر غیرقانونی پراپرٹیز کا ذمہ دار کیا فوج کا ادارہ ہے۔ پراپرٹی آپ بنائیں اور مورد الزام فوج کو ٹھہرایاجائے یہ کہاں کا دانشمندانہ طرزعمل ہے۔ کیا آئین کی رو سے تمام ملکی ادارے اور بشمول فوج عدلیہ کو معاونت فراہم کرنے کے پابند نہیں ہیں۔ تو پھر سوچنے کی ضرورت ہے کہ فوج نے کون سا کام آئین اور قانون کے خلاف کیا ہے۔
(کالم نگار دفاعی اور سیاسی امور پر لکھتے ہیں)
٭….٭….٭


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved