تازہ تر ین

سعودی عرب سے پاکستانےوں کا انخلائ

سجادوریا……..گمان
سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان نے جب سے کمان سنبھالی ہے،انہوں نے مملکت مےں سعودائزےشن کی پالیسی اختےار کرنے کا اعلان کیا ہے،جس کے مطابق مملکت مےں موجود نجی کاروباری کمپنےوں کو پابند کیا گےا ہے کہ سعودی شہرےوں کو ملازمتےں فراہم کرےں،اس سے چھوٹے کاروباری ادارے بند ہو گئے اور بڑے اداروں پر بھی مالی بوجھ بڑھ گےا جو بالآخر غےر ملکی ملازمین کی ملازمتوں پر اثر انداز ہوا۔ملازمین کی کثیر تعداد فارغ کر دی گئی ےا ان کی تنخواہوں اور سہولیات مےں کمی کر دی گئی۔جولائی 2017سے اےک حےرت انگےز قدم اُٹھاےاگےاکہ مملکت مےں موجود غےر ملکی ملازمین کے فےملی ممبران پر بھی ٹےکس عائد کردےا گےا،جس کے مطابق 2017مےں فی فےملی ممبر 100رےال اور پھر بتدریج بڑھتے بڑھتے 2020مےں 400 رےال فی فےملی ممبر ہو جائے گا۔اس طرح مملکت مےں موجود فےملیز پر اےک اضافی بوجھ ےقینی ہو گےا جس کو بہت زےادہ لوگ برداشت کرنے کے قابل نہیں تھے،لاکھوں کی تعداد مےں فےملیز جولائی 2017کے بعد اپنے آبائی ممالک کو سدھار چکے ہےں۔اس سے مملکت کو کسی حد تک کثیر آبادی کے بوجھ سے معمولی سا ریلیف ملا ہے،ٹےکسز کی مد مےں کچھ آمدنی بھی ہوئی ہے۔غےر ملکی ملازمین کی واپسی کا سفر ابھی رکا نہیں،مسلسل جاری ہے۔’روزنامہ اردو نےوز‘مےں سوشل انشورنس جنرل کارپورےشن کے حوالے سے خبر شائع ہوئی ہے۔جس مےں واضح کےا گےا ہے کہ سال رواں 2018ءکے ابتدائی 6ماہ کے دوران5لاکھ 12ہزار غےر ملکی ملازمین نجی اداروں سے فارغ کئے گئے ہےں۔جبکہ پہلی سہ ماہی کے دوران تقریباََ2لاکھ غےر ملکی ملازمین کو فارغ کیا گےاتھا،2017ءکے دوران پانچ لاکھ ،چھےاسی ہزار غےر ملکےوں کو فارغ کیا گےا۔اس طرح ڈےڑھ برس کے دوران نجی اداروں سے فارغ کئے گئے غےر ملکی ملازمین کی تعداد11لاکھ تک پہنچ گئی۔جنرل کارپورےشن نے سعودی ملازمین کی تعداد کے بڑھنے کے حوالے سے اعداد وشمار بھی جاری کیے ہےں،جن سے ثابت ہوتا ہے کہ نجی کمپنےوں مےں سعودی ملازمین کی تعداد مےں اضافہ ہوا ہے۔
سعودی عرب سے جانے والے پاکستانی ملازمین کی زےادہ تر تعداد ،مزدور طبقہ اور وہ لوگ جو آزاد ویزوں پر کام کر رہے تھے،اُن پر مشتمل تھی،جبکہ ہُنر مند لوگ کسی نہ کسی طرح خود کو ابھی تک ایڈجسٹ کرنے مےں کامےاب ہو رہے ہےں۔کاروباری طبقے پر اخراجات تو بڑھے ہےں لےکن وہ نسبتاََ محفوظ تصور کئے جاتے ہےں۔پاکستانی فےملیز کی اےک بڑی تعداد کو پاکستا ن واپس جانا پڑا ہے ،جس کی وجہ ٹےکسز کا نفاذ ہے۔ان فےمیلیز مےں کئی تو اےسی تھیں جو سالہا سال سے ےہاں مقیم تھے،ان کی اولادےں بھی ےہیں اےڈجسٹ ہو چکی تھیں لےکن اب کثیر افراد پر مشتمل خاندانوں کا ےہاں رہنا مشکل ہی نہیں نا ممکن ہو چکا ہے۔اب وہی فیملیز ےہاں مقیم ہےں جن کے بچے کم ہےں ےا پھر دونوں مےاں بیوی کام کرتے ہےں اور اخراجات کو پورا کر سکتے ہےں۔کاروباری طبقہ اور اچھی کمپنےوں کے ملازمین خود کو اےڈجسٹ کر جائےں گے۔پاکستانی فےمیلیز کی اےک کثیر تعداد ذہنی کوفت کا شکار ہے،ان کا لائف سٹائل اےک عرصے سے سعودی عرب مےں مقیم رہنے کے سبب پاکستان کے لائف سٹائل اور ماحول سے مطابقت نہیں رکھتا ،جس کی وجہ سے وہ ذہنی الجھن کا شکار ہےں۔ان تمام حالات کے مشاہدے کے مطابق ےہی بات سمجھ آئی ہے کہ سعودی عرب سے جانے والے پاکستانی ،دوسرے عرب ممالک کا رُخ کر رہے ہےں ۔متحدہ عرب امارات،عمان،قطر،بحرےن کی طرف ان کا رجحان ہے ،لوگ پاکستان سے ہو کر نئی ملازمتوں کے لئے نئے ویزوں پر عرب ملکوں مےں جا رہے ہےں ،جس سے ان کا مالی نقصان ہو رہا ہے اور وقت بھی بربا د ہوتا ہے۔ ڈاکٹرز،انجینئرز،بزنس مےن اور سرماےہ دار طبقہ ےورپ،آسٹرےلیا اور کےنےڈا مےں امیگرےشن لے چکے ہےں اور لے رہے ہےں۔ےہ لوگ انتہائی ذہین،اعلٰی دماغ اور اعلیٰ تعلیم ےافتہ طبقہ ہے جو دوسرے ممالک مےں مستقل سکونت اختےار کر رہے ہےں۔ان کی تربیت اس انداز مےں ہو تی ہے کہ وہ پرسکون ماحول مےں کام کرنا چاہتے ہےں ،سےاسی مداخلت اور بے جا روک ٹوک سے ان کی جان جاتی ہے۔اس لئے پاکستان جانے کی بجائے دوسرے ممالک مےں نکل جاتے ہےں۔
سوال ےہ کہ ان پاکستانےوں کا پاکستان مےں دل کےوں نہیں لگتا ؟ےہ لوگ پاکستان مےں کاروبار کےوں نہیں کرتے؟کےا ان کو اےسا ماحول فراہم نہیں کیا جاسکتا جووہاں کاروبار کے لئے موزوں ہو؟ان کی شکاےات کےا ہےں اور مسائل کےا ہےں ،جو رکاوٹ کا سبب بنتے ہےں۔کےا نئے پاکستان کی نئی حکومت ان افراد کو باعزت طریقے سے پاکستان مےں کاروبارکرنے کے لئے قائل نہیں کر سکتی؟کےا ان کو رشوت،سےاسی مداخلت، بےوروکرےسی اور بد امنی سے پاک ماحول نہیں دیا جا سکتا جس مےں آزادانہ کاروبار کر سکےں؟مےرے خےال مےں نئی حکومت کو اس جانب ضرور توجہ دےنی چاہئے۔کےونکہ تحریکِ انصاف سمندر پار پاکستانےوں کے حقوق کی آواز بھی اُٹھاتی رہی ہے اس لئے اس کی ذمہ داری بنتی ہے کہ ان سمندر پار پاکستانےوں کو اپنے ملک مےں کام کرنے کےلئے پُرامن ماحول کیا جائے۔اس سے حکومت اور ملک دونوں کو فائدہ حاصل ہو گا ،ملک مےں سرماےہ آئے گا ،صنعت اور فےکٹرےوں کی شکل مےں سرماےہ کاری ہو گی جس سے ملک مےں روزگار کے مواقع پےدا ہونگے،اس کے بعد حکومت کے لئے آسان ہو گا کہ اپنے معاشی اہداف بھی پورے کر سکے گی۔ماضی کی حکومتےں کالے دھن کو سفےد کرنے کے لئے اےمنےسٹی کی سہولت فراہم کرتی رہی ہےں ،جس کا فائدہ عارضی ہوتا ہے ،جو کسی دےرپا سرماےہ کاری کی شکل اختےا ر نہیں کر پاتا اور نہ ہی اس سے عوام کے روزگار کی راہےں کھلتی ہےں۔جب روزگار نہیں ہوتا تو امن و امان کا مسئلہ رہتا ہے اور بے کار اور بے روزگار نوجوان ،دہشت گردی،اغوا کاری اور چوری چکاری جےسے مسائل کا شکار ہو جاتے ہےں۔مےں سمجھتا ہوں کہ جب حکومت کرپٹ افراد کو سہولت فراہم کرتی ہے کہ وہ کالا دھن سفےد کر لےں تو محنت کش پاکستانےوں کو تو بہت عمدہ ماحول فراہم کرنا چاہئے۔اس حوالے سے کےا خدشات ہو سکتے ہےں اور ان کے حل کے لئے کےا اقدامات کئے جا سکتے ہےں ،ہم اپنے طور پر اےک تجزےہ پےش کرتے ہےں۔مےری نظر مےں سب سے پہلی ضرورت بجلی کی مستقل فراہمی ہے،لوڈشےڈنگ کی وجہ سے صنعتےں بند ہونگی تو وہ اپنے اہداف پورے نہیں کر پائیں گیں،جس سے مالکان کا نقصان ہو سکتا ہے۔دوسرا مسئلہ بےوروکرےسی اور سےاسی مداخلت کے ساتھ رشوت کا کاروبار بھی سرماےہ کار کی دل شکنی کا باعث بنتا ہے ۔اس کو روکنے کی امیدتو ہم تحریک انصاف کی حکومت سے رکھ ہی سکتے ہےں۔تیسرا مسئلہ عدالتی معاملات کا ہے ،کہ کاروباری معاملات جب عدالت مےں جاتے ہےں تو کئی سال ان کے فےصلے نہیں ہو تے جس سے کاروبار کو بری طرح نقصان پہنچتا ہے۔اس طرح عدالتی انصاف کی تاخیر در اصل معاشرتی ناانصافی اور محرومی کو جنم دےتی ہے۔جو اےک طویل ،جرائم در جرائم سلسلے کی شکل اختےار کر جاتی ہے۔جو بالآخر حکومت کے لئے مسائل کا سبب بنتے ہےں۔ان پاکستانےوں سے مدد اور چندے کی اپیل کرنے کی بجائے ان پاکستانےوں کو اپنے معاشی سفر مےں شریکِ کار بنانے کے لئے اقدامات کیے جائیں،ان کو سےکورٹی فراہم کی جائے اور اس عمل کو تےز کرنے کے لیے ون ونڈو آپرےشن کی سہولت کا آغاز کیا جائے،باقاعدہ شہر سے دور صنعتی زون بنائے جائیں اور ان کو بجلی کی مسلسل اور مستقل فراہمی ےقینی بنائی جائے اور ان کی مدد کرنے کے لئے حکومت اےک سہولت کار ی کا دفتر قائم کرے ،عدالتی فےصلوں کے لئے کم سے کم مدت کا تعےن کیا جائے تاکہ بلاوجہ عدالتی معاملات تاخیر کا شکار نہ ہوں ۔پاکستان کے نئے وزیراعظم عمران خان اپنے دفتر مےں اےک معاشی ونڈو قائم کرےں ،جہاں سے تمام معاشی سرکاری مشینری کی نگرانی کی جا سکے۔اسی دفتر مےں شکاےات سےل قائم کیا جائے ۔ اس شکاےات سےل کا نمبر مشتہر کر دےا جائے ،جہاں ہاٹ لائن بھی ہو ،کہ اس کے ذریعے اےمرجنسی کی صورت مےں رابطہ کیا سکے۔ابھی تک ملک مےں سرماےہ کاری کا رجحان صرف پراپرٹی کی خریدوفروخت تک ہے جس سے سرمائے کی ذخیرہ اندوزی ہو جاتی ہے ،مناسب سرکولےشن نہیں ہوتی۔مےں سمجھتا ہوں تحریک انصاف کو عملی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے ،صرف باتےں کرنے کا وقت گزر چکا ہے۔جو کہ سمندر پار پاکستانےوں بالخصوص سعودی عرب مےں مقیم پاکستانےوں کے لئے اقدامات کر کے اعتماد کی فضا قائم کر سکتی ہے۔ملک مےں معیشت بھی بہتر ہو گی حکومت کی نےک نامی بھی ہو گی۔
(کالم نگارقومی اور بین الاقوامی ایشوز پرلکھتے ہیں)
٭….٭….٭


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved