تازہ تر ین

محکومیت اور مظلومیت کی طویل داستان

جاوید ملک …. مساوات
سرمایہ دارانہ نظام کے زوال کے باعث مسلسل معاشی اور سماجی بحران نے جہاں اس کرہ ارض پر رہنے والے 7 ارب سے زائد انسانوں کی زندگیوں کو اجیرن بنا رکھا ہے وہیں خواتین پر جاری جنسی و گھریلو تشدداور سماجی ناہمواری کو اذیت ناک حد تک بڑھا دیا ہے ۔ تاریخی طور پر زرعی انقلاب کے نتیجے میں پیداہونے والی زائد پیداوار نے سماج کو طبقاتی بنیادوں پر تقسیم کیاتھا اور اس زائد پیداوارکی حفاظت اور دیکھ بھال کے سوال نے سماجی رشتوں کی شکلیں بدلنا شروع کر دیں۔ عورت جو کہ اس سے پہلے مشترکہ سماجی سرگرمی کا حصہ تھی ۔لہٰذا اب فطری طور پر بچوں کی پرورش کی ذمہ داری کے باعث سماجی حیثیت کے اعتبار سے عورت کو تاریخی طور پر پہلی اور بھاری شکست ہوئی۔ اس سے قبل رشتے ماں کی نسبت سے جانے اور پہچانے جاتے تھے ، ملکیت کے آغاز اور ملکیت کی وراثتی منتقلی کی وجہ سے وہ رشتے باپ سے پہچانے جانے لگے ۔ اور سماج مدر سری سے پدرسری میں بدل گیا۔ اس کے بعد سے اب تک کی ساری تاریخ اس شکست کی ہزیمت اور زخموں سے بھری پڑی ہے ۔ سماجی حیثیت تبدیل ہونے کے باعث آہستہ آہستہ عورت کوایک جنس کے طور پرملکیت میں لے لیا گیا اور اس کو زر اور زمین کی طرح ملکیت میں رکھا اور کنٹرول کیا جانے لگا۔ تاریخی طور پر عورت جو ماں بھی ہوتی ہے کو غلام بنا دیا گیا اور جس معاشرے کی ماں غلام ہو وہ معاشرہ آزاد کیسے ہو سکتا ہے !
لیون ٹراٹسکی نے کہا تھا کہ ’’اگرآپ کو کسی معاشرے کا جائزہ لینا ہو تو اس میں بسنے والی خواتین کی حالت زار کا جائزہ لیں‘‘۔ اگر آج ٹراٹسکی کے اس قول کے حوالے سے معاشرے کا جائزہ لیا جائے تو اذیتوں کی ایک داستان بنتی چلی جاتی ہے ۔ نیم سرمایہ دارانہ اور نیم جاگیردارانہ ثقافتی اور اقتصادی رشتوں نے صورت حال کو مزید گھمبیرکر دیا ہے ۔ محنت کش طبقے کی عورت کی زندگی آج پہلے سے کہیں زیادہ تلخ ہے ۔ اوریہ استحصال بلا تخصیص و تفریق پوری دنیا میں مختلف صورتوں میں موجود ہے ۔ سرمایہ دارانہ انقلاب کے تحت وجود میں آنے والے معاشروں میں بھی عورت کو مکمل آزاد نہیں کیاجاسکا، تاہم ایسے معاشرے جن میں سرمایہ داری براہ راست کسی انقلاب کے ذریعے نہیں بلکہ بلاواسطہ سامراجی عزائم کے لیے مسلط کی گئی تھی وہاں سماج معاشی، اقتصادی اور اخلاقی طور پر خوفناک شکست و ریخت کا شکار ہے ۔
پاکستان کے حوالے سے بات کی جائے تو عورتوں کے حوالے سے یہ دنیا کا خطرناک ترین ملک بن چکا ہے۔ مذہبیت اور ناخواندگی ملکر صورت حال کو اور زیادہ گھمبیر بناتے ہیں۔ کیونکہ ابھی تک پاکستان جیسے معاشرے میں عورت کی تعلیم کے حق کو پوری طرح تسلیم ہی نہیں کیا گیا۔ صرف 20 فیصد خواتین کی تعلیم تک رسائی ہے ، جبکہ دیہاتوں میں صورتحال زیادہ خراب ہے جہاں صرف 13 فیصدبچیاں سکول جاتی ہیں۔ اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق مردوں کے مقابلے میں عورتوں کی سالانہ آمدن 6 گنا کم ہے ۔ اسی رپورٹ کے مطابق صرف 19 فیصد لڑکیاں سیکنڈری کی تعلیم تک پہنچ پاتی ہیں اور جو بچیاں سیکنڈری تک بھی نہیں پہنچ پاتیں ان کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے اور دوسری طرف اسی 19 فیصد کی 24 فیصد خواتین محنت کے میدان میں داخل ہو پاتی ہیں۔ پاکستان میں چند شعبوں میں سے تعلیم کا شعبہ ایسا ہے جس میں خواتین کی ملازمت مردوں کی نسبت کچھ زیادہ ہے لیکن نجکاری کے اقدامات کے ذریعے بیشتر سکولوں کو نجی ملکیت میں دے کرنہ صرف ملازمتوں سے برطرف کیا جا رہا ہے بلکہ آبادی کے بہت بڑے حصے کو تعلیم کے بنیادی حق سے بھی محروم کیا جا رہا ہے ۔
یہاں پر موجود زہریلی اور منافع خور رجعت پسندی نے عورت کی حیثیت کو بطور انسان قبول ہی نہیں کیا۔ جس کا نتیجہ یہ ہے کے غیرت کے نام پر ہونے والے قتل عام میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور حکومت اس کی روک تھام میں مکمل ناکام نظر آتی ہے ۔ انسانی حقوق کی ایک تنظیم نے پاکستان میں غیرت کے نام پر ہونے والے خوفناک حد تک بڑھ جانیوالے واقعات رپورٹ کیے تھے پاکستان میں معمولی جواز پر خواتین کو قتل کرنا ایک معمول بن چکا ہے انسانی حقوق کی عالمی تنظیم کے مطابق صرف ایک سال میں 15000 کے قریب خواتین، لڑکیوں اور نومولود بچوں کو اغوا کیا گیا۔ اور ر پورٹ نہ ہونے والے واقعات کی تعداد ان سے کہیں زیادہ ہے ۔ جو انصاف کی تلاش میں عدالتوں تک رسائی حاصل کر لیتے ہیں تو 1990ءکے دیت اور قصاص آرڈیننس جیسے چور دروازوں سے نکل کر ظالم مجروح حال مظلوموں کا منہ چڑا تے ہیں۔ یہی اس نظامِ زر کی دین ہے ، جس میں انصاف اور زندگی صرف انہی کے لیے ہے جو اس کو خریدنے کی سکت رکھتے ہیں۔
تیزاب چھڑکنے اورعورتوںکو آگ لگانے جیسے ہولناک واقعات بھی کچھ عرصے سے میڈیا کی دلچسپی کا باعث نہیں رہتے ۔ بہت سے واقعات کی تو میڈیا تک رسائی ہی نہیں ہو پاتی۔ حد یہ ہے کہ غیرت کے نام پر معصوم زندگیوں کے چراغ گل کرنے والے اس ’غیرت مند‘ معاشرے میں کوئی لڑکی 10 منٹ تک سڑک پر کھڑی نہیں رہ سکتی جس سے اس معاشرے کی غیرت کا ٹھیک ٹھیک اندازہ ہو جاتا ہے ۔
ایک طرف غیرت وعزت کے نام پر قتلِ عام ہے تو دوسری طرف اربوں روپے کی فیشن اور میڈیا کی معیشت میں عورت کو بطور جنس بیچا جا رہا ہے ایک طرف تو ان تکالیف کی کوئی شنوائی نہیں تو دوسری طرف نام نہاد انسان دوست تنظیمیں اور این جی اوز ہیں جو ان دکھوں، تکلیفوں کو بیچ کرنام بھی کمانے میں مصروف ہیں اور مال بھی۔ ہر عصمت دری کے واقعے میں، ہر بچی کے لٹنے میں ان درندہ صفت بے ضمیروں کو پیسے کی چندھیا دینے والی روشنی نظر آتی اور پھر یہ بھوکے بھیڑیوں کی طرح ان مار کھائے ہو¶ں کو لوٹنے کے لیے ٹوٹ پڑتے ہیں۔
نہایت پسماندہ ثقافتی اور ابتر معاشی دبا¶ عورت کی جسمانی اور ذہنی صحت کو بری طرح متاثر کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ نفسیاتی بیماریوں کی شرح سب سے زیادہ خواتین میں ہیں۔ ایک بیمار اور لاغر ماں بیمار اور لاغر معاشرہ بنارہی ہے جو صرف اور صرف ایک گلے سڑے نظام کے مسلط رہنے کی وجہ سے ہے ۔ عورت کی گھریلو محنت ایک ایسی محنت ہے جس کا ذکر ہی کوئی نہیں کرتا اور اگر اس کو شمار کیا جائے تو یہ انسانی محنت کا ایک بڑا حصہ بنتا ہے مگر اس بے گار کو عورت کا فرض بنا کر پدری نظام میں محنت کش عورت کامحنت کش مرد کی نسبت دوہرا استحصال کیا جاتا ہے اور کیاجارہا ہے۔
یہ نظام انسانوں کی مکمل ذہنی اور جسمانی صلاحیتوں کو پھلنے پھولنے سے روکتا ہے اور ایک لاغر، نحیف اور بیمار زندگی انسانوں پر مسلط کرتا ہے ۔ پیداواری قوتوں کو جب تک ذاتی ملکیت کی جکڑ سے آزاد کر کے مزدوروں کے جمہوری کنٹرول میں نہیں دیا جاتا اور سرمایہ دارانہ ریاست کی جگہ مزدور ریاست کا قیام عمل میں نہیں لایا جاتا اس وقت تک محنت کش طبقے کی آزادی ممکن نہیں ہے ۔ کیونکہ مسئلہ پھر طبقاتی بنیادوں پرہی حل ہو سکتا ہے ۔ صرف عورتوں کی آزادی کی بات کریں تو پھر ہر عورت بھی غلام نہیں ہے ۔ حکمران طبقے کی عورتیں محنت کش طبقے کے مردوں سے کہیں زیادہ طاقتور ہیں۔ عورت کی آزادی محنت کش طبقے کی آزادی سے کسی طور الگ نہیں ہے بلکہ یہ ایک مشترکہ طبقاتی جڑت اور جدوجہد سے ہی جیتی جاسکتی ہے۔
(کالم نگارسیاسی وسماجی ایشوزپرلکھتے ہیں)
٭….٭….٭


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved