تازہ تر ین

عمران خان کی پہلی ترجیح پاکستان کی خودمختاری

طارق سردار فرخ….سنہرے خواب
کینیڈا کے سب سے بڑے شہر ٹورنٹو کے انٹرنیشنل ایئر پورٹ پر نیویارک جانے والی فلائٹ پرواز کیلئے بالکل تیار تھی کہ اچانک امریکی امیگریشن اینڈ کسٹمز کے افسروں نے جہاز میں داخل ہوکر پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کو بتایا کہ انہیں آف لوڈ کرکے انٹروگیشن کیلئے ایئرپورٹ پر قائم امریکی سینٹر میں لے جایا جارہا ہے۔ عمران کے احتجاج پر امیگریشن افسران نے کہا کہ امریکہ میں ان کے داخلے پر پابندی عائد کردی گئی ہے۔ عمران خان کے ساتھ یہ واقعہ اکتوبر 2012ءمیں پیش آیا جب وہ پی ٹی آئی کی فنڈ ریزنگ مہم کے لئے امریکہ کینیڈا کے دورے پر تھے۔ وہ آئندہ سال یعنی2013ءمیں ہونے والے عام انتخابات کیلئے مخیر حضرات سے پارٹی کیلئے چندہ جمع کررہے تھے۔ کینیڈا کے بعد انہیں نیویارک میں ہونے والی ایک فنڈ ریزنگ لنچ پارٹی میں شرکت کرنی تھی۔ پی ٹی آئی سربراہ کو فلائٹ سے آف لوڈ کرنے کی وجہ یہ تھی کہ کینیڈا میں پروگرام کے آخری روز انہوں نے ایک مقامی ٹیلی وژن چینل سی بی سی نیوز نیٹ ورک کے بُلیٹن”پاور اینڈ پالیٹکس“ میں دس بارہ منٹ کی گفتگو کے دوران پاکستانی حدود میں امریکہ کے ڈرون حملوں کو بند کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ عمران خان نے امریکی حملوں کو بین الاقوامی خودمختاری کے اصولوں کی خلاف ورزی قرار دیا تھا اور برملا کہا کہ اگر میں الیکشن جیت گیا تو پاکستان کا یہ مقدمہ اقوام متحدہ میں لے جاﺅں گا۔ عمران خان نے ایک مضبوط موقف اپناتے ہوئے کہا کہ وہ امریکہ کے ساتھ دوستی کا رشتہ تو ضرور رکھیں گے مگر امریکی ”چیلا“ نہیں بنےں گے۔ عمران خان کی کھری باتیں واشنگٹن میں بیٹھے امریکی حکام کو پسند نہ آئیں اور انہوں نے پی ٹی آئی کے رہنما کو امریکہ میں داخلے سے روک دیا۔
نائن الیون کے بعد سے سیکورٹی وجوہات کے پیش نظر امریکی حکام نے کینیڈین ایئرپورٹس پر مستقل ڈیرے لگارکھے ہیں اس لئے کوئی بھی مسافر جو کینیڈا سے بذریعہ فلائٹ امریکہ کےلئے سفر کررہا ہو اسے پہلے امریکی امیگریشن والوں کا آفس ہے جودراصل امریکی حدود ہی تصور ہوتا ہے وہاں لے جاتاہے کیونکہ کوئی بھی شخص کلیئرنس کے بغیر اس حدود میں داخل نہیں ہوسکتا۔ عمران خان جب اپنی کلیئرنس کروانے کے بعد بورڈنگ لاﺅنج میں آئے تب اس وقت واشنگٹن سے جاری ہونے والے احکامات ابھی امیگریشن حکام تک نہیں پہنچے تھے جیسے ہی یہ موصول ہوئے تو افسروں کی دوڑیں لگ گئیں عمران خان اس وقت تک جہاز میں اپنی سیٹ سنبھال چکے تھے پھر انہیں زبردستی اتار دیا گیا۔ اس صورتحال کی وجہ سے پی ٹی آئی رہنما کو نہ صرف اپنی فلائٹ چھوڑنا پڑی بلکہ نیویارک میں ہونے والا فنڈ ریزنگ لنچ بھی منسوخ کردیا گیا۔ عمران خان پاکستان کے وہ پہلے لیڈر ہیں جنہوں نے آج سے چھ سال قبل امریکہ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر برابری کی بنیاد پر معاملات چلانے کی بات کی تھی انہوں نے ہی ڈرون حملوں کے خلاف سب سے سخت موقف اپنایا، حالیہ الیکشن میں اپنی کامیابی سے پہلے تک وہ یہی عزم دہراتے رہے کہ تمام متنازعہ فریقوں کے ساتھ ڈائیلاگ کے ذریعے امن کی بات کی جائے۔ انتخابات جیتنے کے بعد اپنی پہلی تقریر میں بھی انہوں نے افغانستان کے اندر قیام امن کیلئے ہر ممکن مدد دینے کا وعدہ کیا اور بھارت کے ساتھ بھی ”بلیم گیم“ کے چکر میں پڑنے کی بجائے ڈائیلاگ سے تمام مسائل حل کرنے کا ارادہ ظاہر کیا۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں عالمی سربراہوں کا اجلاس ہر سال ستمبر کے مہینے میں منعقد ہوتا ہے جہاں گلوبل پلس یعنی عالمی امن کا مسئلہ ہمیشہ ایجنڈے پر سرفہرست ہوتا ہے اور ایک لمبی مدت کے بعد اس بار پاکستان کی نمائندگی ایک ایسا شخص کرے گا جو صرف کانوں پر ہیڈ فوں لگاکر وہاں ہونے والی تقریروں کا اردو میں ترجمہ سننے کی بجائے پاکستان کا موقف بھی اس پلیٹ فارم پر ٹھوس انداز میں بیان کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ہمیں پچھلے پندرہ سالوں میں وزارت عظمیٰ کے منصب پر رہنے والی شخصیات ظفر اللہ جمالی، شوکت عزیز یوسف رضا گیلانی راجہ پرویز اشرف، میاں نواز شریف اور شاہد خاقان عباسی کی حب الوطنی پر رتی برابر کوئی شبہ نہیں مگر بدقسمتی سے وہ دنیا کے سامنے اپنا موقف واضح انداز میں بیان نہیں کرسکے اور اپنے بیان کی سچائی کے باوجود ہر محاذ پر ہمیں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔ پاکستان کا ہر شہری چاہے اس کی وابستگی کسی بھی سیاسی جماعت سے رہی ہو چاہے اس کا پسندیدہ لیڈر کوئی بھی ہو اور اسے پی ٹی آئی کی پالیسیوں سے جتنا مرضی اختلاف ہو مگر اسے بہر حال اتنا یقین ضرور ہے کہ عمران خان بطور وزیر اعظم اپنے ملک پاکستان کے موقف سے پیچھے نہیں ہٹیں گے اور نہ ہی ان کے ارادوں میں کوئی لچک دیکھنے کو ملے گی۔ امریکی حکام کی طرف سے پی ٹی آئی کی کامیابی پر ابھی تک کوئی خاص گرم جوشی دکھائی نہیں دیتی، واشنگٹن اور اسلام آباد کے درمیان صورتحال عمران خان کے حلف اٹھانے پر ہی واضح ہوگی البتہ امریکی کانگریس کی ایک رکن شیلا جیکسن نے ٹیلی فون ذاتی حیثیت میںکیا تھا امریکہ کی طرف سے سرکاری ردعمل یقینا حلف کے بعدآئے گا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ نئی حکومت موجودہ مسائل سے نمٹنے کیلئے کیا حکمت عملی اپناتی ہے۔ سیاستدانوں کی کرپشن واقعی ایک شرمناک مسئلہ ہے لیکن اس سے بھی بڑھ کر دہشت گردی تیزی سے پھیلتی انتہا پسندی ‘غربت ‘آلودگی ‘دیہی علاقوں میں تعلیم کی کمی اور لوگوں کو غذائی ضروریات کی فراہمی بڑے چیلنجز ہیں میرے نزدیک ایک اور مسئلہ بھی توجہ طلب ہے جسے آپ سیاسی عدم استحکام بھی کہہ سکتے ہیں ملکی سیاست میں رواداری اور استحکام لاکر آپ وطن عزیز کیلئے ایک عظیم خدمت سرانجام دے سکتے ہیں۔ عمران خان کو خود پر فخر ہونا چاہیے کہ ملک کو درپیش ان حالات میں قدرت نے انہیں قوم کی نمائندگی کے لئے چنا ہے اور ہماری دعا ہے کہ عمران خان اس امتحان میں پورا اتریں۔
(کالم نگار‘ میڈیا ریسرچ سکالر ہیں)
٭….٭….٭


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved