تازہ تر ین

ٹھنڈی ہواﺅں کے جھونکوں کی ضرورت

نصیر ڈاھا …. گستاخی معاف
ایک ایسی شخصیت جو پچھلے بائیس برس سے تبدیلی کا نعرہ مستانہ بلند کرتی چلی آرہی ہے اور پھر جس نے 26جولائی2018ءکو بھی قوم سے اپنے خطاب میں اس عہد کا اعادہ کیا ہو کہ یہ تبدیلی ہر سطح پر آئے گی اور یہ کہ اس تبدیلی کا آغاز میں خود اپنی ذات سے کروں گا۔۔۔۔ عمران خان نے بارہا اس عہد کا ذکر کیا اور اپنے ہرجملے اور اپنی پیشانی کی ہر شکن اور اپنے چہرے کے ہرتاثر سے یہ بھرپوریقین دلایا کہ تبدیلی حقیقی معنوں میں قوم کا مقدر بنے گی اور قوم کا ہرفرد اس تبدیلی کو براہ راست اور عملی صورت میں محسوس بھی کرسکے گا۔
جس دن عمران خان کو اپنی جماعت کی طرف سے وزیراعظم کے امیدوار کے طور پر نامزد کیا گیا تو انہوںنے ایک بار پھر اپنا عہد دہرایا۔ انہوںنے اپنی جماعت، اپنی جماعت کے رہنماﺅں اور حکومت سازی کی خاطر سہارا بننے والی دیگر جماعتوں اور آزاد امیدواروں کو یہ باور کروایا کہ اگر ہماری حکومت بھی ماضی کی طرح روایتی ہی رہی تو ہمارا حال بھی وہی ہوگا جو ماضی میں دیگر جماعتوں کا ہوتا رہاہے یعنی انہوںنے کھلے لفظوں صاف بتلادیا کہ اگر ہم روایت شکن ثابت نہ ہوئے تو عوامی غیض و غضب ہمیںخش وخاشاک کی طرح بہا لے جائے گا ۔ یہ امرانتہائی حوصلہ افزا ہے کہ عمران خان نیب میں پیش ہوئے توانہوںنے کسی قسم کا پرٹوکول لینے سے صاف انکار کردیا بلکہ انہوںنے واضح کیا کہ آئندہ بھی انہیں کوئی پروٹوکول نہ دیاجائے۔ یہی نہیں، انہوںنے اپنے ساتھیوں کو بھی متنبہ کیا ہے جو لوگ بھی وزیرمشیر بنیں گئے اور وفاقی وصوبائی سطح پر جو کابینہ وجود میں آئے گی، وہ بھی میرے طے کردہ پروٹوکول کے معیارات پر عمل درآمد کریگی اور سب سے بڑھ کر عمران خان نے قوم کو یقین دلایا ہے کہ میرٹ کے خلاف خود کام کروں گا اور نہ کرنے دوں گا۔
بادی النظر میں دیکھا جائے تو یہ سب چیزیں ایک روایت کا ہی تسلسل ہیں۔ اگر آپ ہر پانچ سال بعد اقتدار میں آنے والے لوگوں کی پہلے چند دن کی تقاریر ملاحظہ کریں تو صاف معلوم ہوتا ہے کہ وہ ایک ہی سکرپٹ کے تحت لکھی اور بولی گئی ہیں۔ لفظ ”کروں گا“ بہت آسان ہوتا ہے اور ہم اپنی عملی زندگی میں بھی اس کے سہارے لوگوں کو اپنا ہم نوا بنانے اور ان کی حمایت حاصل کرنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں۔ گو یہ کامیابی وقتی ہوتی ہے اور جب قسمت کے دھنی ہوتے ہوئے ہم کوئی راہ نکال لیتے ہیں تب ایک اور مرحلے کیلئے یقین دلاتے اور نت نئے عہد کرتے پھرتے ہیں۔ لیکن اب کی بار صورتحال مختلف ہے۔ اب کی بار ایک روایتی سیاست دان اقتدار کی مسند پر رونق افروز ہونے ہی نہیں جارہابلکہ وہ ہمیں ایک ایسے دوراہے پر لاکھڑا کررہاہے جہاں ہمیں طے کرنا ہے کہ ہمیں روایتی حکومت اور روایتی طرز عمل کو ترک کرکے ایک شاندار اور عظیم ملک کی بنیاد رکھنی ہے یا پھر ایسے ہی مستانگی اور بیگانگی میں پڑے پڑے اپنی آنے والی نسلوں کا مستقبل تاریک کرتے چلے جانا ہے۔
تحریک انصاف پر عوام کے اعتماد کی بنیادی ترین وجہ ہی یہی تھی کہ لوگ چاہتے تھے ہم عمران خان کو ایک موقع دے کر دیکھیں۔ یہاں پہلے جاگیر دار اور زمیندار ہی حکومت کرتے رہے، شریف خاندان گو ایسا نہیں تھا لیکن سرمایہ دار تو تھا اور اپنی اصلیت میں سرمایہ دار، جاگیر دار اور زمیندار میں کوئی فرق نہیں ہوتا۔ یہ لوگ ملازمین اور مزارعین کا خون نچوڑ کر اپنے محلات تعمیر کرتے ہیں اور پھر یہ باور کرواتے ہیں کہ غریبوں ، مسکینوں اور بے سہارالوگوں کے لئے ان سے بڑھ کر کوئی ہم درد اور خیر خواہ نہیں۔ عمران خان ان میں سے کسی بھی برائی کا حامل نہیں۔ وہ ایک اچھا کھلاڑی تھا اور اسی بنیاد پر ترقی کے مدارج عبور کئے۔ وہ عالمی سطح پر ایک معروف شخصیت ہے اور دنیا اس پر اعتبار کرتی ہے۔ وہ ایسا غریب بھی نہیں کہ لوگ اسے احمق ہونے کے طعنے ماریں اور ایسا امیر بھی نہیں کہ لوگ اس پر غریبوں کے خون سے نچوڑی ہوئی دولت جمع کرنے کا الزام لگاسکیں۔ اس کے پرکھنے اور جمنے کا وقت اب آیا ہے۔ اب وقت آیا ہے کہ جو ہمیں صاف طور پر بتلا دے گاکہ ہمارے مستقبل کی اصل صورت گری کیا ہے اور یہ کہ ہم کن راہوں پر چل کر اپنی منزل مقصود پاسکتے ہیں۔ یہ وقت ہمیں یہ بھی بتلا دے گاکہ کیا ہماری قسمت کبھی بدل بھی سکتی ہے اور غریبوں اور مظلوموں کی آہوں نے کیا واقعی عرشِ خداوندی کو ہلا دیا ہے کہ جس کی بدولت تبدیلی کی لہر پیداہوچلی ہے۔ یہ لہر ابھی ایک گرداب میں مستغرق ہے۔ اِسے اِس بھنور میں سے نکل کر ساحل تک پہنچنے میں کچھ وقت لگے گا۔
جو لوگ پہلے سودنوں کی رٹ لگائے ہوئے ہیں ، وہ ٹھیک نہیں کہ ناتجربہ کاری پھر بھی آڑے ضرور آتی ہے اور ایسے لوگوں سے بہت جلد بہت اعلیٰ کی امید لگانا عبث ہے۔ ہم سال دوسال کی بات کرتے ہیں۔بہت سے بحران ہیں اور بہت سے مسائل۔۔۔ قومی معاملات ہیں اور عوامی بھی جو حل طلب ہیں۔ اولین مسئلہ انصاف کی بروقت فراہمی ہے۔ عدلیہ اس ضمن میں اپنا کردار ادا کررہی ہے لیکن ایسی حکمت عملی طے کرنا لازمی ہے کہ عدلیہ پر کم سے کم بوجھ پڑے۔ انتظامیہ کی تطہیر بھی لازم ہے اور مقننہ سے اس کی حیثیت کے مطابق کام لینا بھی۔ ایک لحاظ سے کہاجاسکتا ہے کہ آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا ہے جس کو ٹھیک کرنے کی ضرورت ہے۔ گو کچھ وقت لگے گا لیکن ایسا بھی ہے کہ جب کہیں دور بارش ہورہی ہو تو اس کا اثر کسی اور جگہ ٹھنڈی ہواﺅں کی صورت نمودار ہوتاہے اور حبس اور گرمی میں جلنے والے امیدلگابیٹھے ہیں کہ کہیں اور برسنے والی کالی گھٹائیں اب اِس طرف بھی جلد نمودار ہونے والی ہیں۔ چنانچہ جب تبدیلی کاحقیقی عمل شروع ہو تو اس کی بادِ نسیم کے ٹھنڈے جھونکے غریب اور مظلوم تک بھی پہنچنے چاہئیں۔ انہیں عملی طور پر معلوم ہو کہ حبس اور تپش میں کسی جگہ بارش برسنا شروع ہوگئی ہے۔ یہ جو ٹھنڈی ہوا کے پُرسرور جھونکے ہیں یہ اس بارش کی رہین منت ہیں۔ ہم اس حبس زدہ موسم اور حبس زدہ ماحول میں ایسی ہی بارش کے متمنی ہیں۔
(دبئی میں مقیم‘ سیاسی وسماجی موضوعات پرلکھتے ہیں)
٭….٭….٭


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved