تازہ تر ین

شہباز شریف کی حقیقت پسندی

عبدالودودقریشی

گزشتہ روز اڈیالہ جیل میں میاں محمد نواز شریف،مریم نواز شریف اور کیپٹن صفدر سے ملاقات کے بعدسابق وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف نے کہا کہ نہ میاں نواز شریف این آر او لے رہے ہیں اور نہ کوئی این آر او دے رہا ہے جبکہ اس سے پہلے طلال چوہدری منہ پھاڑ پھاڑ کر یہ اعلان کر چکا ہے کہ ہمیں این آر او دیا جارہا ہے مگر میاں صاحب این آر او نہیں لے رہے میاں نواز شریف کا بھائی انکے زیادہ قریب ہے یا طلال چوہدری مگر حیرت ہے کہ یہ ترجمان بننے والے رشتہ داروں سے بھی دو ہاتھ آگے ترجمانی کے فرائض سرانجام دیتے ہیں، ان ترجمانوں کی بھی عجیب عادت ہے کہ وہ جس کا چاہیں ترجمان بن جاتے ہیں ایک صاحب امریکہ سے آئے مولانا فضل الرحمٰن کے ترجمان بن بیٹھے پارٹی نے اعتراض کیا کہ ہم تو اسلامی پارٹی ہیں یہ داڑھی مونچھیں صاف کرکے ہمارا ترجمان کیسے بن گیا پھر ایک میٹنگ میں بتایا گیا کہ یہ تو کسی ملک میں باکسر ہوتا تھا اور ڈانس کلب میں خدمات سرانجام دیتا تھا۔پھر وہ ازخود مسلم لیگ ن کے ترجمان بن گئے چند دن پہلے دو تین دن کے لئے پی ٹی آئی کی ترجمانی کی مگر پی ٹی آئی میں پہلے سے موجود فنکاروں کے آگے ان کی نہیں چلی ، وہ تو صرف جمعیت علماءاسلام اور مسلم لیگ ن کے ترجمان بنے ، یہاں تو آصف علی زرداری،پرویز مشرف،ق لیگ اور نہ جانے کس کس گھاٹ کا پانی پی کرلوگ یہاں پہنچے ہیں اپنی پارٹی کے قائد کی پریس کانفرنس یا میڈیا ٹاک دیکھتے ہیں تو تھوڑی دیر بعد خود مائیک کے آگے کھڑے ہوتے ہیں کہ میں اہم اعلان کرنے والا ہوں میڈیا چینل کے مالکان کو فون کرنا کہ مجھے فوری طور پر بریکنگ نیوز میں لیا جائے وغیرہ وغیرہ۔
دراصل سیاسی جماعتوں کے قائدین سب کچھ سمجھتے ہیں مگر مصلحت کوشی میں چپ رہتے ہیں مگر اس روایت سے ہٹ کر میاں نوازشریف کے ترجمان جب شہباز شریف کے ترجمان بننے کی کوشش کرتے ہیں تو میاںشہبازشریف انھیں اپنے مقام پر رکھنے کے لئے دوٹوک الفاظ میں کچھ کہہ دیتے ہیں۔میاں نواز شریف مریم نواز شریف اور کیپٹن صفدر کو ناجائز ذرائع سے اثاثے بنانے ان کی ٹریل نہ دینے اور پھر ان اثاثوں کے حوالے سے معاملات کو چھپانے پر سزائیں دی گئی ہیں، ابھی دو مقدمات کا فیصلہ آنا ہے جنرل پرویز مشرف کے دور میں رحمت حسین جعفری اور فرخ لطیف نے الگ الگ سزائیں دیں اور پھر یہ سزائیں این آر او میں معاف بھی ہوگئیں اس وقت فوجی وردی میں ایک شخص بیٹھا ہوا تھا جس کی حقیقی بات بھی رد کی جاسکتی تھی کہ وہ وردی میں ہے مگر اب تو نہ کوئی وردی میں ہے نہ ملک میں ہنگامی حالات ہیں بلکہ عدالتوں نے انھیں سزا دی ہے۔معاملہ ہائی کورٹ کے بعد سپریم کورٹ میں جانا ہے، میاں نوازشریف کے بیٹے یہ تسلیم کرچکے ہیں کہ برطانیہ میں جائیدادیں ان کی ہیں اور میاں نوازشریف پارلیمنٹ کے فلور پر خود تسلیم کر چکے ہیں کہ جناب سپیکر یہ ہیں وہ ذرائع اسی طرح مریم نواز ایک ٹی وی چینل پر کہہ چکی ہیں کہ میڈیا والے کہاں کہاں سے میری جائیدادیں نکال رہے ہیں باہر تو کیا میری پاکستان میں بھی کوئی جائیداد نہیں مگر ثبوت سامنے آرہے ہیں اور ان کا بھائی تسلیم کررہا ہے کہ ان جائیدادوں کی مالک ہیں پاکستان میں بھی ان کی بہت زیادہ پراپرٹی ہے مگر آمدن کے کوئی ذرائع نہیں باپ بیٹے کو رقم بھیج رہا ہے بیٹا باپ کو قرض دے رہا ہے درمیان میں قطری خط آتا ہے جبکہ قطری بھی اس وقت نابالغ تھا اور میاں نوازشریف کے بیٹے بھی۔
جنرل پرویز مشرف نے بھی ایک انٹرویو میں کہا کہ مجھے رات کو جگا کر بینک میں اکاﺅنٹ کھلوایا گیا اور سعودی عرب کے بادشاہ نے رقم دی یہی بیان ملائےشاءکے صدر نے بھی دیا کہ مجھے سعودی بادشاہ نے رقم دی اور جب مقدمہ چلاتووہ تمام ذرائع جہاں جہاں سے دولت لوٹی گئی تھی سامنے آگئے۔میاں شہباز شریف دراصل حقائق جانتے ہیں جنرل پرویز مشرف چونکہ وردی میں تھے ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف ضیاءالحق کے مقدمے اور پھر اسے پھانسی سے یہ تاثر لیا گیا کہ آئندہ کسی حکمران کو پھانسی نہ دی جائے،انھیں تحریری درخواست لے کر دس پندرہ سال کے لئے جلا وطن کر دیا جائے پرویز مشرف نے اس پر عمل کیا اور میاں نوازشریف کو سزا ہونے کے باوجود سعودی عرب بھجوا دیا اور دس سال کی جلاوطنی کا معاہدہ طے پایا ، نواز شریف کی جلاوطنی اور واپسی پر اب یہ سوچ ابھری کے سیاستدانوں کو معاف کرکے معاہدے کے تحت ملک سے باہر بھجوانا بھی ایک بڑی غلطی ہے کیونکہ وہ اس معاہدے کو نہیں مانتے اور اس کی خلاف ورزی کرکے واپس آجاتے ہیں اور اپنے آپ کو مظلوم ظاہر کرتے ہیں۔ مستقبل میں خدانخواستہ کوئی غیر جمہوری حکومت سامنے آئی تو وہ طویل مقدمات چلوا کر نہ کسی کو پھانسی دے گی اور نہ ہی کسی کو جلا وطن کرے گی بلکہ وہ کوئی اور انتہائی اقدام کرسکتی ہے، میاں نواز شریف کی معاہدے کے تحت جلاوطنی،آٹھ سال تک اس سے انکار اور پھر واپس آکر پرویز مشرف کے خلاف کاروائی نے سب کو ایک سبق دیا کہ اب کسی کے ساتھ این آر او نہ کیا جائے اور نہ کسی غیر ملکی کی سفارش کو سنا جائے لہٰذا میاں نوازشریف کو کوئی بھی این آر او اور جلاوطنی کی کوئی پیشکش نہیں کرے گا اور نہ ایسا ممکن ہے۔میاں نواز شریف کو عدالتوں کے ذریعے اگر ہوسکے تو بری کروانا ہوگا یا پھر پارٹی قیادت ایسے لوگوں کے ہاتھ میں رکھنی ہو گی جو ان کے وفادار ہیں میاں نواز شریف اور ان کی فیملی پہلی مرتبہ حقیقی طور پر دلدل میں پھنس چکے ہیں ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ سے اگر سزائیں بحال رہتی ہیں تو پھر سزا یافتہ لوگوں کا وقت گزرنے کے باوجود کوئی مستقبل نہیں۔اور وہ سزا کے بعد 75سال سے زائد عمر کے ہوجائیں گے مریم نواز شریف کو مسلم لیگ کی سینئر قیادت کے علاوہ میاں شہباز شریف اور حمزہ شہباز شریف ماننے کو تیار نہیں ،جب خاندان میں بھی اس سطح پر اختلاف ہوجائے تو پھر سب کچھ دیوار پر لکھا نظر آتا ہے مسلم لیگ ن اپنی طبعی عمر پوری کرچکی ہے اگر وہ پارٹی کی ساری قیادت امریکہ اور برطانیہ کی طرح تبدیل کرکے پارٹی کو چلاتے ہیں تو پھر پارٹی کا نام تو بچ سکتا ہے خاندانی وراثت نہیں رہے گی جس کا میاں شہباز شریف بخوبی ادراک رکھتے ہیں اسی لئے انھوں نے پنجاب میں دوبارہ حکومت بنانے یا مرکز میں حکومت بنانے کے لئے کوشش ہی نہیں کی۔وہ بھی چاہتے ہیں کہ میاں نوازشریف کے ترجمانی کرنے والے انھیں جس حال تک پہنچا گئے ہیں اسے منطقی انجام تک پہنچ ہی جانا چاہیے۔
٭٭٭

 


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved