تازہ تر ین

مستقبل کی تصویر کیا ہے ؟

توصیف احمد خان

آخر کار وہ مرحلہ آن پہنچا جس کا ایک طویل مدت سے انتظار تھا، ہم سب کو خصوصاً عمران خان، انکے ساتھیوں اور کارکنوں کو ، کہ انہوں نے صبر آزما جدوجہد کی ہے اور آخر کار انہیں اس جدوجہد کا ثمر ملنے کے دن اب زیادہ دور نہیں، قومی اور خیبرپختونخواہ اسمبلیوں کے اجلاس پرسوں طلب کرلئے گئے ہیں، پنجاب اور سندھ کے اجلاس بلانا باقی ہیں، ممکن ہے جب آ پ تک یہ تحریر پہنچے تو انکے بارے میں کوئی خبر آچکی ہو، ہماری دعا ہے کہ باری تعالیٰ انتقال اقتدار کے مراحل بخیر و خوبی پایہ تکمیل تک پہنچادے، یہی نہیں وہ ہماری نئی قیادت کے جذبوں کو نہ صرف جوان رکھے بلکہ انہیں ولولہ تازہ عطاکرے کہ وہ اپنے آدرشوں کو بروئے کار لاسکیں، آدرشوں ذرا مشکل لفظ ہے، انگریزی میں اسے آئیڈیلز کہتے ہیں…پاکستان کی از سر نو تعمیر انکا آئیڈیل ہے، وہ اس ملک کی تقدیر سنوارنا چاہتے ہیں، وہ اس کے عوام کی محرومیوں کو ختم کرنا چاہتے ہیں، وہ بھوک، افلاس اور بیماریوں کا خاتمہ چاہتے ہیں، وہ ظالم کا ہاتھ روکنا اور مظلوم کی مدد کو آنا چاہتے ہیں…جذبہ اگر یہی رہا تو پھر اللہ تعالیٰ بھی ہاتھ پکڑیگا اور کامیابیاں عطا کریگا۔
لیکن یہ بڑا مشکل اور کٹھن مرحلہ ہے، اس کیلئے نہ صرف دن رات ایک کرنا پڑیگا بلکہ جان جو کھوں میں ڈالنا ہوگی…قدم قدم پر رکاوٹیں آئیں گی ، مشکلات اور مصائب کے اژدھے ہر گام پھن پھیلائے کھڑئے ہونگے…ان کے سروں کو کچلنا ہی عزم و ہمت اور حوصلے کا اصل امتحان ہوگا، دیکھتے ہیں اور دعا کرتے ہیں کہ مولا کریم انکا حامی و ناصر ہو۔
اب تک کی صورتحال سے عزائم اور ارادوں کا کوئی خاص اندازہ نہیں ہوپارہا، ایسا محسوس ہوتاہے کہ نئی ٹیم کا کپتان اگرچہ نیا مگر اس کے دست و بازو از کاررفتہ ہیں، دست و بازو سے مراد انکے ساتھی ہیں جن میں سے بہت سے عوام کے آزمائے ہوئے ہیں، وہ کس طرح جذبوں کی مہمیز لگاتے ہیں ، آنیوالے دن ہی بتاسکیں گے…ہم فی الحال جو کچھ دیکھ رہے ہیں اس سے مستقبل کی تصویر کوئی خاص واضح نہیں ہوتی۔
حکومت کے سامنے سب سے بڑا اور اہم مسئلہ اقتصادی صورتحال ہوگی …عوام سے کئے گئے وعدے پورے کرنا تو ایک طرف …کیا موجودہ صورتحال کو بہتر بنانا ممکن ہوگا، کیا نئی ٹیم اس اہل ہوگی کہ وہ اقتصادی و معاشی مسائل کا ادراک کرتے ہوئے ان پر قابو پانے کی صلاحیت رکھتی ہو یہ ٹیم اسلام آباد سے دوسری بار منتخب ہونے والے ایم این اے اسد عمر کی قیادت میں کام کریگی، اسد عمر کو ملٹی نیشنل کمپنیوں کا تو بڑا تجربہ ہے مگر ملکی اقتصادی صورتحال کو وہ کس انداز سے لیتے ہیں اور اس کے ساتھ کس طرح سے نمٹتے ہیں یہ انکی صلاحیتوں اور حوصلے پر منحصر ہوگا، ابھی تک تو ہم دیکھ رہے ہیں کہ ہمارا کشکول مسلسل دراز ہے، آئی ایم ایف نہ سہی ، چین ، اسلامی ترقیاتی بنک وغیرہ وغیرہ کے سامنے سہی۔
اسد عمر کے سگے بھائی محمد زبیر چند روز پہلے تک سندھ کے گورنرتھے اوروہ ن لیگ کے رہنماو¿ں میں شمار ہوتے ہیں ، دونوں بھائی غالباً ایک ہی گھر میں رہتے ہیں جو بہت اچھی بات ہے ، سیاسی معاملات اپنی جگہ …انکی وجہ سے رشتے ناطے تو ختم نہیں کردیئے جاتے، محمد زبیر کو علم ہے کہ اقتصادی محاذ پر سب کچھ انکے بھائی کو ہی کرنا ہے ، کل کے اخبار میں آپ نے ضیا شاہد کے ساتھ انکی یہ گفتگو دیکھ اور پڑھ لی ہوگی کہ معاشی مسائل کے حل کیلئے پی ٹی آئی وہی کرتی دکھائی دیتی ہے جو ن لیگ کررہی تھی، مطلب یہ کہ اسی طرح قرضے لئے جارہے ہیں ، اسی طرح بانڈز جاری کرنے کی بات کی جارہی ہے …ایسے میں عوام کو کوئی خاص ریلیف کہاں سے ملے گا لیکن دوسری طرف صورتحال یہ ہے کہ عوام کی آس اور امید آسمانوں کو چھو رہی ہے ، انہیں فوری طور پر کوئی قابل ذکر ریلیف نہ ملا تو ہم آپ سمجھ اور جان سکتے ہیں کہ انکی مایوسی اور ناامیدی کا کیا عالم ہوگا، عوام کی اکثریت نے پی ٹی آئی کو نجات دہندہ سمجھتے ہوئے ووٹ دیا ہے، یہ عمران خان کیلئے سخت امتحان ہے کہ وہ خود کو عوام کی اس توقع کے مطابق کس طرح سے ثابت کرتے ہیں ، ویسے ہمارا ذاتی خیال ہے کہ لوگوں کو اپنی آس اور امید میں صبر کے عنصر کو بھی شامل کرنا چاہئے، فوری قابل ذکر ریلیف کی توقع کی بجائے نئی ٹیم کو کچھ وقت دیں کیونکہ ابھی تو شاید ان کوہ پیماو¿ں کو خود اندازہ نہیں کہ انہوں نے مسائل کے جس پہاڑ کو سر کرنے کا ارادہ باندھا ہے وہ کس قدر دشوارگذار ہے، جوں جوں اوپر جائیں گے وہاں اٹھتے طوفان اُن کے منتظر ہونگے۔
عمران خان 18اگست کو وزارت عظمیٰ سنبھالیں گے ، انکے اعلانات اور وعدوں کے مطابق عوام بجا طور پر توقع لگائے بیٹھے ہیں کہ وہ اپنی پہلی ہی تقریر یا میڈیا ٹاک میں انہیں خوش کردینگے ، دیکھتے ہیں کیا بنتا ہے …یہ دن زیادہ دور نہیں ۔
پی ٹی آئی کے سربراہ نے ابھی تک انتظامی سطح پرجو بڑا فیصلہ کیا ہے وہ خیبرپختونخوا کے وزیر اعلیٰ کی نامزدگی ہے، وہ اپنے اس قسم کے فیصلوں میں کس قدر آزاد او خودمختار ہیں اسے ہم آپ کو بی بی سی کے حوالے سے بتاتے ہیں ….. بی بی سی کے مطابق مبصروں کا کہنا ہے کہ عمران ایک انقلابی منصوبے کا ارادہ رکھتے ہیں اور ماضی کی حکومتوں سے یکسر مختلف طرز کی حکمرانی کا دعویٰ کرتے ہیں جس کیلئے انہیں بڑے بڑے اقدامات کرنا ہونگے، اس میں مزاحمت ، دباو¿، اپوزیشن کی مخالفت کا سامنا بھی ہوسکتا ہے …اگر یہ درست ہے تو عمران خان ایک پرویز خٹک کے دباو¿ میں آکر وزارت اعلیٰ کے امیدوار کیلئے اپنی ترجیح پر عمل نہیں کرسکے تو کیا دیگر فیصلوں میں وہ اپنے منصوبے کے مطابق عملدرآمد کرسکیں گے؟
یہ بی بی سی کے ایک تجزیہ کے آخری الفاظ تھے، اسی سے ہم اندازہ لگاسکتے ہیں کہ باقی فیصلوں میں کیا ہوگا، جہاں تک کے پی کے نامزد وزیراعلیٰ محمود خان کا تعلق ہے انکا مختصر تعارف ہم گذشتہ کالم میں کراچکے ہیں ، دیکھتے ہیں سوات کا یہ ارب پتی کس حد تک مسٹر کلین ثابت ہوتا ہے، ماضی کو فراموش کرتے ہوئے ہماری نظر صرف مستقبل پر ہے ، انہوں نے پنجاب کے گورنر کے طور پر چودھری محمد سرور کو منتخب کیا ہے، شاید کسی نوجوان وزیراعلیٰ پر ایک بزرگ کا سایہ رکھنے کیلئے ورنہ چودھری سرورسے کوئی اہم اور بڑا کام لیا جاسکتا تھا۔
گذشتہ کالم میں حلقہ این اے 131کے بارے میں کچھ لکھا گیا تھا، ہمارا خیال ہے کہ عمران خان یہ حلقہ چھوڑ دینگے جہاں سعد رفیق انکے مد مقابل تھے، ہمارے اس خیال پر کئی ایک دوستوں نے رائے دی ہے، ایک دو دوستوں کی رائے مختصر طور پر پیش کردیتے ہیں ، جناب طارق انصاری صحافی ہیں، ملتان سے ہیں اور پی ٹی آئی کے ہمدردوں میں سے ہیں، انکے خیال میں تحریک انصاف کے بہتر مستقبل کیلئے عمران خان کو لاہور والی سیٹ اپنے پاس رکھنی چاہئے، کیونکہ تبدیلی کے جو ثمرات خیبر پی کے میں نظر آئے، اس سے کہیں زیادہ فوائد پنجاب میں تبدیلی لانے سے ہونگے، انصاری صاحب نے اورنج ٹرین منصوبے کی بھی مخالفت کی ہے، اتنا مال خرچ کرنے کے بعد مخالفت، بات سمجھ میں نہیں آتی، کیا یہ سب کچھ ضائع کردیا جائے گا؟قطع نظر اس کے کہ یہ منصوبہ بننا چاہئے تھا یا نہیں ۔
طارق جاوید صاحب فرماتے ہیں میری ذاتی خواہش اور مشورہ ہے کہ سعد رفیق اس معاملے کو آخری حد تک لے کر جائیں ، بھلے فیصلہ آنے تک اسمبلی کی مدت پوری کیوں نہ ہوجائے۔
آخر میں اسلم ملک صاحب نے یہ پوائنٹ اٹھایا ہے کہ سعد رفیق کی پچھلی رکنیت کے خلاف کیس کا
فیصلہ اسمبلی کی مدت ختم ہونے کے بعد ہوا۔
وہ اصل میں معمول کا فیصلہ ہی نہیں تھا، وہ غیر معمول کیس تھا اور فیصلہ یقینا عمران کی خواہشات کے برعکس تھا ۔
٭٭٭


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved